لائل پور سے لانڈھی جیل تک (3)

  • جمعرات 15 / مئ / 2014
  • 6674

کسی خطہ میں اگر قحط پڑ جائے ، زلزلہ آ جائے یا سیلاب آجائے تو ہزاروں لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اُن کے ہزاروں مویشی سیلاب میں بہہ جاتے ہیں ۔ ملبوں کے نیچے سے بچوں کے ٹوٹے جوتے ، ٹوٹی تختیاں اور کتابوں کے پھٹے صفحے نکلتے ہیں۔  سیلاب کے پانیوں میں بچوں اور اُنکی ماؤں کے پھولے پیٹ تیرتے ہیں۔ قحط زدہ علاقوں میں، گلیوں اور بازاروں میں انسانی ڈھانچوں کے اوپر بیٹھے کوے بھی بھوک کے ڈھانچے بن رہے ہوتے ہیں۔ تاہم اس آفت میں بھی  کچھ لوگ اتنا کما لیتے ہیں کہ اُنکی دس دس نسلیں مزید قحط پیدا کرنے کی طاقتیں رکھتی ہیں۔

بنگال کے قحط کے ذخیرہ اندوزوں کی نسلوں کی تجوریوں میں آج بھی چاولوں کی ایک آدھی بوری پڑی ہو گی۔ پاکستان میں آنے والے سیلابوں میں بہنے والے لوگوں کے بدن آج بھی تین کپڑوں کو ترس رہے ہیں مگر سیلاب زدہ لوگوں کی مدد کے لیے اکٹھے ہونے والی رقوم سے بہت سوں نے فیکڑیاں بنا لیں۔ کمبل مارکیٹ میں بیچ کر مارکیٹوں میں ہی دوکانیں خرید لیں۔ اسی طرح جب کسی ملک میں کو ئی سیاسی بحران آتا ہے وہاں کچھ لوگ جیلوں میں دن رات گزار رہے ہوتے ہیں، بے روز گار ہو رہے ہوتے ہیں لیکن  کچھ لوگ ان لوگوں کی قربانیوں کے قیمت لگا کر اپنے بنک بیلنس بڑھاتے ہیں اور تنظیموں سیاسی پارٹیوں اور اداروں میں بڑے بڑے عہدے حاصل کرتے ہیں ۔

جب ضیا آمر کے دور میں آزادئ صحافت کی تحریک چلی تو اس میں بھی کچھ لوگ گھر بیٹھے تنظیم کے لیڈر بن گئے۔ اور بڑے بڑے اخبارات میں نوکریاں حاصل کیں۔ لائل پور میں جب اس تحریک میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا گیا اور کراچی جانے کا فیصلہ ہؤا تو لائلپور سے تنظیم سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی نے چندے کے نام پر شہر سے لاکھوں کی رقم اکھٹی کی۔ اور جب لائل پور سے تین صحافیوں کا قافلہ کراچی جانے کے لیے ریلوے اسٹیشن پہنچا تو کسی کی جیب میں ٹکٹ خریدنے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ سب اس صحافی کا انتظار کر رہے تھے۔ جس نے شہر سے ہمارے نام پر لاکھوں کا چندہ اکھٹا کیا تھا۔ بعد میں وہ پی ایف یو جے کی تنظیم کے بہت بڑے عہدے پر بھی پہنچ گیا۔ اور اج کے صحافتی بحران میں نظر تک نہیں آتا۔

ہم بہت پریشان تھے کہ اب کیا کیا جائے۔ موبائل فون کا ابھی رواج نہیں ہؤا تھا کہ کسی سے رابطہ کر کے مدد لی جائے اور گاڑی کے چلنے کا وقت قریب آتا جا رہا تھا ۔ خوش قسمتی سے ایک بائیں بازو کی سیاست سے تعلق رکھنے والے ایک مخیر ہمیں نظر آئے۔ میں دوڑ کر اُس کے پاس گیا اور ساری صورِتِ حال ان کو بتائی۔ اس نے ہم تینوں کو ٹکٹ اور تین پیکٹ سگریٹ خرید کر دیے اور راستے میں کھانا کھانے کے لیے سو روپیہ بھی دیا۔

