فیس بک کی دِ لّی

  • اتوار 04 / مئ / 2014
  • 5021

جو آباد ہے وہ دہلی ہے جو اُجڑی تھی وہ دلّی تھی۔ سو بار بسی سو بار اُجڑی ۔۔۔۔۔۔۔ سادھو نے دوازے پہ آکر صدا لگا ئی، ایک لگائی دو دفعہ لگائی مگر جب تیسری دفعہ صدا لگائی تواندر سے ناری جی کی چھنگا ڑتی ہوئی آواز آئی: آتی ہوں آتی ہوں ذرا صبر نہیں ہوتا۔  آج کل یہ عجب پاکھنڈ شروع ہؤا ہے۔ بال بڑھا لو جٹیں بنا لو نہ تنکا توڑو نہ پتہ ہلاؤ صدا دو بھوجن لو کھاؤ پیو اور لمبی تانے سو رہو۔

ناری جب بوجھن لیے دروازے پہ آئی تو سادھو نہ سادھو کا سایہ۔  اب کدھر مر گئے بھوجن لینا نہیں تھا تو صدا کیوں لگائی۔  ناری دائیں دیکھےناری بائیں دیکھے مگر سادھو تو کب کا سداھار چُکا تھا۔ ناری نے واپس انرر کی طرف مُڑتے جب بھوجن والی تھالی کی طرف دیکھا: “ہائے ہائے یہ کیا تھالی کا بھوجن تو کوئلہ بنا پڑا ہے۔ ہائے ہائے میں مر گی یہ مجھ سے کیا ہو گیا“۔

اند آکر دیکھا تو گھر کا سارا بھوجن راکھ بنا ہؤا ہے ۔ کچھ ہی دیر بعد آس پڑوس سے چیخ و پکار شروع ہو گئی ساری بستی کا ہی بھوجن کوئلہ بن گیا۔ لوگ جنگلوں چوراہوں پہ ایک ٹانگ پر کھڑے بھگوان کے آگے گڑ گڑا رہے ہیں ۔ شما بھگون، شما۔ مگر جب مہینوں بھگوان سے شما نہ ملی تو لوگ دوسری بستی کو قافلوں کی صورت چل پڑے ۔

کچھ سالوں بعد ایک درویش نے بستی کے باہر ڈیرا جمایا۔ لوگ درویش کے چرنوں کو چھونے کے لیے جوق در جوق واپس بستی کی طرف آئے۔ اُجڑے گھروں کو بسایا۔ لو جی دلی پھر سے آباد۔ مگر ابھی مکمل بسنے بھی نہ پائے تھے کہ بیرونی حملہ آور آدھمکے۔ بستی کا سارا بوجھن سونا چاندی سمیٹا اور سروں کے مینار بناتے یہ جا وہ جا ۔

عاشقوں نے الگ دلی کو اُجاڑا جس کے عشق پر خزاں آئی اُس کے لیے ساری دلی اُجڑی اُجڑی سے تھی اور پھر شاعروں نے اُجڑی دلی کو اپنے قصوں میں اور اُجاڑا ۔ جب آئے دن دلی اُجڑنے بسنے لگی تو گورا صاحب نے آکر ڈیرے ایسے جمائے کہ رہے نام اللہ کا ۔ مسلمانوں نے جو یہ حال دیکھا تو کہا : “ہم لنڈورے ہی بھلے ہمیں پمارا حصہ اور علاقہ دو ہم اپنا چولھا ڈنڈا الگ کرتے ہیں۔ اب ہم تمھارے ساتھ نہیں رہ سکتے ہم جلیبی لڈو برفی حلال کر کے کھانا چاہتے ہیں۔ تم لوگ جلیبی ، لڈو برفی جھٹکے سے کھاتے ہو“

لو جی کسی نے اپنی بکری ، توا بچوں کا ساتھ لیا اور چل پڑے  لکیر کے اُس طرف۔ چل تو پڑے تھے مگر پہنچے کہاں ۔ پورے گاؤں کا گاؤں ساتھ چلا تھا سب بہنیں بھائی ساتھ تھے۔ کچھ راستے میں کھیت ہوئے کچھ کا نام نشان نہیں مل رہا۔ لکیر کے اس طرف آکر سجدہ کیا جب سر اُٹھایا تو پتہ چلا کتنے اب ساتھ نہیں ہیں۔ کسی کو جھونپڑی ملی کسی کو مہاجر کیمپ اور دن رات میں اور راتیں دن میں ڈھلنے لگیں۔ لاہور کا انار کلی بچھڑے ہوؤں کے ملاپ کی جگہ بن گئی۔

