لائل پور سے لانڈھی جیل تک (2)
- اتوار 11 / مئ / 2014
- 5174
آج کل پاکستان میں صحافت کی جو صورت ِ حال ہے اور آزادئ اظہار پہ پابندی کے مطالبے اخبارات سے وابستہ لوگوں کی طرف سے ہی کیے جا رہے ہیں۔ اس کو دیکھتے ہوئے سوچ رہا ہوں کہ بتایا جائے کہ یہ آزادی حاصل کرنے کے لیے اس ملک کے صحافیوں ، دانشوروں ، جمہوری اور لبرل سوچ رکھنے والے لوگوں نے کن کن مشکلات کا سامنا کیا تھا۔
انھوں نے قید ِ تنہائی کی سزائیں برداشت کئیں ، ہفتوں ہفتوں بھوک برداشت کی ، کوڑے کھائے اور اپنی جانوں کے نذرانے دئے۔ ایک لمبی دستان ہے لہذا سوچا اس کو قسط وار لکھوں گا ابھی پہلی قسط ہی لکھی ہے۔ ہر روز سوچتا تھا کہ دوسری قسط لکھوں مگر ہر روز جب آنکھ کُھلتی بالکونی میں بیٹھ کر چائے اور سگریٹ پی کر جب اخبارات پڑھنے کے لیے نیٹ کھولتا تو ہر روز اخبار ایک نئے دسویں محرم سے خون آلودہ ہوتا۔
کبھی اخبار راشد رحمان کے خون سے پر ہوتا ہے، کبھی کسی عدالت کے احاطے میں باپ اپنی بیٹی، خاوند اپنی بیوی اور بھائی اپنی بہن کے خون سے عدالت کا فرش سرخ کر رہا ہوتا ہے ، کبھی کسی پنچائیت کے فیصلہ کے تحت پنچائیت سے چھ ساتھ آدمی اُٹھتے ہیں اور لڑکی کو ساتھ والے کمرے میں لے جاکر یا وہیں کھلے عام اس کے ساتھ اجتماعی جنسی فعل کر رہے ہوتے ہیں۔ کوئی نو سال یا سات سال اور پانچ سال کی بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا رہا ہوتا ہے یا پھر کوئی تازہ تازہ دفنائی عورت کی قبر کھول کر بچی ، جوان اور مردہ بوڑھی عورت کے ساتھ اپنی جنسی تسکیین کرتا ہے۔ اور اخبار میں قہقہہے لگا رہا ہوتا ہے ۔ ایسے میں صحافت کی تاریخ لکھنے کی بجائے میں ان واقعات پہ نوحے لکھنے پڑتے۔
سوچتا ہوں یہ نوحے لکھنا بند کر دوں کہ کہیں میں بھی وہ درزی نہ بن جاؤں جو فوت ہونے والے گھر میں پسماند گان کے رونے دھونے اور انکی چیخ و پکار کے درمیان بے حس بیٹھا کفن سیتا رہتا ہے ۔ مگر میرے بڑے ہی مہربان سید مجاہد علی کا کہنا ہے ہمیں نوحے لکھتے رہنا چاہئیں ، کیونکہ مجاہد جی کو یقین ہے ہمارے یہی نوحے ایک دن احتجاج بن جائیں گے۔ لہذا مجاہد علی جی کے اس یقین پہ یقین کرتے ہوئے “ لائل پور سے لانڈھی جیل “ کی دوسری قسط لکھنا شروع کرتا ہوں۔
جنرل ضیا کا دور اس ملک کا ایک سیاہ تریں دور تھا۔ چوکوں پہ سٹیڈم میں ٹکٹکیوں کے آگے مائیکرو فون لگا دئے گے تھے کہ کوڑے کھانے والوں کی چیخ و پکار دور دور تک لوگ سن کر عبرت حاصل کریں۔ سندھ میں ہیلی کاپٹروں سے دیہاتوں پر گولیوں کی بارشیں کی جاتی تھیں ۔ جیل کی بیرکیں طالب علموں ، سیاسی ورکروں، ادیبوں دانشوروں اور صحافیوں سے بھری پڑی تھیں اور باہر اسلامی جمعیت طلبہ اسلام کے مجاہد بازاروں میں ننگے سروں والی عورتوں کے بال کاٹ رہے تھے۔ اور میاں بیوی سے نکاح نامے طلب کر رہے تھے۔
