ہندوستان کا بدلتا سیاسی منظر نامہ
- بدھ 28 / مئ / 2014
- 4368
16؍مئی 2014کے پارلیمانی نتائج نے یہ صاف کر دیا کہ ملک کی 69%فیصدمنفی ووٹنگ کے باوجود31%فیصد مثبت ووٹنگ کا عمل ملک کی مضبوط حکومت بنانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ انتخابات سے قبل اور دوران جن ایشوز کو بڑے زور و شور اور قوت کے ساتھ سامنے لایا جا تا ہے کامیابی کے بعد وہی ایشوز پس پشت چلے جاتے ہیں۔اور عمارت جن بنیادوں پر کھڑی کی جاتی ہے ان ہی بنیادوں کو ڈھیر کرنے میں ذرا دیر نہیں لگتی۔لہذا یہ مقولہ صحیح ٹھہرا کہ سیاست میں جو دکھتا ہے وہ حقیقت نہیں اور جو پس پردہ ہے وہ سامنے نہیں آتا۔
26 مئی کا دن ہندوستان کی تاریخ میں پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے والوں کے لیے نہایت اہم ہے۔ان لوگوں کے لیے بھی جو نتائج کے بعد ناکام ہوئے اور ان کے لیے بھی جو کامیابی سے ہمکنا ر ہوئے ۔ ناکام ہونے والوں کے لیے یہ دن شاید ان کی سابقہ حکمت عملی میں تبدیلی کا ذریعہ بنے۔ وہیں کامیاب ہونے والوں کے لیے یہ دن ممکن ہے کہ طے شدہ ایجنڈے پر عمل در آمد کا ذریعہ بن جائے۔ قومی و بین الاقوامی میڈیا میں آج چہار جانب ہندوستان چھایا ہوا ہے۔ جمہوریت کے مندر میں آج ایک نئے وزیر اعظم نے حلف اٹھایا ہے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ پڑوسی ملک پاکستان کے وزیر اعظم حلف بردار ی تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدعو تھے۔ سارک ممالک کی بڑی ہستیوں کے علاوہ وڈوڈرا کے چائے والے بھی مہمان خصوصی کے طور پر تقریب میں شریک تھے۔
خوشی و مسرت کے اس موقع پر انتہایہ ہے کہ سابقہ یو پی اے حکومت کے دوران شدت پسندوں کے تعلق سے نرم مؤقف اختیار کرنے پر کل تک جو لوگ بنگلہ دیش اور پاکستان کو ہمیشہ آڑے ہاتھوں لیتے تھے ، آج احساس ذمہ داری کے بوجھ نے ان کو اس قدر دبا دیا ہے کہ ایک طرف حلف اٹھاتے ہیں تو دوسری طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ممکن ہے یہ تبدیلی دونوں ہی جانب سے مثبت ہو لیکن اس ظاہری تبدیلی کے پس پردہ کون سی مجبوریاں ہیں؟یہ ہم جیسا عام فہم شخص شاید کبھی نہ جان سکے۔ فی الوقت تو بس ہم یہی جاننا چاہتے ہیں کہ ممکن ہے یہ تبدیلی دونوں ہی جانب سے مثبت ہو۔ لیکن اس ظاہری تبدیلی کے پس پردہ کون سی مجبوریاں ہیں؟ یہ ہم جیسا عام فہم شخص شاید کبھی نہ جان سکے۔ فی الوقت تو بس ہم یہی جاننا چاہتے ہیں کہ کیا 26؍مئی 2014ہند کی تاریخ میں کیا کوئی نیا باب لکھنے والی ہے۔
اس سوال کا جواب تو وقت ہی دے گا لیکن ایک لمحہ اس مسئلہ کو چھوڑ کر آگے بڑھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ جمہوریت کے مندر میں آج جو لوگ داخل ہو رہے ہیں ان کے بارے میں اے ڈی آر کیا کہتا ہے۔ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک رفورم(ADR) کے جائزے کی روشنی میں34%فیصد ممبران پارلیمنٹ وہ ہیں جنھوں نے اپنے افیڈیوٹ( Affidavits)اس بنا پر جمع کروائے کہ ان خلاف مختلف چھوٹی و بڑی عدالتوں میں مجرمانہ کیس چل رہے ہیں۔اس کے باوجود متذکرہ ممبران پارلیمنٹ کو عوام کے ذریعہ حق رائے دہی کے نتیجہ میں سولہویں لوک سبھا میں داخلہ کی اجازت مل چکی ہے۔مجرمانہ کردار کے ممبران پارلیمنٹ کی یہ تعدادگزشتہ 2004اور2009لوک سبھا میں بالترتیب24%فیصد اور30%فیصد تھی جو اب 4%فیصد اضافے کے ساتھ34%فیصد ہو چکی ہے۔
