لائلپور سے لانڈھی جیل تک (4)
- سوموار 19 / مئ / 2014
- 5375
صوبہ بدری کے احکامات
جب مجھے میرے تین ساتھیوں سمیت لانڈھی جیل کی تحویل میں دیا گیا تو دوپہر کے کھانے کا وقت ہو چُکا تھا ۔ لہذا ہم بھی پہلے سے موجود اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھانے میں شامل ہوگئے جو ریت کے ذائیقے والی دو چپاتیوں اور سُرخ مرچوں کے تیرتے بیجوں والی دال پہ مشتمل تھا۔ مگر جیل کے اندر ماحول کو دیکھتے ہوئے لگتا تھا جیل نہیں شاہ حسین ۔ شاہ لطیف بٹھائی ، یا بُھلے شاہ کے میلے میں آئے ہوں۔
رات کو جب گنتی کرکے بند کردیا جاتا تو نئے آنے والے باری باری اپنا تعارف کراتے اور پہلے سے موجود اپنا تعارف کراتے۔ بس پھر محفلِ موسیقی شروع ہو جاتی۔ وہاب صدیقی ( پاکستان پیپلز پارٹی کی فوزیہ وہاب صدیقی کے پہلے خاوند) کی بہت ہی سُریلی آواز تھی اور خا ص کر کے وہ جمیل الدین عالی کے دوہے بہت خوبصوت گاتے تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی سے ہی تعلق رکھنے والے ایک سیاسی ورکر لتا ، کشور ، رفیع اور مکیش جی کے گیت گاتے ایسا سماں باندھتے تھے کہ جیل کی دیواریں نظر تک نہ آتیں۔ ساحر کا گیت “ رات بھر کا ہے مہمان اندھیرا “ اُس وقت پاکستانی جیلوں کا قومی گیت تھا۔ جو سب سے آخر میں گایا جاتا ۔ بعد میں شاہد محمود ندیم نے اس میں اضافے بھی کر دئے تھے۔
صبح کا آغاز ایک گُڑ کی ڈلی سے بنی چائے کے پلاسٹک والے مگ اور ایک چپاتی سے ہوتا ۔ مختلف سیاسی پنڈت نئے آنے والوں کو اپنی اپنی طرف کھینچنے کے لیے سڈڈی سرکل کے اسٹیج سجا لیتے۔ جیل کے کھانوں کو مزے دار بنانے کے لیے ایک گرو جیل میں لگے سبز مرچوں کے باغ میں چلا جاتا ۔جو دو ہفتوں میں ہی باغ بے سبزا بن چُکا تھا اور جیل کی انتضامیہ کے چہروں پہ سُرخ مرچوں کے بیج تیرتے صاف نظر آرہے تھے۔ تحریکوں کے دنوں اگر باہر تحریک زور و شور سے جاری ہو ہر روز لوگ بیسوں کی تعداد میں جیل آرہے ہوں تو جیل انتظامیہ اندر سختی کرنے سے ڈرتی ہے اور اگر باہر تحریک کمزور پڑ جائے تو جیل کے اندر بھی سختی شروع ہو جاتی ہے۔ جس کے مختلف طریقے ہیں ۔ لانڈھی جیل میں ہمارے اس گروپ کے انچارج شبر اعظمی تھے جو کراچی مساوات سے وابستہ تھے۔
