نارویجئن آئین کے دو سو سال

  • جمعرات 15 / مئ / 2014
  • 4639

ناروے اس سال ملک کے آئین کا دو سو سالہ جشن منا رہا ہے۔ 17 مئی 1814ء کو اوسلو کے نواح میں واقع ایک قبصہ آئیڈس وول EIDSVOLL میں ناروے کی قانون ساز اسمبلی نے ایک دستاویز پر دستخط کئے تھے جسے ناروے کا آئین قرار دیا گیا۔ اس وقت ناروے سویڈن کے زیر انتظام تھا اس طرح اس آئین کو ناروے کا اعلان آزادی بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ناروے نے 1905ء میں سویڈن سے باقاعدہ خود مختاری حاصل کی تھی۔

آئین کے دو سو سال پورے ہونے کی تقریبات پوری دنیا میں منائی جا رہی ہیں۔ ناروے میں پورا سال اس حوالے سے سیمینار ، مجالس اور نمائشوں کا اہتمام ہوتا رہے گا۔ دنیا کے مختلف حصوں میں منعقد ہونے والی تقریبات میں خاص طور سے ان پہلوﺅں کو سامنے لایا جائے گا جو نارویجئن آئین کی بنیاد ہیں۔ اس طرح اہل ناروے مساوات ، انسانی حقوق ، جمہوریت اور انسانی وقار کے بارے میں اپنی جدوجہد اور خیالات کو دوسروں کے سامنے پیش کریں گے۔ اس طرح دنیا کے متعدد ممالک اہل ناروے کی آئینی جدوجہد اور تاریخ سے سبق سیکھنے اور ان اصولوں کو مشعل راہ بنانے کا ارادہ ظاہر کریں گے جو ایک مہذب اور متحرک معاشرہ کی بنیاد ہو سکتے ہیں۔

نارویجئن آئین کی تیاری کے بعد اب تک اس میں چار سو ترامیم ہو چکی ہیں۔ یہ ترامیم اسے وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے اور عہد نو کی ضرورتیں اور چیلنجز پورے کرنے کے لئے ضروری تھیں۔ اس میں اہم ترین ترمیم سو برس قبل کی گئی تھی، جب ملک کی خواتین کو بھی ووٹ کا غیر مشروط حق حاصل ہو گیا تھا۔ قارئین کے لئے یہ بات دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اس وقت دنیا بھر میں مساوی حقوق اور آزادئ نسواں کے علمبردار ملک ناروے کے آئین کی تیاری کا کام 1814ء میں صرف مردوں نے کیا تھا۔ اس وقت ناروے کی آئین ساز اسمبلی 112 مردوں پر مشتمل تھی۔ جو زیادہ تر ملک کے شرفاء اور جاگیردار تھے اور اس طرح کسی نہ کسی حیثیت میں اس کے باشندوں کی نمائندگی کرتے تھے۔

البتہ دو سو برس کی مدت میں چار سو ترامیم کے باوجود کہا جاتا ہے کہ ناروے کا آئین روح اور پیغام کی حیثیت سے ابھی تک اصل شکل میں موجود اور نافذ ہے۔ اس طرح اسے یورپ کے سب سے پرانے تحریری آئین کی حیثیت حاصل ہے۔ دنیا بھر میں یہ دوسرا قدیم ترین آئین قرار دیا جاتا ہے۔ دنیا کا سب سے پرانا تحریری دستور امریکہ کا ہے۔

ناروے میں خود مختاری اور آئین کی تیاری کی تحریک دراصل جنوری 1814ء میں نپولین کی شکست کے بعد ہونے والے ایک معاہدے کی وجہ سے شروع ہوئی تھی۔ اس معاہدہ کو معاہدہ کیل TREATY OF KIEL کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ناروے اس وقت ڈنمارک کے زیر تسلط تھا۔ تاہم یورپ میں جاری جنگ میں نپولین کا ساتھ دینے کی وجہ سے اسے شکست کا سامنا ہؤا۔ سویڈن نپولین سے جیتنے والے ملکوں میں شامل تھا۔ اس طرح اسے معاہدہ کے تحت ڈنمارک نے ناروے کو بطور تاوان سویڈن کو دینے کا اعلان کیا تھا۔

ڈنمارک کے اس فیصلہ پر ناروے میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ اس کے نتیجے میں ملک کے 112 مرد آئیڈس وول میں جمع ہوئے۔ اس دستور ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس 10 اپریل 1814ء کو منعقد ہوا تھا۔ دن رات ایک کر کے اس اسمبلی نے ایک جامع دستاویز تیار کی۔ 17 مئی 1814ء کو اراکین اسمبلی نے اس دستاویز پر دستخط کر کے اسے ناروے کا باقاعدہ آئین قرار دیا۔ اس کے تحت ڈنمارک شہزادہ کرسٹیان فریڈرک CHRISTIAN FREDRIK کو ملک کا بادشاہ قرار دیا گیا۔

