حامد میر پر حملہ اور جیو کا کردار (3)

  • بدھ 07 / مئ / 2014
  • 4567

وزیر اطلاعات پرویز رشیدکے جنگ گروپ پر انحصارکا یہ عالم ہے کہ 11ماہ کی وزارت کے دوران انہوں نے ابھی تک اپنے زیر انتظام اداروں پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان، اے پی پی اور پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کا انتظامی دورہ تک نہیں کیا۔ اگر کہیں ان اداروں میں گئے بھی ہیں تو بطور مہمان۔

جنگ اور جیو کے اندر باخبر لوگ اس لڑائی کی ایک اور وجہ بھی بتاتے ہیں کہ پاکستان میں بہت بڑی تیاریوں کے ساتھ ، جدید سہولیات سے آراستہ اور بہت زیادہ مالی وسائل کے ساتھ ’’بول‘‘ نامی میڈیا گروپ آ رہا ہے اور ان کا خیال ہے کہ اس گروپ کے پیچھے آئی ایس آئی ہے۔ اس انجانے خوف نے جیو گروپ کے مالکان اور ان کے کم فہم مشیروں کو پریشان کر رکھا ہے چنانچہ اسی خوف کی وجہ سے جیسے ہی انہیں حامد میر پر حملہ میں آئی ایس آئی کو ملوث کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے اس موقع کو سنہری موقعہ جانا اور اس کے اثرات پر غور کیے بغیر آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ کے خلاف مہم شروع کر دی۔

در اصل جیو گروپ کو اس معاملے کو پوری طرح سمجھنے میں شدید غلطی ہوئی۔ اس کے اندازے غلط نکلے۔ اس کا خیال تھا کہ حامد میر بڑا اینکر اور آزادی صحافت اور آزادی اظہار کا عملبر دار ہے۔ اس پر حملے کے بعد تمام سیاسی جماعتیں مجبوراً ہمارے ساتھ ہوں گی ۔ کیونکہ ہم ماضی میں انہیں بے پناہ کوریج دیتے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی وہ ہماری محتاج ہیں۔ جیو چونکہ سب سے بڑا میڈیا گروپ ہے اس لیے تمام میڈیا گروپس اور چینلز اس کی تقلید شروع کر دیں گے اور آزادی صحافت کے نام پر ہمارے ساتھ ہوں گے۔ جیو گروپ کے ملازمین تو ہمارے ہی ہیں اور ان کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے۔ یہ باہر نکلیں گے تو باقی صحافی برادری بھی ان کا ساتھ دینے پر مجبور ہو جائے گی۔ بد قسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔

سیاسی جماعتوں نے حامدمیر حملے کی تو مذمت کی لیکن آئی ایس آئی کو بدنام کرنے کی زیادہ شدت سے مخالفت و مزاحمت کی۔ جو اب تک جاری ہے۔ خود جیو کے پروگراموں میں سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے جیو گروپ کی کھل کر مخالفت کی۔ میڈیا گروپس جو پہلے ہی جیو اور جنگ سے تنگ تھے کہ ایک تو کاروباری رقابت تھی دوسرے جیو جنگ گروپ اور اس کے ملازمین معمول کی مجلسوں میں دوسرے میڈیا گروپس کی توہین کرتے ہیں اور دوسرے گروپوں سے وابستہ صحافیوں کو کم تر اور حقیر جانتے ہیں۔ چنانچہ اتنے بڑے واقعہ اور جیو کے طوفان اٹھا دینے کے باوجود معاصر میڈیا گروپس جیو کی حمایت میں نہیں نکلے۔ سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی نے بھی جیو کی حمایت سے گریز کیا۔ بلکہ سیاسی جماعتیں تو خم ٹھونک کر آئی ایس آئی کی حمایت میں نکل آئیں۔ جماعت اہل سنت اور جماعت الدعوۃ کے بعد مسلم لیگ ق نے آئی ایس آئی کی حمایت میں ملک بھر میں جلوس نکالے، معاصر میڈیا گروپس نے جیو کے خلاف پروگرام شروع کئے۔ اور ملازم صحافی باہم تقسیم ہو گئے اور ان کی غالب اکثریت جنگ جیو کی مخالفت کر رہی تھی۔

ابتداء میں مختلف شہروں کے پریس کلبوں نے حامد میر کی حمایت میں چھوٹے چھوٹے مظاہرے کیے لیکن تین دن بعد صرف لاہور پریس کلب میں احتجاجی کیمپ قائم رہ سکا۔ جو سسکتا اور دم توڑتا ہوا اب تک جاری ہے۔ اس کی وجہ لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری ہیں۔ وہ طویل عرصہ جنگ لاہور میں رہ چکے ہیں اور ان کے بڑے بھائی رئیس انصاری جیو کے ڈائریکٹر ہیں۔ لاہور پریس کلب کے حالیہ انتخابات میں ارشد انصاری کو اپنی انتخابی مہم کے دوران جنگ اور جیو کے دفاتر کے اندر داخل ہونے کی بھی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ جنگ جیو دفاتر میں ان کا داخلہ میر شکیل الرحمن نے روکا تھا یا جنگ اور جیو کے اعلیٰ افسران نے یہ عقدہ اب کھل جانا چاہیے۔ شاید اب ارشد انصاری اپنے بڑے بھائی کی وجہ سے یہ کڑوا گھونٹ پی رہے ہیں۔ لیکن کیفیت یہ ہے کہ 2000ارکان پر مشتمل لاہور پریس کلب میں لگے ہوئے اس کیمپ میں احتجاج کے وقت 30سے 35افراد شامل ہوتے ہیں۔ یا مقامی این جی اوز کے چند افراد ۔

