کیا جیو کومعافی مل گئی

  • ہفتہ 31 / مئ / 2014
  • 4779

آخر وہی ہؤا جس کے واضح امکانات تھے اور جس کے خدشات کا اظہار دودھ کے جلے لوگ چھاچھ پیتے ہوئے کر رہے تھے۔ کہ ملک کے اس طاقت ور ادارے کے ساتھ لڑائی مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ جس کا اثر و طاقت تو مسلمہ ہے ہی، اس کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ سیاسی جماعتوں ،سیاسی رہنماؤں ، مذہبی لیڈروں اور صحافت کے بڑے بزرجمہروں سمیت سوسائٹی کے مؤثر لوگ اس کے ایجنٹ ہونے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ اس ملک کی بیشتر سیاسی جماعتیں بارہا اس ادارے کی ایجنٹی کر چکی ہیں۔ مذہبی گروہوں کا سارا کروفر اس کے دم سے ہے۔ اور صحافت کی تمام بڑی خبروں اور تجزیوں کا ماخذ یہی ادارہ ہے ۔گویا صحافت کی ساری چمک دمک ان ہی کی مرہون منت ہے۔

اتفاق سے اس حقیقی طور پر طاقت ور ادارے کے سامنے ایک ایسا میڈیا گروپ آ کھڑا ہوا تھا جس کی ساری تاریخ بچھ جانے کی ہے۔ جو کسی معمولی سرکاری افسر، تیسرے درجے کے ٹریڈ یونین لیڈر، بے نام مذہبی رہنما اور کسی چرب زبان بے وُقعت سیاسی لیڈر کے سامنے کھڑے ہونے کی بھی سکت نہیں رکھتا۔ جو 1981ء میں اسلامی جمعیت طلبہ کے احتجاج کے بعد اپنی جانب سے ایک توہین آمیز معذرت شائع کرنے پر رضا مند تھا۔ وہ تو بھلا ہو جناب لیاقت بلوچ کا جنہوں نے اس تحریر کو تبدیل کروا کے اس ادارے کو سبکی اور ذلت سے بچایا۔

اس میڈیا گروپ کے چیف ایگزیکٹو کے حوصلے کا اندازہ اس واقعہ سے لگائیے کہ جب 1998ء میں نواز حکومت نے سیف الرحمان کے ذریعے جنگ گروپ کے خلاف ٹیکس چوری کے معاملے کو اٹھایا اور اس میڈیا گروپ کو کھینچا تو دوسرے نفسیاتی حربوں اور اخباری دباؤ کے علاوہ جنگ گروپ کے مالکان اس معاملے کو سپریم کورٹ میں لے گئے۔ جبکہ فیڈرل یونین آف جرنلسٹ برنا گروپ اور دستور گروپ بھی اس معاملے کو سپریم کورٹ لے آئیں۔ سماعت کے موقع پر صحافی سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کرتے تھے ۔ایسے ہی ایک موقع پر جو مظاہرہ ہوا اس میں جناب میر شکیل الرحمان بھی سیاہ عینک لگا کر شریک ہوئے۔ لیکن شرکاء کے شدید اصرار کے باوجود وہ مظاہرین سے خطاب تک کی ہمت نہیں کر سکے۔

مظاہرے کے بعد اس وقت کے سپیکر قومی اسمبلی الٰہی بخش سومرو کی دعوت پرمظاہرین نے سپیکر سے ملاقات کی۔ الٰہی بخش سومرو نے وفد کی شکایات سننے کے بعد کہا کہ وہ حکومت سے اس معاملے پر بات کریں گے اور آپ کے جذبات حکومت تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے وہاں موجود میر شکیل الرحمان کو مشورہ دیا کہ وہ بھی لڑائی کے بجائے نرمی اور صلح کا راستہ اختیار کریں کہ معاملات سلجھ جائیں۔ اس موقع پر میر شکیل الرحمان کا تاریخی جواب ملاحظہ فرمائیے ۔ انہوں نے فرمایا: جناب سپیکر میں تو ایک صلح جو آدمی ہوں۔ لڑائی میرے مزاج میں ہی نہیں۔ میں لڑائی کا عادی بھی نہیں۔ جناب سپیکر میں تو لڑائی سے اس قدر دور بھاگنے والا آدمی ہوں کہ ریسلنگ کی فلم بھی نہیں دیکھ سکتا۔ اس گفتگو کے بعد شرکائے وفد کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اس لڑائی کا کیا انجام ہونے والا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جنگ کے کارکن سڑکوں پر مظاہرے کرتے اور احتجاجی کیمپ لگاتے رہے اور جنگ مالکان کے وکیل شریف الدین پیر زادہ نے سپریم کورٹ میں ڈیٹ ان آفس کی درخواست دے دی۔ جس کے بعد یہ معاملہ دوبارہ کبھی عدالت میں پیش نہ ہوا۔