لانڈھی جیل ان بچوں کے لئے بنائی گئی تھی جو حادثاتی طور پہ کسی جرم میں پھنس جاتے ہیں ۔ مگر یہاں اُنہیں بڑے اور عادی مجرموں کے ساتھ رکھا جاتا تھا ۔ ایسا کیوں کیا جاتا ہے اس کو سب جانتے تھے۔ جن کا کوئی والی وارث نہ ہوتا وہ سال ہا سال سے جیل میں پڑے تھے اور آج تک انھوں نے عدالت کا منہ تک نہیں دیکھا تھا۔ ایسا ہی ایک بچہ دس سال کا تھا۔ جب کسی مجرم نے اُس کے باپ اور ماں کا قتل کر دیا تھا اس بچے نے گھر سے چھری لا کر اُس مجرم کو قتل کر دیا تھا ۔ اور اپنی چھوٹی بہن کو روتا چھوڑ کر جیل کی سلاخوں کے اندر آبیٹھا تھا ۔ شروع میں صرف دو دفعہ اُس کی بہن اس سے ملنے آئی تھی اور اب چھ سال ہو چکے تھے اور اسے اپنی بہن کے متعلق کچھ علم نہیں تھا۔ اسے ان چھ سالوں میں اُسے ایک دفعہ بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔
میں یہاں جیل کے اندروںی حالات پہ اگر گفتگو کرنے لگوں تو اپنے موضوع سے ہٹ جاؤں گا ۔ ،بہر حال ایک میلے کا سماں تھا ہر روز ہماری تحریک کے چار افراد پہ مشتمل ٹولیاں آرہی تھیں ۔ اور اندر ہماری خرمستیاں پڑھتی جا رہی تھیں ۔ ایک رات ایک سندھی ہاری کے پیٹ میں شدید درد شروع ہو گیا جو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ۔ آخر تنگ آکر ہم نے جیل کے سپاہی کو آوازیں دینی شروع کر دیں۔ ہم نے اُسے ساری صورتِ حال بتائی اور کہا جا کر اپنے افسروں کو بتائے۔ کو ئی دو گھنٹے بعد ایک اسٹنٹ جیلر آیا اور دیکھ کر کہنے لگا کہ ایسا ہو جاتا ہے۔ اس وقت تو کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ صبح دیکھیں گے۔ اُمید ہے یہ اس وقت تک مر نہیں جائے گا۔
ابھی وہ یہ جملہ پورا نہیں کر پایا تھا کہ شبر اعظمی نے زور سے اُ س کے منہہ پر طمانچہ رسید کر دیا ۔ ابھی دوسرے لوگ اُسے مارنے کی تیاریاں ہی کر رہے تھے کہ سپاہی اُسے فوری وارڈ سے باہر نکال کر لے گئے۔ دروازہ کھلنے کی وجہ سے ہم بھی وارڈ سے باہر نکل آئے اور نعرے بازی شروع کر دی۔ اور اعلان کیا کہ جب تک اس ساتھی کو ہسپتال لے جانے کا بند و بست نہیں ہوتا، ہم نے وارڈ کے اندر نہیں جائں گے۔ آخر جیلرانتظامیہ کو مجبوراٌ ایمبو لینس منگوا کر اسے ہسپتال لےجانا پڑا ۔
صبح دیکھا ہمیں ناشتے میں آدھی چپاتی دی گئی۔ دوپہر اور رات کے کھانے میں بھی دو کی بجائے ایک چپاتی دی گئی۔ اگلے دن پھر آدھی چاپاتی دی گئی تو ہم نے ناشتہ واپس کر دیا اور جیل انتظامیہ کے رویّے کے خلاف بھوک ہڑتال کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ آخر دو پہر کو جیل سپرڈنٹ نے مجھے شبر اعظمی اور وہاب صدیقی کو اپنے دفتر بلایا اور رات کے واقعہ پہ معذرت کی ۔ مگر ہم نے محسوس کر لیا تھا کے کوئی بڑا حملہ ہونے والا ہے ۔
