خواص کے لیے نا حکمرانوں کا بجٹ

  • منگل 03 / جون / 2014
  • 4833

ایک مُسلمان معاشرے میں حکومتی بجٹ کی بسم اللہ ذیل کے کلمات سے ہوتی ہے :
اگر دجلہ کے کنارے ایک کُتّا بھی کسی رات بھوکا سویا تو عمر اُس کا جواب دہ ہوگا ۔ ( حوالہ الفاروق از شبلی نعمانی)
لیکن اب وہ اسلامی حکمران کہاں ۔ اُن کی جگہ اب نا حکمرانوں نے لے لی ہے اور وہ اقتدار کی کرسیوں پر چوبی پتلیوں کی طرح سیاسی تماشہ دکھاتے ہیں اور ان سیاسی پتلیوں کے تار پسِ پردہ قوتوں کے ہاتھ میں ہیں۔ جو انہیں تگنی ، چوگنی اور گاہے چالیسویں کا ناچ نچاتی ہیں ۔ تا ہم  ہر بار اس ناحکمرانی اور اس کی ناکردہ کاری کا الزام کٹھ پتلیوں پر لگتا ہے ، پسِ پردہ تار ہلانے والے ہاتھوں پر نہیں ۔

اِن تار ہلانے والے ہاتھوں کے کئی نام ہیں ۔ ایسٹبلشمنٹ ۔ سی آئی اے ، آئی ایس آئی ، سعودی ملوک ، جی ایچ کیو اور وہ کالعدم ہاتھ جو بدستور کام کرتے رہتے ہیں ۔ اور نا حکمران انہی کی صوابدید کے مطابق بجٹ بناتے ہیں ، جس میں خاکی شیر کا حصہ کاغذی شیر سے زیادہ ہوتا ہے ۔

رہا عام آدمی تو اُس بےچارے کو بھوکا سونے کے لیے پانچ دریاؤں کے پتّن ، شہروں اور قصبوں کے فٹ پاتھ اور ناجائز طور پر تعمیر کی ہوئی جھونپڑیاں، اس طرح چھپا کر رکھتی ہیں کہ بجٹ سازوں کی اُن پر نظر ہی نہیں پڑتی ۔

چنانچہ بجٹ نام کا جھنجٹ جن کے لیے ہوتا ہے اُنہی کو فائدہ دیتا ہے ۔ عوام کا اُس سے کوئی تعلق یا لین دین نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ اپنے آنسو ایک جمہوری حکومت سے دوسری تک ، اور ایک مارشل لاء سے دوسری ، تیسری اور چوتھی تک بدستور بہاتے رہتے ہیں اور اشکوں کا یہ دریا بہتا رہتا ہے ۔
پانچ دریاؤں کی دھرتی پر ایک چھٹا دریا بھی ہے۔ یہ غریب عوام کے آنسوؤں کا دریا ہے ۔ یہ دریا ہر موسم میں بہتا رہتا ہے اور اس میں کبھی تعطل یا بریک نہیں آتا ۔

وزیر ِ خزانہ نے جسے کسی متفنی نے سوشل میڈیا پر فرضی خزانے کا سانپ قرار دیا ہے، آج اپنے بجٹ کے خدو خال اور نمایاں پہلو ایک پریس کانفرنس میں، ٹائی اور سوٹ میں ملبوس ہو کر گنوا ئے ہیں ۔ لگتا تھا کسی بہت امیر ملک کا وزیرِ خزانہ ہے جس کے عوام افراطِ آسائشات میں مبتلا ہیں ۔ ویسے ایک بات تو طے ہے کہ میاں نواز شریف اور ان کی ٹیم کو کھانا پہننا آتا ہے ۔ ہندوستان کے پاجامہ کرتا وزیر اعظم کے سامنے ہما رے وزیرِ اعظم سچ مچ ایسے بڑے آدمی لگ رہے تھے، جیسے بڑے آ دمی امریکہ اور یورپ کی سیاسی جماعتوں میں ہوتے ہیں۔ یقین جانیں، میاں صاحب کی “ ٹوہر “ دیدنی تھی ۔