غالباً 1984ء میں جب جنگ گروپ نے اپنے انگریزی رسالے ’’میگ‘‘ میں ایلوس پریسلے کے متعلق ایک انتہائی قابل اعتراض اور فحش مضمون شائع کیا تو وفاقی حکومت نے گروپ کے اشتہارات بند کر دیے۔ جس پر اے پی این ایس نے وفاقی وزیر اطلاعات راجہ ظفر الحق سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ اے پی این ایس کے اس وقت کے صدر مجیب الرحمان شامی کے مطابق جیسے ہی ہم راجہ صاحب سے ملنے ان کے دفتر پہنچے اچانک جنگ گروپ کے سربراہ دوڑ کر آگے آئے اور راجہ صاحب کے پاؤں پکڑ کر بیٹھ گئے اور معافی طلب کرنا شروع کر دی۔ حالانکہ ہم سخت انداز میں بات کرنا چاہتے تھے۔

یوں توپاکستان میں آزادی اظہار، صحافتی اخلاقیات اور میڈیا کی آزادیوں اور پابندیوں کی بحث بہت پرانی ہے۔لیکن 2000ء کے ابتداء میں ٹی وی چینلز کی بھر مار اور میڈیا کی گلیمرائزیشن کے بعد ذمہ دار اور غیر ذمہ دار میڈیا کی بحث بھی شدت سے شروع ہو گئی۔ 2007ء میں عدلیہ بحالی تحریک کی کامیابی نے عدلیہ اور میڈیا کو ایک نئی طاقت دے دی۔ ساتھ ہی سول سوسائٹی بھی زیادہ بیدار اور متحرک ہو گئی۔ چنانچہ ایک طرف Vibrant Mediaتھا تو اس کے سامنے فعال متحرک اور سوال کرنے اور جواب طلب کرنے کی جرأت رکھنے والی سول سوسائٹی کھڑی تھی۔ یہ پاکستانی معاشرے میں ایک نیا موڑ اور سوسائٹی میں پروان چڑھنے والا نیا رجحان تھا۔

2000ء سے پہلے عدلیہ اور میڈیا دونوں کے بارے میں معاشرے عوام اور اداروں کا رویہ مختلف تھا۔ پاکستانی معاشرے کا ایک بڑا حصہ ان دونوں اداروں کا احترام کرتا تھا اور ان پر تنقید کو ایک منفی رجحان سمجھتا تھا۔ دوسرا حصہ ان اداروں کے جاہ وجلال سے خوفزدہ تھا اور اپنے اندر ان کو چیلنج کرنے کی سکت نہیں رکھتا تھا۔ معاشرے کا تیسرا حصہ ان اداروں کی اعلیٰ سماجی، علمی اور سیاسی حیثیت کے باعث ان سے مرعوب تھا۔جبکہ ایک اور طبقہ بے یقینی کی دلدل میں پھنسا ہوا تھا وہ ان اداروں سے بیک وقت خوفزدہ اور مرعوب تھا اور ان کے بارے میں احترام کے ساتھ کچھ تحفظات اور خدشات بھی رکھتا تھا۔ عملاً یہ طبقہ میڈیا اور عدلیہ کے بارے میں مفاہمانہ پالیسی پر گامزن تھا۔

عدلیہ بحالی تحریک کے بعد معاشرے اور اداروں نے بیداری اور تجربے کی بنیاد پر ایک نیا رجحان اپنایا۔ جس کی ایک وجہ عدلیہ اور میڈیا کا اپنا رویہ اور معاملات بھی تھے۔ چنانچہ ایک طرف عدلیہ خود عوام، معاشرے، پارلیمنٹ اور میڈیا کی تنقید کی زد میں آ گئی جبکہ دوسری جانب عوام میڈیا سے بھی بے خوف ہو کر اس پر کھل کر تنقید کرنے لگے۔ ادارے میڈیا کے احتساب میں آزاد ہو گئے۔ خود میڈیا گروپس نے ایک دوسرے کو بے نقاب کرنا شروع کر دیا۔ صحافیوں اور اینکرز پرسنز کے پوشیدہ معاملات اخبارات کے صفحات اور ٹی وی سکرین پر نظر آنے لگے۔ سوشل میڈیا اور آلٹرنیٹ میڈیا نے اس سلسلے میں سب سے اہم کردار ادا کیا۔

