دھرنے
- بدھ 23 / اپریل / 2014
- 4821
آج کل رشتے دھرنوں میں طے ہوتے ہیں ۔ دھرنے ایک اچھا میٹنگ پوائینٹ ہیں ۔ ایک دھرنے کے بعد نوجوان لڑکے لڑکیاں بقول حسین عابد یہ کہتے ہوئےبچھڑتے ہیں:
اب کہ بچھڑے تو شاید ہم کسی دوسرے دھرنے میں ملیں
اب تو اکثر لڑکیاں دھرنوں ہی پہ اپنے والدین کو لڑکوں سے ملواتیں ہیں ۔ والدین وہیں لڑکے کے دھرنے کی قابلیت دیکھتے ہیں۔ اچھے دھرنا باز لڑکے اپنے پرانے دھرنوں کی البم ساتھ رکھتے ہیں اور اپنی سیاسی جماعتوں یا تنظیموں کے سربراہوں کی “ اچھا دھرنا باز “ کی سند ہر وقت اُنکی جیب میں ہوتی ہے۔ اخباروں کے تراشے ، بی بی سی یا کسی اور مُلکی غیر مُلکی ٹی وی چینل کی سی ڈی دکھانے کا بندوبست بھی اُنھوں نے کیا ہؤا ہوتا ہے ۔
اگر لڑکے کا سابقہ دھرنوں کا ریکارڈ اچھا ہو تو والدین اُسی دھرنے پہ بات پکی کر دیتے ہیں اور قریبی اگلے دھرنے پہ شادی کی تاریخ طے کر دیتے ہیں۔ وگرنہ لڑکے سے کچھ اور دھرنوں کی فرمائیش کرتے ہیں اور اگلے دھرنوں کی کارکردگی کو دیکھ کر فیصلہ کرنے کا عہد کرتے ہوئے اپنی بچی کو گھر لے جاتے ہیں۔
کچھ بوڑھی خواتین ہر دھرنے میں نظر آتی ہیں۔ یہ دن میں چھ، چھ سات، سات دھرنوں میں شمولیت کرتی ہیں۔ اپنے موبائل فونوں سے دھرنوں کی فلمیں بناتی ریتی ہیں۔ یہ کسی ایک سیاسی جماعت یا کسی ایک فرقے کے دھرنے میں نہیں جاتیں۔ مُلک میں کسی خاص مسئلے پر دیے دھرنے میں بھی نہیں جاتیں بلکہ یہ ہر دھرنے میں شامل ہوتی ہیں۔ اگر دن کو اسلامی شریعت کے نفاذ کے لیے دئیے دھرنے میں شامل ہیں تو رات کو پاکستان میں تباہ ہوتی فلم انڈسٹری کے حقوق کے لیے دئیے دھرنے کی بھی فلم بنا رہی ہوتی ہیں۔ دوپہر کو ڈرون حملے کے خلاف دیے گئے دھرنے کی فلم بنانے کے ساتھ ساتھ سکارف پہنے گلا پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگا رہی ہیں اور کچھ دیر بعد ہی وزیر اعلی کی قیادت میں بجلی کی لوڈ شیٹنگ کے خلاف دئیے دھرنے کی فلم بنا رہی ہوتی ہیں ۔
خاص طور پر اگر شہر میں کسی نوجوان کے قتل ہونے پہ یا کسی کالج کی طالبہ کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف نوجوان لڑکوں لڑکیوں کے دھرنوں کو یہ خواتیں مس نہیں کر تیں۔ اصل میں یہ زیادہ تر انہی دھرنوں میں جاتی ہیں جو نوجوان لڑکے لڑکیاں دیتے ہیں۔ یہ خواتین ایسے دھرنوں میں بڑ ھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں ، اور دھرنوں میں بیٹھے نوجوان لڑکوں لڑکیوں کی ہر ہر زاویہ سے فلم بنا رہی ہوتی ہیں ۔
مگر یہ بڑی عمر کے لوگوں کے دئیے دھرنوں میں بھی اسی جذبے کے ساتھ شامل ہوتی ہیں۔ یہ خواتین وہ ہیں جو ایک زمانے میں گھر گھر ، محلہ محلہ گھوم پھر کر رشتے کراتی تھیں۔ مگر انٹر نیٹ نے ان کا کاروبار ٹھپ کرا دیا تھا ۔ تاہم وقت رزق کا کوئی نہ کوئی وسیلہ نکال ہی دیتا ہے ۔بھلا ہو ان دھرنوں کا جس نے ان کا کاروبار پھر سے چمکا دیا ہے ۔ اب یہ دھرنوں کی بنائی فلمیں شریف خاندانوں کے گھروں میں لے کر جاتی ہیں، اور خاندان والوں کو اس میں سے دولہا یا دولہن منتخب کرنے کا مشورہ دیتی ہیں ۔
گھر میں داخل ہو تے ہی یہ کہتے ہوئے چارپائی پہ اپنا موبائیل فون رکھ دیتی ہیں: “ اری بؤا بس اب تم میرا جوڑا اور کنگن تیار کرواؤ۔ آج تو میں تم کو دھرنوں میں بیٹھے ایسے ایسے لڑکے دیھاؤں گی کہ تمھارے لیے انتحاب کر نا مشکل ہو جائے گا ۔ بؤا تم دھرنوں میں شامل لڑکوں کے کاروبار کی فکر نہ کرو۔ ان میں ایسے ایسے دھرنہا باز ہیں جو دو دو مہینوں سے ہر روز تین تین دھرنوں میں شریک ہوتے ہیں۔ اب تم ہی بتاؤ بؤا اگر پیسے والا نہ ہو تو کوئی متواتر دو دو مہینے دھرنوں میں شامل ہو سکتا۔ اس ماری دنیا میں تو آج کوئی ایک دن بیروزگار نہیں رہ سکتا ۔ اور ویسے بھی میں اپنی بٹیا کا رشتہ کسی نکھٹو دھرنے باز کے ساتھ تھوڑی جوڑ سکتی ہوں۔ باقی بؤا میں نے اپنی قبر جانا ہے مجھ پہ یقین نہیں تو تم لوگ خود ایک دو دھرنوں پہ جا کر میری بات کی تصدیق کر سکتی ہو“
