بد نصیب شہر

  • جمعہ 16 / مئ / 2014
  • 4659

کراچی وہ بد نصیب شہر ہے جو تین دہائیوں سے مقتل گاہ بنا ہؤا ہے۔ اس شہر بے مثال کو شہر بے اماں بنانے میں تمام طبقات نے کسی نہ کسی طور اپنا حصہ ڈالا ہے۔ چاہے وہ سیاستدان ہوں یا مذہبی رہنما ، قوم پرست جماعتیں ہوں یا امن قائم کرنے کے ذمہ دار ادارے۔ کراچی میں بدامنی کے جتنے عوامل ہیں ان سے نمٹنے کے لئے شاید اس سے بھی زیادہ ادارے ہیں مگر صورتحال ہے کہ مسلسل بگاڑ کی جانب بڑھ رہی ہے۔

لیکن موجودہ وفاقی حکومت شاید اب ملک کی کچلی ہوئی اقتصادی شہ رگ کی سانسیں بحال کرنے میں کسی حد تک سنجیدہ نظر آنے لگی ہے تاہم ’’ دلی ہنوز دور است ‘‘ کے مصداق قیام امن کی منزل کوسوں دور ہے۔ دوسری طرف صوبے میں مسلسل اقتدار کے مزے لوٹنے والی پیپلز پارٹی اب بھی خواب خرگوش کے مزے لوٹنے میں مصروف ہے۔

کراچی میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے گزشتہ روز اجلاس کی صدارت کر تے ہوئے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا کہ کراچی میرے لئے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کو سیاسی چھتری استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ (سیاسی چھتری مسائل کی سب سے بڑی وجہ ہے مگر صوبائی جماعتوں کی سطح پر مستقبل قریب میں یہ سیاسی چھتری لپیٹے جانے کا امکان نظر نہیں آ رہا ہے۔) طالبان سے مذاکرات ہوں یا کراچی میں قیام امن ، ہم سیاسی رائے کو اہم سمجھتے ہیں ( وزیراعظم کی بات بجا مگر کراچی کو وینٹی لیٹر تک پہنچانے میں سب سے بڑا کردار سیاستدانوں کا ہی ہے۔)

وزیر اعظم نے کہا کہ کراچی کی صورت حال میں بہتری کے لئے ہر ایک سے ہاتھ ملانے کو تیار ہوں۔ دہشت گردی اور جرائم کو سیاست سے نہیں جوڑنا چاہئے۔ اگر سب امن چاہتے ہیں تو ہمیں ساتھ بیٹھ کر مسئلے کا حل نکالنا ہوگا۔ امن و امان کے قیام کے لئے ایسا نظام وضع کرنا ہو گا جو خواہشات سے بالا تر ہو۔ ( وزیراعظم سب سے ہاتھ ملانے کو تیار ہیں مگر اصلی اسٹیک ہولڈرز بغل میں چھری دبائے ہاتھ کاٹنے کو تیار بیٹھے ہیں۔)

امن و امان کے حوالے سے منعقدہ اس اجلاس میں سابق صدر آصف علی زرداری، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان، وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، آرمی چیف جنرل راحیل شریف، کورکمانڈر کراچی، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام، ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل رضوان اختر اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اس اجلاس کی سب سے اہم بات آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی اس میں شرکت تھی اور اسی سے کسی حد تک حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے سنجیدہ ہونے کا تاثر ملا۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم کا یہ کراچی کا تیسرا دورہ تھا۔ گزشتہ برس ستمبر میں انہوں نے دورہ کراچی میں امن و امان کی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد انتظامیہ کو ٹارگٹڈ آپریشن کا ٹاسک دیا تھا۔ سات ماہ بعد جب آپریشن کے ثمرات کے حوالے سے جائزہ لیا گیا تو یقیناًبہت سے سقم اور کمزور پہلو بھی سامنے آئے۔ تلخ سچائی یہ ہے کہ آپریشن کے باوجود کراچی میں روزانہ کی بنیاد پر لاشیں گرنے، بھتہ گردی، اغوا برائے تاوان اور سٹریٹ کرائمز کا سلسلہ کسی نہ کسی عنوان سے جاری رہا۔

اجلاس میں درست فیصلہ کیا گیا کہ غیر قانونی سمز کے خاتمہ کے لئے کمپنیوں کو سختی سے پابند کیا جائے اور غیرقانونی سموں کی فروخت میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ آپریشن کی کامیابی کے لئے سیاسی دباؤ کو مسترد کرنا بیحد ضروری ہے۔ شہری حلقے اس پر طمانیت کا اظہار کر رہے ہیں کہ کراچی آپریشن کی نگرانی سیاسی قیادت کے ساتھ عسکری قیادت بھی کرے گی۔ آپریشن میں حصہ لینے والے رینجرز اور پولیس اہلکاروں کو فری ہینڈ دینے کی تجویز کو بھی اجلاس میں پذیرائی ملی۔

