حامد میر پر حملہ اور جیو کا کردار (2)

  • منگل 06 / مئ / 2014
  • 4649

گذشتہ قسط میں ہم یہ سوال اٹھا چکے ہیں کہ ملک بھر کے صحافیوں کو نظر انداز بلکہ ان کی توہین کرنے والا اور اپنے کارکنوں اور صحافیوں کا استحصال کرنے والا ادارہ اب حامد میر کے معاملے میں کیوں ڈٹ گیا ہے۔ اور چھوٹے چھوٹے افراد اور طاقتور گروپوں کے سامنے لیٹ جانے والے ادارے میں اچانک اس قدر جرأت کیسے آ گئی۔

یہیں سے یہ سوال سر اٹھاتا ہے کہ کہیں یہ کوئی سازشی کھیل تو نہیں؟ اور اچانک صحافیوں کی ہمدردی میں اور فوج کے خلاف ڈٹ جانے کے پیچھے کوئی غیر ملکی ایجنڈا تو نہیں ہے۔ کیونکہ ماضی میں یہی جنگ اور جیوکا ادارہ تمام فوجی آمروں کا پشت پناہ رہا ہے۔ ان سے بھر پور تعاون کے ساتھ مراعات بھی لیتا رہا ہے اور اس طاقت کے بل پر وہ دوسرے حریف اداروں کو نیچا دکھاتا رہا ہے۔ پرویز مشرف کے دور میں اس میڈیا گروپ کے بارے میں یہ بات عام تھی کہ اس میں بہت سے صحافی تو براہ راست آئی ایس آئی کے بھیجے ہوئے بیٹھے ہیں اور بہت سوں نے بعد میں اس طاقت ور خفیہ ادارے سے اپنے روابط مضبوط کر لیے ہیں۔ صحافتی حلقوں میں اس گروپ کے اخبارات اور چینلز کے بہت سے سربراہوں کے بارے میں یہ باتیں عام تھیں کہ انہیں محض اس وجہ سے یہ عہدے دیے گئے ہیں کہ ان کے خفیہ اداروں کے ساتھ بہتر تعلقات ہیں۔

خود یہ میڈیا گروپ فوج اور خصوصا آئی ایس آئی بلکہ آئی ایس پی آر تک کے بارے میں اس قد محتاط ، حساس اور فکر مند تھا کہ نہ صرف ہمیشہ ان کی ستائش میں رطب اللسان رہا بلکہ ان کو ناراض کرنے کا تصور تک نہیں کرتا تھا۔ 1983میں ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران جن دس صحافیوں نے فوجی حکومت کے خلاف محضر نامہ پر دستخط کیے اور اس کے نتیجے میں وہ بے روزگار ہو گئے ان میں سے کسی ایک کو بھی اس بڑے میڈیا گروپ نے اپنے اخبارات و جرائد میں جگہ نہیں دی۔

اسی گروپ سے وابستہ بعض صحافیوں کے بارے میں کسی بڑے سے بڑے اور چھوٹے سے چھوٹے ایڈیٹر کو یہ اختیار نہیں رہا کہ وہ ان کی خبروں میں کسی قسم کی قطع وبرید یا ایڈیٹنگ کر سکیں۔ حالانکہ انہیں تنخواہ ہی اس کام کی دی جا تی ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی تھی کہ یہ صحافی بڑے مؤثر اور خفیہ اداروں سے رابطے میں ہیں۔ ضیاء الحق دور میں جنگ لاہور کے ایک رپورٹر نے ریفرنڈم کی خبر دی۔ یہ خبر شائع ہوئی تو فوجی حکومت غصے میں آ گئی۔ چنانچہ اس رپوٹر کو پکڑ کر اس وقت کے وزیر اطلاعات کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ اس دباؤ کے بعد رپورٹر کو تو نوکری سے نکال دیا گیا مگر اخبار ریفرنڈم کا اعلان ہونے پر ’جنگ کا اعزاز‘ کی سرخی کے تحت یہ خبر بار بار شائع کرتا رہا۔

