لائلپور سے لانڈھی جیل تک (1)
- بدھ 30 / اپریل / 2014
- 5496
کچھ سال پہلے میں سویڈن واپس آنے کے لیے لائل پور سے بذریعہ ٹرین کراچی آ رہا تھا۔ میں نے ساتھ بیٹھے مسافر سے پو چھا ، ابھی کراچی کتنی دور ہے ؟ اُس نے کہا ، بس جی دو منٹ بعد لانڈھی اسٹیشن آ رہا ہے اس کے بعد کراچی ۔ میں اُٹھ کر دروازے کے قریب آکر کھڑا ہو گیا ۔ جب ٹرین لانڈھی اسٹیشن پہ رکی تو مجھے ایک دیوار نظر آئی اور ایک چبوترے پر ایک سپاہی کھڑا نظر آیا ۔ میں نے ایک مسافر سے پوچھا ، یہ سپاہی کس عمارت پر کھڑا ہے ؟ مسافر نے بتایا ، جی یہ لانڈھی جیل ہے ۔
گاڑی آگے چل پڑی اور میں پیچھے کی طرف چل پڑا۔ اور وہ دن واہ راتیں میرے اندر چلنے لگیں جب میں آزادئ صحافت کی تحریک میں حصہ لینے کے جرم میں یہاں قید کیا گیا تھا۔ ( آج مجھے یہ سب اس لیے یاد آرہا ہے کہ ابھی چند سال پہلے اس ملک کے صحافیوں ، مزدوروں ، ہاریوں اور طالب علموں نے آزادئ صحافت ، آزادئ اظہار کے لیے کوڑے کھائے تھے ۔ کوٹ لکھپت ، منٹگمری ، لائل پور ، سکھر ، کراچی ، اور لانڈھی جیل میں قید برداشت کی تھی۔ اور آج اس ملک کے اخبارات سے وابستہ کچھ افراد صحافیوں کو غدار قرار دلوانے کے لیے عدالتوں میں درخواستیں لئے کھڑے ہیں اور اخبار اور ٹی وی چینل بند کرنے کے لیے حکومت درخواست داخل کرنے کے بعد بیان دے رہی ہے کہ ہم ہر قیمت پر آزادئ اظہار کا تحفظ کریں گے ) صحافیوں کی یہ تحریک اخبارات پر سنسر شپ اور اخبارات کی بندش کے خلاف تھی اور بہت سے اخبارات کے علاہ روزنامہ “ مساوات “ بھی بند کیا گیا تھا۔
ضیا کا مارشل لا اپنے تمام جبر اور سخت ترین سنسر شپ کے باجود ملک کے صحافیوں کے آگے بے بس تھا۔ صحافی کسی نہ کسی طریقے سے اخبار میں سیاسی خبریں لگا ہی دیتے تھے۔ اخبار کی کاپی کو پریس میں جانے سے پہلے دفترِ اطلاعات میں لے جایا جاتا۔ جہاں بیٹھا فوجی یا فوج کا کوئی نمائیندہ ناپسندیدہ خبر اخبار کی کاپی سے اکھاڑ دیتا ۔ اور صبح کو چھپا اخبار دانتوں سے خالی جبڑے کی طرح نظر آتا تھا۔ پھر حکم ہؤا اخبار میں خالی جگہ نہ چھوڑی جائے۔ سسنر کی گئی خبروں کی جگہ کوئی دوسری خبر لگائی جائے۔ ہم کاتب ، اضافی خبریں اور خبر پیسٹ کرنے کا تمام سامان ساتھ لے کر جاتے۔ جیسا کہ میں نے بتایا کہ ان تمام حربوں ، سختیوں کے باجود بھی ہم کوئی نہ کوئی خبر لگا ہی دیتے تھے اور مارشل لا والے بے بس تھے۔ اس کی دو مثالیں ملاحظہ ہوں:
روزنامہ امروز جس کو میاں افتخار الدین نے شروع کیا تھا، ایک ایسا اخبار تھا جس نے اس ملک میں صحافت کا معیا مقرر کیا تھا۔ اس اخبار میں کام کرنے والے صحافی اور دوسرے اخباری کارکن لبرل ، سیکولر اور انتہائی پڑھے لکھے تھے ۔ اس اخبار کے مالک میاں افتخار الدین بذات ِ خود کیمونسٹ نظریات رکھتے تھے۔ انھوں نے لندن میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے ہی ان نظریات کو اپنا لیا تھا اور پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ پاکستان بننے کے بعد وہ پارٹی کے کہنے پر ہی پاکستان مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ جیسے کہ میاں ممتاز دولتانہ اور کچھ اور احباب بھی۔
پارٹی کا خیال تھا مسلم لیگ پارٹی میں ہمارے جتنے آدمی ہوں گے، اتنا ہی اس پارٹی کا منشور پروگریسو اور لبرل ہو گا۔ مگر پارٹی اپنی اس پالیسی میں بُری طرح ناکام ہوئی۔ سوائے چند کے سب مسلم لیگ کی جاگیردرانہ سوچ میں رچ بس گئے۔ جیسے ممتاز دولتانہ ۔
