یاد ماضی کانفرنس کا انعقاد
- بدھ 28 / مئ / 2014
- 5056
ماضی سے کسے پیار نہیں ہوتا ۔ ماضی تو ایک اثاثہ بلکہ زاد راہ تصورکیاجاتا ہے کہ جس کے سہارے پرلوگ پوری زندگی بِتا دیتے ہیں ۔ماضی سے جڑی انسانی ذہن کو خوشگوار یادوں سے منور و مزین رکھتی ہے ۔ویسے شاعر نے تو کہا تھا کہ:
یادِ ماضی عذاب ہے یارب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
لیکن ضروری نہیں کہ ماضی ہر شخص کے لیے عذاب کا باعث رہا ہو۔ قابل فخر بھی تو ہوسکتا ہے ۔انسانی نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی کی یادیں خوشگوار ہوں یا ناخوشگوار ان سے آدمی محظوظ بھی ہوتا ہے اور سبق بھی حاصل کرتاہے ۔ماضی کے حوالے سے یہ بھی کہاجاتا ہے کہ ماضی سے لاتعلق رہ کر حال میں مست رہنے والوں کا مستقبل کبھی استقبال نہیں کیاکرتا۔ اس لیے اچھا یا بْرا ،ماضی بہرحال بھلایا نہیں جاسکتا اور نہ ہی اسے بھلایا جانا چاہئے کہ کھوئے ہوئے یا کھوئے ہوووں کی جستجو بھی انسان کو زندگی میں متحرک اور فعال رکھتی ہے۔
اسی ماضی کو کھنگالنے اور اس میں سے یادوں کے موتی نکال باہر لانے کے لیے الحمراء آرٹس کونسل نے تین روزہ کانفرنس کا اہتمام کیا ۔جس کا موضوع تھا ’’بیتے ہوئے دن یاد آتے ہیں ‘‘ ۔موضوع بظاہر عام سا تھا لیکن اس کا پھیلاو اس قدر ہوگا ، اس کا اندازہ شاید خود منتظمین کو بھی نہیں ہوگا۔اسی لیے تو انہوں نے پورے ملک سے ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کو مدعو کررکھاتھا۔ان میں سیاستدان بھی تھے جرنیل بھی ، ادیب وشاعر بھی تھے ،سائنسدان بھی تھے ڈاکٹرز بھی ، فنکار بھی تھے اور صحافی بھی ، انجینئرز بھی تھے اور اساتذہ بھی ،اداکار بھی تھے اور صداکار بھی ۔اور پھراندرون ملک سے ہی نہیں ہمسایہ ملک بھارت سے بھی بڑے ادیبوٓں اور شاعروں کو کانفرنس کی زینت بنایا گیا تھا ۔گویا یہ بھان متی کا کنبہ نہیں ایک کہکشاں تھی جو آسمانِ علم وادب سے الحمرا کی سرزمین پر اتر آئی تھی ۔
کانفرنس کا پہلا روز تو مہمان خاص وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہبازشریف کی نذ ر ہوگیا ۔جنہوں نے شیڈول کے مطابق اس کانفرنس کے اختتامی سیشن کو رونق بخشنا تھی جبکہ ان کے بردادرِ بزرگ وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے کانفرنس کے پہلے روز افتتاحی تقریب میں شرکت کرنا تھی ۔لیکن ان کی ہنگامی مصروفیات کی بنا پر یہاں آمد ممکن نہ ہوسکی اور ان کی جگہ میاں شہبازشریف نے کانفرنس کا افتتاح کیا ۔انہوں نے بھی اپنے ماضی کو ٹٹولا اور کچھ دلچسپ واقعات حاضرین کو سنائے ۔اگلے روز وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات الحمرا میں رنجہ فرما ہوئے اور اپنی یادوں کے دیپ روشن کیے جب کہ آخری روز کے اختتامی سیشن کے مہمان خصوصی کا قرعہ برصغیر کے بڑے افسانہ نگارانتظار حسین کے نام نکلا جو پہلے ہی تین روز سے اس کانفرنس کو رونق بخشے ہوئے تھے ۔انتظار حسین کو مہمان خصوصی بنایاجانا موضوع کی مناسبت سے بھی بڑا relevant تھا۔کہ وہ خود ’ماضی کاکاروبار‘ کرتے چلے آئے ہیں اور ابتک اپنی یادیں ہی بیچتے رہے ہیں ۔
کانفرنس کا ایک اہم آئٹم کل پاک وہند مشاعرہ تھا جس میں ایک سو کے قریب شعراء(و شاعرات ) نے اپناکلام سنایا۔ مشاعرے کی صدارت حسب توقع بزرگ شاعر ظفر اقبال نے کی ۔مہمانوں میں (’’انصاری برداران‘‘) سحر انصاری، اسلم انصاری ، ڈاکٹر خورشید رضوی اور بھارت سے آئے سردار پری پال سنگھ بیتاب تھے ۔شعراء کی اس قدر بڑی تعداد کو ’’قابو‘‘( یا نظم میں )رکھنے کے لیے کشور ناہید کی خدمات حاصل کی گئی تھیں ۔ جنہیں بات کہنے اور بات منوانے کا سلیقہ بھی آتاہے ۔کانفرنس کی مدارالمہام چیئرمین آرٹس کونسل عطاء الحق قاسمی کی معاونت بھی انہیں حاصل تھی ۔ سو انہوں نے بڑے احسن انداز میں مشاعرہ کنڈکٹ کیا ۔
