حکمت عملی واضح کریں
- اتوار 01 / جون / 2014
- 4654
اطلاع ہے کہ حکومت نے طالبان سے نمٹنے کے لئے ایک حکمت عملی وضع کر لی ہے۔ جس کے تحت مذاکرات کرنے والوں کے ساتھ مفاہمت اور بات چیت کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔ جبکہ ہتھیار اٹھانے والوں اور حکومتی رٹ تسلیم نہ کرنے والوں کیخلاف طاقت کا استعمال ہو گا۔
دوسری جانب سجنا گروپ نے تحریک طالبان سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے۔ اس خبر پر حکومتی حلقوں کی جانب سے خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس بات پر کوئی غور کرنے پر تیار نہیں کہ سجنا گروپ نے تحریک طالبان سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے اس پر غیر ملکی طاقتوں کیلئے کام کرنے ، عوامی مقامات پر بم دھماکے ، ڈکیتی ، اغوا برائے تاوان اور اجرتی قاتل کے طور پر کام کرنے کے الزامات ضرور عائد کئے ہیں تاہم انہوں نے حکومتی اہداف پر ہونے والوں حملوں کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا اور نہ ہی مستقبل میں ایسے حملے نہ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ ایسی صورتحال میں حکومتی حلقوں کی خوشی زیادہ دیر برقرار رہنا مشکل ہے۔
طالبان کی اندرونی لڑائی کے بعد مذاکرات کی صورتحال پر غور کے لئے گزشتہ روز وزیر اعظم نواز شریف کی صدارت میں اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں وزیر داخلہ چوہدری نثار، آرمی چیف جنرل راحیل شریف، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی اور چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم نے شرکت کی۔ اطلاع ہے کہ اجلاس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان میں پھوٹ پڑ جانے اور محسود دھڑے کی عسکریت پسند اتحاد سے علیحدگی کے اعلان سمیت شمالی وزیرستان میں گہری جڑیں رکھنے والے گل بہادر گروپ کے فوج کے ساتھ امن معاہدہ ختم کرنے کے اعلان کا غور کیا گیا۔
سول اور فوجی قیادت کے اجلاس میں حکومت کی رٹ تسلیم نہ کرنے والوں کے خلاف بمباری جاری رکھنے کا فیصلہ ہؤا جبکہ جنوبی وزیرستان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وہاں معاملات بہتر ہوئے تو مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ تاہم شمالی وزیرستان میں کسی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ حکومت کی رٹ نہ ماننے اور تشدد کی راہ اختیار کرنے والوں کے خلاف ریاست کی مسلح کارروائی اصولی طور پر درست ہے اور اس کے قانونی و اخلاقی جواز کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ قومی و بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ لیکن یہ بات تاحال پوری طرح واضح نہیں کہ کس گروپ کو مسلح کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بہتر ہوتا اگر یہ بھی بتا دیاجاتاکہ شمالی وزیرستان کا کون سا گروہ اس وقت حکومت کے خلاف آمادہ جنگ ہے جس کا زور توڑنے کے لئے فوجی کارروائیاں کی جاری ہیں۔
علاقے کا سب سے بااثر اور بڑا مسلح گروہ حقانی نیٹ ورک کا ہے۔ لیکن وہ پاکستان کی حدود میں کارروائیاں نہیں کرتا۔ دوسرا اہم گروہ وہ ہے جو حافظ گل بہادر کی قیادت میں کام کر رہا ہے۔ حافظ گل بہادر نے آپریشن کی چاپ سن کر کہا ہے کہ ہمارے ساتھ کئے جانے والے معاہدہ کو یکطرفہ طور پر کالعدم کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف انہوں نے اپنے پیروکاروں اور علاقہ مکینوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سازو سامان سمیت افغانستان چلے جائیں۔
علاقہ چھوڑنے والے بظاہر افغانستان کے نام نہاد مہاجر کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوں گے اور ایک نیا تنازع اٹھ کھڑا ہوگا۔ صدر حامد کرزئی کو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف بیانات داغنے کا ایک اور موقع مل جائے گا۔ اگر صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں عبداللہ عبداللہ کامیاب قرار پائے تو وہ بھی ان مہاجروں کا مسئلہ اٹھائیں گے اور پراپیگنڈے کو ہوا دینے میں دوسروں سے پیچھے نہیں رہیں گے۔ ان امکانات کے پیش نظر تمام پہلوؤں پر غور کے بعد پوری قوت اور طاقت کے ساتھ شمالی وزیرستان میں آپریشن کر کے فتنہ پرست طاقتوں کو تباہ کرنا ہو گا۔
موجودہ حالات میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کا معاملہ پیچیدہ تر ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت مذاکرات شروع ہونے سے قبل ہی یہ بات اچھی طرح سمجھتی تھی کہ ان کی کامیابی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ تاہم جو نتیجہ حاصل کرنے کے لئے یہ ڈھونگ رچایا گیا وہ سجنا گروپ کی تحریک طالبان سے علیحدگی کی صورت میں سامنے آ چکا ہے۔ طالبان کی گردن پر ہزاروں عام افراد کے ساتھ ساتھ فورسز کے سینکڑوں لوگوں کا خون بھی ہے جو معاف کرنے کا اختیار کسی کو بھی نہیں ہے۔
ملک میں قیام امن کے لئے آپریشن ناگزیر ہے اور موجودہ حالات اور وقت اس کام کے لئے بہترین ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ تمام عوامل کا جائزہ لیتے ہوئے شدت پسندوں کےخلاف بھرپور ایکشن لے تا کہ دہشتگردی کے فتنہ کو ہمیشہ کے لئے واصل جہنم کیا جا سکے۔ آپریشن کے لئے فضا سازگار ہونے کے ساتھ عوامی حمایت بھی ریاست کی پشت پر ہے۔ تاہم اب حکومت کا بھی فرض ہے کہ عوام کے سامنے اپنی حکمت عملی پوری طرح واضح کر دے۔