جب 1990میں بے نظیر بٹھو نے کہا کہ انہیں انتخابی شکست آئی جی آئی نے نہیں بلکہ آئی ایس آئی نے دی ہے تو یہ میڈیا گروپ بے نظیر کے ساتھ نہیں تھا۔ جب جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن اور فوجی قیامت کے درمیان ایک تنازع پیدا ہوا تو یہ میڈیا گروپ منور حسن کے ساتھ تو نہیں تھا البتہ ان کی تذلیل وتحقیر کرنے کے تمام حربے اختیار کر رہا تھا۔ یہی مصلحت پسند اور کاروباری مزاج کا میڈیا گروپ اس بار ملک کے سب سے طاقتور ادارے کو چیلنج کر رہا ہے لیکن کیوں؟

کچھ لوگوں کا خدشہ ہے کہ یہ بھی آئی ایس آئی کے کسی ایجنڈے کا حصہ نہ ہو۔ کچھ کا خیال ہے کہ اس بار یہ میڈیا گروپ کسی غیر ملکی ایجنڈے پر ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ محض بریکنگ نیوز کے شوق میں اس سے ایک غلطی ہو گئی جسے وہ مجبوراً تاحال نبھائے جا رہا ہے۔ اسی لیے وہ کبھی پسپائی اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے اور کبھی جارحیت کے موڈ میں نظر آتا ہے۔ کبھی قانونی جنگ کی دھمکی دیتا ہے اور کبھی صفائیاں پیش کرنے لگتا ہے۔ لیکن واقفان حال کہتے ہیں کہ اس بار غلط اندازے کے باعث وہ اپنی کاروباری بقا (صحافتی بقا نہیں) کی جنگ لڑ رہا ہے اور بیک وقت سارے حربے استعمال کر رہا ہے۔

اس میڈیا گروپ کے اندر کے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ جمہوریت کی بقا کے لیے ڈٹے ہیں کیونکہ فوجی اور سیاسی قیادت میں اختلافات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی حکومت نے امریکہ کے ساتھ بعض ایسے وعدے کر لیے ہیں جو فوج کو پسند نہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ فوجی قیادت کو اعتماد میں لیے بغیر طالبان سے مذاکرات شروع کر دیے گئے ۔ سعودی عرب اور شام کے ساتھ سیاسی حکومت کے معاملات پر بھی فوج کو تحفظات ہیں۔ جبکہ پرویز مشرف کے معاملے میں سیاسی حکومت کا رویہ انصاف پر مبنی نہیں بلکہ انتقام اور تذلیل و تحقیر کا ایجنڈا ہے۔ اس لیے عسکری قیادت سیاسی حکومت کونیچا دکھانا چاہتی ہے اور ہم جمہوریت کی بقا کے لیے سیاسی قیادت کا ساتھ دے رہے ہیں ۔

شاید اس غیر اعلانیہ باہمی تعاون کی وجہ سے ہی وزیر اعظم بنفس نفیس کراچی میں حامد میر کی عیادت کے لیے پہنچ گئے۔ سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ وزیر اطلاعات پرویز ر شید نے وزیر اعظم کو اس پر آمادہ کیا ۔ سیاسی و صحافتی حلقوں بلکہ خود مسلم لیگ کے اندر کے لوگوں کا خیال ہے کہ پرویز رشید اپنی وزارت صرف جیو اور جنگ گروپ کے سر پر چلا رہے ہیں۔ وہ نہ صرف جنگ اور جیو پر بے پناہ انحصار کرتے ہیں بلکہ اس گروپ کے علاوہ کسی میڈیا گروپ کو گھاس نہیں ڈالتے۔ ان ہی وجوہات کی بنا پر وہ دوسرے میڈیا گروپس اور صحافیوں کے درمیان کوئی پسندیدہ شخص نہیں ہیں۔ (جاری ہے)