کارکردگی دکھانا پڑے گی
- جمعرات 01 / مئ / 2014
- 4234
ممتاز صحافی حامد میر پر حملے کے بعد الزامات کی بارش میں جمہوری حکومت اور عسکری قیادت کے درمیان پیدا ہونے والا تناؤ اور کشمکش نئی شکل اختیار کرتی نظر آ رہی ہے۔ وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ ان کے شعلہ بیاں وزراء کا انداز بیاں بھی کچھ تبدیل ہوتا نظر آ رہا ہے۔ حکومت بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ آئی ایس آئی پر میڈیا کے الزامات ، طالبان سے مذاکرات اور دیگر معاملات پر فوجی قیادت میں پیدا ہونے والے غصے کو کم کیا جا سکے۔
وزیراعظم نواز شریف نے حالیہ دنوں میں کئی مواقع پر فوج کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔ جس کے بعد آرمی چیف نے یوم شہدا کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افواج پاکستان آئین کی بالا دستی اور جمہوریت کے استحکام پر یقین رکھتی ہیں۔ آئین کی بالادستی کا واضح مطلب یہ ہے کہ تمام ادارے آئینی حدود میں رہنے کے پابند ہیں۔ تاہم موجودہ حکومت کے دور میں جب بھی فوج پر تنقید کی گئی آرمی چیف اور آئی ایس پی آر نے فوری مداخلت بھی کی اور اپنے جوانوں کا حوصلہ بڑھانے کے لئے ان کے درمیان بھی پہنچ گئے۔
آرمی چیف نے یوم شہداء کے موقع پر یہ تو ضرور کہا کہ فوج جمہوریت اور آئین کی بالا دستی پر یقین رکھتی ہے اور میڈیا کی آزادی اور ذمہ دار صحافت کی حامی ہے۔ تاہم تمام تر حالات و واقعات کا بغور جائزہ لیا جائے تو فوج نے جمہوری حکومت اور میڈیا کو اشاروں کنایوں میں شٹ اپ کال بھی دی ہے۔ اپنی تقریر میں جنرل راحیل شریف نے جمہوری حکومت اور میڈیا کے ساتھ تعلقات کے علاوہ ایک متنازعہ معاملہ ’’طالبان کے ساتھ مذاکرات ‘‘ پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان کے خلاف سرگرم عمل تمام عناصر اور ریاست کے باغی غیر مشروط طور پر ملک کے آئین اور قانون کی مکمل اطاعت کریں اور قومی دھارے میں واپس آئیں بصورت دیگر ریاست کے باغیوں سے نمٹنے کے معاملے میں پاکستان کے غیور عوام اور افواج انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ خبریں مذاکرات شروع ہونے کے بعد سے ہی تواتر سے آتی رہی ہیں کہ فوج کو مذاکرات کے معاملے پر جمہوری حکومت سے اختلاف رائے ہے تاہم نواز حکومت ان تمام خبروں کی تردید کرتی رہی ہے۔ مگر اس کے باوجود طالبان قیدیوں کی رہائی، حکومتی وزراء کے بیانات اور پھر حامد میر پر حملے کے معاملہ پر حکومت اور فوج میں اختلاف رائے کھل کر سامنے آیا ہے ۔
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ جب بھی کسی مملکت اور معاشرے میں جمہوریت بلا روک ٹوک اور بلا خوف و خطر مستحکم ہوتی ہے تو اس کے مثبت اور ثمر خیز نتائج سامنے آتے ہیں جو معاشرے اور مملکت دونوں کو مضبوط اور ناقابل تسخیر بنانے کا موجب بنتے ہیں۔ یہ تو طے ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین ایک قومی دستاویز ہے۔ آئین واضح کرتا ہے کہ بیورو کریسی خاکی ہو یا سول ، ایک منتخب عوامی نمائندہ حکومت میں ان کی حیثیت ماتحت اداروں کا درجہ رکھتی ہے۔ پالیسی سازی منتخب نمائندہ حکومت کا کام ہے اور اِس پر عمل درآمد کو یقینی بنانا سول اور فوجی بیورو کریسی کے فرائض منصبی میں سے ہے۔
تاہم پاکستان کی تاریخ میں پیپلز پارٹی کی حکومت سے قبل کوئی بھی جمہوری حکومت اپنے پانچ سال پورے نہیں کر سکی اور نہ ہی سیاستدان وہ ڈیلیور کر سکے جس کی توقع عوام ووٹ دیتے ہوئے ان سے کرتے رہے۔ پاکستانی سیاستدانوں نے ہمیشہ دودھ کی نہریں بہانے اور عوام کو سہانے خواب دکھانے کی روش اپنائی مگر اپنے وعدوں کو کبھی بھی پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکے اور یہی جمہوریت کے عدم استحکام اور فوج کی حکومت میں مداخلت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
