تعلیم اور شناخت کے مسائل

  • جمعرات 15 / مئ / 2014
  • 4468

آج کی دنیا میں آسان اور تیز رفتار کیمونیکیشن ٹول کے طور پر سوشل میڈیا فیس بک ، ٹیوٹر وغیرہ کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ ان ٹولز کے استعمال کرنے والوں میں ایک چیز جو کثرت سے نظر آئی وہ اپنا نام اور تصویر چھپاتے ہوئے فرضی ناموں اور تصاویر کا استعمال ہے۔

سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم اتنے بزدل ہیں یا جھوٹ و فریب ہم میں اتنا سرایت کر چکا ہے کہ اپنی اصل پہچان سے روگردانی کرنا ہمارے لئے لمحہ فکریہ نہیں رہا ۔ یقیناً یہ عمل ایسی ہی کسی سوچ کا عکاس ہے جس کی آبیاری ہمارے ارد گرد ہونے والے بہت سے حالات و واقعات کر رہے ہیں ۔ جھوٹ ، مکاری ، فریب ، ریاکاری اور دھوکہ دہی جیسے عوامل قوموں کو بلندی سے پستی کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ مہذب معاشرے افراد میں پائے جانے والی ان منفی خصوصیات سے اس لئے پاک ہیں کہ وہاں سچ اور صاف گوئی جیسی اقدار پنپ چکی ہیں......  مگر کیا کریں کہ اپنے ملک میں تو جس جانب نگاہ اُٹھائیں ان منفی اقدار کی فراوانی نظر آئے گی۔

کیوں ،کیسے اور کہاں جیسے تمام سوالات جب ذہن کا احاطہ کرتے ہیں تو معلو م ہوتا ہے کہ یہ کینسر شخصی بد اعتمادی اور معاشرے کی گھٹن کے باعث پنپ رہا ہے اورخصوصاً نوجوان نسل اپنی شناخت کی تلاش میں ان مسائل میں بُری طرح گھری ہوئی ہے۔ ایک طرف انسان کائنات کی تسخیر میں ترقی کی منازل طے کررہا ہے اور دوسری طرف مملکت خداداد کی یہ نسل اپنے نام ، پہچان اور اپنے چہرے کو چھپانے میں عافیت تلاش کررہی ہے ۔

کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا استعمال  تعلیم یافتہ طبقہ ہی بخوبی جا نتاہے ۔ پھر یہ کیسا خوف ہے جس کے زیرِ اثر تعلیم یافتہ نوجوان نسل اپنی شخصی آزادی گنوا رہی ہے ۔ کیا تعلیم انسان کو ان دیکھے خوف سے آزاد نہیں کرتی؟ کیا ہمیں سماجی برائیوں کا قلع قمع کرنے کے لیے روشن خیال اور اعلیٰ اقدار پر مبنی معاشرہ درکار نہیں ہے؟ ویسے سچی بات تو یہ ہے کہ اپنے ہاں تعلیم اور تعلیمی اداروں کا جو حال ہے اس کا منطقی نتیجہ ہی ہے کہ وہ جن پر ’تعلیم یافتہ‘ ہونے کا الزام ہے وہی زیادہ تر شناخت کے بحران کا شکار ہیں۔ تعلیم کا ذکر چھڑ ہی گیا تو چلئے کچھ گفتگو اس حوالے سے بھی ہو جائے ۔

وطنِ عزیز کی تاریخ میں پہلاموقع ہے کہ ایک منتخب سیاسی حکومت نے اپنا آئینی دورِ اقتدار مکمل کیا اور الیکشن کے نتائج کے مطابق اقتدار منتخب پارٹی کو منتقل ہؤا۔ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں نئے اراکین نے اپنا کام شروع کر دیا۔ تمام سیاسی جماعتوں نے اس دفعہ الیکشن مہم کے دوران تعلیم کے میدان میں بہتری سے متعلق خوش کن وعدے کئے ہیں۔ خدا کرے ان پر عمل بھی ہو جائے۔ جون 2010 میں اٹھارویں ترمیم کے نتیجے میں آرٹیکل 25-A کا اضافہ کیا گیا تھا۔  جسکی رُو سے 5 سے 16 سال کے بچے بنیادی اور مفت تعلیم کا بنیادی حق رکھتے ہیں۔  لیکن تین سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود وفاق سمیت کوئی بھی صوبہ اس کو لاگو نہیں کر سکا۔ بہت سے آئینی حقوق کی طرح اس حق کو بھی آئین کی کتاب کا جزو بنا کراہلِ اقتدار اپنے فرضِ منصبی سے بری الزمہ ہو چکے ہیں ۔آیئے اب ذرا ایک نظر پاکستان کی تعلیمی صورتحال پر بھی ڈالتے چلیں۔

* سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد کے باعث پاکستان دنیا میں دوسرے نمبر پرآتا ہے۔ اس وقت 12.9 ملین بچے سکول سے باہر ہیں ۔ نائیجیریا پہلے نمبر پرہے۔
* پاکستان میں خواندگی کی شرح 58 فیصد ہے جبکہ 1947 میں یہ شرح 10 فیصد تھی یعنی 65 سال کے عرصے میں صرف 48 فیصد  اضافہ ہؤا۔ گویا خواندگی میں اضافہ کی شرح ایک فیصد سالانہ سے بھی کم ہے۔
* پاکستان میں قریباً 2 لاکھ 5 ہزار سکول ہیں جن میں ابتدائی ، پرائمری ، مڈل اور سکینڈری سکول شامل ہیں ۔ پرائمری سکولوں کی  تعداد تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہے۔ ان میں سے 78,000 سکول بجلی سے محروم 42,000 سکولوں کو پینے کا صاف پانی  فراہم نہیں ہوتا۔ 44,000 سکولوں میں لیٹرین کی سہولت نہیں اور 46,000 سکولوں میں احاطہ دیوار نہیں۔عموماً سکول دو کمروں اور پانچ / چار جماعتوں نیز 2/3 اساتذہ پر مشتمل ہیں۔

ان چند حقائق سے ہی پاکستان میں سرکاری سکولوں میں تعلیم کی دگر گوں حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ غیر معیاری تعلیم کے باعث والدین اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کو پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں بھیجتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کے بچے اعلیٰ تعلیم یافتہ کہلائیں گے۔ لیکن اس قربانی کے باوجود حالات جوں کے توں نظر آتے ہیں۔ حکومت اور بعض ادارے یہ سمجھتے ہیں کہ پرائیویٹ سیکٹر ، جو 40 فیصد بچوں کو تعلیم دے رہا ہے، اسے مراعات حاصل ہونی چاہئیں۔ بالخصوص کم فیس لینے والے سکولوں کو۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ گلی محلوں کے گھروں میں قائم یہ سکول بچوں کی ذہنی وجسمانی ضروریات کو کیسے پورا کرسکتے ہیں!

اعلیٰ تعلیم یافتہ قابل اساتذہ اور بہترتعلیمی ماحول(Learning Environment) کا ملنا بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کو اُجاگر کرتا ہے ۔ 2 ہزار سے 7ہزار روپے تنخواہ میں میٹرک سے لے کر بی اے / ایم اے پاس اساتذہ کس طرح تنگ و تاریک کمرہ جماعت میں  تعلیم و تربیت  کا اہتمام کر سکتے ہیں ۔ یہ بات میری ناقص سمجھ سے بالاتر ہے۔ جسمانی ورزش بچوں کی ذہنی صلاحیت کو بڑھاتی ہے۔ ہمارے زمانے میں پریکٹیکل ٹریننگ یا پی ٹی کا پیریڈ روزانہ ہوتا تھا ۔ ظاہر ہے اس کیلئے کھلی جگہ یا گراؤنڈ ہونا ضروری ہے۔

میں نہیں جانتی کہ محلے کے سکول کس طرح یہ سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔ اور پھر سخت گرمی ، بجلی کا فقدان ، پینے کے لئے گرم پانی ، یہ تمام چیزیں کس طرح ایک بچے کی دماغی صلاحیت کو صحیح طریقے سے بروئے کار لاسکتی ہیں۔

