لائل پور سے لانڈھی جیل تک (7)

  • جمعرات 29 / مئ / 2014
  • 4296

دیوار پر کوئلے سے بنایا سیاہ سورج

میں نے سپاہیوں کے چہروں سے ہی اندازہ لگا لیا تھا کہ آج خیر نہیں ہے۔ جیسے ہی پولیس کی جیپ تھانہ کے احاطہ میں رکی پیچھے بیٹھے ایک سپاہی نے جیپ میں ہی مجھے پر تھپڑوں کی بارش کر دی اور میری قمیض کا کالر پکڑ کر مجھے جیپ سے نیچے اُتارا۔ اور تھانے کے اندر لے جاتے ہوئے تین چار سپاہی مجھے بید کی چھڑیوں سے مارتے رہے۔

میں نے دیکھا میرے دوسرے دو ساتھیوں کو جیپ سے نہیں اُتارا گیا تھا۔ ان کو لے کر وہ کہیں اور چلے گئے۔ انسپکڑ کے کمرے میں جاتے ہی اُنھوں نے مجھے زمین پہ گرا دیا۔ میری ٹانگوں اور بازوں کو دو تین سپاہیوں نے پکڑ رکھا تھا اور ایک سپاہی چھڑی میری پشت اور کمر پہ مار رہا تھا اور ساتھ ساتھ گندی گالیاں مجھے، بھٹو اور برنا جی کو دیتا جاتا تھا۔  میری چٰیخیں آسمان تک جا رہی تھیں مگر وہاں تو سب نے کانوں میں ائیر پلگ ڈالے ہوئے تھے۔  یہ سلسلہ کوئی سات سے نو منٹ چلا ہوگا کہ ایک سپاہی نے میری چہرے پر ٹھڈا مارا جو میرے ناک پہ لگا۔  ناک سے خون بہنا شروع ہو گیا۔ خون دیکھ کر انھوں نے تشدد کرنا بند کر دیا اور مجھے اُٹھا کر دیوار کے ساتھ کھڑا کر دیا اور گالیاں دینی شروع کر دیں۔

یہ گالیاں شاید نواب آف کالا باغ کے بھی ذہن میں نہ آئی ہوں گی۔ کوئی تین چار منٹ بعد اس علاقے کے ایس ایس پی بھی آگئے۔ انھوں نے کمرے میں داخل ہوتے ہی چار پانچ تھپڑوں سے میرے ساتھ مصافحہ کیا۔ میرا نام گھر کا پتہ لکھ کر مجھے ایک کمرے میں پھینک دیا گیا۔  مجھ سے بیٹھا نہیں جا رہا تھا پیٹھ پہ سوزش ہو گئی تھی۔ میں کبھی دیوار کے سہارے کھڑا ہو جاتا۔ کبھی کمرے میں چلنے پھرنے لگتا۔   دو تین گھنٹے بعد مجھے پھر انسپکڑ کے کمرے لایا گیا اور مجھ پہ سوالات کی بوچھاڑ کر دی  گئی۔  کہ کون آدمی فیصلہ کرتے ہیں کہ کس نے کس دن گرفتاری دینی ہے ؟ پیپلز پارٹی سے تم لوگوں کو کتنے پیسے ملتے ہیں ؟

ان سوالات کے درمیان پتہ چلا کہ وہ مجھ پر اتنا ناراض کیوں ہیں۔ ایک تو اتنی بڑی سیکورٹی کا حصار توڑ کر میں گورنر عباسی کے سامنے کھڑا ہو گیا تھا۔ اور مارشل لا کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔ دوسرا اس علاقے میں کوئی دو ماہ پہلے دو قتل ہو گئے تھے۔ اس علاقے کے ایس ایس پی اور انسپکڑ نے دن رات ایک کر کے اس قتل کے مسلئے کو حل کیا تھا اور سمجھے تھے کہ عید کیا چھٹیاں آرام سے گھروں میں گزاریں گے۔ لیکن ہم نے اس علاقہ میں گرفتاری دینے کا اعلان کر دیا ۔  ایس ایس پی مجھے گالیاں دیتے ہوئےکہہ رہا تھا کہ کسی اور علاقے میں گرفتاری دے دیتے۔ میرا ہی علاقہ کیوں منتخب کیا تم لوگوں نے۔۔۔

کوئی ایک گھنٹہ کی تفتیش کے بعد مجھے ایک دوسرے کمرے میں بند کر دیا گیا۔ جہاں پہلے سے ہی آٹھ دس حوالاتی قید تھے۔ انھوں نے شاید میری چیخیں سن لی تھیں انھوں نے بھی سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔  کون ہو تم ؟ کس جرم میں آئے ہو ؟ تم کو مارا کیوں گیا ؟ ان میں ایک آدمی خاموش لیٹا تھا اور دو حوالاتی اس کی ٹانگیں دبا رہے تھے۔ میں نے جب اپنے آنے کی وجہ بتائی تو پہلی دفعہ اس آدمی نے ڈبیا سے سگریٹ نکالتے ہوئے میری طرف دیکھا۔ میں نے اس سے کہا کہ کیا مجھے ایک سگریٹ مل سکتی ہے۔ تو اُس نے ڈبی اور ماچس میری طرف پھینک دی۔

