عوام کے خادم
- جمعہ 16 / مئ / 2014
- 4712
۔ آؤ سائیں ! آجکل اجلاس میں نہیں آ رہے۔ خیر تو ہے۔
۔ چھڈو جی ! ادھر اپنے بکھیڑوں سے فرصت نہیں ملتی۔ تمہیں اجلاس کی پڑی ہے۔ پانی بجلی ہے نہیں۔ ٹیوب ویل بند پڑے ہیں۔ کھاد مہنگی۔ بیج ناقص۔ مزارعے سر پر چڑھنے لگے ہیں۔ اب آدمی کس کس مسئلے سے نمٹے۔ اس دفعہ کم از کم چھ مربع اراضی تو میں نے کاشت ہی نہیں کی۔
۔ سائیں کہتے تو ٹھیک ہی ہو تم۔ لیکن پھر بھی کبھی کبھی چکر لگا لیا کرو۔ رسم نبھانے کے لئے ہی سہی۔ اخبار والے تمہیں پتہ ہے آجکل قاتل بنے پھرتے ہیں۔ بات کا بتنگڑ نہ بنا دیں۔
۔ ہاں سوچ رہا ہوں۔ بس ذرا شکار کا موسم گزر جائے۔ پھر اجلاس میں بھی آ جائیں گے۔ تم تو باقاعدگی سے جا رہے ہو گے۔
۔ ہاں بھئی کیا کریں۔ اپنے دوستوں کو تو لیڈر صاحب یوروپ امریکہ کے دورے کرواتے رہتے ہیں۔ ہمیں بس عمرے پر ٹرخا دیا ہے۔ پھر اجلاسوں میں جانے کی سختی الگ۔ کورم جو پورا کرنا پڑتا ہے۔ خیال تھا اس دفعہ لندن جانے والوں میں بڑے صاحب ہمارا نام بھی رکھیں گے۔اسی بہانے بچوں سے ملاقات بھی ہو جائے گی ۔ بیگم شاپنگ کا شوق پوراکر لیں گی۔ لیکن انکے چمچے ہمیں آگے ہی نہیں آنے دیتے۔
۔ لندن میں کیا تھا۔
۔ سائیں کانفرنس تھی کوئی۔
۔ کیسی کانفرنس۔
۔ بھئی اب اتنا تو مجھے پتہ نہیں۔ کوئی بین الاقوامی کانفرنس تھی۔ بڑے بڑے لوگ آ رہے تھے۔
۔ یار برا نہ منانا ۔ تم کانفرنس میں کیا کرتے۔ زبان تو تمہیں کوئی آتی نہیں۔
۔ کرتا کیا۔ اپنے ملک کی نمائیندگی کرتا۔ اور جو گئے ہیں انہیں کیا زبان آتی ہے۔ کون سا خود بات کرنا ہوتی ہے۔ سیکریٹری ویکٹری ساتھ ہوتے ہیں۔ وہی بات کرتے ہیں۔ ہم نے تو بس دستخط ہی کرنے ہوتے ہیں۔
۔ کتنے دن کی کانفرنس تھی۔
۔ تھی تو دو دن کی۔ لیکن سات دن کا دورہ نکالنا تھا۔ ہوٹل بھی زبردست تھا۔ اپنے بندے بھی بہت ہیں وہاں۔ ساتھ تصویریں کھنچوانے کے لئے زبردست دعوتیں کرتے ہیں۔ شاپنگ الگ کرواتے ہیں۔ وہ بڑے صاحب کا چمچہ ملک تو اکثر جاتا رہتا ہے۔ لدا پھندا واپس آتا ہے۔
۔ لیکن یار کروڑوں کے مالک ہو تم۔ کروڑوں بنا رہے ہو آجکل۔ اپنی جیب سے ٹکٹ لے کر چلے جاؤ۔
۔ واہ سائیں ! عجیب بات کی آپ نے۔ سرکاری خرچے پر جانے کا جو مزہ ہے وہ اپنی جیب سے جانے میں کہاں۔ اور پھر ٹہکا الگ۔ ایمبسی والے آگے پیچھے بھاگتے ہیں۔
