حامد میر پر حملہ اور جیو کا کردار (1)

  • بدھ 30 / اپریل / 2014
  • 5259

معروف اینکر پرسن حامد میر پرکراچی میں قاتلانہ حملے اور اس کے بعد پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ اور ملک کے سب سے طاقتور انٹیلی جنس ادارے کے درمیان شروع ہوے والی جنگ تاحال جا ری ہے۔ اور ہر روز اس تہہ در تہہ معاملے کی نت نئی تہیں کھل رہی ہیں اور نئی سے نئی پرتیں سامنے آ رہی ہیں۔

اس حملے کے فوری بعد حامد میر کے بھائی عامر میر کی جانب سے خفیہ ادارے آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ جنرل ظہیر الاسلام کو براہِ راست اس حملے کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے الزامات کا جو سلسلہ شروع ہؤا تھا، اسے جیو ٹی وی نے آٹھ گھنٹے تک کسی خوف کے بغیر آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ظہیر الاسلام کی تصویر کے ساتھ اتنے تواتر سے چلایا کہ ناظرین بھی تھک گئے۔ اگرچہ اب اس مہم میں کچھ کمی آ گئی ہے لیکن یہ مہم اب بھی ایک نئے انداز میں جاری ضرور ہے۔

عامر میر جو ایک ثقہ صحافی اور لاہور پریس کلب کے سابق صدر ہیں۔ وہ شروع ہی سے اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنے کے عادی ہیں۔ وہ سابق صدر پرویز مشرف سے اے پی این ایس ایوارڈ لینے سے انکار کر چکے ہیں۔ جس زمانے میں وہ انڈیپینڈنٹ نامی میگزین کے ایڈیٹر تھے ، انہوں نے آئی ایس آئی اور فوج کے بارے میں اپنے نام سے ایک بہت حساس سٹوری شائع کی تھی۔ جس پر اس وقت کے فوجی اور سول حکمران ان سے ناخوش بھی ہوئے تھے۔ مگر عامر میر اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنے والے صحافی ہیں۔ ستمبر 2013ء کو جب ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے طالبان سے مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا وہ ان مذاکرات کے مخالف تھے۔ چنانچہ وہ تواتر سے ایسی خبریں شائع کرتے رہے جن سے مذاکرات کے عمل کے متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔

حامد میر کے حملے اور آئی ایس آئی اور جیو کی لڑائی میں اب حامد میر کے بیان ، بی بی سی کو دئے گئے انٹرویو اور جنگ میں شائع ہونے والے ان کے کالم نے اس معاملے کی مزید تہیں کھول دی ہیں۔ دوسری جانب جیو انتظامیہ کی بظاہر پسپائی مگر مختلف شہروں میں جنگ اور جیو کی ممکنہ بندش کے خلاف منظم کیے جانے والے مظاہروں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایک جانب چوہدری اعتزاز احسن اور حاصل بزنجو حامد میر کی عیادت کے بعد میڈیا کو کہہ رہے ہیں کہ حامد میر کا علاج کے لیے بیرون ملک جانا ناگزیر ہے ۔ حالانکہ یہ دونوں افراد سیاست دان ہیں ڈاکٹر نہیں۔ جبکہ دوسری جانب حامد میر حملے کے بعد اپنا پہلا انٹرویو پشتبان ادارے جیو کو نہیں دے رہے بلکہ بی بی سی کو دے رہے ہیں۔

یہ بات بہت اہم ہے یا تو جیو انتظامیہ نے حامد میر کا انٹرویو لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ یا پھر حامد میر نے عالمی سطح پر اپنا پیغام پہنچانے کے لیے بی بی سی کا چینل استعمال کیا۔ جیو انتظامیہ کی جانب سے یہ کام پہلی بار نہیں ہؤا۔ جیو گروپ ہی کے انگریزی اخبار ’دی نیوز‘ کے ایڈیٹر شاہین صہبانی سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان افتخار کے مالی سیکنڈل کی خبر اپنے اخبار میں نہیں لگائی۔ بلکہ یہ خبر انہوں نے سوشل میڈیا پر دی۔ جس کے بعد جیو گروپ نے اس پر پروگرام شروع کر دئے ۔ مگر جیسے ہی افتخار چوہدری نے سخت رویہ اپنایا ، جیو گروپ اپنا پہلا مؤقف چھوڑ کر ملک ریاض کے پیچھے پڑ گیا۔

