پیالی میں طوفان
- سوموار 12 / مئ / 2014
- 4148
حامد میر کی نظریاتی وابستگیوں سے میرے ہزاروں اختلافات اور حامد میر کی صحافتی اور پیشہ وارانہ اخلاقیات کے بارے میں میرے لاکھوں تحفظات کے باوجود میں حامد میرپر قاتلانہ حملے کی پرزور مذمت کرتا ہوں۔ محض ذاتی اختلافات کی خاطر کسی بھی شخص کو بارود کے حوالے کر دینا اور چند مالی مفادات کی خاطر کسی بھی نوجوان کو گولیوں سے چھلنی کر دینا قابل مذمت ہی نہیں قابلِ نفرت بھی ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر قابلِ مزاحمت بھی ہے کیونکہ:
خون اپنا ہو یا پرایا ہونسلِ آدم کا خون ہے آخر
جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں امنِ عالم کا خون ہے آخر
مدتوں سے جنگوں کے پجاری اپنے ذاتی مفادات کے اوپر خوبصورت نظریات کی ملمع کاری کرتے رہے ہیں ۔ گرم گرم نعروں کا سہارالیکر نکلتے ہیں نسلِ آدم کے خون سے اپنی حوس کی پیاس بجھاتے ہیں۔ مشرق سے لیکر مغرب تک امنِ عالم کو لہو لہان کر تے ہیں عالمی عدالت میں نجات دہندہ کا لقب پاتے ہیں۔ اور سپر پاور بن کر ساری دنیا کے وسائل کشید کرتے ہیں۔میں مصیبت کی اس کھڑی میں حامد میر کے خاندان کے دکھ میں برابر کا شریک ہوں اور ا ن کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو بھی ہوں ۔ تاکہ افواہوں کی اس منڈی میں بھانت بھانت کی بولیاں بند ہو سکیں اور نسلِ آدم کے خون پر اپنا دھندہ چمکانے والے عالمی توپوں کے رخ پہچاننے میں مدد بھی مل سکے جو بڑی تیزی سے افغانستان سے پاکستان کی طرف مڑ رہی ہیں۔ لیکن افسوس یہاں توجانے :
کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر
شہر کا شہر مسلمان ہو ا پھرتا ہے
صحافت کے میدان میں ایک شعبہ ایسا بھی ہے جسےInvestigative Journalism یعنی تحقیقی یاتفتیشی صحافت کہا جاتاہے۔ جس میں کسی بھی واقعہ کی سرسری خبر نہیں دی جاتی بلکہ واقعہ کے ہر پہلو کو تسلی سے جانچا پرکھا اور سمجھا جاتا ہے اور پھر اس کو رپورٹ کیا جاتاہے۔ جس کا ہمارے ملک میں شاید رواج نہیں ہے یا شائد ایسا مال بکتا نہیں ہے۔ اس لیے ہمارے دیس میں تفتیشی صحافت کی بجائے صحافتی تفتیش کی جاتی ہے۔ یا یوں کہ لے ایک اینکر سج سنور کر سکرین پر مختلف زاویوں سے نمودار ہوتا ہے اور سکرین پر بیٹھ کر وہ مذہب سے لیکر سیاست تک، قومی سے لیکر عالمی مفادات تک، نسلی سے لیکر لسانی تضادات تک ، دینی سے لیکر دنیاوی معاملات تک، معاشی سے لیکر معاشرتی پالیسیوں تک اور دفاعی سے لیکر تعلیمی بجٹ تک ، سب موضوعات پر اس گھن گرج سے بات کر رہاہوتاہے کہ پروگرام میں بلائے گئے مہمان ماہرین ایک دوسر ے کا منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔
کبھی کبھی تو پروگرام میں بلا کر مہمانوں کی اس قدر تضحیک کی جاتی ہے کہ مہمان پروگرام سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں اور اس پرگرام میں کبھی نہ آنے کا تہیہ کر لیتے ہیں۔ ایسا تو گھر میں آنے والے بھکاری کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ لیکن یہی تو آج کل پروگرام کی معراج سمجھا جاتاہے۔ شاید منافع اور ریونیو کارپوریٹ میڈیاکی سب سے پہلی ترجیح بن چکا ہے اور اگر پرافٹ اور ریونیو ہی پہلی ترجیح ہے تو پھر چھوڑو یہ آذاد صحافت اور آزادیِ صحافت کے نعرے، چپ کر کے اپنی نوکری کرو اور اپنے بچوں کا پیٹ پالو۔قوم کو سچ اور حقیقت بتانے کے چکر میں خدارا مزید بیوقوف مت بناؤ۔
میں چونکہ صحافت اور ابلاغیات کا ادنیٰ سا طالب علم ہوں اور stretegic Communication میرا پسندیدہ موضوع رہا ہے اس لیے میں یہ معمہ کسی حد سمجھنے کی کوشش میں کامیاب ہوا ہوں کہ محترمہ بینظیر بھٹوکا بہیمانہ قتل ہو یا حامد میر پر قاتلانہ حملہ، سوات میں سروں کو فٹ بال بنا کر کھیلنے کی ویڈیو ہو یااسامہ بن لادن کی فوٹو شاپڈ تصویر، مہران بیس حملہ ہو یا اسلام آباد کچہری دھماکہ ، ان سب سانحات کو صرف ایک ذمہ داری قبول کرنے کے اعلان سے طالبان کے کھاتے میں کیوں ڈال دیا جاتاہے یا کسی انجانے میل ایڈریس سے آنے والی اقبالِ جرم کی ای میل پڑھ کر اس کا جرم جند اللہ کے سر کیوں تھوپ دیا جاتا ہے۔ کیا دنیا اتنی شفاف ہوگئی ہے کہ سب کچھ آپ کو گھر بیٹھے بتایا جا رہا ہے یا دنیا آپ کو سچ سے کوسوں دور رکھنا چاہتی ہے یہ سب حربے اس سرکاری بیانیہofficial version کا حصہ ہیں جو نائن الیون کے فوراٰ بعد دفترِتزویراتی ابلاغیات پنٹاگون سے شروع ہوئے اور جن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے واشنگٹن ، لندن اور اسلام آباد میں دفاتر قائم کیے گئے تاکہ جنگ کو اپنے انداز سے دیکھااور دکھایا جائے اور اس سے منافع اور وسائل کی جنگ جیتی جائے۔
شاید اسی لیے میرے دیس میں آج تک دہشت گردی کا کوئی مقدمہ اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچا بلکہ مقدمہ کی سماعت سے بہت پہلے ہی مقدمہ کی فائل پر ذمہ داری قبول کرنے کی چٹ یا کسی ای میل کا حوالے دے کر مقدمہ کی فائل کو ہمیشہ ہمیشہ کی لیے بند کر دیا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح گاؤں کا کوئی وڈیر ا اپنے بیٹے کو قتل کے مقدمہ سے بچانے کے لیے گاؤں کے کسی غریب مزدور سے اقبالِ جرم کا بیان دلوا دے اوراپنے بیٹے کو تتی ہوابھی نہ لگنے دے۔ اگر کوئی دانشور، صحافی یا تجزیہ نگار کوشش کرے تو ہمیں پتہ چل سکتا ہے کہ آخرذمہ داری قبال کرنے کی یہ بیاں بازیاں اور اقبالِ جرم کی یہ بڑھکیں کن مذموم مقاصد کی پیداکردہ ہیں اور یہ بیاں بازیاں کہاں سے شروع ہوتی ہیں اور کہاں تک جاتی ہیں۔
لیکن ہمارے دیس میں تحقیق صرف جڑی بوٹیوں تک محدود ہو گئی ہے اور تفتیش صرف حوالدار تک، ہمارے ملک میں تفتیش کار ایجنسیاں بند کمرہ میٹنگز میں مصروف ہیں اورمیرے دیس کے دانشور اپنی اپنی چائے کی پیالی میں طوفان نہیں بلکہ طوفانِ بد تمیزی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میرے دیس میں مذہب کے ٹھیکیدار شادیوں کی تعداد کے پیچیدہ شرعی مسئلوں میں الجھے ہوئے ہیں اور میر ی اس پاک سر زمین کے سیاستدان اقتدار کی غلام گردشوں میں بوتلوں کی تلاش میں پھر رہے ہیں۔ تو ایسے حالات میں کون کرے گا تحقیق اور تفتیش توایسے حالات میں دنیا کے ازلی سچائیاں ٹیلی وژن سکرین پر چلنے والے ٹکر میں ہی تلاش کی جائیں گی اور کائنات کی تخلیق کے اسرارو رموز اخبارات کی شہ سرخیوں میں ہی ڈھونڈھے جائیں گے۔ نیوز روم کے ماحول کو نفسا نفسی کا عالم کہا جائے گا اور بریکنگ نیوز کو عن الحق کی صدا سمجھا جائے گا۔
مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑھ رہا ہے کہ میرے کچھ صحافی دوست اور خاص طور پر ٹیلی وژن کے لیے کام کرنے والے دوست خبر کو بیچنے کے لیے خبر کے ساتھ جو ٹریٹمنٹ یاسلوک کرتے ہیں وہ ہندی کے ایک بڑے موزوں لفظ سے ملتا ہے لیکن کیا کیا جائے میں نے یہ کالم اخبار میں دینا ہے ٹیلی وژن میں نہیں اور اخبار لوگ کچھ جاننے کے لیے پڑھتے ہیں نہ کہ لطف لینے یا دینے کے لیے اور ویسے بھی اخبار پڑھنے یا لکھنے کے لیے پڑھا لکھا ہونا ضروری ہوتا ہے اور ٹیلی وژن سے لطف لینے کے لیے کسی تعلیم اور تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ صرف آپ کے دماغ کاموزوں ہونا ضروری ہوتاہے۔
ہمیں یہ بات ہر گز نہیں بھولنا چاہیے کہ متنازعہ معاملات میں بعض اوقات مفادپرست طبقے یا کوئی تھرڈ پارٹی اپنے مفاد ات کی خاطر کوئی گھناؤنا کھیل کھیل جاتی ہے اور کاروباری دنیا میں ایسی مثالیں موجود ہیں بلکہ ایسی وارداتوں کو موثر اور مثبت سمجھا جاتا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے ریاست کے دونوں ستون جو تھم بن چکے ہیں اپنے مفاد ات اور اپنی انا کی جنگ میں ایک مذموم حملے کی تحقیقات سے رخ نہ پھیر یں ۔ دونوں اداروں کو اس واردات کی تحقیقات میں اپنا اپنا بھر پور کردار ادا کرنا چاہیے۔ نہ ہی صحافتی اداروں کو اپنی مارکیٹ کو علاقائی بندھنوں سے نکال کر پورے گلوب تک پھیلانے کے لیے صحافیوں کے خون پسینے سے کھیلنے کی اجازت دی سکتی ہے اور نہ ہی ریاستی اداروں کو سوچ پر پابندی لگانے کے لیے بیلٹ اور بلٹ کے استعمال کا سرٹیفیکیٹ دیا جا سکتاہے۔