امن کے امکانات
- سوموار 21 / اپریل / 2014
- 5117
بہت سال بیتے ہمارے گھر میں ایک رسالہ چین با تصویر آیا کرتا تھا۔ اس میں تصویروں کے ساتھ ایسے مضامین بھی ہوتے تھے جن کو پڑھ کر یہ احساس ہوتا تھا کہ اپنے عوام کو بہتر سے بہتر کرنے کیلئے حکومت کتنے مختلف طریقے استعمال کر رہی ہے۔ وہ صرف اُن کی روزمرہ کی زندگی کو ہی بہتر کرنے میں مصروف نہیں ہے بلکہ اُن کی ذہنی، روحانی اور جسمانی بالیدگی پر بھی زور دے رہی ہے۔
ایک مضمون جو میرے دماغ پر ابھی بھی نقش ہے وہ ایک ٹرین کے بارے میں تھاجو کینٹن سے شنگھائی جا رہی تھی۔اس ٹرین میں رین بسیرا بھی تھا۔ جب صبح صادق ہوئی تو اُس ٹرین کو روک دیا گیا اور سب مسافروں سے کہا گیا کہ وہ ٹرین سے نکل کر باہر جائیں، طلوعِ آفتاب کا خوبصورت منظر دیکھیں۔ تازہ ہوا میں سانس لیں۔ ہو سکے تو ہلکی پُھلکی ورزش بھی کر لیں۔ ٹرین بیس منٹ کے بعد اپنے مسافروں کو لے کر سفر پر روانہ ہو گئی۔ گراں خواب چینی کیسے اپنی گراں خوابی سے سنبھلے یہ ایک چھوٹا سا مضمون اس سوال کے جواب میں بہت کچھ کہہ رہا ہے۔
جب ریاست اپنے شہریوں کی کچھ بُری عادات ترک کرنے میں ان کی مدد کر رہی ہوتو بہت ساری ذہنی اور جسمانی عادتیں تاریخ کے قبرستان میں دفن ہو جاتی ہیں اور نئی مگر صحت مند عادتیں فروغ پا رہی ہوتیں ہیں۔ اگر اچھی عادت کی وضاحت کی جائے تو شائد ایک تعریف یہی ہے کی وہ عادات جو انسان کو خوشی، تعمیراور تخلیق کی طرف لے جائیں۔ اسے منفی جذبات اور تعصبات سے نکالیں اور یہ اچھی عادات انسان کو اُن بُری عادات سے نجات دلانے میں معاون ہوں جو انسانی عظمت و توقیر میں کمی کا باعث بنتی ہیں ۔ اس ضمن میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ عادات اسے وہ سمجھ، صلاحیت اور طاقت بخشیں کہ انسان اپنے وہ روّیے اور ذہنی عادتوں کو بھی ترک کر سکے جنہیں اُس نے مقّدس سمجھ کر اپنا رکھا ہے۔ سو اچھی عادتوں میں سب سے بہتر عادت ترک کرنے کی عادت ہے۔
ریاست کا ایک اہم کردار انسانوں کو بہتر انسان بننے میں مدد فراہم کرنے کا ہونا چاہیے جس کی ایک مثال چین کی ریاست ہے۔ انفرادی سطح پر مہاتما گاندھی نظر آتے ہیں جنہوں نے برصغیر میں کوشش کی اور اپنی زندگی اسی کوشش میں بسر کر دی کہ لوگوں کو وہ عادتیں ترک کرنے میں مدد دیں جن کی تائید مذہب کی ایک پسماندہ شکل کر رہی تھی۔ جیسے کہ شودر کی بطور ایک طبقے کے تخلیق اور پھر اُن سے نفرت۔ مہاتما گاندھی نے اپنی زندگی اس عادت کے خلاف لڑنے میں بسر کر دی۔ بر صغیر کی تاریخ میں چند اور نام بھی ہیں جنہوں نے پسماندہ روّیوں سے انسان کی نجات ممکن کرنے کی کوشش کی۔ اس ضمن میں اشوک کا نام بہت نمایاں ہے۔اسی طرح گوتم بدھ ایک شاندار کوشش کا نام ہے۔ اشوک نے جب امن کا پرچم لہرایا تو امن کے بارے میں اس کے اقوال ہر طرف پھیل گئے۔
