امریکہ کے دوست یا غلام
- منگل 20 / مئ / 2014
- 4525
امریکہ پاکستان کا دوست ہے۔ اگر ہم اسے اپنی گراں قدر خدمات پیش کرتے ہیں اور اس پر دنیا ہمیں اس کا غلام سمجھتی ہے تو یہ ان بد خواہوں کی سوچ کا فتور ہے جسے دور کرنے کی ہمیں چنداں ضرورت نہیں۔ ریمنڈ ڈیوس کو چھوڑاتو اس پر بھی شور شرابا، اب جیوئل کاکس کو رہا کردیا اور وہ پاکستان چھوڑ نے میں کامیاب رہا تو اس پر ہا ہا کار مچی ہے۔
ان دونوں کی رہائی میں آخر خرابی کیا ہے؟ دوست آخر دوست ہی کے کام آتے ہیں۔ کامران کی گفتگو پر ہم تمام ہی دوست پریشان ہوگئے۔ امریکہ کے زبردست یعنی کٹر مخالف کے منہ سے یہ باتیں، اللہ واقعی قیامت کے دن قریب آگئے ہیں۔
بھائی کامران ! نعمان، سلمان اور میرے منہ سے ابھی اس کا نام ہی نکلا تھا کہ اس نے قہقہہ لگایا ۔ حیران کیوں ہو؟ پیارے ساتھیوں میں جو ئیل کاکس کی رہائی اور اس میں سندھ حکومت کی معاونت کے بعد امریکہ کی دوستی کا قائل ہوگیا ہوں۔ ہم نے یک زبان کہا اچھا؟ اس نے مسکراتے ہوئے اثبات میں گردن ہلادی۔
ہماری جانب سے وجہ پوچھنے سے قبل ہی کامران نے سوال جڑدیا، تمیں یاد ہے ریمنڈ ڈیوس کا واقعہ کب اور کس کی حکومت کے دوران پیش آیا؟ اس سوال سے لگتا ہے کہ تم ہمارے ساتھ کون بنے گا مہا کروڑ پتی کھیل رہے ہو؟ نہیں دوستوں بتاؤ تو صحیح،27جنوری 2011ء کو لاہور میں پیش آیا۔ پنجاب میں شہباز شریف اورمرکز میں آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی کی حکومت تھی۔ سلمان نے ذہن پر زور ڈال کر جواب دیا۔ شاندار تم نے پہلا پڑاؤ پار کرلیا ، کامران نے مسکرا کر جواب دیا ۔ اور32برس کے جوئیل کا واقعہ کب اور کس کی حکومت میں پیش آیا ۔ یار یہ بھی کوئی سوال ہے،5 مئی 2014ء کو پکڑا ہے، سندھ میں قائم علی شاہ اور مرکز میں ممنون حسین اور نوازشریف کی حکومت ہے۔ تو تم سمجھ گئے ۔ بس تھوڑا سا ہی الٹ پھیر ہے باقی سب ویسا کا ویسا ہے۔اس کو کہتے ہیں دوستی پر کھرا اترنا۔
ہم سمجھے نہیں،تھوڑا کھل کر بتاؤ۔ پہیلی کے انداز کہی گئی بات پر ہم نے فوراً ہی جواب دے ڈالا۔
کامران نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کی حکومت نے ریمنڈ ڈیوس کو سفارت کار بس ثابت کر ہی دیا تھا مگر یہ میڈیا بھی اچھے بھلوں سے توبہ کرادیتا ہے۔ معاملہ کھل گیا اور ثابت ہؤا کہ وہ تو ایجنٹ ہے ۔ کسی خاص مہم پر آیا تھا۔ جوئیل کے بارے میں بھی کچھ ایسا ہی ہؤا۔ پھر اس کی دس لاکھ روپے پاکستانی پر ضمانت ہوئی اور اب سندھ حکومت نے عدالت کے روبرو کہہ کر معاملہ ہی اڑن چھو والا بنا دیا ہے کہ امریکہ کے اس شہر ی نے پاکستان کیلئے اڑان بھرنے سے قبل ہی امریکہ و سندھ کی حکومت سے اسلحہ رکھنے کی جازت لی تھی۔ جو کہ دونوں حکومتوں نے فوراً دیدی ۔
اس پر عدالت نے کیا کرنا تھا ، بس اس امریکی شہر ی کو معصوم الخطا قرار دیدیا۔ اس پر عوام کو کھٹکا ہؤا نہ اور نہ ہی وفاق بھڑکا۔ جیسا اس سے قبل ہؤا تھا۔ اور میڈیا ۔۔۔ اس پر تو اب چلنے والے ایشوز بھی عوامی نہیں رہے ۔ اس پوری صورتحال کا فائدہ اٹھا کر ہم نے دوستی کا حق خوب ادا کیا۔ بس بھئی میں ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کی امریکہ سے محبت کا قائل ہو گیا۔ یہ محبت دوستی کے بغیر پروان تھوڑا چڑھتی ہے۔
سلمان چڑ کر بولا، لگتا ہے تم بھی اس یک طرفہ محبت کی ہلاکت آفرینی کا شکار ہوگئے ہو۔ ہم اپنے قومی مجرموں کو امریکہ کی دوستی میں چھوڑ دیتے ہیں اور وہ اپنے یہاں سگنل توڑنے پر بھی پاکستانیوں کو نہیں چھوڑتے۔ جنرل مشرف کے دور میں ائیر پورٹ پر جوتے اتروانے کی روایات تو آپ کو یاد ہی ہوگی،اور وہاں کے پاکستانیوں کو آج نائن الیون کے 13برس گزرنے کے بعد بھی ایسی نظر سے دیکھا جاتا ہے کہ بس یہ دہشتگرد ابھی حملہ کردیگا۔
میں نے ،سلمان نے اور نعمان نے بھی کھل کر امریکہ مخالف جذبات کا اظہار کیا۔ جیوئل کی رہائی کو قانونی تقاضوں کی خامیاں گردانا، سیاسی جماعتوں کی امریکی اطاعت پر تین صلواتیں سنائیں، یہ سب اس لئے کیا کیوں کہ آج کامران امریکہ کی حمایت میں بول رہا تھا ۔ لیکن اگر سوچا جائے تو آج ہم پرانے کامران بن گئے تھے۔ امریکہ خراب ہے، ظالم ہے اور ہم اس کے دوست نہیں غلام ہیں۔