پاکستان سے جنگ کی تیاری

  • سوموار 28 / اپریل / 2014
  • 4431

ٹونی کارٹالوسی ایک عالمی تحقیقاتی ادارے کے مستند محقق اور معروف مصنف ہیں ان کے عالمی جغرافیائی اور سیاسی منظرنامے پرتحقیقی مضامین دنیا بھر کے اخبارات اور رسائل میں شائع ہوتے ہیں۔ ٹونی کارٹالوسی اپنے ایک حالیہ مضمون " پاکستان سے جنگ کے لیے میدان سج رہا ہے" میں لکھتے ہیں کہ مغربی میڈیا میں ایک بار پھر پاکستان کی ایک خطرناک دشمن، فوجی سیاسی مداخلت اور بیرونی دراندازی میں ایک صفِ اول کے امید وار کے طور پر تصویر کشی جا رہی ہے۔

اے بی سی نے اپنے ایک حالیہ مضمون "مکارانہ معاملات" (پاکستان نے اسامہ بن لادن کو کیسے چھپائے رکھا اور افغانستان میں جنگ کی کیوں کر آبیاری کی) میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے پچھلے تیرہ سال سے افغانستان پر ایک غلط جنگ مسلط کر رکھی ہے۔ نیویارک ٹائمز کے پولئٹزر انعام یافتہ صحافی کارلوٹاگال (جنہوں نے دہشت گردی کی جنگ کے دوران دس سال افغانستان میں گزارے ہیں) اپنی نئی کتاب "امریکہ افغانستان میں2001سے 2014 تک ایک غلط دشمن کے پیچھے" میں یہ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ امریکہ کا اصل دشمن افغانستان نہیں بلکہ پاکستان ہے۔

گال کی کتاب سے ایک نئی جنگ کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ جس کو امریکہ کے چند بدنامِ زمانہ پالیسی سازوں نے اپنے مفادات کے لیے ترتیب دے رکھاہے۔ کتاب کے آغاز میں مصنف بی بی سی کی معروف دستاویزی فلم" خفیہ پاکستان" کا حوالہ دیتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کتاب کن مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے اور رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے لکھی گئی ہے۔

دستاویزی فلم کے دو مشہور بیانات دہشت گردی کی جنگ کے مقاصد ظاہر کرتے ہیں۔ پہلا بیان ایک برطانوی سفیر شیراڈ کوپر کول کا ہے جنہوں نے 2009اور2010میں برطانوی سیکرٹری داخلہ کے خصوصی نمائندے کے طور پر پاکستان اور افغانستان میں بھی کام کیا ہے اور اس سے پہلے اسرائیل اور سعودی عرب میں بھی سفیر رہ چکے تھے اور آج کل دفاعی رابطہ کار ادارےBAEکے بین الاقوامی کاروباری ترقی کے ڈائریکٹر ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اصل فوجی خطرہ طالبان سے ہے جس کا اسامہ بن لادن سے کوئی تعلق نہیں ہے جو کسی بھی وقت سنگین بغاوت کا باعث بن سکتے ہیں۔

مذکورہ بیان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اس سرکاری بیانیہ سے بالکل مختلف ہے جس کو نائن الیون کے فوراٌ بعد مغربی میڈیا نے امریکی اور بیرونی ناظرین پردس سال تک اندھا دھند ٹھونسا ہے۔ اس مکالمے سے اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ امریکہ ، برطانیہ اور نیٹو افواج کے افغانستان پر حملوں کا مقصد نائن الیون2001کے روز نیویا رک اور واشنگٹن شہر پر حملوں کی کاروائی کی منصوبہ بندی میں شامل مبینہ ملزموں کے خلاف جنگ سے بہت بڑھ کرخطے میں مغربی مفادات کا تحفط دینا ہے۔

