بجٹ یا الفاظ کا گورکھ دھندہ

  • سوموار 02 / جون / 2014
  • 4521

بجٹ جسے میزانیہ بھی کہتے ہیں ، یہ دنیا کے تمام ہی ممالک میں ہر سال پیش کیا جاتا ہے۔اس کا بنیادی مقصد آمد نی و وسائل اور اخراجات کا تخمینہ لگانا ہے۔ پاکستان کے بجٹ کو سیاستدان اور ماہرین معاشیات الفاظ کا گورکھ دھندہ کہتے ہیں۔ ن لیگ کی حکومت آج 2014-15کا بجٹ پیش کرنے والی ہے ۔اس میزانیہ میں عوام کیلئے کیا ہوگا اور کیا نہیں،اس پر بات کرناقبل از وقت ہوگا ۔ان پر ہم اگلے مضمون میں کھل کر گفتگو کر سکیں گے۔

لیکن اس سے پہلے ایک مثال پیش خدمت ہے’’ ایک گھر کی سالانہ آمدن10لاکھ روپے ہو اور ان کے اخراجات 11لاکھ ہوں ، یعنی انہیں ہر سال 1لاکھ روپیہ قرضہ لینا پڑتا ہو، تو10 سال بعد کیا ہوگا ؟آمدن اور قرضہ برابر اور خاندان زبردست مالی بحران کا شکار ہوجائیگا ۔ وہ قرض کی ادائیگی کیلئے مزید قرض لے گا اور پھر اس پر سود ادا کرنے کے ساتھ قرض دینے والے کی جائز و ناجائز ہدایت پر عمل بھی کریگا اور بالآخر وہ گھرانہ دیوالیہ ہوجائیگا ۔

یہ مثال پاکستان کی معاشی صورتحال کی عکاس ہے۔ ایسے میں کیا کیا جائے۔ سادہ سی بات یہ ہے کہ اس میں دو ہی صورتیں ہیں، یا تو اخراجات میں کمی کی جائے یا آمدن میں اضافہ کیا جائے۔ مگر کیسے؟ یہ وہ سوال ہے جو یقیناً وفاقی وزیر خزانہ کو درپیش ہے۔ توقع ہے کہ وہ بجٹ تقریر میں اس کا خاطر خواہ حل پیش کرینگے۔ ہم اپنی طرف سے ان کا حل پیش کرنے سے قبل ان مسائل کا تذکرہ کرنا زیادہ ضروری سمجھتے ہیں، جن کی بنیاد پر گزشتہ 13برسوں سے بجٹ کی تشکیل ہورہی ہے، مگر وہ تاحال حل نہیں ہوئے۔

توانائی بحران پہلے نمبر پر ہے۔ موجودہ حکومت نے گزشتہ ایک ماہ میں دھڑا دھڑ بجلی کے منصوبوں کا افتتاح کرکے یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ معاملہ بس آئندہ دو سال میں ہمیشہ کیلئے حل ہوجائے گا۔ لیکن توانائی کی ضروریات میں صرف بجلی تو شامل نہیں۔ گیس اور کھربوں روپے کی سی این جی انڈسٹری بھی اسی کا حصہ ہے۔ ان دونوں شعبہ جات میں ہم تباہی کے دہانے پر ہیں۔ مستزاد یہ کہ سی این جی انڈسٹری بنانے اور گیس کی قلت پیدا کرنے والوں منصوبہ سازوں کے خلاف کارروائی بھی نہیں ہوئی۔ گیس کی کمی کو پورا کرنے کے تمام منصوبے گزشتہ ایک دہائی سے تعطل کا شکار ہیں۔ انڈسٹری کی پیداواری قوت متاثر ہورہی ہے اور پاکستان ایک سال کے دوران جی ایس پی پلس کا درجہ حاصل ہونے کے باوجود اس سے فائدہ اٹھانے میں ناکام ہے ۔

دوسرے درجے پر امن و امان کی صورتحال ہے۔ پاکستان کا معاشی ہب کراچی ٹارگٹ کلرز کی زد پر ہے ، تو خیبر پختونخوا کے بعض علاقے طالبان کے زیر اثر ہیں۔ بلوچستان میں حقوق کے نام پر بدامنی کا سلسلہ طویل عرصہ سے جاری ہے۔ اس صورتحال میں حکومت نے طالبان سے مذاکرات کا ڈول ڈالا مگر وہ امن کا پانی نکالنے میں ناکام رہا۔ لیکن اصل توجہ کراچی پر دینے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ صنعتی شہر ہے۔ اس میں دو کروڑ انسان بستے ہیں۔ جہاں سے ماضی میں ریونیو کا بڑا حصہ قومی خزانے کو ملتا رہا ہے۔ جس کی اکثریت اسٹریٹ کرائم سے متاثر ہے ، لیکن ٹارگٹ کلنگ نے شہر کا سکون ہی تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ جبکہ ٹارگٹڈ آپریشن کے نتائج بھی عوامی توقع سے مطابقت نہیں رکھتے۔اس پروفاقی و صوبائی حکومت نے کام نہ کیا تو آمدن میں اضافہ خواب ہی بن جائیگا۔

