عزیز ہموطنو !

  • ہفتہ 26 / اپریل / 2014
  • 4531

سلطانہ انگڑائی لے کر بیدار ہؤا تو اسے یوں محسوس ہو جیسے قیلولے کے دوران دنیا ہی بدل گئی ہو۔ نہ وہ جنگل تھا نہ وہ چٹانیں جہاں اس نے اپنے ساتھیوں سمیت ٹھکانا بنا رکھا تھا۔ ابھی وہ پوری طرح حیران ہونے کی تیاری کر ہی رہا تھا کہ سامنے شیروانی اور قراقلی ٹوپی اوڑھے ایک شریف آدمی اپنے ساتھیوں کے ساتھ ادھر کوآتا دکھائی دیا۔ خدا کا شکر بجا لایا کہ کمپنی بہادر کی پولیس نہ تھی ورنہ آج تو اسکی گرفتاری لازمی تھی۔ شریف آدمی قریب آیا تو بے تکلفی سے بولا۔

ہاں بھئی سلطانہ۔ اٹھ گئے۔ یار بڑی لمبی تان کے سوئے ہوئے تھے تم۔میں تو روزانہ تمہیں دیکھنے آتا تھا۔ کچھ یاد ہے ۔ کون ہوں میں!!

سلطانہ کچھ دیر تو آنکھوں کو ملتا رہا پھر حیران ہوتے ہوئے بولا۔

ارے گبر تم!! یہ کیا حلیہ بنا رکھا ہے تم نے۔ تم تو میرے حریف تھے۔ کیا جان لینے آئے ہو میری!!

گبر بلغمی قہقہہ لگاتے ہوئے بولا۔

چھوڑو یار ! کیسی باتیں کرتے ہو۔ وہ تو پرانی بات ہو گئی ۔اب کیسا جھگڑا۔ میں تو تمہیں اپنا شریک بنانے آیا ہوں۔

شریک !!!سلطانہ بگڑتے ہوئے بولا۔ کیسا شریک ۔ میں تو غریبوں کی مدد کرنے والا ڈاکو ہوں۔ اور تمہاری حرکتیں کون نہیں جانتا۔ کئی ٹھاکروں کو لوٹ کر کھا گئے تم۔ مگر حرام ہے کبھی کسی غریب کی مدد کی ہو۔ اور وہ بیچاری مظلوم عورتوں کو ٹوٹے ہوئے کانچ پر نچوانا کون بھول سکتاہے۔ اور کانچ بھی شراب کی بوتلوں کا۔ چلو چلو اپنی راہ لو۔ میرا اپنا ایک نام ہے۔اسے مٹی میں ملانا چاہتے ہو۔

گبر اپنی ٹوپی اتار کر سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔

ارے نہیں بزرگوار! اب تو میں سدھر گیا ہوں۔ اب تو میں نے اپنی زندگی خلق خدا کی خدمت کے لئے وقف کر دی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ تم بھی اس نیک کام میں میرے شریک بن جاﺅ۔

سلطانہ نرم پڑتے ہوئے بولا۔

لیکن میں حیران ہوں کہ تم گرفتاری سے بچ کیسے گئے۔ کمپنی بہادر کی پولیس کو تو تمہیں دیکھتے ہی گولی مار دینے کا حکم ہے۔

گبر سینہ پھلاتے ہوئے بولا۔

ارے کیسی کمپنی بہادر اور کہاں کے فرنگی۔اب تو ہم خود حکمران ہیں اپنے ملک کے۔ جو چاہے کرتے ہیں۔ دراصل تم اتنے عرصے بعد جاگے ہو کہ تمہیں پتہ ہی نہیں دنیا کتنی بدل چکی ہے۔

اچھا ! سلطانہ حیرت کا اظہار کرتے ہوئے بولا۔ لیکن یہ تو بتاﺅ کہ اب تم کرتے کیا ہو۔