لوگ انار کلی جا رہے ہیں اچانک پیچھے سے آواز آتی ہے ، شیخ جی ، ملک جی ، مرزا جی آپ پہنچ گئے۔ ہم تو سمجھے !!!
فیس بک انار کلی کا نیا وژن ہے سالوں کے بچھڑے اچانک مل جاتے ہیں۔

میں نے بھی ایک فیس بک کی دلی بسائی تھی۔ کیا بستی تھی۔  کیا کیا لوگ تھے میری اس بستی میں جن سے لوگ ملنے کو ترستے ہیں۔ ہم اتراتے تھے کہ “ وہ “ وہ تو میرے دوستوں کی ف۔ہرست میں ہیں۔  کسی کے گھر میں کوئی پیدا ہؤا! لو سارے جہاں کو پتہ چل گیا۔  کوئی فوت ہؤا سارا فیس بک نوحہ بن گیا ۔ جو بات اپنے گھر میں کسی سے کہہ نہیں پاتا، اسی بات پر یہاں لوگوں سے بحث ہو رہی ہے۔ غزل، نظم اور صبح مسواک کرنے کی آیات ایک ساتھ پوسٹ ہو رہی ہیں ۔  کال مارکس، عیسی موسی اور محمدؑ   کے حوالوں سے فیس بک بھری رتی تھی۔

ہر قسم کی پینٹنگ ، کارٹون ، موسیقی ، ڈانس کیا کیا نہیں تھا میری اس بستی میں۔ اور پھر بیبوں نے الگ میری بستی کو حسن کی بستی بنا رکھا تھا۔  ایک سے سچ ایک سے جھوٹ بول رہا ہوں۔ لکھنا کسی اور کو ہے لکھ کسی اور کے بکس  میں رہا ہوں۔ پکڑا جاتا ہوں اور بہانے کرتا ہوں، بہانے مان لیے جاتے ہیں۔ دھتکارا جاتا، بلایا جاتا ہوں۔ کئی دفعہ میری فیس بک کی دلّی اُجڑنے لگتی مگر بچا ہی لیتا تھا۔ لیکن اب کے کسی کی ایسی بد دعا لگی کہ (شاید انھی بیبوں میں سے کسی ایک کی ) کہ میری دلّی اُجڑ گئی۔

خطرہ تھا میرے ساتھ وابستہ لوگوں کی دلّی بھی اُجڑ جائے گی۔ لوگ مجھ پہ چیخ رہے تھے کہ کچھ علاج کرو ورنہ ہم تمیں بلاک کرنے والے ہیں ۔  میں تین دن چار راتیں اپنی دلّی سے اس زہریلے وائرس کو نکالنے کی کوشش کرتا رہا اور اتنی دفعہ پاس ورڈ بدلا کہ فیس بک والوں نے میرا اکاؤنٹ ہی بلاک کر دیا۔

لو جان چھوٹی۔  دو دکھ ۔  لوگوں نے اخلاق میں آ کر میری دوستی کی درخواست کو قبول کر لیا تھا۔ بعد میں جب انھوں نے مجھے اٹرم شٹرم لکھتے دیکھا تو بھی اخلاقاٌ  مجھے بلاک نہیں کیا۔ اب وہ کاہے کو دوبارہ دوستوں کی فہرست میں شامل کریں گے۔ اور، اور بیبیاں۔۔۔۔ بیبیاں اُن کو کہاں سے ڈھنوڈوں گا۔ میری تحریں جن کا پرنٹ نہیں نکال سکا تھا۔ وہ بھی غائب۔  چلو یہ تو کوئی اتنی توپ تحریں نہ تھیں۔

مگر آج سارا دن لگا کر نئی فیس بک کی بستی بسائی ہے کہ اب اس کے بغیر رہا نہیں جاتا۔ دیکھتا ہوں کون کون آکر بستا ہے اس نئی بستی میں۔