لائل پور سے لانڈھی جیل تک (6)
- بدھ 28 / مئ / 2014
- 4960
صبح اُٹھ کر ہم الفتح کے دفتر راؤ ارشاد کے پاس چلے گئے اور سارا دن تحریک اور ملکی صورتِ حال پر گفتگو کرتے رہے۔ میں نے اپنے اس فیصلے کابھی ذکر کیا جو ہم ساتھیوں نے کیا تھا کہ جب تک تحریک چلے گی ہم اپنے گھروں کو نہیں جائیں گے۔ جب اس سلسلے میں گفتگو شروع ہوئی تو میں نے محسوس کیا کہ دوسرے ساتھی اس فیصلہ پہ برقرار رہنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں۔
بہر حال وہ ٹکٹیں کٹا کر اپنے اپنے شہروں کو چل پڑے اور میں گرفتاری کا ٹکٹ کٹا کر شام کو چار ساتھیوں سمیت ریگل چوک میں گرفتاری دینے کی تیاری کرنے لگا۔ پولیس اپنی تمام تر کوشش کے باوجود گرفتاری دینے سے پہلے کسی کو گرفتار کرنے میں ناکام رہتی۔ گرفتاری دینے اور مقام کا اعلان کر دیا جاتا۔ گرفتاری دینے والے ایک دو گھنٹہ پہلے ہی اس مقام کے قریب کسی چائے خانے میں جا بیٹھتے۔ لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہونا شروع ہو جاتا جن میں بچے عورتیں اور بوڑھے بھی ہوتے۔ جن کے ہاتھوں میں پھول ہوتے جو وہ گرفتری دینے والوں پہ برساتے۔
کراچی پریس کلب سے ایک چھوٹی سے ٹولی آزادئ صحافت زندہ باد اور مارشل لا مردہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے آتی۔ پولیس ان کی طرف بھاگتی۔ اتنے میں گرفتاری دینے والے چائے خانے سے نکل کر قمیضوں کے اندر چھپے پلے کارڈ نکالتے اور نعرے بلند کرتے سڑک پر آجاتے۔ میں بھی اپنے ساتھیوں سمیت ریگل چوک کے قریب ایک چائے خانے میں کوئی ایک گھنٹہ پہلے ہی آکر بیٹھ گیا تھا۔ جیسے ہی وقت ہؤا پولیس پریس کلب کے طرف سے آنے والی ٹولی کی طرف لپکی۔ یم نے ریگل چوک کے درمیان بنے چوراہے پر کھڑے ہو کر آزادئ صحافت کے نعرے مارنے شروع کر دئے۔ جس کا جواب عوام زور و شور سے دے رہے تھے ۔
اگلے دن ہم پھر لانڈھی جیل میں تھے۔ جہاں پہلے سے بھی زیادہ رونق لگی تھی۔ شبر اعظمی ابھی تک بیرک کے انچارج بنے ہوئے تھے۔ سندھ کی جیلیں صحافیوں ، کسانوں مزدوروں طالب علموں اور سیاسی کارکنوں سے دن بدن بھرتی جا رہیں تھیں۔ بقول فیض احمد فیض لگتا تھا ، ساری بپتا کٹ جائے گی دوچار ہاتھ لگے ناؤ پورم پار لگی ۔
لانڈھی جیل میں ہی ایک پولیس انسپکڑ قیدی سے ملاقات ہوئی جو ممتاز بھٹو کو کراچی جیل سے عدالت اور عدالت سے واپس جیل لے کر آتا تھا۔ انسپکڑ عدالت سے واپس آتے ہوئے ممتاز بھٹو کو ان کے گھر لے جاتا جہاں ممتاز بھٹو پارٹی کے لوگوں سے رابطے کرتے۔ کھانا کھاتے۔ آرام کرتے اور جیل بند ہونے سے تھوڑی دیر پہلے یہ انسپکڑ ممتاز بھٹو کو جیل پینچا دیتا۔ مگر ایک دن ممتاز بھٹو گھر کے اندر تھے اور یہ انسپکڑ گھر کے باہر پولیس جیپ میں بیٹھا تھا۔ ایک فوجی افسر نے یہ سب دیکھ لیا۔ فوجی سے یہ غلطی ہوئی کہ وہیں کھڑے کھڑے مزید نفری منگواتا اور اس انسپکڑ کو گرفتار کرتا۔ وہ نفری لینے چلا گیا۔ انسپکڑ نے فوری جا کر اندر سے ممتاز بھٹو کو لیا اور تیزی سے جیپ چلا کر ممتاز بھٹو کو جیل والوں کے حوالے کر دیا۔ مگر فوج نے اس انسپکڑ کو برطرف کر کے اس کو جیل میں ڈال دیا۔
