حامد میر پر حملہ اور جیو کا کردار (4)

  • منگل 13 / مئ / 2014
  • 4993

ایک میڈیا گروپ کے مالک کو ’’حرامزادہ‘‘ قرار دینے والے جیو کے بیورو چیف چند روز قبل بھی وزیر اطلاعات کی موجودگی میں سٹیج پر بیٹھے ہوئے تین اخباری مالکان کی بے عزتی کر چکے ہیں۔ ایسے میں یہ مالکان جیو گروپ کی کیوں مدد کریں گے؟

اخبارات اور ٹی وی چینلز سے حکومتوں کو ہمیشہ شکایات رہتی ہیں کہ آزاد صحافت حکومتوں کی خرابیوں ، کرپشن بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کو عوام کے سامنے لاتی ہے۔ لیکن جنگ اور جیو گروپ شاید دنیا کا واحد میڈیا گروپ ہے جس سے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں، دینی حلقوں، سماجی تنظیموں، علمی شخصیات، اور تحقیقی اداروں کو ہمیشہ سے بے پناہ شکایات رہی ہیں اور وقتاً فوقتاً اس پر وہ اپنے غم و غصہ کا اظہار کرتی رہی ہیں۔

یہ شکایات اتنی بے جا بھی نہیں تھیں۔ 1981ء میں لاہور سے جنگ کی اشاعت کے فوری بعد ممتاز عالم دین اور مرکزی جمعیت اہل حدیث کے سربراہ علامہ احسان الٰہی ظہیر کی خفیہ شادی کی خبر نمایاں انداز میں جنگ میں شائع کی گئی۔ یہ خبر نہ صرف غلط تھی بلکہ علامہ صاحب کے ایک مخالف نے فراہم کی تھی۔ اس خبر کی اشاعت پر علامہ احسان الٰہی ظہیر نے روزنامہ جنگ کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا اعلان کیا۔ ان کے حامیوں نے شدید احتجاج کیا اور عرصہ تک علامہ صاحب اور ان کی جماعت مرکزی جمعیت اہل حدیث جنگ سے شدید نالاں رہے۔

1981ء ہی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے اس وقت کے ناظم اعلیٰ (غالباً معراج الدین) کے بارے میں طیارہ اغوا کرنے کی جھوٹی خبر لیڈ سٹوری کے طور پر شائع کی گئی۔ جس پر اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنوں نے جنگ لاہور کے دفاتر آ کر احتجاج کیا اور شدید توڑ پھوڑ کی۔ نواز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے تو ان کی طلبہ تنظیم مسلم سٹوڈنٹنس فیڈریشن کو اس میڈیا گروپ کے ساتھ اس قدر شکایات پیدا ہوئیں کہ انہوں نے ارشد امین چودھری کی قیادت میں جنگ اخبار کے بنڈل جلائے اور اخبار کو مارکیٹ پہنچنے نہ دیا۔ الطاف حسین جن دنوں پاکستان میں ہی تھے۔ انہوں نے جنگ اخبار کے بائیکاٹ کا اعلان کیا اور کئی روز تک روزنامہ جنگ، کراچی، حیدر آباد اور سندھ کے کئی شہروں میں تقسیم نہ ہو سکا۔ غلام حیدر وائیں پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے تو انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں جنگ اور اس سے وابستہ صحافیوں پر سنگین الزامات لگائے۔ اور اس وقت کے ایگزیکٹو ایڈیٹر جناب اطہر مسعود کا نام لے کر اپنی شکایات ریکارڈ کرائیں۔

یہ تلخی اور لڑائی کئی ہفتے تک جاری رہی۔ ایک وقت تھا جب نواز شریف اور چیف ایڈیٹر جنگ میر شکیل الرحمن کے درمیان ایسی گاڑھی چھنتی تھی کہ دونوں ایک چھوٹے طیارے میں بیٹھ کر لاہور کے گرد چکر لگاتے ہوئے گھنٹوں خوش گپیاں کرتے تھے۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ نواز شریف کے وزیر جناب سیف الرحمان نے جنگ کے خلاف متعدد کیسز بنا ڈالے۔ اخبار کا کاغذی کوٹہ روک لیا اور جنگ بند ہونے کے قریب پہنچ  گیا۔ جس پرجنگ انتظامیہ نواز حکومت کے خلاف سپریم کورٹ تک گئی۔ یہ لڑائی اتنی لمبی ہوئی کہ لاہور اور کراچی میں حکومت کے خلاف جنگ نے احتجاجی کیمپ لگائے۔