بلوچستان میں گوادر سمیت تمام میگا پراجیکٹ جتنی جلدی مکمل کرلئے جائیں اتنا ہی صوبے میں امن و امان اور ملکی آمدن میں اضافے کیلئے بہتر ہے۔ تیسرے نمبر پرسماجی ترقی کے ساتھ ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ ہے۔ یہ وہ شعبہ ہے جس میں تعلیم و تربیت ، صحت اور ملکی باشندوں کیلئے تفریح کی سہولیات شامل ہیں۔ اس میں شک کی بات نہیں کہ تعلیم صوبوں کو منتقل ہونے سے قبل بھی نظر انداز شعبہ تھا اور اب بھی اس نے مثالی ترقی نہیں کی ۔ یہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی ملک انسانی سرمایے میں مستقل سرمایہ کاری کیے بغیر پائیدار اقتصادی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔ سرکاری سطح پر تربیت کے جومختلف پروجیکٹ متعارف کئے گئے ہیں، ان سے وہ کچھ برآمد نہیں ہورہا ہے جس کیلئے یہ منصوبے شروع کئے گئے تھے۔

ادھر بنیادی صحت کے چھوٹے مراکز یا بڑے اسپتالوں کی حالت زار دیکھ کر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ دوا ہے تو عملہ غائب ،اور یہ دونوں میسر آجائیں توبیڈ خستہ حال ہے۔ غریب یا امیر پرائیویٹ اسپتالوں کو ترجیح دینے لگاہے ۔

چوتھا درجہ ملکی ٹرانسپورٹیشن کو حاصل ہے۔ ریلوے تو گزشتہ 10سال سے ہماری ترجیحات میں شامل ہی نہیں تھی۔ ساتھ ہی بسوں کا سفر ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کے باعث مسافروں کیلئے عذاب بن چکا ہے۔ ضرورت فوراً موٹرویز بنانے کی نہیں بلکہ سڑکوں کے نظام کو بتدریج جدید کرنے کی ہے۔

درجہ پانچ پر سیاحت کا فروغ ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں ٹورازم ایک انڈسٹری بن چکی ہے۔ ہمارے ملک میں بھی بڑی تعداد میں سیاح آتے تھے۔ جن سے اربوں کا زر مبادلہ حاصل ہوتا تھا مگر موجودہ صورتحال میں آمدن صفر ہے۔اس کی ایک وجہ امن و امان کی ابتر صورتحال ہے مگر اس کی دوسری وجہ ترجیحات کی فہرست میں اس کا شامل نہ ہونا بھی ہے۔

 گزشتہ 13سال سے کھیل کے میدانوں میں بھی سیاست گھس آئی ہے جس کی وجہ سے ہم کھیلوں پر بھی توجہ نہیں دے پا رہے۔ ہاکی، اسکواش اور کرکٹ کے میدان سنسان ہیں۔ ان تمام کھیلوں کے بین الاقوامی مقابلوں کے انعقاد کرنے میں بھی مسلسل ناکامی کا سامنا ہے۔ اس کی بڑی وجہ شعبہ جاتی سیاست بھی ہے۔ اگر ہم سیاحت اور کھیلوں کے مقابلے کرانے میں کامیاب ہوگئے تو آمدن میں کتنا اضافہ ہوگا ، ہم سوچ بھی نہیں سکتے ۔

حکومت کو اس بات کا اعتراف بہر حال کرنا ہوگا کہ ایف بی آر بطور محکمہ ناکام ہو گیا ہے۔ یہ محکمہ گزشتہ کئی سال سے اہداف کے حصول میں ناکام ہے۔ وزیر خزانہ وجوہات معلوم کر کے نا اہل افراد کے خلاف کارروائی کریں تو اس میں حرج کیا ہے؟۔ ٹیکس حکومتی آمدن کا بڑا ذریعہ ہیں۔ اس وقت ان ڈائریکٹ ٹیکس ( اشیاء کی خریداری ،جی ایس ٹی و دیگر) 60فیصد سے زائد ہے۔ جبکہ ڈائریکٹ( امیر، انڈسٹریز پر لاگو ٹیکس) وصولی بہت کم ہے۔ بلکہ ہر دور حکومت میں صنعت کاروں کو مراعات دیدی جاتی ہیں۔ ماہرین معاشیات اس حوالے سے ہمیشہ دو باتیں کہتے ہیں ، ٹیکس کی شرح میں اضافہ ٹیکس چوری کی راہ ہموار کرنے کا ذریعہ ہے اور دوسرا ہم ترقی یافتہ اس وقت بن سکتے ہیں جب ڈائریکٹ ٹیکس کی شرح 75اور ان ڈائریکٹ ٹیکس کی شرح 25فیصد تک ہوگی۔ اگر اس توازن کے تحت ٹیکس کا نظام قائم ہو جائے تو مہنگائی کی شرح میں 20 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔

ان سب باتوں سے قبل بطور قوم ہمیں اس بات کا تعین بھی کرنا ہوگا کہ ہم زرعی ملک ہیں یا صنعتی ؟۔ کیونکہ دونوں شعبہ جات پر بیک وقت توجہ نہیں دی جا سکتی۔ ہم دو دہائیوں سے ان شعبوں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں اور ان کی بہتری کیلئے اربوں روپے کی سبسڈی بھی دے رہے ہیں، مگر ہم ان میں کسی حوالے سے خود کفیل نہیں ہوسکے۔ میرے خیال میں معیشت کے بنیادی نقاط یہی ہونے چاہئیں۔ ان پر مناسب توجہ اور انقلابی اقدامات کئے بغیر بہتری کا امکان نہیں ہے۔