بڑی عید سے ایک دن پہلے ایک دوپہر پھر پنجاب سے آئے ہوئے ہماری تحریک کے لوگوں کو رہا کر دیا گیا۔ جس میں میرا نام بھی شامل تھا۔ اصل میں حکومت کے اندر بیٹھے لوگ ہماری تنظیم میں سندھی پنجابی کی تفریق ڈالنا چاہتے تھے۔ میں نے جیل کے دفتر سے ہی الفتح فون کیا اور ساری صورت حال بتائی ۔ ساتھیوں نے کسی کو کار دے کر بیجھا جو ہمیں جیل سے لے کر الفتح کے دفتر لے آیا۔ وہاں جا کر پتہ چلا کہ جیلیں تو صحافیوں سے توبھری پڑی ہیں مگر اب گرفتاری دینے والے صحافیوں کی کمی کا مسلئہ بنا ہؤا ہے۔ اور تنظیم عید کے دن باغ جناح میں گرفتاری کا اعلان کر چُکی ہے۔ اس کے لیے مجھے منتخب کیا گیا ۔
باغ جناح میں اس وقت کے فوجی گورنر عباسی نے اور تمام اسلامی ملکوں کے سفیروں نے نماز عید پڑھنی تھی۔ تنظیم چاہتی تھی یہاں سے گرفتاری دے تاکہ تمام اسلامی ملکوں تک یہ خبر پہنچے۔ عید کے صبح ہم نے ایک گھر میں حلوا پوری کا نا شتہ کیا۔ ہم وہاں جلدی نہیں جا نا چاہتے تھے کہ کہیں پہچا نے نہ جائیں۔ مگر ہم کچھ زیادہ ہی لیٹ ہو گئے۔ گورنر اور سفیروں کے آنے کی وجہ سے سیکورٹی بہت سخت تھی۔ پہلے آٹھ دس لائینوں میں تو خفیہ ایجنسیوں کے لوگ اور سرکاری ملازمین تھے۔ لیٹ ہونے کی وجہ سے ہمیں آخری صفوں میں جگہ ملی۔
میرے ساتھ جو دو سندھی گرفتاری دے رہے تھے ان کو سوائے اسلام و عیکم کے کوئی اردو ہنجابی لفظ نہیں آتا تھا۔ بہر حال جیسے ہی مولوی صاحب نے دعا پڑھا کر ہاتھ چہرے پہ پھیرا۔ ہم نے قمیضوں کے اندر سے پلے کارڈ نکالے۔ میں نے مارشل لا مردہ باد کا نعرہ لگایا تو لوگوں نے تو کیا جواب دینا تھا کہ ان میں زیادہ تر تعداد سرکاری ملازمیں کی تھی میرے ساتھیوں نے بھی نعرے کا جواب نہیں دیا۔ مجھے ایک سیکنڈ میں اپنا یہ شو ناکام ہوتا ہؤا محسوس ہؤا۔ میں نےساتھیوں کو اشارہ کیا اور اگلی صفوں کی طرف دوڑ لگا دی اور تین منٹ میں سیکورٹی کا حصار توڑتے ہوئے ہم گورنر عباسی کے آگئے کھڑے تھے۔ مجھے زیادہ سے زیادہ ایک یا دو منٹ ملے ہوں گے۔ میں نے مارشل لا کے خلاف اور آزادیئ صحافت کے حق میں ایک دو نعرے ہی لگائے ہوں گے کہ سادہ کپڑوں میں فوجیوں نے ہماری گردنوں کو دبوچ کر ہمیں زمیں پر گرا دیا۔
ہمارے پلے کارڈ پھاڑ دئے گئےاور وہیں ہم پہ تشدد کرنا شروع کر دیا گیا۔ قریب ہی کچھ داڑھیوں والے قربانی کی کھالوں حاصل کرنے کے پلے کارڈ لیے کھڑے تھے۔ پولیس نے ان کو بھی پکڑ لیا۔ وہ روتے رہے اور چیختے رہے کہ وہ ہمارے ساتھ نہیں ہیں مگر پولیس نے اُن کی ایک نہ سُنی۔ پانچ دس منٹ کے تشدد کے بعد پولیس ہمیں جیپ میں بیٹھا کر لے گئی۔ میں جیپ میں پولیس والوں کے چہروں سے اندازہ لگا لیا کہ آج خیر نہیں ہے۔ یہاں سے سندھ میں پہلے بھر پور تشدد کا آغاز ہوتا ہے ( جاری ہے )