بات بجٹ کی ہو رہی تھی ۔ ہر سال قومی بجٹ سے پاکستانیوں کو جو توقعات ہوتی ہیں ، اُن کو میرے پیارے شاعر، قیصرِ بغاوت حضرت حبیب جالب علیہ رحمت ایک باقاعدہ کُلیے کی شکل میں بیان کر کے محفوظ کر رکھا ہے ۔ فرما گئے ہیں :
روٹی ، کپڑا، ا ور دوا
گھر رہنے کو چھوٹا سا
مفت مجھے تعلیم دلا
میں بھی مسلماں ہوں واللہ
پاکستان کا مطلب کیا
لا الہ الاللہ

چنانچہ اسحاق دار ( کبھی ڈار صاحب کو دار لکھنے کو جی چاہتا ہے ) کے بجٹ سے عام آدمی کو وہی توقعات وابستہ ہیں جن کا ذکر بابا جالب کر گئے ہیں ۔ موجودہ حکمران حبیب جالب سے پوری طرح شناسا ہیں ، اور اُن میں سے ایک بھائی صاحب تو سیاسی جلسوں میں جالب کا قالب پہن کر بہ طرزِ جالبانہ گاتے بھی رہے ہیں۔
اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ بجٹ میں قومی ترقی کا جو روپیہ راگ ڈار صاحب نے چھیڑ رکھا ہے، اُس پر عوام تالی بجاتے ہیں یا نہیں ۔ عوام کی تالی عام طور پر گھروں میں توے پر روٹیاں پکانے والی خواتین کے ہاتھوں سے بجتی ہے۔ جب وہ روٹی گھڑنے کے لیے تالی بجانے کے انداز میں آٹے کےپیڑے کو ہاتھوں میں گھماتی ہیں تو بانہوں میں کانچ کی چوڑیاں یا تو گنگناتی ہیں یا حکمرانوں کی بے بجٹی کا رونا روتی ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ لوگوں کے لیے ڈار صاحب نے بجٹ بنایا ہے یا اپنی بے بجٹی کی گواہی پیش کی ہے ۔

فرماتے ہیں کہ ملک میں غربت کی شرح پچاس فی صد ہے یعنی آدھا ملک غریب ہے اور جن کی آمدنی دو ڈالر یومیہ سے کم ہے ، وہ لوگ خطِ غربت سے نیچے ہیں ۔
جی خطِ غربت ۔ کچھ لوگ خطِ استوا پر رہتے ہیں اور گرمی مارنے کے لیے ائر کنڈیشنڈ کمروں میں پناہ لیتے ہیں اور کچھ لوگ خطِ غربت کے نیچے پڑے ملتے ہیں اور وہ کہیں نہیں رہتے ۔ اور جو کہیں نہیں رہتے اُن کے لیے بجٹ کیا اور بجٹ سے حاصل سہولیات اور ریلیف کیا ؟

یہ بجٹ اُن پچاس فی صد کے لیے ہے جو کھاتے پیتے گھرانے کے لوگ ہیں اور بقول منیر نیازی کھاتے کم اور پیتے زیادہ ہیں ۔ مہنگائی کا اثر انہی پر پڑتا ہے جن کے پاس قوتِ خرید ہو ۔ اور جن کے پاس قوتِ خرید ہی نہیں اُن کے لئے بجٹ آئے نہ آئے ، ایک ہی بات ہے ۔ میں اگر ماہرِ اقتصادیات ہوتا تو ڈار صاحب کی اقتصادی مہارت پر توصیفی مقالہ لکھتا۔ مگر کیا کروں شاعر ہوں اور جالب جیسوں کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا رہا ہے، سو بجٹ کی شان میں قصیدہ رقم کرتا ہوں ، گر قبول افتد زہے عز و شرف :
میاں ، آگیا ہے بجٹ ڈار کا
بجٹ ہے یہ شیروں کی سرکار کا
میاں جی ! ترقی کی کنکیں پکیں
بھرا پیٹ جن سے ہر اخبار کا
جیو اور جینے بھی دو مالکو !
نہ رگڑا لگاؤ ، یہ بے کار کا
تشدد میں ہو گا اضافہ بہت
اگر چڑھ گیا بھاؤ نسوار کا
کچھ اس طور کرنی کرو ڈار جی
کہ فاقہ بھی ٹل جائے نادار کا
چنے اور چارہ نہ مہنگا کرو
گدھا مر ہی جائے نہ خرکار کا
بجٹ پر یہ مسعود کا تبصرہ
نرا غُل غپاڑہ ہے افکار کا