افغانستان امن سے محروم ہی رہے گا
- جمعرات 29 / مئ / 2014
- 4825
پاکستانی شہری عدنان سومرو سے زیادہ امریکی میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا ،یہ اٹھتے ،بیٹھتے امریکی حمایت میں رطب السان رہتا ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں گو امریکہ گو کی بنیاد پر الیکشن لڑتی اور کامیاب ہوتی ہیں ،مگر وہ عوام کے جذبات اور احساسات کی پروا نہ کئے بغیر اس کی خوبیوں کے گن گاتا رہتا ہے۔
تیز گرمی سے بچاؤ کیلئے ہم چار دوست جوہر موڑ کی ایک دکان پر لسی پی رہے تھے کہ عدنان یہاں بھی شروع ہوگیا ۔کہنے لگا کہ امریکی صدر بارک اوباما نے افغانستان کے دورے کے بعد وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے درست کہا ہے کہ جنگ کا خاتمہ اسے شروع کرنے سے زیادہ مشکل کام ہے۔میں تو انہیں شروع دن سے ہی حقیقت شناس مانتا ہوں۔گرمی میں امریکہ مخالف جذبات کا اظہار گو کہ آسان ہوتا ہے مگر تمام دوست برداشت کرگئے۔ہماری خاموشی کا فائدہ اٹھتے ہوئے اس نے کہا کہ امریکی عراق کے بعد افغانستان کو بھی مقامی حکومت اور سکیورٹی اداروں کے حوالے کرکے چلا جائے گا۔ اس نے دونوں ممالک کو خوب ترقی دی ۔ خاص طور پر افغانستان کے پسماندہ اور شورش زدہ علاقوں کو بھارت،برطانیہ و دیگر اتحادیوں کے اشتراک سے نئے زمانے کے ساتھ چلنے کے قابل بنادیا ہے۔
لسی کا مزا کرکرا ہورہا تھا ۔ یاری دوستی میں ہر طرح کی بات کو خندا پیشانی سے برداشت کرنا پڑتا ہے اور اس کی اب تک کی گفتگو میں کچھ زیادہ خامی بھی نہ تھی جواس کی کلاس لی جاتی۔ ہاں یہ بات تو ہے ،کہہ کر وقار،کامران اور میں نے گلاس رکھ دیا اور اس کی باتوں میں دلچسپی لینا شروع کردی۔
افغان فوج کی تربیت ،انفرااسٹرکچر کی بحالی اور خوبصورت سڑکوں کے جال بچھانے کی جو خبریں آتی ہیں ،اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ دوستوں کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑتا ہے۔ہم تینوں ہی نے مسکراتے ہوئے کہاں واقعی !۔عدنان ہماری معنی خیز مسکراہٹ کے پیچھے چھپے راز کوجان گیا۔لیکن اس نے امریکہ سے اظہار یکجہتی کے جذبات کا اظہار جاری رکھتے ہوئے کہا کہ امریکہ 2014ء کے آخر تک بتدریج افغانستان سے اپنی 70فیصد سے زائد فوج نکال لے گا اور پھر خطے میں خود مختار ،ابھرتا اور چمکتا افغانستان ہو گا۔
وقار ایک ویب سائٹ پر بین الاقوامی خبروں پر نظر رکھتا ہے،اسے لسی کے باوجود گرمی لگ گئی یا افغانستان اور امریکہ کی اتنی تعریف برداشت نہیں ہوئی ۔وہ فورا ہی کہہ اٹھا، عدنان بھائی لگتا ہے آپ کو اوباما کے اس نئی پالیسی اسٹیٹمنٹ کی پوری خبر ملی نہیں؟امریکی صدر نے گفتگو میں یہ بھی کہا ہے کہ’’ افغانستان کبھی موزوں ملک نہیں بن سکتااور اسے پرامن بنانا امریکہ کی ذمہ داری بھی نہیں‘‘۔ ہاں یہ بھی کہا عدنان نے تصدیق کی۔میرے بھائی اس پالیسی اسٹیٹمنٹ سے شکست ماننے کا تاثر ملتا ہے،۔ میرے بھائی دنیا کی اکلوتی سپرپاور13برس سے افغان وار میں10ملین ڈالر فی گھنٹہ کے حساب سے کیوں خرچ رہی ہے؟۔ افغان وار میں دو ہزار سے زائد فوج ہلاک اور 21ہزار کے لگ بھگ زخمی کیوں کرائے۔تم کہو گے کہ عالمی دہشتگردی سے نجات کیلئے ایسا کیا گیا ،اس طرح کے سوال پر ہم سمجھ جاتے تھے کہ وقار کوئی گہری بات کہے گا۔
عدنان نے کہا بالکل اسی لئے ۔تو میرے بھائی دنیا میں دہشتگردی تو اب بھی جاری ہے اور اس کے انخلا کے بعد بھی جاری رہے گی۔ امریکہ،اس کے اتحادی اور افغان حکومت کو اب بھی شدت پسندوں کا سامنا ہے،اور امریکہ کی خواہش ہے کہ وہ ان شدت پسندوں سے مذاکرات کرکے افغانستان سے باعزت واپسی کی راہ ہموار کر لیں۔ جیسا انہوں نے عراق میں کیا تاکہ امریکی عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں پر لڑی گئی اس جنگ سے واپسی کا جواز میسر آسکے۔یہی وہ پالیسی بیان ہے جو اوباما گزشتہ چار پانچ سال سے دے رہے ہیں۔
ویسے ایک بات بتاؤں ،دوستوں میں ہی رکھنا،دہشتگردی کے خلاف جنگ غلط نہیں لیکن امریکہ جیسی سپرپاور کیا دنیا کی کوئی بھی طاقت اس جنگ کا ساری عمر حصہ نہیں رہ سکتی ۔کیونکہ اس دہشتگردی کی بنیاد محرومی ہے،حق تلفی ہے۔دوسرے کی بات اور دلیل سننے کے بجائے اسے اگنور کرنے کا رویہ ہے۔اور یہ کام امریکہ پیچھے 13برس سے نہیں کررہا ہے بلکہ اس کی بھی ایک تاریخ ہے جس سے کوئی بھی کچھ نہیں سیکھتا۔عدنان ساری گفتگو میں خاموش تھا ،شاید سوچ رہا تھا میں نے امریکہ مخالف دوستوں میں اس کی حمایت کی بات کرکے حماقت کی ۔مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔جب چڑیا چگ گئی کھیت ۔۔۔۔