کسے وکیل کریں

  • جمعہ 09 / مئ / 2014
  • 6960

میری زندگی کا بہت سا حصہ لائل پور کی ڈسڑک بار روم میں گُزرا ہے۔ شہر میں داخل ہونے کے بعد اپنے اخبار کے دفتر میں جانے کی بجائے سیدھا بار روم میں ہی جاتا تھا۔ سیف خالد ، رانا سخاوت ،حنیف ڈوگر ، افضل رندھاوا ، میاں محمود ، رانا لطیف ، ممتاز کنول اور دوسرے بہت سے وکیلوں کی جمی محفل میں جا کر بیٹھ جاتا۔ جہاں ملکی اور عالمی صورت ِ حال پہ بحث زور و شور سے جاری ہوتی۔ میں بھی اس میں شامل ہو جاتا ۔

سیاسی گفتگو کے علاوہ لطیفوں کا بھی دور چلتا تھا۔  ایک وکیل نیا اور بڑا ہی اچھوتا لطیفہ سُناتا تو دوسرا وکیل اس سے بھی پڑھ کر نیا اور اچھوتا لطیفہ سُناتا۔ پرانے اور گھسے پڑے لطیفوں پہ مکمل پابندی تھی ۔ حالانکہ دس منٹ پہلے یہ دونوں وکیل ایک عدالت میں ایک دوسرے سے جنگ و جدل میں مصروف تھے۔  ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے ۔ کتابوں کے حوالے دے دے کر اپنے اپنے مؤکل کی حمایت کر رہے تھے ۔ گلے پھاڑ پھاڑ کر ایک دوسرے پہ قانونی حملے کر رہے تھے۔ مگر بار روم میں داخل ہوتے ہی وہ ایک دوسرے کے لیے چائے کا آرڈر دے رہے ہوتے۔

چائے پینے والوں ہم پہلے سے ہی شامل ہوتے۔  ان دونوں وکیلوں میں سے کوئی مذاق میں بھی عدالت میں ہونی والی جنگ و جدل کو ذکر نہ کرتا تھا ۔ نہ اپنے دیے گئے دلائل بیان کر کے اپنی قابلیت کا سکہ جمانے کی کوشش کرتا۔ عدالت میں کی گی گفتگو اور قانونی جنگ اور اس جنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیار عدالت میں ہی چھوڑ آتے۔ بار روم میں وہ ایک دوسرے کے دوست ہوتے تھے۔ شاید یہ سب ان اُستادوں کی وجہ سے تھا جن سے انھوں نے وکالت پڑھی تھی۔  کہ تمھاری دشمنی دوسرے وکیل سے اپنے مؤکل کے دفاع اور کمرہ عدالت تک ہے ۔

مگر ۔۔۔۔ مگر آج وکیل اپنے مؤکل کے مخالف وکیل کو عدالت میں جج کے سامنے یہ دھمکی دے رہا ہے کہ “ تم کل عدالت میں اس کافر کی وکالت کرنے نہیں آؤ گے۔ کیوں کہ تم آنے کے لیے اس دنیا میں نہیں ہوگے۔“ کوئی جج اور اس عدالت میں موجود کوئی اس دھمکی یا پیغام کا نوٹس نہیں لیتا۔  جج اس پیغام کو حقیقت بننے سے روکنے کی کوئی کوشش نہیں کرتا۔  اور دھمکی دینے والا وکیل اپنے “ اسلامی منشیوں “  کو راشد رحمان کے دفتر میں روانہ کرتا ہے اور اپنی بات سچ ثابت کر دیتا ہے۔

راشد رحمان اگلی پیشی پر اپنے مؤکل کی وکالت کرنے عدالت نہیں جاتا۔ اس لیے نہیں کہ راشد رحمان آج بیمار ہے یا اُسے کسی کی شادی یا کسی کے ولیمہ میں جانا تھا۔  وہ اس لیے اپنے مؤکل کی واکالت کرنے نہیں جاتا کہ اُسے اپنے بچے کے سکول میں جانا تھا۔ نہیں نہیں بالکل نہیں وہ اس لیے اپنے مؤکل کی وکالت کے لیے عدالت میں نہیں جا سکا کیونکہ راشد رحمان اب اس دنیا میں نہیں رہا۔

دوسرے وکیل نے اپنی دھمکی اور اپنے پیغام کو سچ ثابت کر کے دکھا یا تھا۔ اب راشد رحمان کے گھر میں اس کا جسم نہیں الماری میں لڑکا اُس کا سیاہ کوٹ سیاہ پینٹ اور سیاہ ٹائی لٹکی رہے گی۔  اور بقول امین مغل جی کے، “ راشد رحمان مرتے رہیں گے اور ہم فیس بک پہ نوحے لکھتے رہیں گے۔ “