اس مایوس کن صورت حال کا یہ حل نکالا گیا کہ 30اپریل کو لاہور میں آل پاکستان پریس کلب کنونشن بلایا لیا گیا۔ یہ اب تک ایک کاغذی تنظیم تھی۔ یکم مئی کو ویمن جرنلٹس کنونشن بلایا گیا ۔ جبکہ دو تین اور چار مئی کو پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ برنا گروپ کے ایک دھڑے افضل بٹ گروپ اور آل پاکستان نیوز پیپر ایمپلائز کنفڈریشن (صبیح الدین اشرف گروپ) کی مجالس عاملہ کے اجلاس طلب کر لیے گئے ۔ان تینوں پروگراموں کے لیے سینکڑوں صحافیوں اور اخباری کارکنوں کو ملک بھر سے بلایا گیا۔ انہیں لاہور کے قیمتی ہوٹلوں میں تین سے پانچ دن تک ٹھہرایا گیا۔ خواہش یہ تھی کہ وہ جیو گروپ کی حمایت کا اعلان کریں۔ اس دوران لاہور پریس کلب میں یہ افواہ مسلسل گردش کرتی رہی کہ ان پروگراموں کے لیے جیو گروپ نے55لاکھ روپے دیے ہیں۔ جبکہ پرویز رشید نے سرکاری وسائل بڑے پیمانے سے فراہم کیے ہیں۔ لیکن اس تمام کوشش سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ کیے جا سکے۔

آل پاکستان پریس کلب ایسوسی ایشن کا اجلاس لاہور پریس کلب کے نثار عثمانی آڈیٹوریم میں شروع ہوا تو پہلے مقرر نے ہی یہ سوال اٹھا دیا کہ منتظمین وضاحت کریں کہ انہوں نے کس مقصد کے لیے ہمیں اکٹھا کیاہے۔ ان کا ایجنڈا کیا ہے؟ کیا ہم نے حامد میر کی حمایت کرنی ہے۔ یا ہم جیو گروپ کی حمایت کرنے کے لیے بلائے گئے ہیں یا ہمیں آئی ایس آئی یا فوج کی مخالفت کے لیے بلایا گیا ہے۔ اس کے بعد بیشتر مقررین نے حامد میر کی حمایت کی مگر ساتھ جنگ جیو مالکان کی حمایت سے انکار کیا۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے صدر شہر یار، کراچی پریس کلب کے جنرل سیکرٹری عامر لطیف اور کوئٹہ پریس کلب کے صدر کے علاوہ دیگر متعدد مندوبین نے واضح طور پر کہا کہ مالکان اخبارات و چینلز صحافیوں کا استحصال کرتے رہے ہیں۔ یہ اپنے مقاصد کے لیے صحافیوں کی حمایت چاہتے ہیں۔ اس لیے ہم مالکان کی حمایت کرنے کو تیار نہیں۔ البتہ جنگ یا جیو کی بندش کی مخالفت کریں گے۔

ایک مقرر نے تو یہاں تک کہا کہ جنگ اور جیو کو کوئی بند نہیں کر رہا لیکن جیو ٹی وی اور جنگ اخبار نے یہ حصے حذف کر دیے اور حامد میر کی حمایت اور جنگ جیو کی بندش کے معاملے کو نشر اور شائع کیا ۔جس پر شرکاء یہ کہتے پائے گئے کہ جنگ جیو کی آزادی صحافت تو یہیں پر ننگی ہو گئی ہے۔ اس دوران وہاڑی پریس کلب کے صدر نوید اقبال قریشی نے بتایا کہ ان کے بڑے بھائی جاوید اقبال قریشی جو جنگ لاہور کے نمائندے تھے انہیں 1983ء میں ایک مقامی مافیا گروپ نے شدید فائرنگ کر کے زخمی کر دیا وہ تقریبا ایک سال تک بستر پر رہے۔ لیکن جنگ مالکان اور انتظامیہ نے ان کی خبر تک نہ لی۔ جب انہوں نے اس کی شکایت کی تو انہیں ڈانٹ کر خاموش کرا دیا گیا۔

اس دوران پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے رانا عظیم گروپ نے بھی ایوان لاہور میں یوم آزادی صحافت کے نام پر ایک شو کر ڈالا جہاں جیو لاہور کے بیوروچیف نے تقریر کرتے ہوئے جوش جذبات میں ایک میڈیا گروپ کے سربراہ کے لیے حرامزادے تک کا لفظ استعمال کر ڈالا۔ جنگ اور جیو کے لوگ اس سے پہلے بھی ایسا کرتے رہے ہیں جبکہ مالکان جنگ گروپ اپنے حریف اخبارات و چینلز کو بند کرانے کے تمام حربے استعمال میں لاتے رہے ہیں۔ (جاری ہے)