 اور اب آئی ایس آئی پر الزامات اور اس کے سربراہ کی کردار کشی کے بعد بہت سی چھاؤنیوں اور فوجی علاقوں میں جنگ کا بائیکاٹ ہو رہا ہے۔ جب کہ عمران خان بھی آستینیں چڑھا کر جنگ جیو کے بائیکاٹ کا اعلان کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مئی 2013ء کی انتخابی دھاندلی میں جیو گروپ ملوث ہے۔ یہ شاید دنیا میں کسی میڈیا گروپ پر اپنی نوعیت کا پہلا الزام ہے۔

دنیا بھر میں اخبارات اور چینلز سے سیاسی جماعتوں کو تھوڑی بہت شکایات ہوتی ہیں۔ لیکن جنگ اور جیو پر لگنے والا الزام بڑا منفرد ہے۔ سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ جنگ اور جیو مختلف مواقع پر مختلف سیاسی جماعتوں کے خلاف باقاعدہ اور منظم مہم چلا تے رہے ہیں۔ جو کسی صحافتی ادارے کا کام ہے نہ صحافتی اخلاقیات اس کی اجازت دیتی ہیں۔

اس وقت جیو گروپ کھلم کھلا عمران خان کے خلاف باقاعدہ مہم چلا رہا ہے۔ ان کے خلاف خبروں، تبصروں اور ٹاک شوز کے علاوہ باقاعدہ پر وموز اور اشتہارات چلا رہا ہے۔ لیکن کوئی سیاسی جماعت یا میڈیا گروپ اس کی حمایت کر رہا ہے نہ کوئی صحافتی تنظیم اسے پسند کر رہی ہے۔ اس سے قبل یہی جیو گروپ جس انداز میں آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ظہیر الاسلام کے بارے میں باقاعدہ مہم چلاتا رہا ہے۔ اسے بھی کسی نے پسند نہیں کیا۔ یہی کام اس سے قبل سابق آئی ایس آئی چیف جنرل شجاع پاشا کے خلاف کیا گیا تھا۔

کسی فرد یا ادارے کے خلاف خبر دینا اور بات ہے مگر باقاعدہ مہم چلانا بالکل مختلف بات ہے۔ جنگ اور جیو گروپ تسلسل سے یہی کام کر رہا ہے۔ چند ماہ قبل امیر جماعت اسلامی سید منور حسن کے ایک انٹرویو پر یہ گروپ اپنے چینلز اور اخبارات میں باقاعدہ تندو تیز مہم چلا چکا ہے۔ اس معاملے میں تو اس گروپ نے قائد اعظم اور شاعر مشرق کو بھی نہیں بخشا۔ اس کے اینکر نجم سیٹھی اور کالم نگار یاسر پیرزادہ نے قائد اعظم تک کی کردار کشی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔

چند ماہ قبل ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کے خلاف جنگ، جیو گروپ نے صرف خبریں ہی نہیں دیں بلکہ باقاعدہ مہم چلائی ہے۔ صدر آصف زرداری کے خلاف تو اس گروپ نے اس قدر منظم مہم چلائی کہ پیپلز پارٹی کے لوگ اب تک خود جیو کے پروگراموں میں اس کی شکایات کرتے ہیں۔ مولانا بخش چانڈیو نے یہاں تک کہا کہ ہمیں یہ گروپ غدار اور سیکیورٹی رسک تک کہتا رہا ہے۔

راولپنڈی کے ضمنی انتخابات میں یہ گروپ شیخ رشید کے خلاف مہم چلانے میں اس قدر سرگرم تھا کہ شیخ رشید اعلانیہ کہتے تھے کہ وہ انتخاب جیت گئے تو جیو کے اینکر کو سبق سکھا دیں گے۔ پرویز مشرف پر آئین کی پامالی کا کیس شروع ہؤا تو جنگ اور جیو نے جو کچھ کیا، وہ رپورٹنگ تھی نہ صحافت۔ وہ کھلی کھلی مہم تھی۔ جسے شاید فوج نے پسند نہ کیا ہو گا۔

