سعادت حسن منٹو نشانِ امتیاز
- جمعرات 01 / مئ / 2014
- 5481
“میں زندہ تھا تو مجھے فحش نگار کہتے تھے ۔ مجھ پر مقدمے چلاتے تھے مجھے جرمانے کرتے تھے اور اب میری پیدائش کے سو سال مکمل ہوئے ہیں تومیرا جشن مناتے ہیں۔ مجھ پر فحاشی کے مقدمات چلانے وا لے ا ب مجھے بعد از مرگ اعزازت سے نوازتے ہیں۔ میرے نام کی بیساکھیاں لگا کر اپنا قد بڑھاتے ہیں ۔ نہیں نہیں تمہیں اس کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔“
سعادت حسن منٹو 11 مئی1912 کو ضلع لدھیانہ کے موضع سمبرانہ کے پپروڈی گاؤں میں کشمیری مسلمان غلام حسن منٹو کے گھر پیدا ہوئے۔ سعادت حسن منٹو ایک سہما ہوا بچہ تھاجسے دوست ٹامی کے نام سے پکارتے تھے۔ٹامی کو 1921میں ایم اے او مڈل سکول امرتسر میں داخل کروا دیا گیا۔ میٹر ک کے امتحان میں دو تین بار فیل ہونے کے بعد 1931میں منٹو یہ معرکہ سر کرنے میں کامیاب ہوئے۔ منٹو کے قریبی دوست کہتے ہیں کہ وہ امتحانات کے دنوں میں انگریزی ناولوں کی ایک مشہور کتاب کے مطالعہ میں مصروف تھے جو انہوں نے امرتسر ریلوے اسٹیشن کے بک سٹال سے چوری اٹھائی تھی۔ دوستو مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آ سکی کہ سارے عظیم انسان امتحانات میں اکثرفیل کیوں ہو جاتے ہیں۔ میرے پیرو مرشد اے۔ جے ۔ جانو کے ساتھ بھی یہ انہونی ہو چکی ہے۔
سعادت حسن منٹو اپنے پہلے افسانے “ تماشہ “ میں جو 1931میں سانحہ جلیانوالہ باغ کے پس منظر میں لکھا گیا تھا، یوں رقمطراز ہیں۔ “ دو تین روز سے طیارے سیاہ عقابوں کی طرح پر پھیلائے خاموش فضا میں منڈلا رہے تھے جیسے وہ کسی شکار کی جستجو میں ہوں۔ سرخ آندھیاں وقتاٌ فوقتاٌ کسی آنیوالے خونی حادثے کا پیغام لا رہی تھیں۔ سنسان بازاروں میں مسلح پولیس کی گشت ایک عجیب ہولناک سماں پیش کر رہی تھی “۔
1934میں سعادت حسن منٹو نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں ان کی ملاقات ہندوستان کے نامور ادیب جنابِ علی سردار جعفری اور ترقی پسند مصنف جنابِ عبدالباری علیگ سے ہوئی ۔ ان کی صحبت میں سعادت حسن منٹو نے نامور مغربی ادباء کے تراجم تحریر کیے۔ ان میں وکٹر ہیوگو، لارڈ لٹن، میکسم گورکی، .چیخاف، اسکروائلڈ اور موزے تنگ شامل ہیں۔ 1935میں منٹو کا دوسرا افسانہ “ انقلاب پسند “ شائع ہؤا۔ اور 26اپریل 1939کو سعادت حسن منٹو کی صفیہ خاتون کے ساتھ شادی کر دی جاتی ہے۔
سعادت حسن منٹو گھر گرہستی چلانے کے لیے ہندی فلموں کے سکرپٹ بھی لکھتے ہیں اور آل انڈیا ریڈیو اردو سروس کے لیے ڈرامے بھی تحریر کرتے ہیں ۔ افسانہ تو سعادت حسن منٹو ہر وقت تراشتے ہی رہتے تھے۔ 1943میں سعادت حسن منٹوکی دو کتابیں “ منٹو کے مضامین “ اور “ ڈرامے اور افسانے “ چھپتی ہیں ان میں شامل متنازعہ افسانے کالی شلوار ، دھؤاں اور بو کی وجہ سے سعادت حسن منٹو پر فحش نگاری کے مقدمات بھی چلتے ہیں۔
سیاسی منظر نامہ تبدیل ہوتا ہے۔ ہندوستان میں جلسے جلوس اور ہنگامہ آرائی شروع ہو جاتی ہے۔ پاکستان اور بھارت معرضِ وجود میں آتے ہیں۔ آزادی کے جشن منائے جاتے ہیں۔ چھینا جھپٹی، لوٹ کھسوٹ اور قتل و غارت گری کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔ آزادی کے نام پر تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت وقوع پذیر ہوتی ہے۔ سعادت حسن منٹو آگ اور خون کا یہ کھیل متحیر آنکھوں کے ساتھ دیکھتے ہیں ۔ گہری حساسیت کے ساتھ محسوس کرتے ہیں اور خلوصِ نیت کے ساتھ نوکِ قلم کے سپرد کر دیتے ہیں ۔
