لائلپور سے لانڈھی جیل تک (5)

  • جمعرات 22 / مئ / 2014
  • 4478

جیمز بانڈ کی روح

جب ارشاد راؤ نے مجھے فون پر کہا کہ مسعود قمر تم واپس آجاؤ تو مجھے احساس ہؤا کہ معاملہ کچھ گڑ بڑ ہے ۔ وہیں ہم تینوں ساتھیوں نے فیصلہ کیا کہ جب تک تحریک چلے گی ہم گھروں میں نہیں جائیں گے۔ چاہے ہمیں صوبہ بدر کیا جائے یا رہا کیا جائے۔

تھوڑی دیر میں یہ خبر شہر میں پھیل گی کچھ صحافیوں کو حکومت نے سندھ بدر کیا ہے اور وہ اس وقت حیدر آباد پریس کلب میں ہیں۔ اچھا خاصا ہجوم اکٹھا ہوگیا۔ ایک شخص ہماری تصویریں لے رہا تھا۔ دیکھا تو وہ اچانک غائب ہو گیا۔ ہم سمجھ گئے کہ ہماری تصویریں سرکار تک پہنچ گئی ہیں۔ رات کوئی گیارہ بجے کے قریب دوستوں نے ہم تینوں کو کراچی جانے والی بس میں سوار کرا دیا۔ ہم نے دیکھا کہ ایک فوجی حجامت والا شخص بس میں سوارہؤا ہے۔  ہم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور اخبار اپنے چہروں کے آگے کر لئے۔

بس جب شہر سے نکلنے لگی تو وہ شخص بس سے اُتر گیا ۔ اصل میں ان حالات میں اگر کوئی آپ کی طرف چار پانچ منٹ بھی گھور کر دیکھتا اور بد قسمتی  سےاگر اُس کی حجامات بھی فوجی انداز کی ہوتی تو وہ ہمیں سی آئی ڈی کا آدمی لگتا۔ بعض دفعہ یہ شک صیح بھی نکلتا تھا۔ مگر بعض دفعہ یاروں نے خود کے بنائے افسانے بھی شہر میں پھیلا رکھے ہوتے تھے۔ اور مرچ مسالے لگا کر بتاتے تھے کہ کیسے وہ سی آئی ڈی والے کو چکمہ دے کر یہاں پینچے ہیں۔ مگر کئی اس نفسیاتی بیماری کا شکار بھی ہو جاتے وہ اپنے ہر رشتےدار اور ہر ملنے والے کو حکومتی جاسوس سمجھتے۔ اور اگر کوئی محفل سے اُٹھ کر جاتا تو وہ بڑی رازداری میں بتاتے کہ ان سے بچ کر رہیں۔ موصوف حکومتی جاسوس ہیں۔

مزے کی بات ہے جب بقایا رہ جانے والوں سے کوئی اُٹھ کر جاتا تو وہ اس کے بارے بھی یہی ارشاد فرما رہے ہوتے۔ وہ غلط نہیں کہہ رہے ہوتے تھے۔ کیونکہ وہ اس بیماری کی وجہ اس پر یقین رکھ رہے ہوتے تھے۔ انڈین کمیونسٹ پارٹی کے ایک بڑے اہم راہنما آخری عمر میں جرمن چلے آئے تھے۔ اُن کی جبیں ہر وقت کاغذات سے بھری رہتیں کیونکہ اُنہیں شک تھا کہ کوئی ان کی غیر موجودگی میں ان کے گھر میں جا کر اُن کی کاغذوں کی تلاشی لیتا ہے۔

بہر حال ہمیں محسوس ہؤا کہ ہماری اطلاع کراچی پینچا دی گئی ہے کہ ہم کس بس میں ہیں  اور کتنے بجے پہنچ رہے ہیں۔ ہم نے فوری طوری اپنی اپنی قمیضیں تبدیل کر لیں اور آئیدہ کا لائحہ عمل بنانے میں مصروف ہو گئے۔ اچانک قیصر بٹ نے کہا مجھے نہیں لگتا ہم کراچی پہنچ پائیں گے ہمارے چہرے سوالیہ نشان بن گئے۔  قیصر بٹ جی کو شک تھا ہمیں جام شورو کے ٹول پلازہ پر کھڑی پولیس  ہمیں پکڑ لے گی۔ سب نے محسوس کیا ایسا ہو سکتا ہے۔  ایسے میں میرے اندر جیمز بانڈ کی روح جانے کب اور کیسے داخل ہو گئی۔ میں نے آنکھیں بند کیں اور خود کو پولیس کو چکمہ دے کر آپریشن کو کامیابی سے ہم کنار ہوتے ہوئے دیکھا۔

جام شورو ٹول پلازہ سے دو سٹاپ پہلے اچانک ساتھیوں کو بس سے نیچے اُترنے کو کہا اور ان کو لے کر اندھیری رات میں جنگل کی طرف چل پڑا۔ کوئی بیس منٹ کے لانگ مارچ کے بعد ہمیں ریلوے لائین کی پٹڑی نظر آئی اور ہم سگریٹ کی روشنی اور انجن کے دھوئیں کی بجائے سگریٹ کے دھوئیں میں ریلوے پٹڑی کے ساتھ ساتھ چل پڑے۔ تقریباٌ تین میل چلنے کے بعد ہم پھر سڑک کی طرف روانہ ہوئے۔ کراچی جانے والی ایک دوسری بس میں سوار ہو کر بیٹھتے ہی ہم نے ایک دوسرے کے ہاتھوں پہ ہاتھ مارتے ہوئے ایک دوسرے کو “آپریشن“ کی کامیابی پر مبارک باد دی۔  جب کوئی اونگھنے لگتا دوسرا اس کو ہلا دیتا کہ کہیں سوتے ہوئے نہ پکڑے جائیں۔ یہ ہمارا وہم تھا یا کیا تھا کچھ نہیں کہہ سکتا اس وقت تو میں اپنے آپ کو جیمز بانڈ کی صورت بس کے سامنے والے شیشہ پہ قہقہہ لگاتے محسوس کر رہا تھا۔

لگتا تھا بس کی ساری سواریاں مجھے جیمز بانڈ کے طور پر پہچان چُکی ہیں مگر مشرقی ماحول کی وجہ سے بس میں سوار کوئی عورت مجھے جام نہیں پیش کر رہی۔  جیمز بانڈ کی روح ایک دفعہ پھر میرے اندر داخل ہو گئی اور ہم کراچی سٹاپ سے دو سٹاپ پہلے ہی بس سے اُتر گئے اور ٹیکسی پکڑ کر سندھ یونیورسٹی کے ہاسٹل اپنے ایک ڈی ایس ایف کے ساتھی کے پاس صبح چار بجے پہنچ گئے (جاری ہے )