آذادئ صحافت کی قیمت

  • منگل 13 / مئ / 2014
  • 4232

(13 مئی 1978 کو لاہور میں چار پاکستانی صحافیوں خاور نعیم ہاشمی ، ناصر زیدی ، اقبال جعفری اور مسعود اللہ کو فوجی عدالت کے حکم پر لاہور میں کوڑے مارے گئے۔ 36 برس قبل پیش آنے والے اس سانحہ کی یاد آج بھی پاکستان میں آذادئ صحافت کی جدوجہد سے وابستہ لوگوں کے دل پر رقم ہے۔ مسعود قمر اب سویڈن میں رہتے ہیں لیکن وہ بھی پاکستان میں آذادئ اظہار کی جدوجہد کرنے والے صحافیوں میں سر فہرست تھے۔ اس المناک دن کی مناسبت سے انہوں نے یہ مضمون  تحریر کیا ہے)

جنرل ضیا آمر کے دور میں چلنے والی  “ آزادئ صحافت “  کی تحریک کے بارے میں میں ایک مضمون قسط وار “ لائل پور سے لانڈھی جیل تک “ کے نعنوان سے لکھ رہا ہوں ۔ جس کی دو قسطیں لکھ چکا ہوں۔  دوسری قسط میں میں نے لکھا تھا کہ میں ان چار کوڑے کھانے والے صحافیوں کو اپنا دشمن سمجھتا ہوں اور ان سے حسد کرتا رہا ہوں کہ ان کی وجہ سے مجھے کوڑوں کی سزا نہیں ملی۔ 

 میں نے لکھا تھا اس کی تفصیل میں آنے والی قسط میں لکھوں گا۔  مگر آج صبح بی بی سی پر خاور نعیم ہاشمی کا انٹرویو سن کر میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔  اور وہ سارے دن،  وہ لمحات  اور پرانی یادیں میرے آنسوں میں بھیگ گئیں۔ خاور نعم ہاشمی میرا بہت ہی پیارا دوست ہے۔  جہاں  دوسروں نے “ مساوات “ اخبار میں مجھے ملازمت دلانے میں میری مدد کی تھی، وہیں خاور نعیم ہاشمی نے بھی میری بہت مدد کی تھی۔  میں جب  بھی اس سلسلے میں لاہور جاتا تھا تو خاور کے ہی گھر رہتا تھا۔

لاہور کے بعد جب کراچی سے تحریک کا آغاز ہوا تو میں نے اس تحریک میں تیسری بار عید کے دن نمازِ عید کے بعد گرفتاری دی۔ میرے ساتھ اندرونِ سندھ سے آیا ہؤا ایک سندھی ہاری بھی تھا۔  جس کو اسلام علیکم کے علاوہ کوئی اردو اور پنجابی لفظ نہیں آتا تھا۔ ( اس کی مکمل تفسیل میں قسط میں لکھوں گا ) جب ہم دونوں کو ایک فوجی عدالت میں سماعت کے لیے لایا گیا ( فوجی اس کمرہ کو عدالت کہتے تھے ) تو پہلے اس سندھی ہاری سے سوالات کیے گئے۔ جو ایک سندھی بولنے والے ترجمان کے ذریعے کیے جا رہے تھے۔ 

مجھے سندھی تو نہیں آتی تھی مگر سندھ کی مختلف جیلوں میں رہنے کی وجہ سے تھوڑی بہت سندھی سمجھنے لگا تھا۔ اور ویسے بھی وہ اردو میں ترجمہ کر کے میجر کو بتا رہا تھا۔ میں نے نوٹ کیا کہ بار بار اُس سے کہا جا رہا ہے کہ یہ اعتراف کرو کہ تم نے بھٹو زندہ باد کا نعرہ لگایا ہے ۔  اور وہ یاری بار بار انکار کر رہا تھا کہ میں نے “بھٹو زندہ باد“  کا نعرہ نہیں لگایا ۔  آخر مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نےمیجر کو مخاطب کرے ہوئے کہا: “جب وہ انکار کر رہا ہے ، تو آپ لوگ اس کو کیوں مجبور کر رہے ہیں“۔