ان مثالوں اور کرداروں سے ایک بات تو تقریباً ثابت ہو رہی ہے کہ اگر دنیا میں امن چاہیے، اور خاص طور پر برصغیر میں ، تو سوچ کے دھارے بدلنے ہونگے۔ سوچ کے دھاروں کو بدلنے کیلئے ہمیں سب سے پہلے زبان پر کام کرنا ہوگا۔ زبان انسان کو بہت سارے جذبات اور خیالات کی تخلیق میں مدد دیتی ہے۔ چنانچہ ہمیں زبان میں سے وہ لفظ خارج کرنے ہونگے جو جنگ کو نہ صرف جائز قرار دینے میں معاون ہیں اور جنگ کو ایک شاندار فیصلہ اور انتخاب کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ایسا انتخاب جس میں یہ زندگی تو سنور ہی رہی ہے آنے والی زندگی میں بھی بہت سے خوبصورت امکانات ہیں۔ جہاد، شہید، غازی، جنگی ترانے اور رزمیے، یہ سب اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ زبان اور ڈکشنری سے خارج کرنے پڑیں گے تاکہ آئندہ نسلوں کو کبھی یہ پتہ نہ چلے کہ بزرگ انڈوں کے چھلکوں پر جنگ جیسی بربریت میں ملوث رہے ہیں۔
زبان پر کام ہو گا تو انسان کی نفسیاتی شکلوں میں تبدیلی ممکن ہو گی اور نفسیاتی شکلوں میں تبدیلی ہو گی تو ذہنی روّیوں اور شکلوں میں بھی تبدیلی ہو گی۔ ہم اپنے بارے میں کیا سوچتے ہیں، اپنے آپ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں ۔ ہم دوسروں کو کیسے دیکھتے ہیں۔ ہم اس دھرتی کو کیسے دیکھیں۔ آسمان کو کیسے دیکھیں، جہاں ہمیں رات کو بے شمار ستارے جھلملاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جہاں چاند گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔ جہاں آفتاب پوری آب و تاب سے طلوع ہوتا ہے اور اپنی زندگی پرور کرنیں زمین پر نچھاور کرکے جھلمل جھلمل غروب ہو جاتا ہے۔ ہم نئے علم کیسے پیدا کریں۔ نئے دریافت شدہ علوم سے کیا رشتہ قائم کریں۔ اسے انسانوں کی بہتری کیلئے کس طرح استعمال کریں۔ ان سب کا تعلق اس نفسیاتی تعمیر سے ہے جو زبان کرتی ہے۔
ایک ناول کا آغاز کچھ یوں ہؤا تھا کہ دست بدست لڑائی ہو رہی ہے جس میں اسلحہ کا استعمال بھی ہو رہا ہے۔ایک سپہ سالار ریت کے ٹیلے پر کھڑا ہو کر اپنی فوج کو دور بین سے دیکھ رہا ہے۔ اس نے دیکھا کہ ایک نوجوان سپاہی گھبرا کر سپہ سالار کی طرف بھاگا ہؤا آرہا ہے۔ سپہ سالار نے کہا آؤ میرے بہادر سپاہی۔ محاذ سے کیا خبر لائے ہو۔ بہادر سپاہی نے کہا بہادری گئی جہنم میں اور لعنت ہو اس بہادری پر ، وہ سب تو ایک دوسرے کو ہلاک کر رہے ہیں۔ لفظ بہادری بھی ہلاکت کے کلچر (culture of killers) میں اور معنی دے رہا ہے اور non-killers کے کلچر میں مختلف انداز میں استعمال ہو رہا ہے۔