میاں افتخار الدین کی وجہ سے امروز میں اکشر صحافی بائیں بازو کی سوچ سے تعلق رکھنے والوں میں سے تھے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس میں کام کرنے والا ہر آدمی کیمونسٹ تھا مگر اکژیت لبرل سوچ رکھتی تھی انہی میں مولانا چراغ حسن حسرت تھے۔ جو بلا کے ذہین اور بلا کا جملہ کہنے والے تھے۔ ایک واقعہ سُنیں میاں افتخاالدین مسلم لیگ حکومت میں وازراتِ بحالیات کے وزیر تھے مگر جب مسلم لیگ سے اختلافات ہوگئے تو میاں صاحب نے وزارت سے استعفی دے دیا تھا۔ انہی دنوں چین میں چیانگ کائی شیک نے استعفی دے دیا تھا یا اس وزیر کو نکال دیا گیا تھا۔ ایک دن میاں افتخار الدین دوڑے دوڑے حسرت صاحب کے کمرے میں داخل ہوئے اور ہنستے ہوئے کہنے لگے ، مولانا آپ نے سُنا؟ چیانگ کائی شیک بھاگ کر فاموس چلا گیا ہے ، اب وہ وہاں کیا کرے گا ۔ حسرت صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے کہا: “ کرے گا کیا مولانا ؟ اخبار نکال لے گا “ ( میں چین کے اس وزیر کا نام بھول گیا تھا۔ میں امین مغل جی کا مشکور ہوں کہ انھوں نے نام یاد دلایا )
تو میں ذکر کر رہا تھا ضیا دور کا۔ امروز اخبار میں دوسروں کے علاوہ شفقت تنویر مرزا بھی کام کر تے تھے اور اپنے مضمونوں اور خبروں میں کوئی نہ کوئی ایسی بات کر جاتے جو ضیا کی فوجی حکومت کو ناگوار گزرتی تھی۔ کئی دفعہ ان کو برطرف بھی کیا گیا مگر وہ کسی نہ کسی طرح بحال ہو جاتے۔ آخر اخبار انتظامیہ نے حکومت کے کہنے پر شفقت تنویر مرزا جی کے ذمہ ایک بے ضرر سا کام لگا دیا کہ آپ تیس سال پہلے کا امروز کا اخبار نکالیں اور آج کی تاریخ کے تیس سال پہلے امروز میں چھپنے والی خبروں میں سے چند خبریں نکال کر چوکھٹے میں لگا دیں۔ اس چوکھٹے کا نام “ آج سے تیس سال پہلے کا امروز “ رکھا گیا۔ شفقت صاحب کافی دن چڑھے دفتر آتے۔ اخبار کی لائبریری سے تیس سال پہلے اس تایخ کا اخبار منگواتے۔ بد قسمتی سے ملک میں تیس سال پہلے بھی مارشل لا ہی تھا۔ شفقت تنویر مرزا تیس سال پہلے مارشل لا کے خلاف چھپی خبر ضیا کے مارشل لا کے دور میں چھپنے والے اخبار میں لگا دیتے۔ اور صبح انتظامیہ اور حکومت سر پکڑ کر بیٹھ جاتی اور آخر اخبار کو ایک بار پھر شفقت جی کو برطرف کرنا پڑا ۔
دوسری مثال روزنامہ مساوات کی ہے۔ ظہیر کاشمیری اخبار کے ایڈیٹر تھے۔ یہ اخبار پاکستان پیپلز پارٹی کا ترجمان تھا۔ لہذا اس اخبار کی دوسرے اخبارات کی نسبت زیادہ نگرانی کی جاتی تھی۔ سنسر شپ والے ایک ایک خبر کو بہت باریک بینی سے چیک کرتے تھے۔ محرم کی نویں رات تھی۔ اگلے دن دسویں محرم کے حوالے سے مساوات کا خصوصی ایڈیشن تیار ہو رہا تھا۔ میں ظہیر صاحب کے دفتر میں بیٹھا تھا ۔ جب سارا اخبار مکمل ہو گیا تو ظہیر کاشمیری نے ایک قطعہ لکھا جو مجھے اس وقت تو یاد نہیں آرہا مگر اس کا مطلب کچھ یوں تھا کہ “آج بھی حسینی قافلہ حق کے لیے لڑ رہا ہے اور اج بھی یزید حسینی قافلے پر ظلم و ستم ڈھا رہا ہے“۔
ظہیر کاشمیری جی نے یہ قطعہ ایک بڑے چوکھٹے کی صورت اخبار کے درمیان پیسٹ کروا دیا ۔ اور اخبار کو سنسر کے لیے بھیج دیا۔ جب اخبار سنسر ہو کر واپس آیا تو ظہیر کاشمری نے دیکھا کہ سنسر والوں نے سنسر کی مہر بالکل قطعہ کے نیچے لگائی ہے۔ ظہیر کاشمیری جی نےچوکٹھے کے اُوپر کی خبریں اکھاڑ کر وہاں ذوالفقار علی بھٹو کی ایک بڑی سے تصویر لگا دی اور ضیا اور بھٹو کی جنگ کو حسین اور یزید کی جنگ بنا دیا ۔ صبح جب اخبار چھپ کے آیا تو ضیا حکومت اپنا سر پیٹ کر رہ گئی۔
یہ حالات تھے جن کی وجہ سے مارشل لاء حکومت کو مساوات اور دوسرے اخبار بند کرنے پڑے اور ہماری تحریک شروع ہو گئی ( جاری ہے )