دوسرا اہم بیان سی آئی اے کے سابق آفیسراور بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے بروس رائیڈل کا ہے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اکیسویں صدی میں امریکہ ، یورپ بلکہ پوری دنیا کے لیے پاکستان سے ذیادہ کوئی بھیانک خواب ہو ہی نہیں سکتا۔ جو ہمارے تسلط سے نکل کر انتہا پسند اسلامی فوج کے قبضے میں جا چکا ہے اور نیو کلیائی ہتھیاروں سے مسلح بھی ہو چکا ہے۔ اگرچہ یہ بیان اس قدر براہِ راست اور سچائی پہ مبنی نہیں ہے جس قدر کوپر کولز کا بیان ہے تاہم اگر کوئی اس عدم استحکام پر غور کرے جس کی طرف رائیڈل نے اشارہ کیا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ موجودہ صورت حال امریکہ اورنیٹو مما لک کی پیدا کردہ ہے۔ تاکہ پاکستان میں براہِ راست مداخلت کا جواز بن سکے۔ بی بی سی کی دستاویزی فلم اورکارلوٹاگال کی کتاب غلط دشمن تو کارپوریٹ میڈیا کی دو مثالیں ہیں۔ اس طرح کی کئی اور مثالیں بھی دی جا سکتی ہیں۔

انسانی تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ افغانستان کبھی بھی عالمی طاقتوں کی آخری منزل نہیں رہا۔ امریکہ اور اس کے حواری بھی اپنے پیش روؤں سے مختلف نہیں ہیں۔ افغانستان ہمیشہ سے سلطنتِ یونان، تاجِ برطانیہ اور سویت یونین کے لیے سلطنت کے پھیلاؤ اور طاقت کی نمائش کے لیے تزویراتی تختہ مشق بنا رہا ہے۔ امریکہ بھی افغانستان اور اس کے ہمسائے میں موجود ممالک ایران ، پاکستان اور چین کو اسی انداز میں دیکھتا ہے۔

اس کی واضع مثال پاکستانی علاقوں میں ہونے والے ڈرون حملے ہیں جو پچھلے دس سالوں سے تواتر کے ساتھ جاری ہیں۔ جو اب تک تین ہزار سے زائد جانیں لے چکے ہیں۔ جن میں خاصی تعداد عام شہریوں کی ہے۔ ان ڈرون حملوں کو اس کرۂ ارض کا کوئی انسان جائزقرار نہیں دے سکتا۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کا حصہ ہیں۔ جبکہ وسیع عالمی منظر نامے میں ان حملوں کا مقصد پاکستان کو اندرونی طور پر غیر مستحکم کرکے اس کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرناہے۔

دوسری طرف پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی براہِ راست حمایت بھی شامل ہے۔ بلوچ علیحدگی پسند پاکستان اور ایران کی سرحد کے ساتھ ساتھ پھیلے ہوئے ہیں اور ایک عرصے سے مغرب کے لیے ایک مسلح معاون کے طور پر نہایت افادیت کے حامل رہے ہیں۔ جس کا ذکر ایک مغربی تھنک ٹینک کارنیگی اینڈوومنٹ کی بین الاقوامی امن رپورٹ بعنوان "پاکستان میں بلوچ علیحدگی پسندوں کی تجدیدِ نو" میں واضع طور پر ملتا ہے۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معدنیات اور توانائی کے وسائل کا 20فیصد کم آبادی والے صوبے بلوچستان میں پایا جاتا ہے۔ رپورٹ کے صفحہ نمبر 4 پربلوچ علیحدگی پسندوں کو پاکستان اور ایران کے خلاف استعمال کرنے کا ذکر بھی آیا ہے۔

سیمورہیرش نے 2008میں اپنے ایک مضمون "میدانِ جنگ کی تیاری " میں امریکہ کی بلوچ علیحدگی پسندوں کوجاری معاونت کا ذکر کیا ہے۔ اسی مضمون میں بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے ایک آرٹیکل "ایران کے لیے موزوں ترین راستہ" میں بلوچ علیحدگی پسندوں کو مسلح کر کے ایران کے خلاف استعمال کرنے کا ذکر تفصیل سے ملتا ہے۔