جعلی ڈگری کیس والے جمشید دستی ضمنی انتخابات میں دوبارہ امیدوار بنے تو جنگ جیو نے ایسی مہم چلائی کہ ان کے مخالف امیدوار نے بھی ایسی مہم نہ چلائی ہو گی۔ حالانکہ ان ہی دنوں ملک کے 8 حلقوں میں جعلی ڈگری پر دوبارہ انتخابات ہو رہے تھے اور تمام سیاسی جماعتو ں نے سابقہ امیدواروں یا ان کے نامزد افراد ہی کو ٹکٹیں دی تھیں مگر مہم جمشید دستی کے خلاف چلائی گئی۔ مگر جمشید دستی اس ساری مہم کو ناکام بنا کر جیت گئے۔

پرویز مشرف دور میں جب مسلم لیگ (ق) نے اسلام آباد میں اپنا جلسہ کیا جس سے صدر پرویز مشرف نے بھی خطاب کیا۔ اس کی کوریج جیو نے ایک انوکھے انداز سے کی۔ جلسہ تو مسلم لیگ (ق) کا تھا اور جیو کے اینکر جلسہ گاہ کے قریب اپوزیشن کے بعض رہنماؤں کو لے کر پہنچ گئے اور اس طرح مسلم لیگ (ق) کے جلسے کے موقع پر جیو نے اس کے خلاف مخالفانہ فضا بنا دی۔ اور اب مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے لاہور پریس کلب میں کہہ دیا ہے کہ جنگ اور جیو نے گزشتہ انتخابات میں واضح طور پر عمران خان کی مہم چلائی  اور ہمیں نقصان پہنچایا۔۔۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے اور خواجہ آصف کے خلاف جیو نے تکلیف دہ مہم چلائی۔ انہوں نے اس سلسلے میں کامران خان کا نام بھی لیا۔

سیاسی جماعتوں اور شخصیات کے خلاف اس طرح کی مخالفانہ اور کردار کشی کی مہم نے جنگ اور جیو کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ لیکن اتنے بڑے میڈیا گروپ کو چیلنج کرنے کی کسی میں ہمت نہ تھی۔ اب پہلی بار اس بند مٹھی سے ریت گرنا شروع ہوئی ہے۔ چنانچہ ہر طرف سے اس گروپ کے خلاف آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ خود جیو پر آ کر لوگ اس گروپ سے اپنے دکھڑے بیان کر رہے ہیں۔ اس طرح اب ایک ایسا پنڈورا بکس کھل گیا ہے جو مستقبل کی صحافت کو گھائل کر کے رکھ دے گا۔ جنگ اور جیو سے شکایات لوگوں کو پہلے سے تھیں مگر وہ اس کی طاقت کے سامنے ہمت نہیں کرتے تھے۔ اس بار اس گروپ نے ملک کے مقتدر ادارے سے ٹکرا کر سب کی زبانیں کھول دی ہیں۔ ورنہ ماضی میں بابائے سوشلزم شیخ رشید اور چودھری ظہور الٰہی اپنے بارے میں توہین آمیز، غلط اور پراپیگنڈہ پر مبنی خبریں شائع کرنے پر جنگ کے خلاف ہتک عزت کے کیس جیت چکے ہیں۔

اب ذرا دیکھئے کہ جنگ اور جیو گروپ پرکون لوگ چھائے ہوئے ہیں جو شاید فیصلہ سازی کے عمل میں بھی شریک ہیں۔ ایک صاحب وہ ہیں جن کے بارے میں فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر) اسلم بیگ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا کہ جب وہ پشاور میں شاید بطور بریگیڈئر تعینات تھے تو انہوں نے جیو اور جنگ گروپ کے اس ستون کو حراست میں لیا تھا۔ ان پر سنگین نوعیت کے ریاست مخالف الزامات تھے جس پر وہ کئی ماہ زیر حراست رہے۔ بعد میں یہی صاحب بلوچستان میں ریاست کے خلاف جاری مسلح جدوجہد میں شریک رہے۔ پھر نواز شریف کے سابقہ دور میں وہ بھارت جا کر ایسی گفتگو فرما تے رہے کہ انہیں واپسی پر حساس اداروں نے کئی ہفتے بلکہ کئی ماہ حراست میں رکھا۔ اب ان کی بیٹی امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل میں کام کرتی ہیں۔