گبر اکڑوں بیٹھ کر ٹوپی سے کھیلتے ہوئے بولا۔

بھائی کرنا کیا ہے۔ سیاست کرتے ہیں۔ اب کہاں کے ڈاکے اور لوٹ مار جیسے گھٹیا کام۔ ہم تو بھولے ہی رہے۔ یقین جانو جتنا پیسہ اور جتنی عزت اس کام میں ہے تم اسکا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اور پھر اختیارات الگ۔ پولیس بھی جھک جھک کر سلام کرتی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تم بھی اس کام میں شامل ہو جاﺅ تو مزہ آجائے کہ تم تو ہو ہی پیدائیشی لیڈر۔ پارٹی کو کہاں سے کہاں لے جاﺅ گے۔ بس اسی لئے تمہیں لینے آیا ہوں۔

سلطانہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے بولا۔

بھئی سردار کی طاقت تو جتھے سے ہوتی ہے۔ یہ پارٹی کیا بلا ہے۔

گبر سلطانہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے سمجھانے لگا۔

یار پارٹی اور جتھہ ایک ہی چیز ہے۔ کچھ کم عقل اسے ٹولی بھی کہتے ہیں۔ دیکھو طریقہ وہی ہے جو تم نے اختیار کر رکھا تھا۔ جس کے پاس ہے اسے لوٹو۔ تھوڑا سا غریبوں کو دے دو تاکہ وہ تمہاری تعریف میں نعرے لگاتے رہیں۔ باقی اپنی جیب میں ڈالو اور ہضم کر جاﺅ۔ نہ گرفتاری کا خوف نہ پولیس کا خدشہ۔

سلطانہ احتجاج کرتے ہوئے بولا۔

لیکن میں تو لوٹتا ہی غریبوں کی مدد کیلئے ہوں، اور وہ بھی ظالم ساہوکاروں اور جاگیرداروں کو ۔ تم کسے لوٹتے ہو۔

گبر قہقہہ لگاتے ہوئے بولا۔

یار ابھی میں نے تمہیں بتایا تو ہے کہ ہم نے فرنگیوں کو نکال باہر کیا ہے۔ یہ ہمار ملک ہے۔اب ہم آزاد ہیں، جسے چاہیں لوٹیں۔ لیکن ہاں! ساہوکاروں اور جاگیرداروں وغیرہ کو ہم نہیں لوٹتے۔ وہ تو ہمارے ساتھی اور ہماری طاقت ہیں۔

تو پھر کسے لوٹتے ہو تم۔ یہ تو بتاﺅ ! سلطانہ جھنجلاتے ہوئے بولا۔

عوام کو۔اور کسے۔ گبر بے اعتنائی سے بولا۔

عوام کو !! سلطانہ اچھلتے ہوئے بولا۔ لیکن انکے پاس تو پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہے۔

صحیح کہا تم نے ۔ گبر سنجیدگی سے بولا۔ تب بھی نہیں تھی اور اب بھی نہیں ہے۔ اور سچ پوچھو تو ہونی بھی نہیں چاہیئے۔ سرکش ہوجاتے ہیں کم ظرف۔

یہ کیا پہیلیاں بجھوا رہے ہو تم۔ کہیں پولیس کے مخبر تو نہیں بن گئے۔ مجھے باتوں میں لگا کر گرفتار کروانا چاہتے ہو۔ اگر عوام ویسے ہی بھوکے ننگے ہیں تو پھر ان سے لوٹتے کیا ہو۔ سلطانہ مزید جھنجھلاتے ہوئے بولا۔