سعادت حسن منٹو بٹوارے کا دکھ اپنے مشہور افسانے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں رقم کرتے ہیں۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ دراصل ان پاگل قیدیوں کی کہانی ہے جو ہندوستان کے مختلف پاگل خانوں میں قید ہیں ۔ دونوں طرف کی حکومتیں یہ فیصلہ کرتی ہیں کہ مسلمان پاگلوں کو پاکستان پہنچا دیا جائے اور ہندو اور سکھ پاگلوں کو بھارت کے حوالے کر دیا جائے۔ لیکن پاگل ان سیاسی فیصلوں سے بے نیاز اپنی دنیا میں مگن ہیں ۔ ایک مسلمان پاگل سے اس کا ایک ہندو پاگل دوست پوچھتا ہے: “مولبی صاب یہ پاکستان کیا ہوتا ہے تو مسلمان پاگل بڑے غورو فکر کے بعد جواب دیتا ہے ہندوستان میں ایک ایسی جگہ ہے جہاں استرے بنتے ہیں “۔ اور پھر وہ ہندو پاگل بشن جو بھارت نہیں جاتا اور واہگہ بارڈرپر کھڑے کھڑے گرتا ہے اور مر جاتا ہے، جسے بھارت کے مشہور شاعر گلزار ان الفاظ میں خراج پیش کرتے ہیں:
مجھے واہگہ پہ ٹوبہ ٹیک سنگھ والے بشن سے جا کے ملنا ہے
سنا ہے وہ ابھی تک سوجے پیروں پر کھڑا ہے۔
جس جگہ منٹو نے چھوڑا تھا
خبر دینی ہے اس کے دوست افضل کو
وہ لہنہ سنگھ، ودھاوا سنگھ وہ بہن امرت
وہ سارے قتل ہو کر اس طرف آئے تھے
اور ان کی گردنیں سامان ہی میں لٹ گئی پیچھے
سعادت حسن منٹو نے ہجرت کے ایام میں وحشت اور بربریت ، انسان کی سفاکیت اور اخلاقی گراوٹ کے جو مناظر دیکھے لاہور پہنچتے ہی انہیں افسانے کی شکل دیکر صفحہ قرطاس پر بکھیرنا شروع کر دیا ۔ جو اس دور کی اشرافیہ کے لیے بھی قابلِ قبول نہیں تھے ۔ اسی لیے سعادت حسن منٹو کے خلاف ٹھنڈا گوشت جیسے افسانے لکھنے پر مقدمات بھی درج ہوئے اوران میگزینز کے ایڈیٹرز اور پبلشرز جہاں یہ افسانے شائع ہوئے تھے، کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ۔ ان میں احمد ندیم قاسمی، ہاجرہ مسرور اور عارف عبدالمتین شامل تھے۔ آئندہ کے لیے سعادت حسن منٹو کی تحریروں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ شاید اسی لیے سعادت حسن منٹو کے بارے میں لکھی گئی تحریریں آج بھی قابلِ گردن زدنی ٹھہرتی ہیں۔
لاہور کے تاریخی پاک ٹی ہاؤس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جب کسی راندہ درگاہ ادیب، شاعر یا صحافی پر پابندی عائد کر دی جاتی اور گھریلو پریشانیوں کا بوجھ اسے گھر چھوڑنے پر مجبور کرتا تب پاک ٹی ہاؤس ان قلم مزدوروں کو گلے سے لگاتا اور گرما گرم چائے سے ان کی بھوک ماری کرتا اور مغز ماری کا ماحول مہیا کرتا۔ ایسے حالات میں پاک ٹی ہاؤس کا دوبارہ کھلنا ادب دوستوں کے لیے یقیناٌ ایک خوشگوار اور گرم احساس ہے۔ پاک سر زمین کی عدالتوں میں سعادت حسن منٹو کے خلاف مقدمات چل رہے تھے منٹو اپنے نحیف کاندھوں پرمالی پریشانیوں، بیوی اور تین بیٹیوں کا بوجھ اٹھائے پا ک ٹی ہاؤس آیا کرتے۔ آنیوالی پیشی کا جواب دعویٰ داخل کروانے کے بارے میں دوستوں سے صلاح مشورہ کرتے اور اپنی قبر کے کتبے کی تحریر پر غور کرتے۔ مقدمات ابھی چل رہے تھے لیکن قبر کا کتبہ تحریر ہو چکا تھا کہ بلاواآگیا اور برِصغیر پاک و ہند کا یہ عظیم افسانہ نگاراپنی موت کا قصہ بھی متنازعہ چھوڑ کر عاقبت سدھار گیا۔
محترم قارئین کتبے کی تحریر اس کالم سے قصداٌ حذف کی جاتی ہے کیونکہ وہ تحریر منٹو کے افسانوں سے بھی زیادہ متنازعہ ہے اور اسی لیے سعادت حسن منٹو کی قبر سے اصل کتبہ اتار کر اب وہاں ایک ڈپلومیٹک کتبہ لگادیا گیا ہے تاکہ آئندہ کسی مقدمہ کا سامنہ نہ کرنا پڑے۔