اگر ملک کی اُن بڑی سیاسی پارٹیوں کی بات کی جائے جن کے30سے زائد ممبران پارلیمنٹ سولہویں لوک سبھا میں کامیاب ہوئے ہیں توان میں مجرمانہ کردار رکھنے والی پارٹیاں کچھ اس طرح ہیں۔بی جے پی:282MPsمیں مجرمانہ کرداررکھنے والے35%فیصد ،کانگریس:44MPsمیں مجرمانہ کرداررکھنے والے18%،AIADMK:37MPsمیں مجرمانہ کرداررکھنے والے 16%فیصد اور،BJD:20MPsمیں مجرمانہ کرداررکھنے والے15%فیصد ۔وہیں دوسری طرف سولہویں لوک سبھا میں ممبران پارلیمنٹ کی دولت کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ 82%فیصدMPsایسے ہیں جن کی دولت ایک کروڑ سے زائد ہے۔یہ تعداد گزشتہ2004کے بالمقابل30%فیصد ذیادہ ہے۔ اور 2009کے بالمقابل 58%فیصد اضافہ ہے۔دولت کی ریل پیل میں آندھرا پردیش کی تین پارٹیاںTDP,TRSاورYSRCPکی اوسط دولت50؍کروڑ سے زائد ہے۔
جبکہ ممبران پارلیمنٹ میں سے زیادہ دولت رکھنے والے گنتور سے TDPکے جیادیوگلّا(Jayadev Galla)ہیں۔ جیادیو گلّا کے پاس683کروڑ روپیہ کی مالیت ہے۔اسی طرح کانگریس کے MPsکی اوسط مالیت 16کروڑ روپے اور بی جے پی کے MPsکی اوسط مالیت11کروڑ ہے۔سب سے کم مالیت رکھنے والے ایم پیCPI(M)کے ہیں۔جن کی اوسط مالیت79لاکھ ہے۔ ترنمول کانگریس کی اوما سرین(Uma Saren) کمتر ترین5؍لاکھ روپے کی مالیت رکھتی ہیں۔یہ وہ معزز ممبران پارلیمنٹ ہیں جنھیں عوام نے اپنے بھر پور اعتماد کے ساتھ سولہویں لوک سبھا میں اس لیے بھیجا ہے کہ وہ ملک میں امن و امان کے قیام اور غربت و افلاس کے خاتمہ میں اپنا موثر کردار ادا کریں گے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ مجرمانہ کردار رکھنے والے اور غریب ملک کے کروڑپتی ممبران پارلیمنٹ مزید اپنے مال و دولت میں اضافہ کریں گے یا عوام کی امیدوں پر پورے اتریں گے۔ملک عزیز ہند کی یہ وہ تصویر ہے جو وقت اور حالات کے ساتھ ممکن ہے کہ تصورات میں بھی تبدیلی لائے ۔لیکن آنے والی تبدیلی میں آپ کا کردار کیا ہوگا؟یہ خود آپ ہی کو طے کرنا ہے۔
اس موقع پر مسلمان ہند جو خصوصاً16؍مئی کے بعد ایک عجیب کشمکش میں مبتلا ہیں انہیں ہم بتا نا چاہتے ہیں کہ آپ کا یہ طرز عمل آپ کی حیثیت کے لحاظ سے مناسب نہیں ہے۔یہ الگ بات ہے کہ ہم اپنی حیثیت سے آج خود ہی واقف نہ رہے ہوں۔لیکن جس طرح انتخابی نتائج کے بعد نہ صرف ناکام زدہ افراد اور پارٹیوں نے ناکامی کا ٹھیکرا مسلمانوں کے سر پھوڑنے کی کوشش کی اور براہ راست یا بلاواسطہ انہیں مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔وہیں خود مسلمان بھی مسلم تنظیموں کے قائدین، علما کرام، قائدین ملت کے فیصلوں کو برا بھلا کہنے سے نہیں چوک رہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ ناکامی آپ کی ہوئی ہے یا اُن سیاسی پارٹیوں کے لیڈران کی جن کی روٹی روزی ہی آپ وجہ سے چلتی تھی؟
گزشتہ دنوں اتر پردیش میں جب آپ نے بھر پور اکثریت کے ساتھ ایک پارٹی کو کامیاب کیا، تب آپ کو کیا فائدہ حاصل ہوا ؟واقع یہ ہے کہ ریاست میں کامیابی کے سال دوسال ہی گزرے تھے کہ تقریباًسو سے زائد چھوٹے بڑے فسادات رونما ہوئے۔اور اب جب کہ وہ ہار چکے ہیں توکیا ایسا بڑانقصان ہونے والا ہے جس سے آج تک آپ دوچار نہیں ہوئے؟درحقیقت تقسیم تو وہ ہوئے ہیں اور انہیں ، ان ہی کے اعمال بد نے رسوا بھی کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج بہار کا سیاسی منظر نامہ تبدیل ہو رہا ہے۔ توقع ہے اُن کو اپنی غلطیوں کے سدھارنے کا موقع ملے گا اورنتیجہ میں 2014کے اختتام تک ہونے والے بہار اسمبلی الیکشن میں ،آپ کے اپنے موقف پر برقرار رہنے کے باوجود ،نتائج میں بڑی تبدیلی سامنے آئے گی۔یاد رکھیں ملک کا سیاسی منظر نامہ نہ صرف آج بلکہ گزشتہ 70سالوں میں لگاتار تبدیلی ہوتا رہا ہے۔لیکن کامیابی سے ہمکنار وہی لوگ ہوئے ہیں جو ناکامیوں کے بعد بھی اپنے موقف پر جمے رہے،حوصلے بلندرکھے،لائحہ عمل میں تبدیلی کی اورکامیابیوں کے سراغ تلاش کرتے رہے۔