بھئی یہی تو بات ہے سمجھنے کی۔ دیکھو میں تمہیں سمجھاتا ہوں۔ گبر ایک آنکھ میچتے ہوئے بولا۔ میں نے تمہیں بتایا ہے ناں کہ اب ہم آزاد ہو چکے ہیں۔ اب یہ ملک ہمارا ہے، سو جسے چاہیں لوٹیں اور جو چاہے لوٹیں۔ت و بھیا اب ہم اس ملک کی دولت لوٹتے ہیں۔ اور مزے کی بات دیکھو کہ یہ بھوکے ننگے عوام اس غلط فہمی کا شکار ہیں کی یہ دولت انکی ہے۔ یعنی اسکے مالک یہ دو دو ٹکے کے چمرخ ہیں۔

تو اس میں غلط بات کیا ہے۔ سلطانہ نے لہجے میں سختی پیدا کرتے ہوئے کہا۔ جب فرنگی اس ملک کی دولت لوٹتا تھا تو میں فرنگی یا اسکے گرگوں سے چھین کراسے واپس عوام کو لوٹا دیتا تھا۔

گبر بحث کرتے ہوئے بولا۔

لیکن اب تو فرنگی چلا گیا ناں۔اور فرنگی سے پہلے جو دوسرے باہر والے آتے تھے وہ لوٹتے تھے۔ تو کیا یہ بہتر نہیں کہ اب جب کہ ہم خود اسکے مالک ہیں یہ کام خود کریں۔اور پھر تم جو یہ بار بار عوام کی بات کرتے ہو تو بھائی انہیں کس نے روکا ہے۔ جس میں ہمت ہو آگے بڑھے اور اپنا حصہ وصول کر لے۔

سلطانہ بگڑتے ہوئے بولا۔

میں نہیں سمجھتا کہ عوام اتنے بیوقوف ہیں کہ تمہیں آسانی سے اس لوٹ مار کی اجازت دے دیں۔

گبر پھر ایک بلغمی قہقہہ لگاتے ہوئے کہنے لگا۔

بھئی یہ سب کچھ ہم عوام کی رضا و رغبت سے ہی تو کرتے ہیں۔ کم بختوں سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ انہیں اپنے حق میں ہموار کرنا پڑتا ہے۔ ہم نہ کریں تو کوئی دوسرا ڈاکو ان نا شکروں کو اپنے پیچھے لگا لیتا ہے۔ تم تو سوئے رہے لیکن تمہیں کیا پتہ مقابلہ کتنا سخت اور کیسا کیسا ڈاکو میدان میں ہے۔ پراسکا حل بھی اب ہم نے نکال لیا ہے۔اب تو بھائی باریاں لگی ہوئی ہیں سب کی ۔

سلطانہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے گبر کے دائیں پہلو میں کھڑے ایک نورانی صورت بزرگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھنے لگا۔

اور یہ حضرت جو تمہارے ساتھ کھڑے ہیں کیا یہ بھی ڈاکو ہیں۔ اور انہوں نے ہاتھ میں بوتلیں کیسی پکڑی ہوئی ہیں۔
ارے نہیں۔ گبر بتانے لگا۔ یہ تو اپنے علامہ سبز باغ ہیں۔ نو سروں والے عقاب کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ اور بوتلیں جو انکے ہاتھ میں تم دیکھ رہے ہو دودھ اور شہد کی ہیں۔ مال اگرچہ دو نمبر ہے۔ یہ ان عاصی اور گناہگار عوام کو دودھ اور شہد چٹا کر ان کی عاقبت سنوارتے ہیں۔ بہت کام کے آدمی ہیں۔ان سے تو ہر دفعہ مدد لینی پڑتی ہے۔

اور یہ جو مونچھوں والا ہاتھ میں کوڑا لئیے کھڑا ہے ، یہ کون ذات شریف ہیں۔ سلطانہ نے دائیں پہلو چوبند کھڑے شخص کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔

گبر تھوڑا سا گھبرایا۔ پھر سلطانہ کے کان کے پاس منہ لیجاتے ہوئے بولا۔

پنگا مت لینا اس سے۔ بڑا غصیل اور سرکش ہے۔ بات بات پر کوڑا لہرانے لگتا ہے۔ ہماری باریاں بھی یہی بے صبرا خراب کرتا ہے۔ جبرو ہے اسکا نام۔

