جیوری سسٹم کی ضرورت

  • جمعرات 24 / اپریل / 2014
  • 6107

آزادی کے بعد ہم پاکستان میں مثالی عدالتی نظام قائم کرنے میں ناکام رہے۔ جس کے باعث عوام شدید ناانصافی کا شکار چلے آر ہے ہیں۔ انصاف کی تباہی کے سفر کا آغاز مولوی تمیز الدین خان کیس سے شروع ہو کر ظفر علی شاہ کیس پر بھی ختم نہیں ہؤا۔ عوام آج بھی انصاف کے لیے در بدر ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

اس میں بھی شک نہیں کہ اس نا انصافی میں ہمارے موجودہ اور سابقہ سب ہی حکمران افسر شاہی اور مقتدر حلقے بھی ذمہ دار ہیں۔ بحیثیت طالب علم قانون ہمارے عدالتی نظام میں سب سے بڑی خامی ’جیوری سسٹم‘ کا نہ ہونا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:  ﴿فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ۰۰۴۳﴾’’پ س تم اہل علم سے پوچھ لیا کرو اگر تمہیں علم نہیں۔‘‘

عدالتی کاروائی صرف جج صاحبان کے گرد ہی گھومتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج لاکھوں اپیلیں مختلف عدالتوں میں زیر التواء ہیں جو اس بے ثمر نظام انصاف کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جیورس پروڈسینس (اصول قانون) کا مسلمہ اصول ہے کہ امر واقعہ (Questions of Fact) کے جوابات ہمیشہ ارکان جیوری کو دینا  ہیں نہ کہ عدالت میں براجمان جج صاحبان نے۔ لیکن بد قسمتی سے ہماری عدالتیں یہ کاروائی سر انجام دیتی ہیں جو کہ قدرتی انصاف کے مروجہ اصولوں کی شدید خلاف ورزی ہے۔

جیوری سسٹم تمام ترقی  یافتہ ملکوں کے نظام انصاف کی وہ خوبصورتی ہے جو لوگوں کو انصاف کی منزل تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے کیونکہ یہ عدالت کے صوابدیدی اختیارات  پر قدغن لگاتی ہے اور یہ فریقین مقدمہ کو جج  کی انفرادی غلطی سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔ جیوری سسٹم کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اس کا آغاز ریاست یونان کے نظم سے ہؤا۔

جب یونانیوں نے نظام انصاف کی بنیاد رکھی تب ہی سے اسے عدالتی کاروائی کا لازمی جزو قرار دیا۔ عظیم فلاسفر سقراط کا مقدمہ ایتھنز کے عوام  پر مشتمل 500 افراد کے بنچ نے سنا تھا۔ جبکہ ججز اور دیگر مکتبہ زندگی کے افراد نے جیوری کے فرائض ادا کیے تھے۔ 260 ارکان نے عظیم سقراط کو مجرم قرار دیا جبکہ 240 ارکان نے انہیں بے گناہ قرار دیا تھا۔ چونکہ اکثریتی ارکان نے مجرم قرار دیا تھا لہٰذا سقراط کو زہر کا پیالہ پی  کر دنیا کو خیر باد کہنا پڑا۔

یوں یہ بات واضح ہے کہ انصاف کے لیے عدالتی کاروائی جیوری کے بغیر نامکمل ہے۔ آج کے دور میں بھی امریکہ، برطانیہ ، چین، روس، جاپان ، آسٹریلیا، جرمنی، سویڈن، ڈنمارک کے نظام انصاف مثالی اور تعمیری ہیں اور جیوری سسٹم ان کی عدالتی کاروائی اور ضابطہ جاتی قانون کا لازمی جز ہے۔ امریکی آئین کا ہی جائزہ لیں۔ سال 1776ء کے تشکیل کردہ آئین میں معماروں نے آئین میں ہی جیوری سسٹم کو نظام انصاف کا لازمی جزو قرار دیا اور آج بھی ان کا عدالتی نظام دنیا میں بہترین شمار ہوتا ہے۔

’’جیوری سسٹم‘‘ کے اشارے اور ہدایات قرآن مجید میں واضح ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے معاملات کے حل کے لیے بار بار مشاورت کا حکم دیا ہے اور خصوصی طور پر ان لوگوں سے مشورے کا حکم دیا ہے جو کسی بھی میدان کے بارے میں خصوصی ادراک و علم رکھتے ہیں۔ جیوری ممبرز اور جج صاحبان کے مشترکہ نکات سنہری انصاف کا باعث بنتے ہیں۔ جو کہ یقیناً حقوق العباد کی شاندار پاسداری  ہے۔ یوں انسان اشرف المخلوقات کا مظہر ہوتا ہے اور اللہ کے بعد زمین پر انصاف دیتا ہے۔