اخبارات سفید کفن کے طرح پریس خانوں سے نکل کر لوگوں کے ہاتھوں میں آتے تھے جو مدیر پھر بھی باز نہ آتے تو ان خبارات کے دروازوں پہ وزنی تالے لگا کر چابیاں خاکی وردیوں میں غائیب کر دی جاتیں۔ اس تمام ظلم و تشدد کے باوجود ملک کی سڑکیں گلیاں اور چوراہے احتجاج سے پُر رہتیں۔ ایسے میں صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونیں آف جرنلسٹس اور اخباری صعنت سے وابستہ کارکنوں کی نظیم ایپنک نے احتجاج کی کال دی جو “ آذادیئ صحافت “ کے نام سے شروع ہوئی اس اس کے لیے لاہور شہر کا انتخاب کیا گیا۔
پورے ملک سے صحافی اور اخباری کارکنوں کے قافلے لا ہور کی طرف چل پڑے۔ مال روڈ پہ واقع لا ہور پریس کلب ان کا پڑاؤ تھا جس کے صدر عباس اطہر تھے۔ جو مارشل لا کے تو ساتھ نہیں تھے مگر اس احتجاجی تحریک کے بھی ساتھ نہیں تھے۔ ایسا کیوں تھا یہ ایک الگ داستان ہے۔ ایپنک کی طرف سے تجویز آئی تھی کے اس “ آذادئ صحافت “ کی تحریک میں ملک کے مزدور کسان اور طالب علموں کو بھی شامل کیا جائے۔ مگر پی ایف یو جے کی طرف سے اس تجویز کو مسترد کر دیا گیا کہ وہ اس تحریک کو صرف اور صرف صحافیوں کی ہی تحریک رکھنا چاہتے تھے۔
ہر روز چار صحافی گرفتاری دیتے تھے۔ پوری دنیا میں اس تحریک کے حق میں جلوس نکل رہے تھے مگر ضیا آمریت اپنا ظلم جاری رکھے ہوئے تھی۔ اور صحافیوں کے مطالبوں کو نظرانداز کر رہی تھی۔ آخر ایک دن ایک فوجی عدالت میں چار صحا فی داخل ہوئے اور انھوں نے فوجی عدالت کے سربراہ سے کہا “ ہم سرنڈر نہیں کریں گے۔ ہم یہ جنگ جتیں گے۔ پم تمھارا فیصلہ سُننے کے لیے تیار ہیں “۔
ان صحافیوں کو عدالت سے بار بٹھا دیا گیا۔ کچھ دیر بعد ان کو عدالت میں حاضر ہونے کو کہا گیا اور عدالت کے سربراہ نے فیصلہ سُنایا کہ ان چاروں صحافیوں کو 9 ماہ قید اور دس دس کوڑوں کی سزا دی جاتی ہے۔ یہ صحافی تھے؛ ناصر زیدی ، اقبال جعفری ، مسعود اللہ خان اور خاور نعیم ہاشمی ( میرے ساتھ ان چاروں صحافیوں نے بہت زیاتی کی۔ ان کی وجہ سے مجھے کراچی میں کوڑوں کی سزا نہ ہوئی ۔ کیوں نہ ہوئی وہ میں آگے چل کر بتاؤں گا ) ان کو نہ صرف سزا سُنائی گی بلکہ اس پہ فوری عمل بھی کر دیا گیا ۔
صرف مسعود اللہ کو بیماری اور معذوری کی وجہ سے کوڑے نہیں مارے گے۔ باقی تینوں کو جیل کے احاطے میں ٹکٹکی پہ باندھ کر دس دس کوڑوں لگائے گے۔ یہ خبر آگ کی طرح پوری دنیا میں پھیل گئی۔ اور پوری دنیا میں اس پر احتجاج ہونے لگا۔ تو ضیا آمر نے اس تحریک پہ قابو پانے کے لیے آمروں کا پرانا حربہ آزمایا اور تحریک ہی سے تنظیم کے چار بڑے عہدے داروں کو خرید لیا۔ جو رشید صدیقی گروپ کے نام سے ظاہر ہؤا۔ ان چاروں نے فوجی حکومت کے ساتھ جعلی مذاکرات کر کے تحریک ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
فوجی آمر نے تمام صحافی رہا کر دئے ، ظاہری طور پہ تحریک ناکام ہو گیئی۔ مگر چند ہی دنوں بعد پی ایف یو جے کا اجلاس ہؤا اور تحریک کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس دفعہ تحریک کے لیے کراچی کا انتخاب کیا گیا ۔ اور ایپنک کے زور دینے پر اس دفعہ تحریک میں ملک کے مزدور کسان اور طالب علموں کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا( جاری ہے)