جمہوریت اور ادب
- منگل 03 / جون / 2014
- 6209
جمہوریت کو اگر تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک ایسا طرزِ حکومت ہے جس کے بارے میں قدیم یونانی اصحابِ دانش نے بھی سوچا۔ یہ قدیم لفظ انسانی علم کی تاریخ میں انسان کے شعور و آگاہی کے ارتقاء میں ہمقدم رہا ہے۔ ارتقاء کا ایک معنی ۔۔۔۔۔extinction بھی ہے ۔ کچھ روّیے، خیالات اور الفاظ (Behaviour Patterns) تاریخ کے قبرستان میں دفن ہو گئے جبکہ کچھ روّیے، خیالات ، الفاظ ا ورذہنی روّیے انسان کے ساتھ ساتھ محوِ ارتقاء ہیں۔
الفاظ و خیالات کی اس دنیا میں جمہوریت بھی ایسا ہی ایک لفظ اور خیال ہے جس نے تاریخ کے قبرستان میں جانے سے صاف انکار کر دیا ہے۔اس انکار کے پیچھے بہت سے متحرک عناصر ہونگے وہ متحرک عناصر اور ذہنی قوتیں ابھی بھی ہماری ہمعصر زندگی کا حصہ ہیں، مثلاً جمہوریت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک ایسا طرزِ حکومت ہے جس میں حکمران نہیں قوانین اہم ہوتے ہیں۔
انگریزی کے مشہور شاعر شیلے نے اُن قوانین کو جو انسان کی خوشی اور آزادی میں اضافہ کریں شاعری کا درجہ دیا ہے۔ان کے خیال میں یہ قوانین ایک تکلیف دہ بے ترتیبی سے Life-enhancingترتیب کی طرف لے جا رہے ہیں چنانچہ جمہوریت اور ادب میں بہت سی سانجھی(مشترک) اقدار ہیں۔ سب سے اہم مشترک قدر دونوں میں مستقبل پر یقین موجود ہے۔ کہا جاتا ہے کہ لاطینی زبان کی گرائمر کی پہلی کتاب مرتب کی جا رہی تھی تو گرائمر تحریر کرنے والے صاحب ’فعل مستقبل‘ شامل کرنا بھول گئے بعد میں اُنہیں احساس ہوا کہ ’فعل مستقبل‘ کے بغیر گرائمر کی کتاب بے معنی ہو گئی ہے تو اُنہوں نے اپنی غلطی کی تصیح کی۔
جمہوریت اور ادب و فن ایسی غلطی نہیں کرتے ، یہ ایسی اقدار کی تلاش میں سر گرداں ہیں جو شاید آج کی دنیا میں قابلِ قبول نہ ہوں لیکن آنے والے زمانے کی دانش اور روحانی معقولیت) (intellectual and spirtual sensibilityکا حصہ بن جائیں۔ انسان کا دل اور دماغ نئے علم کی روشنی میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتاہے۔ جمہوریت اور ادب و فن انسان کی اسی صلاحیت پر یقین رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ انسان کے دل اور دماغ کا مستقبل دونوں کی نظر میں ہوتا ہے اور یہ امید بھی زندہ و تابندہ رہتی ہے کہ انسان خوب سے خوب تر ہو سکتا ہے۔
جمہوریت اور ادب و فن اصولِ امید(principle of hope) میں یقین رکھتے ہیں اور اگر اس اصولِ امیدپر یقین قائم رہے تو جدو جہد زندہ رہتی ہے۔ خوشی کی تلاش جاری رہتی ہے۔ آگے بڑھنے کا امکان روشن رہتا ہے۔ انگریزی کے ایک مشہور شاعر کولرج (Coleridge)نے knowledgeکے لفظ کو Growledgeمیں تبدیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب یہ لفظ صحیح معنی دے رہا ہے۔ جمہوریت اور ادب و فن میں نئے knowledgeاور نئے Growledgeکے امکانات رہتے ہیں۔
