پاکستانیوں میں کس چیز کی کمی ہے؟
- منگل 29 / اپریل / 2014
- 4951
آج پاکستانیوں میں جس چیز کی کمی ہے وہ ہے پاکستانیت ۔ پاکستانیت کیا ؟ نظریہء پاکستان کی روح ۔
ہر پاکستانی کو اِس بات کی ذمّہ داری قبول کرنی چاہیئے کہ وہ پاکستانیت کو قائم رکھنے میں برابر کا شریک ہو۔
اور پاکستانیت کو قائم رکھنا بڑی جرات اور حوصلہ مندی بلکہ موجودہ دہشت گردی کی فضا میں جان جوکھوں کا کام ہے ۔
اس بات کا غالب امکان ہے کہ میں پاکستانیوں اور اُن کی پاکستانیت سے واقف ہوں ، اِس لیے مجھے اجازت ہونی چاہیئے کہ میں اُن سے دو کھری کھری باتیں کروں ۔ ویسی کھری باتیں نہیں جو ٹی وی بکواس شوز میں کھرے سچ کے نام پر کی جاتی ہیں بلکہ میں اپنی صوابدید کے مطابق نجی باتیں کروں ۔
چنانچہ بسم اللہ کی روایت کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ پاکستان کی نو مولود ریاست کے لوگوں کو چھیاسٹھ برس قبل ایک مبسوط اور ہمہ جہت دینی روایت ورثے میں ملی تھی ۔ یہ اعلیٰ علمی صلاحیت تھی ۔ علم وہ ورثہ ہے جو تحقیق ، تجسّس اور دریافت و ایجاد کی نئی راہیں کھولتا ہے ۔ بطور مسلمان ہمیں ابن الہیثم ، جابر بن حیان ، ابنِ رُشد ، ابنِ سینا اور غزالی و فارابی کی روایت کو آگے بڑھانا تھا ۔ اس کے لیے بّرِ صغیر کے مسلمانوں نے اپنی ہند مُسلم تہذیب پروان چڑھا رکھی تھی ۔
یہ ایک گنگا جمنی تہذیب تھی ۔ پاکستان کی جغرافیائی حدود کے اندر اس تہذیبی روایت کو ایک نئے انداز میں آگے بڑھانا اور آراستہ و پیراستہ کرنا تھا ۔ یہ کسی طرح سے بھی کوئی نئی تمدنی عمارت نہیں تھی کیونکہ جب کوئی نئی عمارت تعمیر کرنی ہو تو پرانی بنیادیں مسمار کرنی پڑتی ہیں۔ لیکن برِّ صغیر میں مسلمانوں کی تہذیبی عمارت صدیوں پرانی تھی ۔ قطب الدین ایبک کی تعمیر کی ہوئی مسجدِ قوت الاسلام کے قطب مینار کی طرح رفیع الشان اور پر شکوہ ۔
ایک زمانے میں مسلمان اُمّت ، مفکروں ، موجدوں ، مصلحوں ، سائینس دانوں ، مہندسوں ، ریاضی دانوں ، طبی نابغوں اور فلاحِ عامہ کے کارپردازوں کی اُمت تھی ، اور پاکستانیت اُسی اُمت کی شاندار روایت کا تسلسل تھا جسے تجدید و تنظیمِ نو کے ذریعے پاکستان میں رائج کرنا تھا مگر ایسا ہو نہیں سکا ۔
بلکہ اب تو ایسی صورتِ حال نظر آ رہی ہے جس میں اس عہد کے پاکستانی مسلمان پاکستانیت سے اُکتائے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں ۔ لگتا ہے اُنہیں اپنی پاکستانیت پر اعتبار ہی نہیں رہا کیونکہ سیاست کے نام پر کی جانے والی تجارتی سازشوں نے پاکستانیت کو بیمار کر دیا ہے اور پاکستان کے پچھلے چھایسٹھ سال سوائے بہتری کی چند وقتی علامتوں کے ایک ایسے مریض معاشرے کے سال ہیں جو کبھی بھی مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہو سکا ۔
مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے پاکستانیت کا فلسفہ اُکھڑی اُکھڑی سانسیں لے رہا ہے ۔
کیوں ؟ میں ایسا کیوں محسوس کررہا ہوں؟
وہ اس لیے کہ کبھی پاکستان کی تحریک سے وابستہ مسلمانوں کے پاس بہت اچھے سیاستدان تھے ۔ محمد علی جناح ، لیاقت علی خان ، سردار عبد الرب نشتر ، مولوی فضل الحق اور خواجہ ناظم الدین، شاعروں میں اقبال ، حسرت موہانی اور مولانا ظفر علی خان تھے ۔ لیکن آج کی ادبی روایت کیا ہے ؟ منٹو ، فیض ، منیر ، ندیم، جالب، فراز اور مجید امجد کے رُخصت ہو جانے کے بعد کوئی ایسا برگد کا پیڑ نہیں ہے جسے پاکستانیت کی روح کا پیغمبر کہا جا سکے ۔ آج کا ادیب کیا تخلیق کر رہا ہے ؟ اوسط درجے کا نیم رومانوی لٹریچر ۔