میجر نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا: “ تم چُپ رہو “۔  میں نے کہا کہ تم مجھے چُپ نہیں کرا سکتے ۔ تم صحافیوں کو کبھی بھی چُپ نہیں کرا سکتے ۔  میجر نے غُصہ میں چیختے ہوئے کہا کہ  اگر تم خاموش نہیں رہو گے تو میں تم کو عدالت سے باہر پھینک دوں گا۔  میں نے کہا میجر اس اپنی فوجی عمارت کو ، عدالت کہہ کر لفظ عدالت کی توہین نہ کرو  اور مجھے بھی یہاں کھڑا رہنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔  میں تمھاری حکومت اور اس کمرے پہ جس کو تم عدالت کہتے ہو تھوکتا ہوں۔

یہ کہہ کر میں نے تھوک اُگل دیا  جو اُسکی میز کی قریب گرا ۔ میجر نے اپنی چھڑی میز پہ زور سے مارتے ہوئے کہا کہ ابھی تمھارا بندوبست کرتا ہوں۔ تم کیا سمجھتے ہم تم جیسے دو چار صحافیوں کے آگے سرنڈر کر دیں گے ۔ میں کہا کہ  نہیں میں بھی ایسا نہیں سمجھتا کیونکہ تم لوگ صرف “ جنرل اروڑا کے ہی آگے سرنڈر کرتے ہو“۔  میرے اس جملے پر وہ اُٹھا میرے کالر کو پکڑا اور زور سے تھپڑ میرے گال پر طمانچہ مارا۔  اور مجھے ٹھوکر مار کر کمرے سے باہر پھینک دیا۔  میرا سر دیوار سے جا کر لگا۔

میں نے خود کو سھنبالا اور کاریڈور میں پڑے ایک بینچ پہ بیٹھ گیا۔ میرے ساتھ وہ سندھی ہاری اور دونوں پولیس والے بھی آکر بیٹھ گے۔  تقریبأ آدھے گھنٹے بعد ایک سفید کپڑوں میں ایک شخص آیا اور پولیس والوں سے کُھسر پُھسر کرنے لگا۔ جب وہ چلا گیا تو پولیس والے ہمیں باہر میدان میں لے آئے جہاں سخت دھوپ تھی اور بیٹھنے کے لیے کوئی بینچ بھی نہپیں تھا۔ آخر جب آدھا گھنٹہ گُزر گیا اور میں تھک گیا تو میں زمین پر ہی بیٹھ گیا۔ جس پر پولیس والے نے فوراٌ مجھے کھڑا کر دیا اور کہا کہ سائیں ہمیں حکم ہے آپ کو بیٹھنے نہ دیا جائے کھڑا رکھا جائے ۔ ہم مجبور ہیں۔

آخر ایک گھنٹہ بعد ہمیں پھر کمرے میں لایا گیا۔  دس منٹ بعد میجر آیا اور اُس نے کھڑے کھڑے سزا سُنانی شروع کر دی۔ مگر سزا سُنانے سے پہلے اُس نے کہا کہ  میں تم کو پندرہ بیس کوڑوں کی سزا دینا چاہتا تھا مگر مجھے اوپر سے اجازت نہیں ملی۔ لہذا تم کو یہ عدالت  دو سال قید بامشقت اور بیس ہزار جرمانہ کی سزا کا حکم دیتی ہے۔  میں نے کہا  کہ مجھے تو پہلے ہی علم تھا تم اپنے طور پہ کچھ بھی  نہیں کر سکتے۔  جو حکم آئے گا وہ اوپر سے ہی آئے گا ۔

دراصل ضیا آمر کی فوجی حکومت،  لاہور میں خاور نعیم ہاشمی ، ناصر زیدی ، اقبال جعفری اور مسعود اللہ کو کوڑے مار کر پوری دنیا یں بہت بدنام ہو چُکی تھی۔  اور اب دوبارہ دنیا بھر کے اخبارات میں اپنے خلاف محاذ نہیں کھولنا چاہتی تھی۔  اسی وجہ سے مجھے میجر پندرہ یا بیس کوڑوں کی سزا دینے کا ارمان پورا نہ کر سکا۔  یہی وجہ ہے کہ میں نے چاروں کوڑوں کھانے والے صحافیوں سے ہمیشہ حسد کیا۔ کہ ان کی وجہ سے مجھے کوڑوں کی سزا نہیں ملی۔