جمہوریت کے بالکل اُلٹ ڈکٹیر شپ کو دیکھا جائے اور خاص طور پر وہ آمریت جو مذہب کی ایک پسماندہ شکل میں پناہ لیتی ہے وہاں سب سے پہلے سنسر شپ مسلط ہوتی ہے۔وہاں علم و ادب کی تخلیقی قوتوں کوہر ممکن حد تک کمزور کیا جاتا ہے۔وہاں سائنس کی نئی دریافت بھی ممنوع قرار دی جاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبیں وہیں تعمیر ہو رہی ہیں جہاں مذہبی ڈکٹیر شپ کو پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ مذہبی ڈکٹیر شپ ہر قسم کے نئے خیالات کوبُری رسم) (tabooقرار دیتی ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ امیدِ بہار، امیدِ خوشی اور ترقی کی امیدختم ہو جاتی ہے اور معاشرہ تیزی سے زوال کی راہ پر چل نکلتا ہے۔زوال کا سفر جس تیزی سے طے ہوتا ہے شاید تعمیر و ترقی اتنی تیزی سے نہیں ہو سکتی۔
ایک شا ہکار تعمیری فن پارہ جیسے تاج محل، ہزارہا انسانوں کے ذوقِ تعمیر کی سالہا سال محنت کے بعد وجود میں آتا ہے۔ اس شا ہکار کے پس منظر میں وہ تخلیقی دل و دماغ بھی نظر آ رہے ہیں جو اُسوقت زندہ نہیں تھے جب اس کی تعمیر ہو رہی تھی لیکن وہ اپنا ذوقِ جمال و تعمیر دریافت کر کے آئندہ نسلوں کے لئے چھوڑ گئے ۔ ایک شا ہکار زندہ و مُردہ انسانوں کے ذوقِ تعمیر و جمال کی نمائندگی کر رہا ہوتا ہے اور ذوقِ تعمیر و جمال کا صدیوں کا سفر اس کے پس منظر میں جھلک رہا ہوتا ہے۔ تعمیر کے اس سفر میں ان گنت ہاتھوں کی محنت، بے شمار دماغوں کی ذہانت استعمال ہوئی جبکہ اس شاہکار کو فنا و برباد کرنے کیلئے ایک انسان کا ڈائنا میٹ پر ایک ہاتھ ہی کافی ہے۔ با لکل اسی طرح ایک reactionary ڈکٹیر شپ ہے، ایک دماغ ایک ہاتھ زوال کا وہ سلسلہ شروع کر سکتا ہے جس کو روکنے کیلئے شاید صدیاں بھی کم پڑ جائیں۔
جمہوریت اور ادب و فن preserverہیں ۔ waste اور sense of waste کے المیے کے خلاف جد و جہد کر رہے ہیں۔ یہ اُن طاقتوں کے خلاف ، خواہ وہ انسان کے اندر ہوں یا باہر، جدو جہد کر رہے ہیں جو انسان کی اپنی خوشی، اپنی تعمیر اور اپنی محبت کی صلاحیتوں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔انسان حُسن عشق اور علم کا خالق ہے ۔ انسان کے یہی روپ ادب و فن اور جمہوریت میں فروغ پا رہے ہیں۔ انسان اپنے جذبوں کی نزاکتوں کو دریافت کر رہا ہے اور ان نئی دریافت شُدہ باریکیوں کے اظہار کیلئے فن پارے تخلیق کر رہا ہے۔یہ فن پارے سائنس کے ہیں یا ادب و فن کے ان کو تخلیق کرنے والے کو اظہار کی راہ جمہوریت میں ہی میسر ہوتی ہے۔ جمہوریت ہی اُس انسان کو زندہ رہنے کا موقع دیتی ہے جو مٹی سے چراغ بنا رہا ہے اور اندھیروں کو روشن کر رہا ہے۔
انسان ہی ہے جس نے جمہوریت اور ادب و فن کو تخلیق کیا تا کہ انسان کو انسان کے طور پر دیکھ سکے۔ انسان کی بہتری کیلئے کچھ کر سکے ، ان تعصبات سے ماوراء جا سکے ، انہیں unlearnکر سکے جو اس پر ذات، نسل اور طبقے نے مسلّط کر دئیے ہیں۔ تعصبات اور نفرتوں کے اس ہجوم میں انسان نے اپنی غلطیوں کی نشاندہی کی، انہیں مسترد کیا اُنہیں
