رضا علی عابدی ۔۔ ہمہ جہت شخصیت

  • جمعہ 25 / اپریل / 2014
  • 18315

بی بی سی کی اردو سروس ایک وقت تک اپنی مصدقہ خبر اور درست تلفظ کی وجہ سے برِصغیر میں بہت مشہور تھی مگر یہ تب کی بات ہے جب یہاں اطہر علی ، وقار احمد ، سید راشد اشرف اور رضا علی عابدی جیسے قابل اور محنتی لوگ کام کرتے تھے ۔ اب تو بی بی سی اردو سروس کی خبر کا اعتبار نہیں اور تلفظ کی تو بات ہی نہ کیجئے ۔

اب نہ ایسے محنتی لوگ یہاں ہیں اور نہ ویسا اعتبار ۔ اب تو تجزیے کو خبر بنا کر چلا دیتے ہیں اور غلط تلفظ بھی اتنے ا عتماد سے ادا کرتے ہیں کہ بعض اوقات اپنے تلفظ پر شک ہونے لگتا ہے ۔ میں نے اوپر جن لوگوں کا ذکر کیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو محنتی اور قا بل ہیں۔ اِن کا لب و لہجہ بھی منفرد ہے ۔ آپ بی بی سی کی اردو سروس اور سیر بین کی موسیقی کی مخصوص دھن کے علاوہ بھی انھیں کہیں سن لیں یہ لوگ اسی لب و لہجے میں بات کریں گے گویا یہ ان لوگوں کے قدرتی انداز تھے اور یہ کہیں سے مستعار نہ لئے گئے تھے ۔

رضا علی عابدی کو میں نے پہلی مرتبہ لندن میں اِ ن کے اِسی مخصوص لب و لہجے سے پہچانا ۔ اردو مرکز کی کوئی تقریب تھی اور عابدی صاحب اپنا کوئی مضمون پیش کر رہے تھے ۔ یہ لندن میں عابدی صاحب سے میرا پہلا تعارف تھا ۔ اس تقریب کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا ۔ نام شناسی کے مرحلے کے بعد ہوتے ہوتے ان سے جان پہچان بھی ہو تی گئی اور ملاقاتیں بھی ہوتی رہیں ۔ اُس وقت تک یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں ۔ تب تک عابدی صاحب صحافی اور براڈ کاسڑ تھے ۔ ابھی ان کے افسانوں کے بارے میں پتہ نہ چلا تھا اور نہ ہی ابھی ان کے سفر نامے منظرِ عام پر آئے تھے ۔ سن 1986 ء  میں ان کی پہلی کتاب “ جرنیلی سڑک  “ منظرعام پر آئی جو پاک و ہند کی مشہور سڑک جی ٹی روڈ کے ساتھ ساتھ ان کے سفر کی داستان تھی جو وہ بی بی سی اردو سروس پر پہلے ہی سنا چکے تھے ۔ رضا علی عابدی اس سے پہلے بھی ایک ادیب تو تھے لیکن میرا خیال ہے ان کی پہلی کتاب ہی اپنے ساتھ ان کیلئے خوش قسمتی لائی جس نے انھیں منفرد اور سکہ بند ادیبوں کی صف میں لا کھڑا کر کیا ۔

اب و ہ صرف ایک صحافی اور براڈ کاسٹر نہیں تھے بلکہ ایک معروف اور پڑھے جانے والے ادیب بھی تھے ۔ اس دن کے بعد انھوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور مسلسل لکھتے رہے۔ بلکہ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ نہ صرف لکھتے رہے بلکہ پہلو بدل بدل کر لکھتے رہے۔ اگر کبھی صرف سفر نامہ لکھا تو  “شیر دریا  “ جیسی کتاب آئی اور اگر کبھی سفر نامے کے ساتھ تخقیق بھی شامل کر د ی تو “ ہمارے کتب خانے  “ جیسی نادر کتاب تخلیق ہوئی اور سفر کے ساتھ ایک نئی دنیا دریافت کی تو “ جہازی بھائی “ ایسی دلچسپ کتاب لکھ ڈالی ۔ اپنی بیش قیمت یادداشتیں لکھنے بیٹھے تو کبھی “ پہلا سفر “ کیسے شروع کیا ، اس کے بارے میں لکھا کبھی “ ریڈیو کے دن “ لکھے تو کبھی “ اخبار کی راتیں “ اور اب سنا ہے کہ تیس سال پہلے کے حالات “ تیس سال “ بعد بیان کرنے چلے ہیں ۔

مذہب کی محبت نے جو ش مارا تو “ حضرت علیؒ کی تقریریں “ ہی ترجمہ کر ڈالیں کہ شاید عوام الناس کی سمجھ میں یہی بات آ جائے ۔ اردو کی محبت نے کروٹ لی تو نہ صرف یہ لکھا کہ “ اردو کا سفر “ کیسے آغاز ہؤا بلکہ برطانیہ میں پلنے بڑھنے والوں بچوں کے لئے قاعدے بھی لکھ ڈالے تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ حضرت آپ اردو اردو کی بہت رٹ لگاتے ہیں ، خود آپ نے اس زبان کے فروغ اور تعلیم و ترویج کے لئے کیا کیا؟