اب ایک طرف حامد میر اور جیو گروپ پسپائی اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے تو دوسری جانب مختلف شہروں میں آزادئ صحافت اور جنگ اور جیو کی ممکنہ بندش کے خلاف احتجاج کروایا جا رہا ہے۔ اگلے چند روز میں پاکستان بھر کے پریس کلبوں کا لاہور میں کنونشن اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ برنا گروپ کے تین روزہ اجلاس کی بھی سرپرستی کی جارہی ہے۔ لیکن دوسری جانب آئی ایس آئی کے حامی بھی سرگرم ہو گئے ہیں اور وہ ملک بھر میں آئی ایس آئی کی حمایت میں مظاہرے کر رہے ہیں اور حامد میر پر حملے کی لفظی مذمت کے ساتھ ساتھ جیو کی مبینہ ملک دشمنی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

اس معاملے کے بعد بہت سے سوالات نے سر اٹھایا ہے۔ جن کا جواب پاکستان کے تمام شہری اور خاص طور پر صحافی حلقے جاننا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا حامد میر پر حملہ پاکستان کے کسی صحافی پر پہلا حملہ ہے جس پر جیو نے اس قدر جارحانہ انداز اختیار کیا ۔ اس کا جواب نفی میں ہے۔ کیونکہ چند روز قبل ایکسپریس نیوز کے اینکر رضا رومی پر حملے اور اس سے قبل ایکسپریس پر حملے میں اس ٹی دی چینل کے تین افراد کی ہلاکت پر جیو نے کئی گھنٹے تک خبر ہی نہیں چلائی۔ جب مجبوراً خبر چلائی تو وہ اسے ایک نجی چینل سے منسوب کیا گیا۔ اور مدعیوں کے الزامات اور خدشات کو ذرا برابر بھی اہمیت نہ دی گئی۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا حامد پر حملہ جنگ اور جیو گروپ کے کسی صحافی یا کا رکن پر پہلا حملہ ہے تو اس کا جواب بھی نفی میں ہے۔ 1982ء میں جنگ گجرات کے نمائندے نیاز خان نیازی پر قاتلانہ حملہ ہؤا تو خود جنگ اخبار میں مختصر خبر اس طرح شائع کی گئی کہ گجرات میں ایک اخبار کے نمائندے قاتلانہ حملے میں زخمی ہو گئے ہیں۔ اس حملے کا الزام چوہدری برادران پر تھا مگر اس کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد یہ معاملہ دب گیا۔ یہاں تک کہ تقریباً چار ماہ بعد نیاز خان نیازی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے تو جنگ نے ان کی دوسری اور آخری خبر شائع کر دی اور نہ اس معاملے کو آگے بڑھایا اور نہ ہی اس کو اتنی اہمیت دی گئی۔

اب جنگ جیو انتظامیہ نے کا یہ کہنا ہے کہ اس بار ایک تو اینکر بہت بڑا تھا۔ دوسرے جس ایجنسی پر الزام تھا وہ بہت طاقتور تھی۔ غالباً 1986ء میں جنگ لاہور کے ایک صحافی نے اس وقت کے وزیر اعظم خان محمد جونیجو سے متعلق ایک خبر میں کوئی قابل اعتراض بات لکھ دی۔ اس وقت کے پرنسپل انفارمیشن آفیسر اور مرکزی محکمہ اطلاعات کے دباؤ ڈالنے پر نہ صرف اس صحافی کو بری طرح ذلیل کیا گیا بلکہ اس کی تصویر فرنٹ پیج پر شائع کر کے اسے ادارے سے نکالنے کا اعلان کر کے اس کی ذلت کا مزید سامان کیا گیا۔