ہمیں امن کے کلچر (culture of peace)کو ترقی دینی ہو گی۔ شہروں اور سڑکوں کو ان کے ناموں سے منسوب کرنا ہو گا جو انسانیت کے محسن ہیں ۔ جنہوں نے بلا تخصیص مذہب، رنگ، نسل، قومیت مانندِ آفتاب انسانیت پر زندگی پرور نور افشانی کی۔ جنہوں نے انسانوں کی بیماریوں اور دکھوں میں کمی کرنے کی کوشش کی۔ جنہوں نے اپنے سائنسی، ادبی اور فنی شاہکاروں سے انسانوں کی خوشی میں اضافہ کیا۔انسان کی تخلیقی قوت میں اضافہ کیا۔ انسان کی فرصت میں اضافہ کیا تا کہ انسان زندگی کی روز مرہ مصروفیات ہی پوری کرتے کرتے خرچ نہ ہو جائے بلکہ اپنے بارے میں، اپنی دھرتی اور اپنی کائنات کے بارے میں بھی سوچ سکے اور ایسی تہذیب پیدا کر سکے جو بقول Mill انسان کو راحت فراہم کر سکے، علم کو فروغ دے سکے، توہمات کا خاتمہ کر سکے۔
ایک دوسرے کو خواہ وہ ایک دوسرے سے کتنے ہی مختلف کیوں نہ ہوں آپس میں ملنے جُلنے کا موقع اور سلیقہ فراہم کر سکیں۔ تنازعوں کو ختم کر سکے ۔ طاقتور کا کمزور پر ظلم ختم کر سکے اور ان شاہکاروں سے سیکھ سکے جو اس گلوب پر انسانوں کا ایک بہت بڑا حصہ تخلیق کر رہا ہے۔ تاکہ تہذیبیں ایک دوسرے کو ختم کرنے کی بجائے سب تہذیبیں باہمی طور پر منّور اور روشن ہوں۔ انسان اس دھرتی پر اور پوری کائنات میں جو بھی کارنامے سر انجام دے رہا ہے، ایک دوسرے کے تعاون سے ہی ممکن بنا رہا ہے۔ مختلف تہذیبوں کا مقصد یہ ہے اور ہونا چاہیے کہ انسان کی بہترین صلاحیتیں اس کے شاندار مستقبل کیلئے استعمال ہوں نہ کہ انسان کی تباہی و بربادی کیلئے۔
یونانی تہذیب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ تہذیب دو ستونوں پر کھڑی تھی ۔ پہلا ستون علم سے محبت اور دوسرا ستون حسن سے عشق تھا۔ یونانی صاحبِ دانش کی حسن دیکھنے اور تلاش کرنے کی صلاحیت نے آج بھی ہمارے دلوں میں اُسے زندہ رکھا ہؤا ہے۔آج بھی علم کی ہر شاخ کی پہلی تعریف یونانی صاحبِ دانش ہی کی ہوتی ہے۔ یونانی دانشور آج بھی دانش کے ہر سفر کا نقطۂ آغاز ہیں اور ہمقدم بھی۔ نئے لفظ بھی اپنی بنیاد کم و بیش یونانی زبان میں ہی رکھتے ہیں ۔
یونانی تہذیب اور یونانی زبان کا آپس میں بہت گہرا رشتہ تھا۔ی ونانیوں میں یہ صلاحیت بھی تھی کہ اپنے ہر نئے تجربے کیلئے ایک نیا لفظ coinکر لیتے تھے اور تہذیب ایسی تھی کہ انسانی ذہن کو نئے تجربات اور نئی دریافت کا موقع فراہم کرتی تھی اور یہاں نئے تجربے اور نئی دریافت کی سزا موت نہیں تھی۔ ہاں سقراط کی موت ایک exceptionہے ۔ امن رہتا تو یہ تہذیب انسانوں کی ترقی میں معاون ثابت ہوتی۔ انسانوں نے خون ریزی اور جنگوں میں وقت کا جو زیاں کیا ہے اگر اس وقت کو انسان کی بہتری کیلئے استعمال کرتے۔ انسان کے دُکھ اور عذاب کم ہو جاتے۔