چند ہفتےپہلے میری بہن کا سُسر وفات پا گیا تھا۔ جس دن ہم نے کراچی جانا تھا دو دن بعد اُس کا چہلم تھا۔ مجھے علم تھا اگر میں نے گھر اپنی محترمہ کو بتایا ایک تو وہ مجھے جانے نہیں دیے گی، اوپر سے  وہ میری ماں کوبھی بتا دے گی اور انھوں نے مجھے گھر میں بند کر دینا ہے۔ لہذا میں  ان کو بتائے بغیر ہی ریلوے اسٹیشن چلا آیا اور جلدی جلدی پلیٹ فارم پہ بیٹھ کر ایک خط لکھا۔ لفافے میں بند کر کے گھر کا پتہ لکھ  کران صاحب کو ہی دے دیا کہ اس پر ٹکٹ لگا کر پوسٹ کر دیں۔

کراچی پہنچنے پر پتہ چلا ہم ذرا جلدی آگئے ہیں۔ کیونکہ ہم سے پہلے گرفتاری دینے والوں کی ایک لمبی قطار ہے۔ حکومت نے رشید صدیقی گروپ کو جم خانہ کلب میں دفتر دیا ہؤا تھا۔ جہاں  وہ سراکری خرچ پر عیش کرتے تھے۔ کراچی پریس کلب اس وقت پاکستاں کا سب سے اعلی پریس کلب تھا۔ عجیب سماں تھا۔ پاکستان بھر سے گرفتاریاں دینے کے لیے قافلے آرہے تھے ۔ کوئی گروپ گٹار پر فیض ، مخدوم محی الدین ، مجاز، ساحر اور ناظم حکمت کی نظمیں گا رہا ہے ، کوئی گروپ میں بیٹھا چے گویرا کی زندگی پر روشنی ڈال رہا ہے۔ کوئی پاکستان میں تمام بائیں بازو کی جماعتوں کے اکھٹا نہ ہونے کے غم میں نڈھال ہو رہا ہے۔

بس انقلاب آنے سے پہلے کی فضا بنتی نظر آرہی تھی۔ اندرونِ سندھ سے ہاری اپنی اجرکوں اور سندھی ٹوپیوں کے ساتھ سندھی دھمال ڈالے پریس کلب میں داخل ہوتے۔ ایک دن پتہ چلا کہ ڈان اخبار کے پریس کے کارکنوں نے محمود شام کو گھیر لیا ہے۔ سارا کراچی کلب ڈان کے پریس کی طرف دوڑا۔ وہاں کیا دیکھتے ہیں کہ انھوں نے محمود شام کو ایک میز کے اوپر کھڑا کیا ہؤا ہے اور ان سے رشید صدیقی کے حق میں نعرے لگانے کا کہہ رہے ہیں۔ معراج محمد خان نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے بڑھ کر محمود شام کو پکڑا اور اس کو اپنی گاڑی میں بٹھا لیا۔ صدیقی گروپ نے باہر کا گیٹ بند کر دیا اور خان صاحب کی گاڑی کا گھیراؤ کر لیا۔ کوئی گھنٹہ بعد معراج محمد خان صاحب محمود شام کو وہاں سے باہر نکالنے میں کامیاب ہوئے۔

 ہر روز شام کو ایک صحافی، ایک اخباری کارکن، ایک طالب علم اور ایک ہاری گرفتاری دینے کے لیے پریس کلب کے صحن میں لگے کیمپ میں بیھٹتے۔  نظمیں گائی جاتیں۔ تقریریں ہوتیں اور رات کو دس گیارہ بجے پولیس ان کو آکر اُٹھا کر لے جاتی۔ یہ سب کراچی پریس کلب میں ہی ہوتا۔ پھر فیصلہ کیا گیا کہ تحریک کو کراچی پریس کلب سے نکال کر باہر عوام میں لایا جائے۔ فیصلہ کیا گیا کہ آئیندہ گرفتاریاں پریس کلب کی بجائے ریگل چوک میں دیں جائیں۔ میرا بیج آخری بیج تھا جس نے کراچی پریس کلب سے گرفتاری دی تھی اور پشاور سے آنے والے صحافی جوہر میر کا بیج پہلا بیج تھا جس نے ریگل چوک سے گرفتاری دی تھی ۔

میرے ساتھ ڈان اخبار کی پریس مشین کے ایک ورکر ایپنک کے ممبر سندھ سے آنے والے ایک ہاری اور لاہور سے آنے اور ڈی ایس ایف سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم تھے ۔ میں نے پہلی دفعہ اپنی نظم “ خدا اور فوٹو گرافر “ یہیں پڑھی تھی۔  رات  گیارہ بجے کے قریب پولیسں آئی اور ہمیں اُٹھا کر لے گی اور قریبی تھانے میں لے جا کر بند کر دیا۔ دو دن بعد ہمیں لانڈھی جیل میں منتقل کر دیا  گیا( جاری ہے)