کارنیگی اینڈوومنٹ کی بین الاقوامی امن رپورٹ اس حقیقت کا بطورِخاص ذکر کرتی ہے کہ صوبہ بلوچستان ایران بھارت اور ترکمانستان کے درمیان مجوزہ گیس پائپ لائن کے منصوبے اورگوادر پورٹ افغانستان وسطی ایشیائی ممالک اور چین کے درمیان تجارتی نقل و حمل کے حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ رپورٹ اس بات کا بھی ذکر کرتی ہے کہ گوادر بندرگاہ چینی سرمائے اور چینی افرادی قوت سے تعمیر ہوئی ہے۔ جو کہ چینی بحری اڈوں کی معاونت کے مقصد کے لئے بنائی گئی ہے۔ تاکہ چین سے مشرقِ وسطیٰ تک تیل کی سپلائی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ اور وسطیٰ ایشیاء میں امریکی موجودگی کا مقابلہ کیا جا سکے۔ سٹریٹیجک سٹڈیز انسٹی ٹیوٹ رپورٹ بعنوان "موتیوں کی مالا۔ ایشیائی ساحلوں کے ساتھ ساتھ ابھرتی ہوئی چینی طاقت کا مقابلہ" میں ان پہلوؤں کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔

سیلگ ہیریسن اپنے ایک مضمون میں بلوچستان میں 60لاکھ بلوچ علیحدگی پسندوں کی حمایت اور معاونت پر زور دیتا ہے جو ایجنسیز کے جبر کے باوجود پاکستان سے علیحدگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہیریسن لکھتا ہے کہ پاکستان نے گوادر کی بندرگاہ چین کے حوالے کر دی ہے۔ ان حالات میں آذاد بلوچستان ہی خطے میں دورس امریکی مفادات کے تحفظ اور اسلامی طاقتوں پر قابو پانے میں مد د گار ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان اور چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات سے نمٹنے کے لیے امریکہ کو بحیرہ عرب کے ساحلوں پرآزاد بلوچستان کی تحریک کی حمایت کرنا چایئے۔ اور چین کو گوادر کی بندرگاہ سے نکالنے کے لیے بلوچ علیحدگی پسندوں کو مسلح رکھنا چائیے۔

امریکی جغرافیائی اور سیاسی پالیسی ساز اپنی تمام تر توانائیاں اور ذیادہ تر وقت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے صرف کر رہے ہیں اور افغانستان میں موجود نیٹو افواج اس منصوبے کی عمل داری میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رہی ہیں۔ دنیا بھر میں چین کے بڑھتے ہوئے کردار سے نمٹنا امریکی پالیسی سازوں کے سر پر بھوت کی طرح سوار ہو چکا ہے۔ جنوبی ایشیا پر امریکی تسلط کا خواب صرف اسی صورت میں پورا ہو سکتا ہے جب خطے میں چین کی عملداری کم ہواور اس خواب کی تکمیل کے لیے غیر مستحکم پاکستان نہایت ضروری ہے۔

افغانستان سے فوجوں کا انخلاء پاکستان کے ساتھ ممکنہ تصادم کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ کارلوٹاگال کی کتاب "امریکہ افغانستان میں2001سے2014تک ایک غلط دشمن کے پیچھے"  کی تحریر، بیانیہ اور اسلوب ایک منظم کوشش اور سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ جس پر سرمایہ کاری شروع ہو چکی ہے جس کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کر کے خطے میں چین کا اثر و رسوخ کم کرنا اور چین کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہے۔ لیکن امریکی اور پاکستانی عوام کو تنازعات اور جنگوں کے اس نئے دھوکے کو سمجھنا بے حد ضروری ہے ۔