اجلاس میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی موجودگی مرکز نگاہ رہی۔ اس موقع پر جنرل راحیل نے کہا کہ قیام امن سے متعلق حکومت کی پالیسی پر عمل کیا جائے گا۔ ہم وزیراعظم کی تجاویز پر آگے بڑھیں گے۔ اگر ہم سے وفاقی یا صوبائی حکومتوں کی طرف سے کسی قسم کی معاونت یا تجاویز مانگی گئیں تو پوری ایمانداری اور خلوص سے تعاون کریں گے۔ امن کی بحالی کے تعاون کی یقین دہانی کے ساتھ ہی آرمی چیف نے حکومت کو ایک بار پھر تشفی کراتے ہوئے کہا کہ اداروں کے درمیان کوئی ٹکراؤ نہیں ہے اور نہ ہی فوج سیاسی اور جمہوری قوتوں کے معاملات میں مداخلت کرے گی۔

یہاں یہ امر لائق توجہ ہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں تحفظ پاکستان آرڈیننس میں مزید توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ یاد رہے کہ صدر ممنون حسین نے تحفظ پاکستان (ترمیمی) آرڈیننس نافذ کرنے کی منظوری 23جنوری کو دی تھی۔ اس سے قبل سپریم کورٹ کراچی بدامنی کیس میں قرار دے چکی تھی کہ شہری اپنی ذمہ داری پر گھروں سے نکلیں، 22 ہزار ملزم آزاد گھوم رہے ہیں۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ شہر قائد مختلف مافیاز کے نرغے میں ہے۔ عام لوگوں کا خون چوسنے والے ان مافیاز کا محاصرہ توڑنے کے لئے سکیورٹی فورسز اور کراچی کی مؤثر اور با رسوخ جماعتوں کو ٹھوس، مثبت اور عملی کردار ادا کرتے ہوئے ان کی اپنی صفوں میں موجود جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی چھوڑنا ہو گی۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ پچھلی حکومت کے دور میں عدالت عظمیٰ کے حکم پر جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ میں جن چار جماعتوں اور فسادی گروہوں (پچھلے دور میں تین جماعتیں حکومت کا حصہ تھیں) کی نشاندہی کی گئی تھی، ان میں سے کسی ایک کے خلاف بھی حکومتی سطح پر کوئی مؤثر اور نتیجہ خیز کارروائی نہیں کی گئی۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سوچی سمجھی سازش کے تحت روشنیوں کے شہر کراچی کے امن کو تاراج کیا جا رہا ہو۔

اس امر سے کسی ذی شعور کو بھی انکار نہ ہو گا کہ کراچی پاکستان کا وہ شہر ہے جہاں غیر قانونی اسلحہ سب سے زیادہ تعداد میں موجود ہے۔ شہر کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں حکومتی رٹ اتنی ہی ہے جتنی وزیرستان میں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حقائق جاننے کے باوجود آئے روز ہونے والے اجلاسوں میں حکام اس اسلحہ کی بازیابی کے لئے کوئی حکمت عملی وضع بھی کرتے ہیں یا پھر صرف ٹی اے ڈی اے ہی وصول کرتے ہیں۔ یہاں مبصرین کی اس رائے سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ بھتہ خوری، زمینوں پر قبضہ، ٹارگٹ کلنگ اور ناجائز اسلحہ کی فراوانی کراچی کے اصل مسائل ہیں۔

وزیراعظم نے احکامات تو بہت سارے دئیے ہیں لیکن یہ ضروری ہے کہ جب وہ کراچی کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے آئندہ اجلاس طلب کریں تو انہیں پوری طرح اس امر سے باخبر ہونا چاہئے کہ ان کے احکامات پر کس حد تک عمل کیا گیا۔ عللاوہ ازیں گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں کئے گئے تمام فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے بھی ذمہ داران کو پابند کیا جائے تاکہ کراچی شہرکو منی پاکستان کا تشخص لوٹایا جا سکے۔

اس مقصد کے لئے اگر باقاعدہ ٹائم فریم ورک طے کر لیا جائے کہ اس متعین عرصے میں آپریشن کے کم از کم اہداف کو لازماً حاصل کرنا ہے اور تمام ذمہ داران کو اس سے آگاہ بھی کر دیا جائے تو توقع ہے کہ آپریشن کے مقاصد کا حصول ممکن ہو سکے گا۔ اس نازک موقع پر اگر صوبائی حکومت بھی اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرے اور قیام امن کے لئے شروع کئے گئے آپریشن میں زبانی کلامی بیانات کی بجائے خلوص نیت کے ساتھ عملی اقدامات بھی کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ کراچی کے باسی بھی سکھ کا سانس لے سکیں۔

وفاقی اور صوبائی حکومت کو یہ سمجھنا ہو گا کہ اقتدار کے دوام کے لئے قیام امن اولین شرط ہے۔ کراچی تاریخ کے اس موڑ پر آ پہنچا ہے کہ اب ناکامی افورڈ نہیں کی جا سکتی۔ شہر قائد کے لئے کامیابی لازم ہے۔ تمام طبقات کو غفلت کی نیند سے جاگنا ہو گا تا کہ امن کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