برطانیہ میں بیٹھ کر رضا علی عابدی نے کہانیا ں لکھیں اور افسانے لکھے اور پھر مین سٹریم کے افسانہ نگاروں کی آواز میں “ اپنی آواز “ بھی شامل کر دی اور “ جان صاحب “ کو بھی ۔ پرانے قصّہ کہانیوں سے شغف ہو ا تو برطانیہ ہی کی “ ملکہ وکٹوریہ اور منشی عبدالکریم “ کا قصّہ لکھ دیا کہ سند رہے کہ ملکہ کے مزاج میں ایک ذہین مگر عام آدمی بھی دخیل ہو سکتا ہے ۔ ممکن ہے کبھی ان کا واسطہ کسی “ پرانے ٹھگ “ سے پڑا ہو اسی لئے اس کتاب میں ٹھگوں کے کمالات اور حالات بھی بتا دیئے اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ انگریزی راج میں اُن سے کیسے نمٹا گیا ۔

انھیں موسیقی سے بھلا کیسے نہ محبت ہوتی کہ با ذوق آدمی ہیں اور با قاعدہ شاعر تو نہیں لیکن تظمین لکھ لیتے ہیں اور موڈ میں ہوں تو چوری چھپے سنا بھی دیتے ہیں ۔ یہ خود “ نغمہ گر “ تو نہیں لیکن اس نام سے کتاب لکھ کر انھوں نے نغمہ نگاروں اور گلو کاروں سے اپنی محبت کا حق ادا کیا ہے ۔ نہ صرف یہ ، بلکہ مجھے یاد ہے ایک مرتبہ تو انھوں نے خود اپنے طور پر پرانے گانوں کی ایک سی ڈی بھی ریلیز کی تھی ، جو ابھی تک میرے پاس محفوظ ہے۔

کتاب سے رضا علی عابدی کی محبت مسلّمہ امر ہے اسی لئے تو چھوٹے چھوٹے قصبوں اور شہروں شہروں پھر کر انھوں نے نادر کتابوں کا کھوج لگایا اور انھیں نئے سرے سے دریافت کیا اور دنیا کو بتایا کہ کیا کیا خزانے کہاں دفن ہیں ۔ لیکن اب انھیں ایک نئی پریشانی لا حق ہے ۔ وہ یہ کہ برٹش لائبریری ، لندن میں “ کتابیں اپنے آبا ء کی “ دیکھ کر ان کا دل سیپارہ ہوتا ہے۔ دیکھیں رضا علی عابدی اپنی اس پریشانی کا کیا حل نکالتے ہیں ۔ شاید ان کے لئے یہ نئی پریشانی کسی نئی کتاب کا موضوع ہو ۔

رضا علی عابدی بنیادی طور پر محنتی اور ان تھک آدمی ہیں ان کا مطالعہ بھی بہت وسیع ہے اور اللہ نے بہت اچھے حافظے سے بھی نوازا ہے ۔ ان کا ذاتی مشاہدہ کمال کا ہے ۔ مجلسی آدمی ہیں پڑھے لکھے لوگو ں میں ، اور خاص طور پر نوجوانوں میں  بہت خوش رہتے ہیں اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی میں بھی پیش پیش رہتے ہیں ۔ میں نے ذاتی طور پر دیکھا ہے کہ کراچی کے نوجوان انھیں حلقہ کئے بیٹھے تھے اور یہ اپنے علم اور تجربے کا نور پھیلا رہے تھے ۔ میں یہ بات بلا خوف ِ تردید کہہ سکتا ہو ں کہ رضا علی عابدی برطانیہ میں اردو زبان کی پہلی اور واحد ہمہ جہت شخصیت ہیں جنھوں نے یہاں اردو زبان کے حوالے سے اتنی خدمات انجام دی ہیں اور وہ بھی بغیر کسی لالچ کے ؂
نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا  گر نہیں ہے مرے اشعار میں معنی ، نہ سہی

لیکن ایسا بھی نہیں ہے ان کی خدمات کا اعتراف نہ کیا جا رہا ہو ۔ پاکستان کی ایک بڑی اور اعلیٰ یونیورسٹی ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور نے رضا علی عابدی کو پہلے اعزازی پروفیسر شپ اور پھر اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگریوں سے نوازا ہے ۔ دیر آید درست آید ۔ عابدی صاحب ! آپ کو ان اعزازات پر بہت بہت مبارکباد۔ آپ یقیناً اس کے حق دار ہیں۔

اور ہاں ، برطانیہ کے اربابِ اختیار تو ان کی خدمات سے اس لئے واقف نہیں کہ وہ اردو سے نا بلد ہیں اور ان کی تحریریں انگریزی میں دستیاب نہیں۔ لیکن جس ملک کی اپنی سرکاری زبان اردو ہے اسے کیا ہؤا ہے ، وہ کیوں خاموش ہے ؟۔ سبب شاید یہ ہو کہ پاکستان میں اعزازت کی بندر بانٹ ہے اور ویسے بھی سرکار تک عابدی صاحب کی رسائی نہیں ۔ لیکن کوئی بات نہیں اب برطانوی حکومت نے پاکستان کی حکومت میں بھی اپنا ایک ایسا نمائیدہ بھیج دیا ہے جو اردو جانتا ہے اور وہ نمائیدہ اب حکومت ِ پاکستان کو برطانوی پاکستانیوں کے کارناموں سے آگاہ کرتا رہے گا اور مستقبل میں سرکاری اعزازات کی تقسیم کے بارے میں بھی گائیڈ کرتا رہے گا۔ عابدی صاحب ! آیئے دعا کریں کہ وہ برطانوی نمائیدہ بھی کہیں مقامی رنگ میں نہ رنگ جائے ۔