عمومی طور پر ان کی تحریر یں فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف ہوتی ہیں۔ ایک صاحب وہ ہیں جنہیں 1981ء میں حساس اداروں نے بعض مبینہ سرگرمیوں کی بنا پر حراست میں لیا تھا اور کئی ماہ تک حراست میں رکھا تھا۔ ایک صاحب 1970ء میں لاہور میں جماعت اسلامی کے دفتر کو نذر آتش کرنے کا ایک کردار تھے۔ جس میں قرآن پاک کے نسخے اور دینی کتب کی بڑی تعداد کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ بعد میں ان صاحب پر لاہور کے ایک عالم دین کے گھر کا گھیراؤ کر کے وہاں توڑ پھوڑ اورحملہ کرانے کا الزام رہا تھا۔ ایک صاحب بے نظیر کے پہلے دور میں الذوالفقار کے کارکنوں اور طیارہ اغواء کے نتیجے میں بیرون ملک بھیجے گئے۔ 52 افراد کی بحالی اور ان کو حکومت میں حصہ دینے کی تحریک کے لیے کوشاں تھے۔اور اس سلسلے میں بنائی گئی ایک تنظیم میں مبینہ طور پر شامل تھے۔ ایک صاحب جو طویل عرصہ تک اس میڈیا گروپ سے وابستہ رہے وہ بھارت سے دوستی میں ہر حد پھلانگنے کے قائل ہیں۔ انہیں ساری خوبیاں بھارت میں اور تمام خرابیاں پاکستان میں نظر آتی ہیں۔

ان حالات میں یہ سوال بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اس لڑائی کا انجام کیا ہو گا۔ جس میڈیا گروپ کو سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے نہ معاصر میڈیا گروپس کی ۔ جس کی حمایت حکومت بھی واضح طور پر نہیں کر رہی۔ جس کے ہزاروں کارکن اس ساری لڑائی میں مکمل طور پر خاموش تماشائی ہیں۔ جس کی حمایت میں سول سوسائٹی بھی کھل کر سامنے نہیں آئی۔ جس کی حمایت اور مخالفت پر صحافتی حلقے منقسم ہیں، وہ اتنی سخت اور لمبی لڑائی کیسے لڑ رہا ہے۔ یہ لڑائی کس کی مبینہ اشیر باد سے لڑی جا رہی ہے اور اس کے پس پردہ مقاصد کیا ہیں۔

ان سوالات کے جوابات ابھی آنا باقی ہیں شاید جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں ان سوالات کے جوابات مل جائیں گے۔ لیکن سردست یہ بات اہم ہے کہ حامد میر پر حملے کی منصفانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اور ملزموں کی نشان دہی ہونی چاہئے۔ آئی ایس آئی کے خلاف مہم کیوں چلائی گئی۔ اس کے پیچھے کون اور کیوں تھا۔ اسی طرح مختلف سیاسی جماعتوں کو فوج کی حمایت میں جلوس نکالنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ان معاملات کی تحقیقات ہونی چاہئے۔

لیکن اس کے ساتھ ہی جہاں آئی ایس آئی سیاسی و صحافتی معاملات میں اپنی مداخلت روکے۔ کیونکہ یہ خود اس کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہے۔ جنگ اور جیو گروپ بھی اپنے معاملات کا کھلے دل سے جائزہ لے کر ضروری اصلاح کر یں ۔ صحافتی تنظیمیں محض نعروں کے پیچھے نہ بھاگیں بلکہ صحافیوں کے مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے فیصلے کریں۔ جنگ جیو گروپ اگر واقعی صحافتی آزادی چاہتا ہے تو اپنے کارکنوں اور صحافیوں کو بھی قلم اور معاش کی آزادی دے۔ ان کے حقوق انہیں لوٹائے اور پریس کلبیں یہ معاملات اپنے ہاتھ میں لینے کے بجائے جرنلٹس یونیز کے ذریعے ان معاملات کو حل کرائیں اور خود ان کی پشت پر کھڑی ہو جائیں ورنہ دانستہ اور نادانستہ طور پر صحافتی ٹریڈ یونین ختم ہو جائے گی اور صحافیوں کی تقدیر کے فیصلے تفریحی کلبوں کے ہاتھ میں آ جائیں گے۔ جو ایک المیہ سے کم نہیں ہو گا۔

میڈیا گروپس آپس کی سر پھٹول کے بجائے کوئی ضابطہ اخلاق بنائیں اور اس پر کام کریں جب کہ حکومت اداروں کی لڑائی میں تماشائی بننے کی بجائے اپنا آئینی کردار ہوشمندی سے ادا کرے۔