روایتی میڈیا نے جس معاملے کو دبانا اور جس حقیقت کو چھپانا چاہا سوشل میڈیا نے اسے پوری بے رحمی کے ساتھ ننگا کر دیا۔ موبائل فونز پر بھیجے جانے والے پیغامات نے ان معاملات کو اتنی تیزی سے پھیلایا کہ روایتی میڈیا اپنی تمام تر طاقت کے باوجود اس کا راستہ نہ روک سکا۔ رہی سی کسر خفیہ اداروں نے پوری کر دی جن کی عدلیہ اور میڈیا میں مداخلت کی داستانیں پبلک ہوئیں تو عوام مزید بے خوف ہو گئے۔ جبکہ میڈیا میں خفیہ اداروں کے کاسہ لبوں، تنخواہ داروں اور ان کی گڈلسٹ میں شامل ہونے کے خواہشمندوں کے درمیان ایک ایسی لفظی جنگ شروع ہو گئی جس نے میڈیا گروپس اور ان سے وابستہ لوگوں کے معاملات کی تہیں اور پرتیں بھی کھول کر رکھ دیں۔ چنانچہ ہر غلاف ہٹ گیا اور ہر پردہ سرک گیا۔ جس کے بعد اس حمام میں خوشی سے ناچتے ، انتقام اور حسد میں ایک دوسرے کو نوچتے اور مفادات کی ہڈیوں اور گوشت پوست پربجھنجھوڑتے ہوئے کردار سب کے سامنے الف ننگے کھڑے تھے۔

اس ماحول میں 19اپریل 2014ء کا واقعہ پیش آیا تو گویا اس بند پریشر ککر کا ڈھکنا پھٹ کر دور جا گرا اور اس کے اندر 66سال سے دھیمی اور تیز آنچ میں پکنے والی ک کھچڑی کا دانہ دانہ الگ ہو گیا۔ ہر دانے کی تصویر واضح ہو تی گئی۔ ساتھ ہی ڈوری ہلانے والوں اورتماش بینوں کے چوکھٹے بھی اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ سامنے آ گئے۔ ایک جانب 6گولیوں سے گھائل ایک بڑا صحافی تھا جو جرنیلوں، مقتدر حلقوں، عسکری قوتوں اور خفیہ اداروں سے تعلقات کی شہرت رکھتا تھا۔ جس کی ربع صدی کی صحافت کی بہت سی اعلانیہ اور مخفی داستانیں تھیں۔ جس کے دو ست اور واقفان حال طویل عرصہ سے اس طرح کے حادثے کا خدشہ ظاہر کر رہے تھے اور خالد خواجہ اور کرنل امام کے واقعات کے بعد ان کے خدشات زیادہ بڑھ گئے تھے۔ دوسری جانب شدت غم سے نڈھال ایک بھائی تھا جو براہ راست آئی ایس آئی جیسے طاقت ور ادارے کے سربراہ کا نام لے کر اسے حملے کا ذمہ دار قرار دے رہا تھا۔ ایک جانب معمولی حکومتی افسروں کے سامنے بچھ جانے والا میڈیا گروپ ملک کے طاقت ور ترین ادارے کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑا ہو گیا تھا اور اس گروپ سے وابستہ اہلکار جہاد سمجھ کر اس لڑائی میں کود پڑے تھے۔ تو دوسری جانب منافقتوں کی تصویربنی حکومت تھی۔ جس کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ اس کا دل کس کے ساتھ ہے اور تلواریں کس کے ساتھ ۔