سلطانہ پیشانی پر بل ڈالتے ہوئے بولا۔

لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا کی تم ان بیچارے عوام کو اپنے پیچھے لگا کیسے لیتے ہو۔ اتنے ناسمجھ تو وہ کبھی بھی نہ تھے۔ فرنگی کے زمانے میں بھی نہیں۔

گبریہ سن کر مسکرانے لگا۔ دیکھو گے۔ وہ بولا۔ اچھا آﺅ تمہیں دکھاتا ہوں۔

یہ کہہ کر گبر نے اپنے ساتھ آئے ہجوم پر ایک نظر ڈالی جو نقاہت اور خوشامد سے تقریباٌ دوہرا ہوا جاتا تھا۔ پھر ایک نسبتاٌ تگڑے آدمی کو پکارا۔

اوئے کالو ! ادھر آ۔

کالو دوڑتا ہؤا آیا اور گبر کے اشارے پر گھوڑے کی طرح ہاتھ پاﺅں کے بل اسکے سامنے دہرا ہو گیا۔ گبر نے کچھ دیر تؤقف کیا۔ ہجوم پر ایک نظر ڈالی اور لوگوں کی داد و تحسین کے جواب میں ہاتھ لہراتا ہوا سامنے بچھی انسانی سٹیج پر چڑھ کر ان سے خطاب کرنے لگا۔

میرے عزیز ہم وطنو !!

ابھی یہ لفظ اسکے منہ میں ہی تھے کہ پیچھے کھڑے جبرو نے کوڑا لہراتے ہوئے اسے سٹیج سے کھینچ کر نیچے زمین پر دے مارا اور چلایا!

تیرے باپ کے نوکر ہیں سالے۔ اتنی دیر سے دھوپ میں کھڑے تیرے مکالمے سن رہے ہیں۔ چل بھاگ یہاں سے۔

کالو ابھی تک وہیں دہرا ہؤا سٹیج بنا پڑا تھا۔ ایسے مناظر وہ پہلے بھی دیکھ چکا تھااور انتظار میں تھا کہ دیکھیں اس پر اب کون قدم رکھتا ہے۔

اس دوران علامہ سبز باغ اپنی دودھ اور شہد کی بوتلیں لہراتا اچک کر جبرو کے پیچھے آن کھڑا ہؤا تھا اور بھوک سے بیتاب ہجوم کو دکھا دکھا کر انہیں جبرو کے حق میں نعرے لگانے کی دعوت دے رہا تھا۔

ہجوم کی جانب سے ایسی پذیرائی دیکھ کر جبرو نے ایک مرتبہ پھر اپنا کوڑا لہرایا جسکی کڑک سے مجمع پر سناٹا طاری ہو گیا۔ پھر وہ ہاتھ لہراتا سامنے بچھے کالو پر چڑھ کر تقریر کرنے لگا۔۔

میرے عزیز ہم وطنو !!

سلطانہ کے پہلو میں آن گرے گبر کو زرا ہوش آیا تو شکایت کرتے ہوئے بولا۔

مروا دیا نہ یار تونے الٹے سیدھے سوال کر کے۔ اس مرتبہ پھر اس مچھل نے باری پوری ہونے سے پہلے ہی روند مار دی۔ خیر ! اگلی مرتبہ دیکھ لوں گا اس کوڑا بردار کو۔ کم ظرف میں ذرا بھی سپورٹس مین سپرٹ نہیں ہے۔
اور پھر دونوں ڈاکوﺅں کو نیند آنے لگی ۔ گہری نیند میں جانے سے پہلے بس وہ اتنا ہی سن پا ئے۔۔۔

آوے ای آوے !! جاوے ای جاوے۔۔آوے ای آوے۔۔۔جاوے ای۔