راولپنڈی میٹرو بس سروس پروجیکٹ
- جمعہ 16 / مئ / 2014
- 9194
راولپنڈی شہر کی 46یونین کونسلز میں سے 17یونین کونسلز کی تقریباًتین لاکھ آبادی مری روڈ سے بالواسطہ یا بلا واسطہ منسلک ہے۔اس آبادی کا بڑا حصہ اپنی روز مرہ کی ضروریات کیلئے مری روڈ پر ذاتی سواری یا پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے سفر کرتا ہے۔ مری روڈ کے دونوں اطراف سے ملنے والی سڑکوں کی تعداد تقریباً 38ہے۔ یہ تمام سڑکیں مختلف آبادیوں اور بازاروں سے مری روڈ کو منسلک کرتی ہیں۔
مری روڈ مختلف نوعیت کے کاروبار کا بھی مصروف ترین مرکز ہے ۔ اس سڑ ک پر بے نظیر ہسپتال کے علاوہ صحت کے دیگر ادارے اور لیب بھی واقع ہیں۔ پبلک و پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کے علاوہ مری روڈ پر سامان کی لوڈنگ وغیرہ کے باعث بھی کافی رش رہتا ہے۔ مری روڈ پر ایک انڈر پاس اور دو اوور ہیڈ برج تعمیر کئے گئے ہیں۔ مگر مری روڈ پر بے ہنگم ٹریفک کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔ گویا مری روڈ پر انڈر پاس اور اوور ہیڈ برج کی تعمیر نے مسئلے کو حل نہیں کیا ہے۔
میٹرو بس سروس کا ایک مقصد شہریوں کو سفر کی تیز رفتار سہولت مہیا کرنابتایا جاتا ہے۔ کیا اس کے علاوہ کوئی اور مقصد بھی حکومت کے پیشِ نظر ہے ؟ جیسے مری روڈ پرچلنے والی ٹریفک میں بہتری لانا۔ مری روڈ، ( فلیش مین ہوٹل تا فیض آباد) جو کہ بہت بڑا کاروباری مرکز بھی ہے، اس سڑک پر سفر کرنے اور کاروباری طبقے کیلئے آسانی پیدا کرنا وغیرہ۔ بظاہر اس کا کوئی ذکر سننے میں نہیں آیا۔ اس لئے فی الحال یہی سمجھا جا رہا ہے کہ میٹرو بس سروس راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان سفر کرنے والے شہریوں کیلئے شروع کی جا رہی ہے اور یہ کہ یہ پروجیکٹ لاہور میں کامیاب رہا ہے۔
لاہور میں کامیابی کو ہم اسی مضمون میں آگے جا کر دیکھیں گے۔ فی ا لحال راولپنڈی سے اسلام آباد کے منصوبے کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ راولپنڈی سے اسلام آباد سفر کرنے والے شہریوں کیلئے اس سروس سے آسانی پیدا ہو گی۔ انکا وقت بچے گا اور کسی حد تک یہ سفر نسبتاً سستا بھی ہو گا۔ لیکن اس قدر لاگت کا حامل یہ پروجیکٹ شہر کی بڑی آبادی کا مسئلہ حل نہیں کر پائے گا۔ اس لئے کہ راول ٹاؤن اور گرد و نواح کے شہری نہ صرف اس سے مستفید نہیں ہونگے بلکہ ایک طرح سے اُن کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک برتا جائے گا۔ بنیادی طور پر یہ مسئلہ اُس وقت حل ہو گا جب مری روڈ پر چلنے والی ٹریفک رکاوٹوں کے بغیر رواں دواں ہو گی۔ اس اہم مسئلے کے حل کیلئے کیا میٹرو بس سروس کے علاوہ کوئی متبادل ذریعہ بھی ممکن ہو سکتا ہے!