ہمارے موجودہ نظام انصاف میں جہاں بے شمار  نا انصافیاں نظر آتی ہیں ان میں مرکزی حیثیت جیوری سسٹم کی ضابطہ جاتی قانون میں غیر موجودگی ہے۔ بالکل ایسے ہی کہ اگر کوئی فیصل آباد کا دورہ کرے تو وہ جس سٹرک سے بھی گذرے اس کا سامنا گھنٹہ گھر چوک میں نصب گھڑیال سے ضرور ہو گا۔ بالکل اسی طرح عدالتی کاروائی شروع ہوتی ہے تو بیچارہ فریق جدھر بھی دیکھتا ہے اسے جج صاحب ہی نظر آتے ہیں۔ یہ اختیارات کا ارتکاذ فرد واحد کی گرد گھومنا تمام نا انصافیوں کی جڑ ہے۔

مسلمہ اصول ہے کہ لا محدود اختیارات لا محدود بد عنوانی کو جنم دیتے ہیں ۔ عظیم فلسفی و دانشور مونٹیسکیو Montisque کے بقول  اگر طاقت کے بے جا استعمال کو روکنا ہے تو ایک اور طاقت کو اس کا نگہبان مقرر کر دو۔ لہٰذا جج وعدالت کے لا محدود اختیارات کو صرف جیوری سسٹم کے ذریعے ہی روکا جا سکتا ہے جو کہ انصاف کے اصولوں کے عین مطابق ہے۔ اس کے علاوہ احتساب و توازن کے اصول کا نفاذ  ضروری ہے۔ جج صاحبان کے اکثریتی فیصلوں کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں اپیلیں سماعت کے لیے منظور کر لی جاتی ہیں۔ لیکن کبھی ان کے اعلیٰ ذمہ داران ان سے باز پرس نہیں کرتے۔ کہ ان کے سنائے گئے فیصلوں کو کیوں اعلیٰ عدالتوں نے مسترد کر دیا اور شکایات کو سماعت کےلیے کیوں قبول کر لیا۔ اس غفلت کی سزا کا بے چارے محکوم ولاچار فریقین سامنا کرتے ہیں۔ ہمارے لیڈران جو کہ درحقیقت ڈیلر ہیں، کو ناانصافی تو نظر ہی نہیں آتی۔

لہٰذا ان سے کوئی امید تو عبث ہے البتہ عدلیہ کے چیف جسٹس صاحبان اپنے احکام کے ذریعے جیوری سسٹم کو  آئین پاکستان میں دیے گئے اختیارات بذریعہ آرٹیکل 191/202کے تحت ضابطہ جاتی قانون کا حصہ بنانے کا حکم دے سکتے ہیں۔ یہ ان کا احسن ترین اقدام ہو گا۔ جہاں تک مالیاتی بوجھ کا تعلق ہے تو یقینا حکمران اس کا بے جا واویلا کریں گے۔ کیونکہ یہ حقوق العباد اور عوام کی فلاح کا کام ہے۔ آئین پاکستان عوام کے بنیادی حقوق کا ضامن ہے جس کی ذمہ دار اور نگہبان عدلیہ ہے۔

میرا یہ ایمان ہے کہ اگر آغاز ہی سے ہمارے عدالتی نظام میں جیوری سسٹم ہوتا تو شاید وہ فیصلے جو کہ مولوی تمیز الدین خان، دو سوکیس، نصرت بھٹو کیس ، ظفر علی شاہ کیس، اقبال ٹکاکیس سٹیٹ بنام ذوالفقار علی بھٹو کیس میں سنائے گئے ہماری اور عدلیہ کی تاریخ کو داغدار نہ کرتے۔ اور شاید ہم وہ نہ ہوتے جو آج ہیں۔ کیونکہ لمحوں کی غلطیاں صدیوں کی سزا کا سبب بن جاتی ہیں۔ بد قسمتی سے ہمارا قومی المیہ ہے کہ ہم نے نظام بنانے کی بجائے شخصیات کو قوم کا محور بنایا۔

نتیجہ سامنے ہے کہ ہم کوئی باثمر نظام نہ بنا سکے اور آج بھی قوم مصائب میں گھری ہے۔ لہٰذا موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ قرآن مجید کے حکم ﴿ فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ۰۰۴۳﴾ ’’پس تم اہل علم سے پوچھ لیا کرو اگر تمہیں علم نہیں۔‘‘ کی روشنی میں انصاف کے حصول کے لیے ضابطہ جاتی قانون میں جیوری سسٹم کو  اپنایا جائے۔