ایسے میں گھر کی دیوار کے ساتھ لگی گھر کی لڑکی یہ سب سُن رہی ہوتی ہے۔ جیسے ہی اماں چائے کے لیے آواز دیتی ہے لڑکی چائے کے برتن رکھتے رکھتے دھرنے والی خاتون کا موبائیل فون چوری سے اٹھاتی ہے اور فون میں دھرنوں کی فلمیں اپنےموبائیل فون میں ڈون لوڈ کر کے چُپکے سے دھرنے والی خاتون کا موبائیل فون واپس لا کر رکھ دیتی ہے۔ بس جیسے ہی دھرنے والی خاتون پھل مٹھائی کھا کر کسی اور گھر جانے کے لیے نکلتی ہے سارا گھر دھرنوں کی فلم دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ اور متواتر دھرنوں میں دیکھے جانے والوں کو ٹک مارک کرتا جاتا ہے۔ مگر رات اکثر مائیں لڑکیوں سے ان کی شادی کرنے والی ماسیوں سے بچنے کا مشورہ دیتے ہوئے خود اونچ نیچ پرکھنے کا کہتی ہیں: “ بیٹی مجھے تو ان موئی ماسیوں پہ اعتبار نہیں ۔ تم نے دیکھا نہیں تمھاری خالہ کی بیٹی کا رشتہ اسی موئی ماسی نے کرایا تھا۔ کیا کیا بسہانے باغ دکھائے تھے ۔ نتیجہ کیا نکلا تم خود دیکھ ہی رہی ہو۔ میں تو کہوں بٹیا گھر میں تمھارا باپ نہ بڑا بھائی جو دھرنوں میں جا کر اس موئی ماسی کے ثبوتوں کی تصدیق کرے ۔ میں تو کہوں بیٹی تم خود ہی دھرنوں میں شمولیت کرو ایک تو خود تصدیق کر لو گی یا ہو سکتا خود ہی کسی اچھے نیک بھلے مانس دھرنا باز سے تمھاری ملاقات ہو جائے۔“
رات کلثوم امی جی کی یہ باتیں سن کر سوئی ہی تھی صبح صبح اُس کے فون پہ کسی نامعلوم نام سے دھرنے میں شمولیت کے لیے ایک ایس ، ایم ،ایس آگیا۔ امی جی نے اجازت تو دے ہی دی تھی۔ کلثوم نے الماری سے بہترین سوٹ نکالا بن سنور کے دھرنے میں شامل ہونے کے لیے چل پڑی ۔ امی جی نے بھی سُکھ کا سانس لیا ۔ دھرنے میں شہر کی نوجوان نسل کی بھر پور شرکت تھی۔ جو موبائیل فون کمپنیوں کے رات بارہ بجنے کے بعد فری گفتگو کرنے کے دیئے گئے پیکج کے حلاف دھرنا دے رہے تھے۔ پلے کارڈوں پہ قرآنی آیات درج تھی جو مسلمانوں کو بے حیائی سے منع کرتی ہیں۔
کلثوم دھرنے میں شامل ایک ایک کو غور سے دیکھ رہی تھی ،اور ان میں سے ماسی کی دھرنوں والی فلم میں کرداروں کو ڈھونڈ رہی تھی۔ دھرنے کے اختتام پہ کلثوم واپس گھر جانے ہی والی تھی کہ عباس نے بڑھ کر سلام کیا: “جی ہمیں بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے ہمارے دھرنے میں شرکت کی ہے۔ میں نے آپ کو پہلی بار دھرنے میں دیکھا ہے۔ قوم کو آپ جیسوں کی شدت سے ضرورت ہے ۔ میرا نام عباس ہے ، ابھی دو گھنٹے بعد ایک اور دھرنا ہے اگر آپ مصروف نہ ہوں تو دین اسلام کے لیے اس میں شرکت ضرور کریں ۔
اور کلثوم۔۔۔۔۔ بغیر کچھ کہے عباس کے ساتھ دوسرے دھرنے میں شرکت کے لیے چل پڑی۔ گھر واپسی سے پہلے عباس نے کلثوم کو اس ہفتہ میں سارے دھرنوں کا شیڈول دے دیا تھا۔ دوسرےدن کلثوم امی جی کو بھی دھرنے میں لے گئی۔ عباس سے ملوایا اور آخر آٹھ دس دھرنوں کے بعد ایک بے حیائی کے خلاف نکلنے والے دھرنے میں کلثوم اور عباس کی شادی کر دی گئی۔
اب کلثوم اور عباس دھرنوں میں شرکت نہیں کرتے کیونکہ اُنھوں نے سُن رکھا ہے کہ جو میاں بیوی شادی کرنے کے بعد بھی متواتر دھرنوں میں شرکت کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد وہ ایک دوسرے سے طلاق کے لیے ایک دوسرے کے خلاف دھرنا دے رہے ہوتے ہیں۔