کانفرنس کے تینوں روز الحمرا آرٹس کونسل میں کوئی دوسری ثقافتی اور ادبی ایکٹیویٹی نہیں ہوئی ۔ادیبوں شاعروں ، دانش وروں اور فنکاروں کاایک میلہ تھا جسے شہر لاہور کے باسیوں کے علاوہ دوسرے شہروں سے بھی اہل ذوق اپنی پسندکی شخصیات کودیکھنے اور سننے کے لیے جوق در جوق یہاں پہنچے تھے ۔یہاں کتابوں کی نمائش بھی تھی جہاں سے یار لوگوں نے پچاس فیصد ڈسکاونٹ سے کتب بھی خریدیں ۔علاوہ ازیں کھانے کا اہتمام بھی تھا۔کانفرنس میں شریک متنوع قسم کی شخصیات نے تین دنوں کے دوران اپنی یادوں کی پٹاری کھولی اور حاضرین کے سامنے رکھ دی ۔اپنی یادوں کی دھنک خوشبوئیں بکھیرنے والوں نے اپنے خوشگوار ناخوشگوار اور تلخ و شیریں یادیں تازہ کیں ۔
پروگرام کی کامیابی کا سب سے بڑا ثبوت یہ تھا کہ تینوں روز ان پروگراموں میں حاضرین کی بڑی تعداد موجود رہی اور ہمہ تن گوش اپنے پیارے اور آئیڈیل لوگوں کو سنتی رہی ۔عجیب اور حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ایسی نابغہ شخصیات بھی تھیں جنہوں نے موضوع کی روح کو صحیح طورپر سمجھا ہی نہیں اور ہمارے دانش ور دوست زاہد مسعود کے الفاظ میں وہ لوگ موضوع کوconceive ہی نہ کرسکے۔یہی وجہ تھی کہ انہوں نے مائیک پر کھڑے ہو کر زیادہ وقت لوگوں کو بور( اور مایوس) ہی کیا ۔ ایسے بھی تھے جنہیں لگتا ہے پہلی مرتبہ کسی پلیٹ فارم پر بولنے کاموقع میسر آیاتھا جس کا انہوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اپنے ’’ ناخوشگوار ماضی ‘‘ کی تمام کسریں نکال دیں ۔یوں گویا ہوئے کہ رکنے کا نام تک نہ لیتے تھے۔ منتظمین خصوصاً سٹیج سیکرٹری ( کہ جو پہلے ہی خاصی نازک اندام تھیں ) کے لیے مشکل کہ وہ اس رواں دریا کے آگے کیسے بند باندھیں ۔بعض’’ بھولے بادشاہ‘‘ تواپنی سوانح حیات ہی اٹھالائے تھے جس کے ابتدائی باب انہوں نے سامعین و حاضرین کے گوش گزار کیے۔ یوں گویا اس انداز میں بھی حاضرین کے صبر کاامتحان لیاجاتارہا۔ لیکن ایسے ہوشیار ، زیرک ، معاملہ فہم اور سمجھدا ر اصحابِ دانش بھی تھے جنہوں نے حاضرین کے موڈ کو سمجھا ، ان کے تیور دیکھے اور وقت کی نزاکت کو پیش نظررکھتے ہوئے مختصر وقت میں ایسی گفتگو کی کہ میدان ہی مارلیا اور حاضرین کی بھرپورداد سمیٹ کر یہ جاوہ جا۔ ان کامیاب و مقبول شخصیات میں انتظار حسین ،معروف ادیب ممتا زمفتی کے صاحبزادے عکسی مفتی،سابق آئی جی پولیس شوکت جاوید، ثریا ملتانیکر ،صحافی لطیف چوہدری ، صحافی جبارخٹک، پروفیسر مجاہدکامران ، معروف گائنی کالوجسٹ ڈاکٹر راشد لطیف ، اداکار سہیل احمد ،انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے انصار برنی ، بھارت سے آئے شاعر پری پال سنگھ بیتاب اور دیگر شامل تھے ۔جنہوں نے اپنی یادوں کے بعض گوشوں سے بے تکلفانہ انداز میں پردہ سرکایا ،حاضرین کواپنے ساتھ لیا، ان کی انگلیاں پکڑ کر ماضی کی گلگشت کی ہنستے ، کھیلتے ، اچھلتے اور کودتے سیر کرائی ۔ یوں حاضرین و سامعین بھی لوٹ پوٹ ہوئے اور قصہ گو اور کہانی کار بھی فاتحانہ انداز میں ایک سرشاری کے ساتھ اپنے گھروں کو لوٹ گئے ۔
تین دن تک جاری رہنے والی اس کانفرنس کے موضوع کے پھیلاو اور شخصیات کی غیرمعمولی لمبی چوڑی گفتگو کا منفی نتیجہ بھی برآمد ہوا کہ بہت سی شخصیات بات کیے بغیر رخصت ہوگئیں۔ایک خاتون افسانہ نگارنے تومنہ بسورتے ہوئے ہمیں بتایاکہ وہ کئی گھنٹے سے اپنی باری کے انتظار میں بیٹھی رہیں لیکن انہیں بلایا ہی نہیں گیا۔سو وہ بے نیلِ مرام واپس جارہی ہیں ۔الغرض تین روزہ کانفرنس اپنے جلو میں کھٹی مٹھی یادیں لیے اختتام پذیر ہوگئی ۔ان تین دنوں کے دوران اہل لاہور اور اس کانفرنس کے شرکاء کو جو پرامن ، پرسکون ، خوشگوار ماحول میسر آیا وہ کسی نعمت سے کم نہیں ۔وہ انہی خوشگوار لمحات کو حرزِ جاں بنائے اگلے کانفرنس کا انتظار کریں گے ۔اس کے لیے عطاء الحق قاسمی ،ڈاکٹر یونس جاوید، صبح صادق اور ان کی ٹیم بلاشبہ مبارکباد کی مستحق ہے ۔