جمہوریت کی بقا
- اتوار 11 / مئ / 2014
- 4688
پاکستان کے منظر نامے پر ایک بار پھر انتخابات میں دھاندلیوں کا غل بپا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان احتجاجی تحریک کا آغاز کر رہے ہیں۔ جبکہ وزیراعظم نواز شریف نے انہیں وزیراعظم ہاؤس آنے کی دعوت دی ہے تا کہ مل بیٹھ کر اختلافی مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے۔ لیکن کپتان نے اس دعوت کو مسترد کر دیا ہے۔
عمران خان کا مطالبہ ہے چار انتخابی حلقوں میں فوری طور پر از سر نو ووٹوں کی گنتی کرائی جائے جبکہ حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کا مؤقف ہے کہ معاملہ الیکشن ٹربیونلز کے سامنے پیش ہونا چاہئے۔ جن کے فیصلوں کے خلاف الیکشن کمیشن اور اعلیٰ عدلیہ سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔ اس مسئلے پر حکومت مخالف تحریک چلانے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ وزیراعظم نے عمران خان کو مذاکرات کی دعوت دی ہے جسے انہوں نے مسترد کر دیا ہے اور11 مئی کو وہ اسلام آباد میں اپنی قوت کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور اس کے بعد ملک گیر تحریک چلائیں گے۔
علامہ طاہر القادری اور شیخ رشید جیسی آزمودہ اور جہاندیدہ شخصیات ان کے ہمرکاب ہیں۔ پاکستان میں منتخب جمہوری حکومت کا تخت گرتا ہؤا دیکھنے کے خواہشمند عناصر خوشی سے چھلانگیں لگا رہے ہیں کیونکہ ان کے بقول کپتان کو ’’ فیصلہ کن قوتوں‘‘ کی آشیر باد حاصل ہے۔
عمران خان کی موجودہ تحریک کے لئے پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس ، جیو نیوز اور آئی ایس آئی کا تنازعہ مہمیز کا کام دے رہے ہیں۔ حکومت جیو اور آئی ایس آئی کے تنازعہ میں ایک طرف خاموشی سے کھڑی تماشہ دیکھ رہی ہے جبکہ یہ خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ پیمرا میں زیر سماعت وزارت دفاع کی جیو کیخلاف اپیل میں حکومتی مداخلت کار فرما ہے۔ اور اپیل کیخلاف جیوری کے دو ارکان حکومت پر الزامات لگا کر مستعفی بھی ہو گئے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جیو نیوز جیسے بڑے نیوز چینلز کی بندش درست اقدام نہیں ہو گا تاہم جس طرح آئی ایس آئی پر الزام تراشی کی گئی وہ طرز عمل بھی مناسب نہ تھا۔ یہ بہتر ہو گا کہ کوئی ایسی صورت حال پیدا کی جا سکے کہ تمام اداروں کو ان کی آئینی حدود میں رہنے کے پابند ہوں۔
پاکستان کی نصف صدی کی تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ سیاستدانوں نے اختلافات کو باہمی مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے کے بجائے تحریکیں چلانے کی راہ اختیار کی اور مفاہمت و مصالحت کے دروازے بند کئے۔ محاذ آرائی کی اس سیاست کا نتیجہ ہر بار فوجی مداخلت کی صورت میں ظاہر ہؤا اور بدنامی سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کے حصے میں آتی رہی۔
1977ء کے عام انتخابات اس کی ایک نمایاں مثال ہیں۔ انتخابات میں دھاندلی کے الزامات اور جیتنے والی جماعت اور مخالف جماعتوں کے درمیان کشمکش ایسی شدید محاذ آرائی کی صورت اختیار کر گئی تھی کہ مذاکرات میں کامیابی بھی فوجی مداخلت کی راہ نہ روک سکی۔ شفاف اور منصفانہ انتخابات تو کیا ہوتے سرے سے جمہوریت کی بساط ہی لپیٹ دی گئی اور آئین کو غیر معینہ مدت کے لئے پس پشت ڈال دیا گیا۔
یہ بات قابل افسوس ہے کہ تلخ تجربات کے بعد بھی حالیہ انتخابات کو حد سے زیادہ متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جبکہ ملک میں پہلی بار ایک منتخب آئینی حکومت اور اسمبلیوں کی مقررہ میعاد پوری ہونے کے بعد دستور پاکستان کے مطابق غیر جانبدارانہ عبوری حکومت نے اس الیکشن کمیشن کے تحت انتخابات منعقد کروائے۔ چیف الیکشن کمشنر تمام جماعتوں کے اتفاق رائے سے مقرر کیا گیا تھا۔ بلاشبہ یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ یہ انتخابات ہر قسم کی دھاندلی سے پاک تھے۔ لیکن بحیثیت مجموعی انہیں جانبدارانہ بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ عوام نے بحیثیت مجموعی ان انتخابات کو قبول کیا ہے۔ الیکشن ہوئے ایک سال ہو چکا ہے اور اس دوران میں کہیں ایسا کوئی خالص عوامی مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ عوام نے انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کیا۔
اس صورت حال میں مناسب یہ ہو گا کہ اگر کسی حلقے کے امیدوار اور ووٹروں کے پاس دھاندلی کے شواہد دستیاب ہیں تو وہ الیکشن ٹربیونلز میں اپنا مقدمہ پیش کریں۔ ٹھوس شواہد کے بغیر انتخابات کے مجموعی طور پر مشکوک ہونے کا تاثر پیدا کرنے سے سیاسی عدم استحکام کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ خود عمران خان کہتے ہیں کہ وہ عدم استحکام پیدا نہیں کرنا چاہتے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھرانتخابات کے ایک سال بعد اس کارروائی کا مقصد کیا ہے جس کا ہدف انتخابات کا اعتبار زائل کرنے کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔
اس وقت حکومت کیلئے بھی لازم ہے کہ وہ مذاکرات کی دعوت محض پوائنٹ اسکورنگ کے لئے نہ دے۔ انتخابات کو زیادہ سے زیادہ شفاف اور منصفانہ بنانے کے لئے عمران خان اور دوسرے سیاسی رہنماؤں سے بامقصد مذاکرات ہونے چاہئیں۔ انتخابات کے بارے میں جائز شکایات کا ازالہ کیا جانا چاہئے اور اگر حکومت اپنے طرز عمل سے اپنے اخلاص کا یقین دلا دے تو عمران خان کو بھی مذاکرات کی دعوت کو خندہ پیشانی سے قبول کر لینا چاہئے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین کو یہ سمجھنا ہو گا کہ جمہوریت کا حسن اختلاف میں جبکہ جمہوریت کی بقا مذاکرات میں پنہاں ہے۔