تین دن بعد عیدالفطر سے دو دن پہلے رات کو دس بجے کے قریب پولیس کی ایک گارڈ ہمارے وارڈ میں داخل ہوگئی اور مجھ سمیت پنجاب سے دس بارہ صحافیوں کو نام لے کر بتایا گیا کہ ان کو رہا کیا جاتا ہے۔ ہم سب نے صحافیوں کے مطالبے ماننے تک اور دوسرے ساتھیوں کو رہا نہ کرنے تک رہا ہونے سے انکار کر دیا۔ پولیس پوری تیاری کر کے آئی تھی اور چالیس پچاس کی رجمنٹ تھی ہمیں ٹانگوں اور باہوں سے پکڑ کر جیل سپرڈنٹ کے کمرے میں لے گئے۔ آخر شبر اعظمی نے کہا، مسعود یہ زبردستی لے جائیں گے لہذا اس وقت مزاحمت کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
جب ہم پولیس کی معیت میں جیل سے باہر آئے تو جیل کی دیوار کے ساتھ ہی ایک پولیس کا ٹرک کھڑا تھا جس میں ہمیں سوار کرا دیا گیااور ٹرک چل پڑا۔ ہمیں کچھ علم نہیں تھا کہ ہمیں کہاں لے جایا جا رہا ہے۔ رات کی تاریکی میں ٹرک چلتا رہا اور ہمارے ذہن میں مختلف وسوے آتے رہے۔ شاہی قلعے میں تشدد کی چیخیں ذہنوں میں گونج رہی تھیں۔ قعلے میں آزار بندوں سے خود کشیوں کی پریس رلیز ذہن کے چھاپے خانے میں چھپ رہیں تھیں۔ آخر ٹرک کے روکنے کی آواز آئی دل کی تیز دھڑکنیں رکتے ہوئے محسوس ہوئیں اور بند دھڑکنیں تیز چلتیں محسوس ہوئیں ۔ ٹرک ہر طرف سے بند تھا پتہ نہیں چل رہا تھا کہ کہاں اور کیا ہو رہا ہے۔
تقریباٌ ایک گھنٹہ بعد ٹرک کا پچھلا دروازہ کھولا گیا۔ ہمیں نیچے اُتار کر پولیس نے اپنے گھیرے میں لے لیا۔ میں نے نظر اُٹھا کے دیھکا تو حیدر آباد ریلوے اسٹیشن کا بورڈ نظر آیا ۔ اتنے میں ایک ایس پی آگئے۔ اس نے بتایا آپ تمام کو سندھ سے صوبہ بدر کیا جاتا ہے ریلوے والوں کو ہم نے بتا دیا ہے۔ جاکر آپ وہاں سے اپنی ٹکٹیں لے لیں اور شام سے پہلے پہلے سندھ کی حدود چھ۔وڑ دیں ۔ اتنا کہا اور اپنے ملازمین کو ٹرک میں بیٹھا کر چلتا بنا ۔
میں نے لائل پور کے جاوید صدیقی اور اسلام آباد سے آئے ہوئے قیصر ( میں اُن کا پورا نام بھول گیا ہوں ، وہ اسلام آباد میں انگریزی اخبار مسلم کا نمائیدہ تھا ) سے بات کی۔ باقی لوگ تو اسٹیشن کی طرف چل پڑے اور ہم چاروں میں جاوید صدیقی قیصر اور لاہور سے آئے ہوئے ایک اور صحافی حیدر آباد پریس کلب کی طرف روانہ ہوگئے۔ بھوک سے بُرا حال ہو رہا تھا۔ سگریٹ بھی ختم ہو چُکے تھے۔ پریس کلب پہنچ کر جب ہم نے ساری صورتِ حال سُنائی تو آدھے گھنٹے میں حیدر آباد کے سارے صحافی کلب میں اکٹھے ہو چُکے تھے۔
میں نے پریس کلب سے الفتح کے دفتر فون کر کے راؤ ارشاد اور وہاب صدیقی کو ساری صورتِ حال بتائی۔ مجھے پتہ تھا الفتح کا فون ٹیپ ہو رہا ہوگا۔ راؤ ارشاد اور وہاب صدیقی نے مجھے اشاروں اشاروں میں کہا کہ تم واپس آجاؤ ، میں نے جب جاوید صدیقی اور قیصر کو جا کر ساری بات بتائی۔ تو ہم نے دو منٹ میں صوبہ بدری کے احکامات کی خلاف ورزی کا فیصلہ کر لیا ( جاری ہے )