سدھارنے کی کوشش کی۔ امریکہ کے ایک مشہور ناول نگار Upton Sinclair نے جب ناول لکھے تو جمہوری ملک امریکہ نے اُن کی دی ہوئی روشنی میں اپنے چند قوانین بدل ڈالے اور نئے قوانین کی بنیاد رکھی۔
تاریخ گواہ ہے کہ انسان نے اپنی غلطیوں اور غلط اندازِ فکر سے نجات پانے کی کوشش کی چنانچہ اس تاریخی سفر کو بغور دیکھیں تو مستقبل روشن اور پُر امید نظر آتا ہے۔ روشنی اور امیدکے اس سفر میں جمہوریت اور ادب و فن ہمقدم ہیں۔ ادب و فن روشنی تلاش کر رہے ہیں، نئے چراغ روشن کر رہے ہیں اور جمہوریت ان چراغوں کو فنا کی طاقتوں سے بچا رہی ہے۔ یہ جمہوریت ہی ہے جہاں تہذیبی تجربات ہو رہے ہیں اور نت نئی تہذیبیں جنم لے رہی ہیں۔ تعمیر کا یہ سفر جمہوریت اور ادب کی تاریخ میں ایک روشن قندیل کی طرح جگمگا رہا ہے اور یہی قندیل انسان کی امیدوں کو زندہ رکھے ہوئے ہے اور انسان کو وحشی و گنوار ہونے سے بچا رہی ہے۔جہاں ادب و فن نہیں ہے، جمہوریت نہیں ہے وہاں صرف بر بریت ہے، ظلم ہے، سفاکی ہے، گنوار پن ہے اوردُکھ کے لمبے سائے ہیں۔ آنسوؤں کے کبھی ختم نہ ہونے والے سلسلے ہیں۔
انسان کو اسکے transformative insights میں جینے کا موقع اور گنجائش جمہوریت ہی فراہم کرتی ہے اور ادب و فن بھی transformative insights کی تلاش میں محوِ سفر ہیں۔ جمہوریت اور ادب و فن انسان کے ذوقِ تکمیل کے نمائندے ہیں اسی لئے ان کی تاریخ ہزاروں سالوں پر پھیلی ہوئی ہے۔تاریخ جو کہ ارتقاء کے سفر کی داستان ہے، تاریخ جو انسانوں کی اپنی غلطیاں سُدھارنے کی کوشش کا ریکارڈ ہے اور یہ سفر مستقل تسلسل میں ہے۔ ادب و فن بھی تسلسل میں ہیں اور جمہوریت بھی تسلسل میں ہے۔ ادب و فن اور جمہوریت تسلسل کا یہ سفر آزادئ اظہار اور ڈائیلاگ سے ممکن بناتے ہیں ۔ ان کے پاس اسلحہ بنانے کے کارخانے نہیں ہوتے ۔ اسلحے سے بھرے گودام بھی نہیں ہوتے۔ ان کے پاس وہ سوئچ نہیں ہوتا جسکو آن کر دیا جائے تو تباہی و بربادی کے خوفناک مناظر رونما ہو جائیں۔
گیسریل گارسیا نے ایک جگہ لکھا ہے ’’ صدیوں یہ دھرتی محوِ ارتقاء ہوئی تو یہاں گلاب کی پہلی کلی کھِلی اور پھر صدیوں پر محیط دھرتی نے ایک اور ارتقائی قدم اُٹھایا تو ایک ننّھی سی خوش رنگ تتلی نے جنم لیا جسکی مختصر حیات کا مقصد ہی پھولوں کے حُسن سے مسحور ہو کر رقص کرنا ہے اور اسلحہ ساز ادارے یہ کہتے ہیں کہ اس دھرتی کو تو ایک بٹن دبا کر فنا کیا جا سکتا ہے‘‘۔
اس مضمون کے اختتام پر میں صرف یہ کہنا چاہتی ہوں کہ ادب و فن اور جمہوریت تتلی اور گلاب دونوں ہی کے ذوقِ جمال کو زندہ رکھنے کی کوشش کا نام ہے۔ حُسن کے ذوقِ تخلیق اور عشق کے ذوقِ توصیف و ستائش کے زندہ رہنے کا نام، زندہ رکھنے کا نام...ادب و فن اور جمہوریت ہے۔