اب سوال یہ ہے کہ پاکستانیت کی موجودہ ، تجدید شدہ اور تازہ تر صورت کیا ہو سکتی ہے ؟
کیا کسی نےاس اہم اورتکلیف دہ سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے ؟
نہیں ، بالکل نہیں ۔ بلکہ پچھلے چھیاسٹھ برس کی تارخ یہ ہے کہ قومی ادارے ایک دوسرے کے خلاف صف آراء رہے ہیں ۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے ، ایک دوسرے کو مغلوب کرنےاور ایک دوسرے کو پچھاڑنے کی سازشیں پروان چڑھتی رہی ہیں ۔ ہمارے فوجی اور سول اداروں کی پوری تاریخ ہی باہمی آویزش، تصادم اور خانہ جنگی کی تاریخ رہی ہے ۔ یعنی فوج بمقابلہ سول سوسائٹی ۔
چار بار سول سوسائٹی کا دھڑن تختہ کیا ہے اور اپنے چالیس سالہ دورِ اقتدار میں فوجی حکمرانوں نے سول سوسائٹی پر جبر و اکراہ کی ایک ایسی مہر لگادی ہے کہ پاکستانی معاشرہ اپنی نوعیت اور ماہیت کے اعتبار سے ایک نیم فوجی معاشرہ بن گیا ہے ۔ یعنی آدھا تیتر آدھا بٹیر بھی نہیں بلکہ پورا مسلح اور بر سرِ جنگ معاشرہ ، جس میں ہتھیاروں کی ریل پیل ہے ، اسلحے کا غیر ضروری استعمال وبائی صورت اختیار کر چکا ہے اور طاقت کے بل پر مذہب کو غلط طور پر استعمال کر کے امن کے دین کو بد امنی کا بین الاقوامی استعارہ بنا دیا گیا ہے ۔
اس صورتِ حال کا سب بڑا نقصان یہ ہے کہ فرد کی حیثیت خاک میں مل گئی ہے ، حالانکہ پاکستانیت جس کا سرچشمہ اسلامی تعلیمات ہیں ، ایک فرد کو پوری انسانیت قرار دیتی ہے اور ایک فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل مانتی ہے ۔
فرد اور ادارے کے باہمی تعلق کی مثالیں تاریخ میں رقم اور محفوظ ہیں ۔ خلیفہ ء دوم عمر رضی اللہ تعالیٰ کے عہد میں خلافت کے ادارے کو ایک بدو چیلنج کرتا ہے اور خلیفہ ء وقت سے قمیض کا حساب مانگتا ہے ۔ یہ وہ نعرہ ء احتساب ہے جو خالص اسلامی روایت ہے لیکن اسے خلافت کے ادارے کے لیے خطرہ قرار نہیں دیا جاتا اور نہ ہی یہ کہا جاتا ہے کہ اس کی خبر جب ایران یا روم پہنچے گی تو جگ ہنسائی ہو گی ۔
جب مدینے میں خلافت کا ادارہ قائم ہوتا ہے تو خلیفہ ء اول ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ اپنے بیعت کرنے والوں سے، جسے جدید اصطلاح میں ووٹ بنک کہا جائے گا ، کہتے ہیں :
" لوگو ! آپ نے مجھے امیر بنایا ہے اور میں آپ سے بہتر نہیں ہوں ۔ اگر بھلائی کروں تو میرا ساتھ دینا اور کج روی کروں تو سیدھا کر دینا ۔ " بحوالہ جلال الدین سیوطی از تاریخ الخلفا ء ۔
اور اس بیان کی وجہ ادارہ ء رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے جاری ہونے والا یہ حکم ہے کہ " تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر شخص جواب دہ ۔
یعنی اس اصول کی رو سے جنرل ظہیر الاسلام اور آئی ایس آئی بطور ادارہ اُسی طرح قابلِ مواخذہ ہیں جس طرح حامد میر اور جیو گروپ ۔
لیکن افسوس تو اس بات کا ہے کہ جب پاکستانیت کا فلسفہ ہی پسِ پشت ڈال دیا گیا ہو تو ادارہ کیا اور فرد کیا ۔
اپنی جھوٹی شان اورفرضی وقار کے لیے چیخ و پکار کر کے قوم کے کان کھانے کا کیا مطلب ؟
اگر محبِ وطن ہو تو خُدا کو گواہ ٹھیرا کر اپنی حب الوطنی کے ثبوت میں اپنی ٹھوس کارکردگی پیش کرو ، کیونکہ اعلیٰ عہدے اور بڑی تنخواہ والے کی حب الوطنی کا منصب اور معیار اور ہوتا ہے اور سرِ راہ مرنے والے شہری کا اور ۔
اور جب محافظ حفاظت کے بجائے سیاست کرنے لگیں تو شہریوں کی جان و مال کا کوئی محافظ نہیں رہتا ۔ اور ایسا اس لیے ہو رہا ہے کہ پاکستانیت کی کمی ہے۔