لاہور کے ایک اخبار میں ماجد شیخ کا آرٹیکل بعنوان Metrobus: mobility and sensibility سے یہ اقتباس ملا حظہ کیجیئے:’’1947کے بعد ایک صاحب ذولفقار طحہٰ نے محمد علی جناح سے کہا کہ ہمیں فوری طور پر ایک مؤثر، سستی اور صاف ستھری بس سروس کا آغاز کر دینا چاہیئے۔ یہ صاحب قبل ازیں لندن بسسز میں کام کرنے کا تجربہ رکھتے تھے۔ علاوہ ازیں سری نگر اور امرتسر میں ایسی ہی بس سروس بنانے کا بھی تجربہ رکھتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے لاہور اومنی بس سروس(LOS) کا آغاز کیا جو 1970تک انتہائی کامیابی سے چلتی رہی۔انہوں نے انگلینڈ سے 500بیڈ فورڈ بسوں کے چیسیز امپورٹ کئے اور لاہور میں LOSبس ڈپو فیروز پور روڈ پر قائم کیا۔ جہاں پاکستانی انجینئرز اور کارکنوں نے پاکستان کی پہلی ڈبل ڈیکر بس سروس کا آغاز کیا۔
یہ بس سروس اپنے مقررہ وقت پر چلتی تھی حتیٰ کہ اگر مسافروں سے بھری ہوئی نہ بھی ہو۔ بسیں ہمیشہ صاف ستھری ہوتیں اور کرایہ بھی انتہائی کم...اسکے باوجود اُس وقت حکومت نے صرف تین سال میں اپنی لاگت وصول کر لی تھی۔ لندن ڈبل ڈیکر (لندن اولمپک بس) بس کی قیمت آج تقریباً 70,000پونڈ ہے جو تقریباً 12.1ملین روپے بنتی ہے۔ اگر آج بھی ہم صرف چیسز خرید کر اپنے ہاں باڈی بنائیں(جس سے کوئی ہوشمند انکار نہیں کر سکتا ) تو یہ تقریباً 6.9ملین روپے میں تیار ہو جائے گی۔ گویا ایک میٹرو بس سروس کی لاگت(44ارب روپے) سے 6376 ڈبل ڈیکر لندن اولمپک بسیں تیار کی جا سکتی ہیں۔ اتنی تعداد میں پورے پنجاب کے لوگوں کیلئے بہترین بس سروس کا اجراء اس پروجیکٹ سے کہیں زیادہ مفید ہوتا جبکہ ان میں سے صرف ایک تہائی بسیں صرف خواتین کیلئے مختص کر دی جاتیں خواتین کیلئے بھی سفر آسان اور زیادہ محفوظ ہو جاتا۔ اس نوعیت کا منصوبہ بھی پاکستان مسلم لیگ(ن) کیلئے visible ہوتا۔ “
آئیے اب ذرا لاہور میٹرو بس سروس کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں۔ لاہور میں اس پروجیکٹ کو کامیاب قرار دینے کیلئے یہ دیکھنا ضروری ہو گا کہ اس سے متعلق کیا کوئی غیر جانبدارانہ سروے یا تجزیہ کیا گیا ہے؟ ابھی تک کسی مستند ادارے کا کوئی تقابلی جائزہ دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔ اس کے برعکس گذشتہ گرمیوں میں جب میٹرو بس کے ائیر کنڈشنرز نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا تو یہ خبریں اخبارات میں شائع ہوئی تھیں کہ لوگوں نے دم گُھٹنے کے باعث بس کے شیشے توڑ دیئے ۔ یہ باتیں بھی زباں زدِ عام ہوئیں کہ ترکی سے لیا گیا یہ پروجیکٹ وہاں بھی کامیاب نہیں سمجھا گیا۔ وہاں نا کا می کی وجہ بھی موسم ہی کو قرار دیا گیا کیونکہ وہاں سردی زیادہ ہوتی ہے جس کے باعث وہاں دوسری نوعیت کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔
راولپنڈی میں اس منصوبے کی لمبائی 8.6کلو میٹر بتائی گئی ہے جبکہ اس کی کاسٹ جو پنجاب حکومت نے ادا کرنی ہے وہ 22ارب روپے ہے اور کاروباری طبقے کو جو نقصان اُٹھانا پڑا ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔ کسی بھی ترقیاتی یا شہریوں کی سہولت کیلئے بنایا جانے والے پروجیکٹ میں ان چیزوں کا اگر خیال نہ رکھا گیا ہو تو پروجیکٹ کی کامیابی کے باوجود اعتراضات معتبر گردانے جاتے ہیں۔
یہ کہ مقامی آبادی کے نقصانات کو کم سے کم کرنے کی تمام تر ممکنہ کوششیں کی گئی ہیں اور متاثرین خاصی حد تک مطمئن ہوئے ہیں۔ اس پروجیکٹ کے حوالے سے چند ایک کاروباری حضرات سے بات کرنے پر معلوم ہؤا کہ وہ اس پروجیکٹ سے نہ صرف اس لئے نا خوش ہیں کہ ان کے کاروبار کو دورانِ تعمیر بے پناہ نقصان کا سامنا ہے بلکہ بعد از تعمیر بھی ان کے کاروبار میں بہتری ممکن نظر نہیں آتی۔ جیسا کہ انڈر وے پروجیکٹ سے ہو چکا ہے۔
دوسرے کاروباری حضرات اور عام شہری بھی اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں کہ مری روڈ پر رش اور سُست رو ٹریفک کا حل اس پروجیکٹ سے ممکن نہیں ہے۔ شہریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ بس سروس صرف اُن لوگوں کیلئے مفید ہو گی جو مری روڈ کے قریب رہتے ہیں جبکہ بہت بڑی آبادی جو پورے راول ٹاؤن میں پھیلی ہوئی ہے اور مری روڈ پر سفر ان کا روز مرہ کا معمول ہے، وہ اس پروجیکٹ سے فایدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔
دوسرا پہلو ماحولیاتی ہے۔ راولپنڈی کے جس ایریا میں یہ پروجیکٹ تعمیر ہو رہا ہے وہ انتہائی گنجان آباد علاقہ ہے۔ درخت اور سبزہ جو برائے نام ہے۔ اس پروجیکٹ کے باعث وہ بھی ختم ہو جائے گا۔ اسلام آباد میں 9thایونیو سے پشاور موڑ تک درخت اور سبزہ ختم ہو جائے گا۔جس سے ماحول اور زیادہ گرم ہو گا۔ گویا عالمی سطح پر آلودگی کے حوالے سے جس تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے ہماری حکومت اس سے لا تعلق ایسے پروجیکٹ شروع کر رہی ہے جو ماحول کی خرابی کا باعث ہیں۔
تیسرا پہلو بس کے کرائے کا ہے۔ بظاہر یہ پروجیکٹ عام لوگوں کی سہولت کیلئے بنایا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا کرایہ عام آدمی کیلئے قابلِ برداشت ہونا چاہیے۔ لاہور میں اس سروس کا کرایہ 35روپے ہے جبکہ اربن ریسورس سنٹر کراچی کے عارف حسن کی ایک سٹڈی کے مطابق فی سواری لاگت 80روپے ہے۔ گویا پنجاب گورنمنٹ اس پروجیکٹ کو خسارے میں چلا رہی ہے۔لاہور کی سروس کا کرایہ ایک سٹاپ سے دوسرے سٹاپ تک یا آخری سٹاپ تک 35روپے ہے۔ اب وہ شخص جس نے پہلے یا دوسرے سٹاپ تک سفر کرنا ہے اس کیلئے یہ سروس مہنگی ہے ۔ تو کیا راولپنڈی اسلام آباد کا پروجیکٹ بھی خسارے کا ہی پروجیکٹ ہو گا!