اس حوالے سے انسانی حقوق کی ممتاز کارکن عاصمہ جہانگیر نے بالکل بجا کہا ہے کہ قومی ادارے بہت زیادہ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں کسی فوجی مداخلت سے بچا جا سکے۔ ان کاکہنا تھا کہ سویلین اور فوجی قیادت معمولی نوعیت کے معاملات میں اپنی توانائیاں ضائع کرنے کی بجائے عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو مسلح افواج کی اہمیت کو سمجھنا چاہئے لیکن یہ ادارہ اگر کوئی مہم جوئی کرے تو اس پر تنقید کا حق ہونا چاہئے اور تنقید کوادارے کی مخالفت نہیں قرار دینا چاہئے۔
پاکستان میں اب یہ خیال پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ اگر کوئی بھی ادارہ سیاسی معاملات میں مداخلت کرے گا تو وہ یقیناً تنقید کا نشانہ بنے گا۔ لیکن مضبوط عوامی حمایت کیلئے سیاستدانوں کو بھی ڈیلیور کرنا پڑے گا۔ آج بھی عوام ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں سے ناامید ہیں ۔ مجموعی طور پر مہنگائی، کرپشن، میرٹ کی پامالی، سہولیات کی عدم فراہمی، توانائی کا بحران جیسے اہم ایشوز کا کوئی حل نہیں نکالا جا سکا اور ہر کام صرف باتوں اور اعلانات تک محدود ہے۔
ادھر حامد میر پر حملے نے صحافتی برادری کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔ اب عالمی ادارے بھی پاکستان میں صحافت کرنا ایک مشکل پیشہ قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان کا یہ امیج کسی طور پر بھی اچھی بات نہیں ۔ حامد میر نے حملے کے لئے آئی ایس آئی کو مورد الزام ٹھہرایا۔ یہ شک ان کا حق تھا لیکن اس شک اور الزام کو جس انداز سے جیو چینل نے اٹھایا، وہ کچھ زیادہ تھا۔ اس کے جواب میں یہ سرگرمی کہ جیو چینل کی نشریات بند کی جائیں وہ بھی اتنا ہی منفی عمل تھا۔ اور اس کے بعد میڈیا کی تقسیم بھی واضح ہو گئی جب اس اہم ادارے کے حق میں اور جیو چینل کی نشریات بند کرنے کے لئے مظاہرے بھی ہوئے۔
ان مظاہروں کے بعد یہ خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ ان مظاہروں کے جواب میں کہیں مظاہرے نہ شروع ہوجائیں۔ اگر ایسا ہؤا تو خود ایک اہم ادارہ عدالتی تحقیقات کے دائرے میں چلا جائے گا۔ کسی بھی انٹیلی جنس ادارے کے معاملات یوں عدالتی دائرے میں چلے جائیں اس کے مثبت اثرات مرتب نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا یہ معاملہ ہر نئی سرگرمی کے ساتھ مزید پیچیدگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
یوم شہداء کی تقریب میں میڈیا کی آزادی اور ذمہ دارانہ صحافت پر یقین رکھنے کے حوالے سے آرمی چیف کے بیان کو تحسین کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے مگر ہم سمجھتے ہیں کہ اگر تمام ادارے آئینی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے فرائض ادا کریں تو مملکت ہر قسم کے انتشار اور خطرات سے نجات حاصل کر سکتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی قوتیں زیادہ اتحاد اور دانشمندی کا مظاہرہ کریں ۔
سب سے اہم سوال کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کو یا ان کی حکومت کو مضبوط بنانے کا نہیں بلکہ اداروں کو مضبوط بنانے کا ہے۔ یہ ادارے ہی سیاسی عمل کے تسلسل کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان مسائل کی طرف توجہ دینا سب سے اہم کام ہے جو عوام کا جینا مشکل کئے ہوئے ہیں۔ اور ایسا کرنے کیلئے حکمرانوں کو کارکردگی دکھانا ہو گی، اچھی کارکردگی۔