توہین مذہب اور صحافتی چھپکلیاں
- جمعہ 16 / مئ / 2014
- 4703
قلم پر پچھلے کچھ روز سے سکتہ طاری ہے ۔ ہم تارکینِ وطن کے آبائی گھر کی مِٹّی جس طرح پلید کی جا رہی ہے ، اُس پر خامے کو انگشت بدنداں رہنے اور پھر کومے میں چلے جانے کا حق ہے ۔ دوسرے مسلم ممالک سے آ کر ناروے میں بسے تارکینِ وطن بھی گہرے دکھ میں ہیں ۔ انقرہ کی کوئلے کی کان میں ہونے والی اجتماعی اموات پر چیخ و پکار ، آہ و بکا اور بین سُننے کو ملے تو ترک بھائیوں کا غم دیکھا نہ گیا ۔ اب کوئی کس کس کے آنسو اپنی آنکھ سے روئے لیکن دھرتی کا دُکھ سانجھا ہے اور موت ہر انسان کی برات ہے ۔
اور پھر پاکستان سے آنے والی اکثر خبروں کا متن بھی تو آنسوئوں سے ہی لکھا ہوتا ہے ۔ حرفِ تسّلی صرف سیاسی بیانوں کی صورت میں موصول ہوتا ہے لیکن سچّی خوشی نہیں ملتی ۔ اور ابھی حال ہی میں مانسہرہ میں ایک کالج کی سالِ دوم کی طالبہ پر قہر ٹوٹا ہے ، اُس کی اجتماعی عصمت دری کی گئی اور اُس کی ویڈیو فلم بھی بنائی گئی ہے ۔ اس سانحے پر مانسہرہ میں احتجاج کی بجلی چمکی ہے اور لوگ سراپا غیض و غضب بنے سڑکوں پر نکل آئے ہیں ۔ ملزموں پر ٹماٹر اور انڈے برسائے گئے ہیں اور پبلک نے کالے رنگ کے چھینٹے اُڑا کر ملزموں کا مونہہ کالا کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ حالانکہ وہ تو پہلے سے ہی اپنا مونہہ کالا کر چکے ہیں ۔
عصمت دری کی اس ناپاک اور سفاکانہ واردات کا سرغنہ ایک لمبی داڑھی والا نوجوان قاری نصیر ہے ۔ میں نے ٹی وی سکرین پر دیکھا کہ مشتعل لوگ زناکاروں کے لیے پھانسی کی سزا کا مطالبہ کر رہے تھے ۔
لیکن میں کچھ اور ہی سوچ رہا ہوں ۔ کئی طرح کے سوالات ہیں جو مسلسل میرے ذہن میں سر اُٹھا رہے ہیں ۔ میرا مؤقف ہے کہ ایک قاری جس کے سینے میں قرآن کریم کا پورا لفظی متن محفوظ ہے ، اگر اس طرح کا گھنائونا جرم کرتا ہے تو یہ سیدھا سیدھا بلاس فیمی (توہینِ مذہب ) کا کیس ہے ۔ ایسے شخص پر توہینِ قرآن کی فردِ جرم عائد ہونی چاہیئے اور بلاس فیمی کے قوانین کے تحت مقدمہ چلنا چاہیئے ۔
لیکن ایسا نہیں ہوگا ۔ کیونکہ زنا بالجبر کا ملزم قاری نصیر اُس مذہبی مافیا کا ہم مسلک ہے جو ایک سیاسی بیان یا تحریر یا کسی دیوار پر تحریر نعرے میں سے توہین کے پہلو تلاش کر کے ملزموں کو پھانسی گھاٹ پہنچاتا ہے۔ مگر اپنے کسی قاری کا گھناؤنا فعل اُنہیں نظر نہیں آتا ۔
جی ہاں ، ہر کمیونٹی حسبِ توفیق اور حسبِ مقدور اپنے ہم مشربوں کو ہر ممکن رعایت اور سہولت دیتی ہے اور یہی قاری نصیر کے معاملے میں بھی روا رکھا جائے گا ۔
کاش ، میں اس ضمن میں وہ سب کچھ کہہ سکتا جو میرے دل میں ہے ۔ اقبال یاد آ گئے :
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ لا سکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
مجھے کہنے میں باک نہیں لیکن اندیشہ اس بات کا ہے کہ جہالت میرے بیان میں سے فتنہ تلاش کر سکتی ہے ۔ اور میں قرآنِ حکیم کے حکم سے سرتابی کی مجال بھی نہیں رکھتا ، کیونکہ آسمان نے واشگاف کہہ رکھا ہے کہ : " اتفنتہ اشّدُ من القتل " ۔