پاکستان میں ٹیوشن اور اکیڈمی کا رواج عام ہو چکا ہے۔ یہ ٹیوشن و اکیڈمی سنٹرز والدین کا رہا سہا خون بھی نچوڑرہی ہیں۔ گھروں میں قائم یہ ٹیوشن سنٹرز 500 روپے سے 5000 روپے ماہانہ فیس لے رہے ہیں۔ جبکہ اکیڈمیز میں فی مضمون فیس لینے کا رواج عام ہو چکا ہے۔ کون پوچھے کون دیکھے ؟ کیونکہ بڑے پرائیویٹ سکول جو کارپوریٹ بزنس کر رہے ہیں وہ  اقتدار کی غلام گردشوں تک رسائی رکھتے ہیں۔  پھر اپنے بیوروکریٹس کے بچے، جو مستقبل کے حکمران  بھی ہیں، وہ بھی توان ہی تعلیمی اداروں سے کسبِ فیض پاتے ہیں۔ تو پھر کس میں ہمت ہے کہ ان پرائیویٹ سکولوں پر نظرِ بد ڈال سکے۔

کم فیس لینے والے سکول اپنی دکان  چمکامے کے لئے دوسرے طریقے اختیار کرتےہیں۔

کون دے ہمارے بچوں کو ان کی اپنی شناخت؟ کون کرے ان ننھے پودوں کی آبیاری ؟ ان کے ذہنوں میں اُٹھنے والے سوال جواب سے محروم رہتے ہیں۔ کیونکہ ان کے آس پاس موجودافراد، جن میں والدین و اساتذہ بھی شامل ہیں ،عموماً منطقی دلائل کے ساتھ تفصیلی جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ جس کے نتیجے میں جہاں ان پڑھ افراد کی بہتات ہے، وہیں پڑھے لکھے جاہل افراد کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے ۔ عمر کی سیڑھی چڑھتے چڑھتے یہ بچے بھی اپنی شناخت کھو دیتے ہیں اوربآلاخر ریا کاری ، دوغلے پن، دھوکہ دہی اور شخصی بداعتمادی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

جب ریاست اور اس کے ادارے اپنے فرائض کی انجام دہی سے پہلو تہی کریں تو معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی حال اس مملکتِ خداداد کا بھی ہو چکا ہے۔ تعلیم کی مد میں ڈی جی پی کا 2 فیصد سے بھی کم بجٹ، اساتذہ کی تربیت کیلئے سسٹم کا نہ ہونا ، سکولوں میں کتابوں کا فقدان ا ور بنیادی ضروریات کا نایاب ہونا، وہ تمام بچے جو غربت معذوری افلاس یا کسی اور وجہ سے سکول میں داخلے سے محروم ہیں، ان کے لئے متبادل بندوبست نہ ہونا۔۔۔ کیا صرف آئین کی کتاب میں اضافہ انہیں ان کا بنیادی حق دے سکے گا؟

قانون ساز ادارے اور عدلیہ کب اس ملک کی نسل کو بچانے کے لیے اعلیٰ اور معیاری تعلیم سے متعلق فرائض کی انجام دہی کریں گے۔اس کے ساتھ ساتھ عوام الناس اور سول سوسائٹی کو بھی اپنے فرائض سے آگاہ ہونا پڑے گا۔ لوگوں کو اپنا حق لینے کیلئے اجتماعی سطح پر متحرک ہو نا ہوگا۔

ہم سب کو سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں سے جواب دہی کا عمل شروع کرنا ہو گا ۔ عدلیہ ، میڈیا ، اراکینِ پارلیمنٹ، بیوروکریٹس سے سوال کرنے ہونگے ۔ اور جب ہم مل کر جواب طلبی کریں گے تو یقین رکھیں کہ جواب بھی موصول ہوں گے۔ راستہ دشوار ضرور ہے مگر منزل پر اختتام پذیر ہوتا ہے ۔

(زہرہ ارشد، شعبۂ تعلیم میں کام کرنے والی ایک این جی او میں بطور نیشنل کو آرڈینیٹر کام کرتی ہیں۔ ان سے پر [email protected] رابطہ کیا جا سکتا ہے۔)