ایک جانب اپنے ہی ملک میں پہلی بار میڈیا ٹرائل کی زد میں آیا ملک کا سب سے طاقت ور ادارہ آئی ایس آئی تھا۔ تو دوسری جانب ملک کے سب سے بڑے میڈیا گروپ کے خلاف سر پر کفن باندھ کر نکل آنے والے اور محرومیوں کے شکار دوسرے میڈیا گروپس تھے۔ ایک جانب اخلاقیات سے عاری اور چھوٹی چھوٹی مصلحتوں اور مخمصوں کا شکار سیاسی جماعتیں تھیں۔ تو دوسری جانب آئی ایس آئی کی حمایت میں نکل کھڑے ہونے والے مذہبی گروہ۔ ایک جانب زخمی صحافی کے تکبر کے شکار اور انا کے اسیر متکبر میڈیا اونر تھے تو دوسری جانب نوکریاں بچانے کی کوشش میں لگے اس گروپ سے وابستہ بے بس افسران اور لاچار ملازمین، مضحکہ خیز قسم کے دھرنے دے رہے تھے۔ ایک جانب بال کی کھال اتارنے والے نام نہاد دانشور اینکرز تھے تو دوسری جانب ٹولیوں میں تقسیم صحافتی تنظیمیں۔

اس پس منظر میں پوری فضا ہی کرچی کرچی ہو گئی تھی اور جسد قوی سے رسنے والا خون ٹھٹھک کرجم گیا تھا۔ حساس آنکھیں اشک بار اور درد مند دل بے چین تھے کہ حکومت۔ آئی ایس آئی۔ میڈیا۔ عدلیہ۔ سیاسی جماعتیں۔ مذہبی گروہ۔ میڈیا ہاؤسز اور اینکرز باہم دست وگریبان بلکہ برسرپیکار تھے۔ ایسے میں حساس اہل وطن کی فکرمندی فطری تھی۔

جب حالیہ جیو آئی ایس آئی لڑائی کا آغاز ہوا تھا اور جیو نے جنرل ظہیر الاسلام کی تصویر 8گھنٹے تک مسلسل ایک سنگین الزام کے ساتھ چلائی تھی تو راقم سمیت تمام واقفان حال کو معلوم تھا کہ جیو گروپ کے مالکان اور ان کے مفادات کے اسیر مشیروں کو جتنا لڑائی کا شوق ہے اس سے کہیں زیادہ پسپائی کا شوق اور تجربہ ہے۔ چنانچہ اب یہ میڈیا گروپ جنرل ظہیر الاسلام فوج اور آئی ایس آئی سے نہ صرف اشتہارات کے ذریعے معافیاں مانگ رہا ہے بلکہ گھنٹوں اس معافی پر مشتمل سلائیڈز بھی اپنے چینلوں پر چلا رہا ہے اور اس معافی پر کئی پروگرام بھی کر چکا ہے۔جبکہ جنگ اور جیو کے دفاتر کے باہر بے بس کارکن آئی ایس آئی کے خلاف دھرنے دے رہے ہیں۔

اب ایک طرف جنگ اخبار میں معافی کے اشتہارات اور جیو پر معافی کے پروگرام چل رہے ہیں اور دوسری جانب آئی ایس آئی مکمل خاموش ہے۔ باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ معافی کے اشتہار جنگ گروپ نے خود چلائے ہیں اور شاید ایسا پرویز رشید اور میاں شہباز شریف کے مشورے پر کیا ہے۔ مگر آئی ایس آئی اس پر اپنا کوئی ردعمل نہیں دے رہی۔ گویا وہ شاید اس کو قبول نہیں کر رہی۔ دوسری جانب پیمرا میں حکومت کی اشیرباد سے جیو کی پوزیشن کچھ بہتر ہوئی ہے۔ جسے آئی ایس آئی شاید پسند نہ کرے۔

پھر عمران خان، زید حامد اور مبشر لقمان کے خلاف جیو کی مہم جس تیزی سے جاری ہے۔ اس کو مختلف حلقے کس نظر سے دیکھتے ہیں یہ خود ایک بڑا سوال ہے۔ موجودہ حالات میں لگتا یہ ہے کہ جیو گروپ مشکل سے نکلا نہیں ہے۔ اس کوشش میں مزید الجھنوں میں پھنس گیا ہے۔ ایک طرف معافی کے بعد اس کی اخلاقی حیثیت متاثر ہوئی ہے ۔ یہ معافی ہر طرح سے اعتراف جرم ہے۔ دوسرے گذشتہ تین چار ہفتوں کے دوران جیو اپنی پیشہ ورانہ سطح سے بھی نیچے آ گیا ہے۔ عوام میں اس کی ساکھ خراب اور غیر جانبداری پوری طرح مشکوک ہو گئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا کسی مرحلے پر حکومت بھی جیو کا ساتھ تو نہیں چھوڑ جائے گی۔