انسان کے حواس جیسے دیکھنا، سننا، سونگھنا، چکھنا، چھونا، محسوس کرنا، آرزو کرنا، خواب دیکھنا، خیالات تخلیق کرنا اور عمل کرنا، یہ سب حواس انسان کی انفرادیت کو ترقی دے رہے ہیں۔ وہ ترقی جس میں اس کا ضمیر زندہ ہے۔ اسکی تخلیق زندہ ہے۔ اسکی محبت زندہ ہے۔ جبکہ جنگ اور جنگی جنون انسان سے یہ سب کچھ چھین کر اسے ایک وحشت و درندگی میں لے جاتا ہے۔ایک فلاسفر نے کہا تھا کہ وہ تہذیب تہذیب نہیں کہلا سکتی جو انسانوں سے دماغ جیسی شاندار طاقت چھین کر اس کی جگہ محض خوراک تلاش کرنے والی تھوتھنی فِٹ کر دے۔
محض خوراک تلاش کرنے والی اس تھوتھنی نے جنگ و جدل کے کیسے کیسے خوفناک مناظر پیش کئے ہیں ان سے جنگوں کی تاریخ بھری پڑی ہے۔ خوراک تلاش کرنے والی اس تھوتھنی کو امن کی خاطر اور امن کیلئے دل اور دماغ سے replaceکرنا ہوگا۔ امن کی اقدار کے نام پر پہلا قدم کہیں بھی اُٹھایا جا سکتا ہے۔
یادوں کی بارات میں جوش ملیح آبادی نے لفظوں سے ایک پینٹنگ بنائی ہے۔ ’’چونکہ وہ جنگِ عظیم کا زمانہ تھا اور فوجی گاڑیوں تک کسی کو جانے نہیں دیا جاتا تھا۔ اس لئے بڑے شش و پنج کے عالم میں یہ سوچتا ہؤا بیٹھا رہا کہ اگر کسی نے دیکھ لیا تو جاسوسی کے جُرم میں کھڑے کھڑے گولی مار دی جائے گی یا گرفتار کر لیا جاؤں گا۔ خدا خدا کرکے انجن نے سیٹی دی اور میں لپک کر گارڈ کے پیچھے بمپر پر بیٹھ گیا۔ گاڑی کی رفتار تیز ہوئی تو میرے جسم کا توازن بگڑنے لگا۔ اتنے میں یورپین گارڈ نے پیچھے کی کھڑکی کھول دی۔ مجھے بیٹھا دیکھ کر وہ اُچھل پڑا ۔ پستول جیب سے نکال کرتان لیا اور ڈپٹ کر پوچھا۔ who is there۔ میں نے بڑی مردانہ آواز میں کہا، shut up that is love affair. I am going to my beloved.۔ گارڈ اگر ہندوستانی ہوتا تو ٹھائیں سے گولی مار دیتا۔ مگر وہ انگریز فوجی منچلا انگریز تھا۔ میرا یہ مردانہ جواب سُن کر اس نے کہا brave اور دونوں ہاتھوں سے مجھے اندر کھینچ لیا۔ اس نے لالٹین اُٹھا کر غور سے میرا منہ دیکھا اور مسکرا کر کہا "Oh! an exat lovers face" (ارے! بالکل عاشق کا چہرہ) اور پھر بڑی نرمی کے ساتھ اس نے کہاplease sit down mister lover (بیٹھ جائیے مسٹر عاشق، میں بھی عاشق ہوں)۔ میں بیٹھ گیا تو اس نیک مرد نے مجھ کو بیئر پلائی، بُھنا ہؤا گوشت کھلایا اور جب میرا اسٹیشن آ گیا تو میرے ساتھ آ کر مجھ کو گیٹ سے باہر نکال دیا‘‘۔
لفظوں سے بنی یہ تصویر ہمیں بہت سے پیغام دے رہی ہے ۔ شاید کہہ رہی ہے کہ محبت کی گنجائش اور قدر اسلحہ سے بھری ہوئی ٹرین میں بھی ممکن ہے۔ محبت حاکم اور محکوم کے روّیوں میں بھی تبدیلی ممکن بنا سکتی ہے۔ محبت نسل، مذہب، رنگ اور قومیت کے منفی جنون بھی ختم کر سکتی ہے۔ اور یہ پینٹنگ شائد یہ بھی کہہ رہی ہے کہ ہمیں جلدی کرنا ہو گی اور اسلحے سے بھری ٹرین کو روکنا ہو گا اس سے پہلے کہ یہ ٹرین اپنا کام کر جائے اور انسان جیسے شاہکار کو جسے فطرت نے صدیوں کی محنت کے بعد تخلیق کیا ہے خاک میں ملا دے۔