میں نے سگریٹ نکال کر جب ڈبی اس کو واپس کی تو اس نے کہا رکھ لو تمھارے کام آئے گی۔ شام کے کوئی چھ سات بجے ان لوگوں کے رشتے دار ان کے لیے کھانا لے کر آئے۔  جب ہم گرفتاری دیتے تھے تو کراچی پریس کلب میں کام کرنے والے ایک خان صاحب ہمارے لیے تھانے میں کھانا لے کر آتے تھے۔ مگر آج کوئی نہیں آیا تھا۔ مجھے ان کا پورا نام یاد نہیں ہے مگر وہ مزدور کسان پارٹی سے تعلق رکھتے تھے۔  اس پہلوان ٹائیپ کے آدمی نے مجھے اپنے ساتھ کھانے میں شامل ہونے کی دعوت دی جو میں نے فوری طور پر قبول کر لی۔ دس بجے تک یہ سب لوگ مختلف راگوں میں خراٹے لیتے ہوئے سو رہے تھے۔ بارہ بجے کے قریب سپاہی نے کمرے کا دروازہ کھولا اور مجھے نکال کر پھر اسی کمرے میں پھینک دیا۔  میں حیران تھا اور سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس کا کیا مطلب ہے۔

میں نے دیکھا ننگے فرش ہہ چیونٹیوں اور چھوڑے چھوڑے کیڑوں کی بھرمار ہے۔ پہلے تو میں ان کو ہاتھ سے ادھر اُدھر کرتا رہا۔ پھر میں نے سگریٹ سُلگائی جو کیڑا اور چھونٹی میرے طرف آتی میں سگریٹ اس کے آگے کر دیتا وہ سگریٹ کے دھوئیں سے اور سگریٹ پہ سلگتی آگ کی تپش سے واپس مڑ جاتے۔ آخر انھوں نے میری طرف آنا بند کر دیا۔ شاید ان کو یقین ہو گیا تھا کہ میرے پاس مٹھاس نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ میں دیوار کے ساتھ بیٹھا سونے کی کوشش کر رہا تھا کہ مجھے برآمدے سے دو آدمیوں کی گفتگو سُنائی دی۔ کوئی کسی کو کہہ رہا تھا  کہ یار جانے کب فوجی ٹرک آئے گا اس خبیث صحافی کو لے کر جائے گا اور کب ہماری جان چھوڑے گی۔

مجھے ایسا لگا جیسے کسی نے مجھے برف کے بلاک کے اندر پھینک دیا ہے اور میری کیفیت ایسی ہو گئی جیسے سیمنٹ کی دیوار پہ دانت رگڑنے سے کسی کی ہوتی ہے۔  قید میں اکثر لوگوں کے پاجامے پیشاب سے گیلے ہو جاتے ہیں مگر مجھے محسوس ہؤا میری پینٹ پسینے سے گیلی ہو رہی ہے۔ عجیب صورت حال تھی میرا آدھا جسم سردی سے کپکپا رہا اور آدھا جسم گرمی کی تپش سے تپ رہا تھا۔ میں نے کانپتے ہاتھوں سے سگریٹ نکال کر سُلگائی ، جانے کہاں سے ٹارچر سلوں میں ہونے والے تشدد والے افسانے ذہن میں آنے لگے۔ کبھی سارتر کا دیرار ، کبھی حسن ناصر کا ازار بند ، کبھی صبح کے اخبارات میں چھپنے والی میری خود کشی کی پریس رلیز۔ 

 میں نے آواز دی سپاہی آیا تو میں نے کہا کہ مجھے پیشاب کرنا ہے۔ اس نے کمرے میں رکھے ایک برتن کی طرف اشارہ کیا۔  میں جب پیشاب کرنے لگا تو نہ جانے کیوں آیا ہؤا پیشاب رک گیا۔ یہ عمارت لبِ سڑک تھی۔ جیسے ہی سڑک پہ چلتی ہوئی کسی گاڑٰی کی بریک لگتی میری دل پہ جھٹکے کے ساتھ ایک بریک لگتی۔ میں نے کمرے میں پڑی کوئلے کی بوریوں میں سے ایک کوئلہ پکڑا اور دیوار پہ سورج بنانے کی کوشش کرنے لگا۔ اس حوالات میں گزری رات کا سورج نکلا مگر وہ بھی میرے دیوار پہ بنے سیاہ سورج کی طرح سیاہ ہی نکلا اور ہماری زندگیوں میں اس حوالات کی سیاہ رات ابھی تک ختم نہیں ہوئی تھی( جاری ہے )