حسن عشق دے چور

  • سوموار 28 / اپریل / 2014
  • 5116

جاؤ کوئی منہاج برنا ، نثار عثمانی ، حفیظ راقب ، شفقت تنویر مرزا کو ڈھونڈ کے لائے ۔ بتائے کوئی جا کر ان سب کو کہ آئیں اور آکر دیکھیں کہ آپ لوگوں نے جن صحافیوں کو، جن اخباری کارکنوں کو آزادئ صحافت کے لیے اکھٹا کیا تھا ۔ آپ نے جن صحافیوں جن اخباری کارکنوں کو آزادئ صحافت کے لیے کوڑے کھلوائے تھے۔ قیدیں برداشت کروائیں اور جن سے بھوک ہڑتالیں کروائیں ۔ جن سے آپ لوگوں نے مزدور کے معاشی اور جمہوری حقوق کے لیے جلوس نکلوائے۔ جن کو ساتھ لے کر آپ لوگ اس ملک کے ہر آمر سے ٹکرائے۔ جن کی آوازوں سے آوازیں ملا کر آپ لوگوں نے فوجی عدالتوں میں آزادئ صحافت زندہ باد، فوجی آمر مردہ باد کے نعرے لگائے ۔

آئیں اور آکر دیکھیں کہ اب ان صحافیوں کے ہاتھوں میں آزادئ صحافت کے پلے کارڈ نہیں بلکہ ایک دوسرے کے لیے غداری کے احکامات جاری کروانے کی درخواستیں ہیں۔  اب یہ صحافی آزادئ صحافت کے لیے کسی مظاہرے میں نہیں کھڑے۔ بلکہ عدالتوں سے اخبارات بند کرانے کے احکامات کے لیے عدالتوں میں ہاتھ باندھے کھڑے ہیں ۔

آپ لوگ جن صحافیوں اور اخباری کارکنوں کے جلوس بنا کر فوجی عدالتوں اور فوجی آمروں کے خلاف نکلتے تھے، اب وہی صحافی فوجی ایجنسیوں کے حق میں نکلی ریلیوں میں جوق در جوق شامل ہو رہے ہیں۔ آپ لوگوں کے جلوسوں میں آزادئ اظہار کو دبانے کے سیاہ قانون کے مسودوں کو چارپائی پہ لٹا کر، ان قوانین کا علامتی جنازہ نکلتا تھا ۔ آئیں اور آکر دیکھیں اب صحافیوں کے جلوس میں اخبارات کو چارپائی پر لٹا کر آزادئ صحافت کا حقیقی جنازہ نکالا جا رہا ہے۔

آپ لوگ جب فوجی عدالتوں میں پیش ہوتے تھے تو آپ لوگوں کی شیویں بڑھی ہوئی ہوتی تھیں ۔ آئیں اور آکر دیکھیں اب عدالتیں ٹاک شو میں لگتی ہیں ۔ اب صحافی پجارو میں بیٹھ کر آتے ہیں اب ان کی شیو نہیں، داڑھیاں لمبی ، تھری پیس سوٹ اور گھڑیاں بڑی ہوتی ہیں ۔

آپ لوگوں کےفوجی عدالتوں میں آذادئ صحافت کے نعرے مارتے مارتے گلے بیٹھ جاتے تھے اب ٹاک شو کی عدالتوں میں صحافی کے گلے چیخ چیخ کر ایک دوسرے کو غدار کہنے پر  بیٹھتے ہیں
جاؤ کوئی ڈھنوڈ کر لاو ان سب کوکہ
اج سھبے کیدو بن گئے حسن عشق دے چور

(مسعود قمر سویڈن میں مقیم تجربہ کار صحافی ہیں۔ پاکستان میں صحافت اور آذادئ اظہار کے حوالے سے مباحث نے جو صورت اختیار کی ہے اور صحافیوں نے جس طرح اس مقدس پیشہ کو دولت اور اقتدار کے حصول کا ذریعہ بنایا ہے، مسعود قمر کا یہ نوحہ پاکستان میں حرف کے احترام کی خواہش رکھنے والے ہر شخص کی آواز ہے)