سویڈن نے ناروے کی خود مختاری کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور ناروے پر لشکر کشی کر دی۔ اس فوجی چڑھائی کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جسے موس کنونشن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس معاہدہ کے تحت سویڈن نے عملی طور پر ناروے کی خود مختاری کو تسلیم کیا لیکن ناروے کو سویڈن کے ساتھ یونین کو قبول کرنا پڑا۔ اس طرح 14 اگست 1814ء کو طے پانے والے موس کنونشن کی روشنی میں ناروے کی اسمبلی نے آئین میں ترمیم کرتے ہوئے سویڈن کے بادشاہ کارل ہشتم کو بادشاہ منتخب کر لیا۔ اسی معاہدہ کی رو سے شہزادہ فریڈرک ناروے کی بادشاہت سے علیحدہ ہوئے۔

ناروے کے معاملات اس کی پارلیمنٹ نارویجئن آئین کی روشنی میں چلانے لگی تاہم سویڈن سے مکمل آزادی کی تحریک بھی جاری رہی۔ یہ تحریک ملک کے دانشوروں اور ادیبوں نے بچوں کے جلوسوں اور اجتماعات کی صورت میں زندہ رکھی۔ بالآخر 1905ء میں ناروے کو مکمل آزادی نصیب ہوئی۔ 17 مئی کو 1814ء سے ہی ناروے کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس روز ملک بھر کے اسکولوں کے بچے ایک پرجوش پریڈ میں حصہ لیتے ہیں۔ قومی دن کے موقع پر بچوں کی پریڈ کی وجہ سے ہی ناروے کے یوم آزادی کو دنیا بھر میں شہرت حاصل ہے۔ اس موقع پر بہت سے ملکوں کے سیاح اس منفرد تہوار کا اہتمام اور جوش و خروش دیکھنے کے لئے ناروے آتے ہیں۔

ناروے کا آئین تین اہم نکات پر استوار ہے۔ ان میں : الف) اختیار کی تقسیم۔ ب) سول حقوق کا تحفظ اور۔ ج) پارلیمانی طرز حکومت،  بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ناروے کے آئین سازوں کے پیش نظر اس وقت امریکہ کا اعلان آزادی اور فرانسیسی آئین تھا۔ اس لئے نارویجئن آئین کو بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے میں ان ملکوں کی سیاسی صورتحال نے رہنمائی کی تھی۔ اس آئین میں عوام کو طاقت کا سرچشمہ تسلیم کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار دیا گیا تھا۔ بادشاہ کے اختیارات محدود تھے تاہم اسے آئینی سربراہ مملکت کی حیثیت حاصل تھی۔ شروع میں بادشاہ ہی ملک کی کابینہ نامزد کرتا تھا۔ اس آئینی دستاویز میں شخصی آزادی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اسی نکتہ کے تحت آزادئ اظہار کو یقینی بنایا گیا ہے۔

1814ء میں ناروے کے اعلان خود مختاری اور معاہدہ کیل کے تحت ڈنمارک کی طرف سے ناروے کو سویڈن کے حوالے کرنے تک ڈنمارک 434 برس تک ناروے پر قابض رہا تھا۔ اس طرح ان دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعلقات کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اسی حوالے سے نارویجئن آئین کی 200 سالہ تقریبات میں ڈنمارک بھی گرمجوشی سے حصہ لے رہا ہے۔ سال کے دوران اس حوالے سے دونوں ملک متعدد مواقع پر تعاون کریں گے۔ 15 مئی کو ڈینش پارلیمنٹ کے اسپیکر موگنز لیکے توفت MOGENS LYKKETOFT نے ستورتنگ سے خطاب کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل کے نارویجئن پارلیمنٹ سے خطاب کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی غیر ملکی مہمان نے ستورتنگ سے خطاب کیا ہے۔ اسی طرح 17 مئی کو ڈنمارک کا شاہی خاندان نارویجئن شاہی خاندان کے ساتھ مل کر آئین کی 200 ویں سالگرہ منانے کے لئے متعدد تقریبات میں شریک ہو گا۔

دنیا بھر میں نارویجئن آئین کے 200 سال مکمل ہونے پر 150 مختلف تقریبات منعقد ہوں گی۔ ان تقریبات میں اہم سیاسی رہنماﺅں اور ماہرین کو انسانی حقوق ، جمہوریت ، قانون کی حکمرانی اور مساوی حقوق کے موضوعات پر خطاب کی دعوت دی جائے گی۔ اہل ناروے اپنے آئینی تجربہ کی روشنی میں دنیا کو یہ بتانے میں فخر اور مسرت محسوس کرتے ہیں کہ جمہوریت اور قانون کی ترویج میں اس دستاویز نے کتنا اہم رول ادا کیا ہے۔

اوسلو میں حسب دستور اسکول کے بچے بینڈ اور رنگ برنگے لباس میں ملبوس جلوس نکالیں گے۔ شاہ ہیرالڈ پنجم اور ان کے اہل خاندان شاہی بالکونی سے اس جلوس کا استقبال کریں گے اور پرجوش بچوں کے نعروں کا جواب دیں گے۔ آئین کے دو سو سال مکمل ہونے کی خوشی میں اس سال یہ جوش و خروش دوچند ہو گا۔