کہ فتنہ فساد ، قتل سے بھی زیادہ سنگین معاملہ ہے ۔
میں فساد سے ڈرتا ہوں لیکن پاکستان میں قائم ادارے اور اُن پر مسلط افراد فتنہ فساد سے نہیں ڈرتے ۔ اُن کے لیے یہ چوگان کا کھیل ہے اور وہ یہ کھیل ایک دوسرے کی زندگی اور بقا کی قیمت لگا کر کھیل رہے ہیں ۔
اس وقت میدانِ کارزار سرحدیں نہیں گلیاں بازار اور ٹی وی کے بکواس شوز ہیں ۔ ٹی وی چینل ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں ۔ ایک دوسرے کے لتّے لیے جا رہے ہیں ۔ غدار قرار دینے کے فتوے دلوائے جا رہے ہیں ۔
جنرل ضیا اور جنرل مشرف کے زمانے میں بنائے گئے ، جیش ، جتھے ، لشکر اور جنود آئی ایس آئی کی حمایت میں سڑکوں پر ہیں ۔ لگتا ہے یہ سیکورٹی ادارہ جو فوج کا سیاسی ونگ کہلواتا ہے ، باقاعدہ سیاسی جلوس، جلسے اور احتجاجی ریلیاں نکلوا رہا ہے ۔ ان ریلیوں کو فنڈز کہاں سے مہیا ہو رہے ہیں ، میں نہیں جانتا مگر اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ملک کے غریب مسلمانوں کا پیسہ سیاسی طالع آزماؤں کے ڈولے اور مسل دکھانے پر خرچ ہو رہا ہے ۔ اے آر وائی ، دنیا اور کئی دوسرے چینلز جیو کے خلاف صف آراء ہیں اور جیو کی آرٹلری مسلسل جوابی توپیں داغے چلی جا رہی ہے ۔
ایسے لگتا ہے جیسے سیاست اور صحافت کا مشترکہ مچھلی بازار لگا ہے ، ذات کی چھپکلیاں شہرت کے شہتیروں پر کمندیں ڈال رہی ہیں ۔ بھیڑ میں بھانت کی آوازیں لگ رہی ہیں اور قسم قسم کی بولیاں سنائی دے رہی ہیں ۔ تو تو میں میں کا معیار اتنا گھٹیا ہے کہ کوئی ایک کسی دوسرے کی سنتا تک نہییں ۔
اس طوفانِ بد تمیزی کو دیکھ کر یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا مہذب قومیں ایسی ہوتی ہں ؟
ان جتھے داروں اور کالعدم لشکریوں نے جو قیامت مچا رکھی ہے اُس پر میرے جیسے کسی ناچیز کے اعتراض کی اوقات ہی کیا ہے ؟
وہاں تو ٹی وی ٹاک شوز میں ایسے ایسے بقراط چہرا کشا ہوتے ہیں جن کا سامنا کرنا مشکل ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ سنتے نہیں صرف بولتے ہیں ۔ وہ مختلف ملکوں کی مثالیں پیش کر کے کہیں گے کہ امریکہ میں فلاں سال میں ایسا ہؤا تھا تو یہاں بھی ہو سکتا ہے ۔ پھر دھاندلی اگر انگلستان اور کینیڈا میں ہو سکتی ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں ؟
اُن میں بعض کی اتنی پہنچ ہے کہ وہ کسی دوسرے سیارے کے حوالے بھی لا سکتے ہیں ۔
اور پھر ایسے علماء اور مفتیوں کی بھی کمی نہیں جو اس منفی طرزِ عمل کے حق میں فقہ اور اسلامی تاریخ سے حوالے لا کر یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ جو ہنگامہ برپا ہے اس پر تو غلام علی کی غزل ہونی چاہیے :
ہنگامہ ہے کیوں برپا ، تھوڑی سی جو گھوٹی ہے
یہ بھنگ صحافت کی ہر نشّے سے چھوٹی ہے
گنجی سی طوائف کی کنگھی ہے نہ چوٹی ہے
گو سچ تو کھرا سا ہے پر بات تو کھوٹی ہے
ہنگامہ ہے کیوں برپا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