اسلام آباد کیلئے یہ پروجیکٹ کس حد تک مفید ہے اس ضمن میں اسلام آباد کے شہریوں پر مبنی گروپ ’’اسلام آباد گرین ‘‘ کے بلال حق کا کہنا ہے ’ ہم ماس ٹرانزٹ کو روکنا نہیں چاہتے، ہم یہ چاہتے ہیں کہ اسلام آباد کی انفرادیت ، یعنی اس کا سر سبز ہونا بر قرار رہے ۔ 9thایونیو مشرف دور میں راولپنڈی اسلام آباد کو ملانے والی ایک وسیع و سر سبز سڑک بنی تھی۔ اس پروجیکٹ کیلئے سڑک کے دونوں اطراف درختوں، سبزے اور پارکوں کو تہس نہس کر دیا گیا ہے۔ کیونکہ اب اسے میٹرو بس چلنے والی سڑک میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ اس پروجیکٹ کیلئے جن جواں سال درختوں کو کا ٹا گیا ہے ان کی جگہ نئے درخت لگا بھی دیئے جائیں تو ان کے تن آور ہونے کیلئے ’آہ کو چاہیے ااک عمر جواں ہونے تک‘ والی بات ہو گی۔
عمرانہ ٹوانہ لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک آرکیٹیکٹ ہیں، وہ کہتی ہیں’’پنجاب کے کل بجٹ کا 70فیصد لاہور میٹرو بس کی نذر ہوا ہے جبکہ یہ صرف فیروزپور روڈ سے شاہدرہ ٹاؤن کیلئے ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ایک بجٹ سے حکومت 3000ہزار بسیں خرید سکتی تھی جس سے پورے پنجاب کے لوگ مستفید ہوتے (پنجاب کے 30اضلاع میں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں ہے) ۔ اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نوع کے ’ترقیاتی‘ منصوبے حکمرانوں کی نفسیات کے عکاس ہوتے ہیں‘‘۔ جیسا کہ اسلام آباد گرین کے رکن ڈاکٹر ڈشکا حسین اور کرسٹینا آفریدی کا کہنا ہے ’’میٹرو بس پروجیکٹ پر بغیر کسی مشاورت اور بحث و مباحثے کے برق رفتاری سے کام شروع کر دیا گیا ہے، آخر اس حکومت کو اتنی جلدی کیوں ہے؟ “
صاف ظاہر ہے کہ یہ صرف اور صرف پاکستان مسلم لیگ(ن) کا بچہ جمہورا پروجیکٹ ہے جسے لاہور کی طرح وہ کم سے کم یا ریکارڈ ٹائم میں مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ ایسے منصوبے جو ’نظر‘ آئیں ان کے خیال میں ان کی ’کارکردگی‘ کا منہ بولتا ثبوت ہو سکتے ہیں۔ گویا ایسے منصوبے حکمرانوں کیلئے کارکردگی کے گراف کو اونچا لے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پشاور موڑ سٹاپ سے سیکریٹریٹ تک یہ سروس کس حد تک اسلام آباد کے شہریوں کیلئے مفید ہو گی ۔یہ تو صاف ظاہر ہے کہ اسلام آباد کی تین سمتوں(جنوب مشرق۔شمال مشرق اور مشرق) کے مکینوں کی رسائی اس سروس تک نہیں ہوگی تو پھر سوال یہ ہے کہ اس پروجیکٹ کی فزیبلٹی میں کیا دیکھا گیا ہے۔
پارلیمنٹ میں حزبِ مخالف نے اس پرو جیکٹ پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اپوزیشن اراکین نے اس پروجیکٹ کے حوالے سے یہ بھی کہا ہے کہ اس پروجیکٹ میں جو لوہا استعمال ہو رہا ہے وہ وزیرِ اعظم کی سٹیل ملوں سے لیا گیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے اس صورتِ حال کے پیشِ نظر ایوان میں تجویز پیش کی ہے کہ اس منصوبے کو متنازع بننے سے روکنے اور اپوزیشن کے الزامات کی چھان بین کیلئے خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔
اس کے علاوہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین سینیٹر سید مشاہد حسین نے میٹرو بس پرا جیکٹ کے خلاف ایوانِ بالا میں تحریک التوا جمع کروائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پروجیکٹ اینوائرمنٹ پروٹیکشن ایکٹ1997کی شق نمبر 12کی خلاف ورزی ہے جس کے مطابق کسی بھی پروجیکٹ پر کام شروع ہونے سے قبل اینوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی سے اجازت لینا ضروری ہوتا ہے ۔ سینیٹر مشاہد حسین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس پروجیکٹ سے دنیا کے خوبصورت شہر اسلام آباد کی قدرتی خوبصورتی متاثر ہو رہی ہے اور وفاقی دارالحکومت کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ متعلقہ ادارے،کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو اس پروجیکٹ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جو کہ اپنی جگہ جمہوری فیصلے کی بجائے ایک شاہانہ اندازِ حکمرانی کی چغلی کھاتا ہے۔