غالباً 1983ء میں نیشنل فین والے محمد دین مرحوم کے بیٹوں پر ایک فوجی عدالت میں لینڈ فراڈ کا مقدمہ چلا۔ انہیں سزائیں ہوئیں مگر بعد میں اس کے وقت ڈپٹی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹراور گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی نے اپنے اختیارات استعمال کر تے ہوئے ان کی سزائیں ختم کر دیں۔ یہ خبر روزنامہ جنگ کے شرق پور کے نمائندے نے فراہم کی۔ خبر شائع ہوئی تو گورنر مرحوم اور بعض دوسرے حلقوں کی جانب سے دباؤ ڈالا گیا۔ جس پر جنگ لاہور کی انتظامیہ نے اس غریب نامہ نگار کو اس کے گھرسے اٹھایا اور حکام کے حوالے کر دیا۔
محترمہ کلثوم نواز شریف کی شکایت پر جنگ کے سینئر رپوٹر امتیاز راشد کو نکال دیا گیا۔ مگر اب جنگ جیو انتظامیہ اتنے بڑے ادارے کے سامنے کیسے ڈٹ گئی ہے۔ گذشتہ دو تین سالوں کے دوران جنگ کے کئی نامہ نگار دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں جن میں ہدایت اللہ موسیٰ خیل اور کئی دوسرے صحافی شامل ہیں۔ ان کا کیس تو اتنی شدت سے نہیں اٹھایا گیا۔ ولی خان بابر کا کیس جیو نے زندہ ضرور رکھا لیکن اس کے قاتلوں (خود جنگ کے لوگ جن پر شک کرتے ہیں) کا نہ تو کبھی نام لیا گیا اور نہ تصویریں چلائی گئیں۔

اس وقت لاہور میں پریس کلب کے سامنے جیو کے حق میں جو مظاہرہ روزانہ کیا جا رہا ہے اس میں جنگ اور جیو کے ملازمین کی دلچسپی کا یہ حال ہے کہ لاہور میں اس گروپ کے تحت جنگ، جیو، دی نیوز، آواز، انقلاب، وقت، پاکستان ٹائمز چل رہے ہیں۔ جن کے ملازمین کی تعداد 800سے 1000تک ہے۔ جبکہ مظاہرے میں شرکاء کی تعداد تیس سے زیادہ نہیں ہوتی۔ ان میں بھی 10سے 12 افراد پریس کلب سے آتے ہیں جبکہ جیو گروپ کے مظاہرے میں شرکت کرنے والے افراد میں تو نوکریوں اور ترقیوں کے ہاتھوں مجبور افسر نظر آتے ہیں یابے بس چپڑاسی اور چھوٹے اہلکار۔

اپنی نجی گفتگو میں جنگ اورجیو سے وابستہ اعلیٰ اور باخبر افراد کچھ اور ہی کہانیاں سناتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ لڑائی در اصل جیو اور آئی ایس آئی کی لڑائی نہیں ہے بلکہ یہ سیاسی اور عسکری قیادت کی لڑائی ہے۔ ان کی رائے میں نواز حکومت رخصت ہونے والی ہے۔ جس کی وجہ عسکری قیادت کے بہت سے تحفظات ہیں۔ اس وقت جنگ اور جیو گروپ سول حکومت کی فرنٹ ڈیفنس لائن ہے ۔ اگر یہ گر گئی تو نواز حکومت کا جانا لازم ہو جائے گا۔

اس سیاق وسباق کے ساتھ یہ بات بہت اہمیت اختیار کر گئی ہے کہ جو ادارہ اپنے کارکنوں کو مسلسل نظر انداز کرتا رہا ہے۔ جو کسی بھی طاقتور شخص یا ادارے کے ساتھ لڑائی کا متحمل نہیں رہا ۔ وہ اپنے ایک کارکن کے لیے اچانک اتنا جذباتی کیوں ہو گیا؟ جس سے وہ اس کے کیر ئیر کے آغاز پر کام تو لیتا رہا مگر کئی ماہ تک تنخواہ بھی ادا نہیں کی۔ اور پھر اس بار اتنے بڑے ادارے کے سامنے اس طرح خم ٹھونک کر کیسے اور کیوں آ گیا؟  نیز اب اچانک پسپائی پر کیوں اتر آیا ہے ؟ اس کے علاوہ بھی اس مسئلہ پر بہت سے سوالات ہیں جن کا ہم اگلی قسط میں جائزہ لیں گے۔ (جاری)