۔ چلو اگلی دفعہ چلے جانا۔ مجھے بھی لیڈر صاحب نے کافی سالوں بعد موقع دیا تھا۔ اور وہ بھی تب جب میں نے عین الیکشن کے موقع پر پارٹی چھوڑنے کی دھمکی دی تھی۔ پھر تو آگے پیچھے بھاگتے تھے۔ امریکہ بھیجا۔ وزارت دی۔ پتہ تھا نہ کہ اپنی سیٹ پکی ہے۔ دوسری پارٹی والے نہ لے جائیں۔
۔ دوسری پارٹی والوں نے پوچھا نہیں تم سے۔
۔ پوچھا تھا یار۔ مال بھی لمبا دے رہے تھے۔ پر میں نے سوچا وزارت میں زیادہ فائدہ ہے۔ ٹھیک ہی سوچا تھا۔
۔ اچھا سائیں فائدے سے یاد آیا۔ آجکل رقم باہر بھجوانے کے لئے کون سی جگہہ زیادہ محفوظ ہے۔
۔ کوئی بڑی رقم ہے۔
۔ یہی کوئی ڈیڑھ دو ارب۔
۔ روپیہ کہ ڈالر۔
۔ روپیہ ہے۔ بڑے کنٹریکٹ تو تمہیں پتہ ہے لیڈر صاحب اپنے چہیتوں کو ہی دیتے ہیں۔
۔ اچھا۔ یہ تو کوئی اتنی بڑی رقم نہیں ہے۔ دوبئی ٹھیک ہے۔ ڈالر ہوتے تو سویٹزر لینڈ مناسب رہتا۔ کوئی گھرور خرید لو باہر۔
۔ خرید چکا ہوں دوبئی میں۔ کافی بڑا گھر ہے۔ سوئمنگ پول بھی ہے۔
۔ احتیاطاٌ ایک یوروپ میں بھی لے لو۔ حالات کا کیا پتہ۔ زیادہ محفوظ جگہہ ہے۔
۔ خرید لیا ہے لندن میں فی الحال ایک چھوٹا سا تین چار کمروں کا فلیٹ لیا ہے۔ ابھی زیادہ کی گنجائش نہیں ہے۔ حکومت چلتی رہی تو بڑا بھی لے لیں گے تمہاری دعا سے۔
۔ اب آگے کیا ارادہ ہے۔
۔ابھی تو دیکھ رہے ہیں۔ معاملہ ذرا ڈانواڈول ہی لگتا ہے۔ بہرحال تیاری تو پہلے سے کر لینی چاہیئے۔ مجھے تو مارشل لا لگتا نظر آتا ہے۔
۔ یار پھر تو کام آسان ہو جائے گا۔ نہ الیکشن کی چخ چخ۔ نہ دو دو ٹکے کے ووٹروں کی منتیں۔ پچھلی دفعہ تو میں نے وزارت لے ہی لی تھی۔
۔ چلو دیکھتے ہیں۔ اچھا یہ بتاؤ کوئی نیا بل تو نہیں پیش ہو رہا اسمبلی میں۔
۔آتے رہتے ہیں بل۔ ہم نے کونسا مطالعہ کرنا ہوتا ہے انکا۔ قانونی باتیں ویسے ہی اپنی سمجھ نہیں آتیں۔ جب ضرورت ہوئی جا کر ووٹ دے آئیں گے۔
۔ یار تم حکومتی پارٹی میں ہو۔ یہ پارلیمنٹ لاجز تو ٹھیک کرواؤ۔ چار سال سے وہی صوفے ، وہی پردے۔ اے سی بھی پرانا۔ باتھ روم کی ٹوٹیاں بھی پرانے ڈیزائن کی۔ اب تو دوست بھی شکایت کرنے لگے ہیں کہ بھائی ایسی ممبری کا کیا فائدہ۔ پرانے کمروں میں رہتے ہو۔ قومی نمائندوں کی سرکاری رہائش کم از کم سیون سٹار تو ہونی چاہیئے۔
۔ ٹھیک کہتے ہو۔ ٹھیک کہتے ہو ۔ رکھوا دی ہے رقم بجٹ میں۔ منظور ہو جائے گی۔ آپس ہی کی تو بات ہے۔ کون مخالفت کرے گا۔
۔ اور نئی گاڑیاں ملنے کا کیا امکان ہے۔
۔ صبر بھائی صبر۔ اللہ نے چاہا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔
۔ بلٹ پروف ہونی چاہئیں۔
۔ تجویز تو یہی ہے۔ آگے اللہ مالک ہے۔