یورپ کے مکروہ چہرے
- ہفتہ 07 / جون / 2014
- 5185
یورپی یونین کے رکن ممالک میں یورپی پارلیمنٹ کے لئے کرائے گئے انتخابات میں دائیں بازو کی انتہا پسند پارٹیوں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ اس صورت حال پر بائیں بازو کی پارٹیوں کے علاوہ سے یورپ کی اعتدال پسند دائیں بازو کی پارٹیاں بھی پریشان ہیں۔
انتہائی دائین بازو کی پارٹیوں کی انتخابات میں فتح یورپی یونین میں غیر یورپی تارکین وطن اور مسلمانوں کے لیے بھی فکر و پریشانی سے کم نہیں ہے۔ مستقبل میں یہ اُن کے لیے مصیبت کا پہاڑ بن سکتی ہیں ۔ یورپی یونین کے اٹھائیس رکن ممالک کے مسلمان شہریوں کی مجموعی تعداد پانچ ملین نفوس سے کسی طرح کم نہیں۔ ڈنمارک میں بھی انٹی امیگرنٹس اور خود کو اعلانیہ مسلمانوں اور دین اسلام کے خلاف قرار دینے والی پارٹی نے واضح کامیابی حاصل کی ہے۔ قوم پرست ڈینش پیپلز پارٹی نے پچیس فیصد ووٹ حاصل کرکے ریکارڈ قائم کیا ہے ۔ یہ پارٹی تارکین وطن کو ملکی سرحدوں سے باہر دھکیلنے کے لیے کوشاں ہے۔
یورپ بھر میں دائیں بازو کی انتہا پسند قوم پرست قوتوں نے یورپی اقتصادی بحران، بیروزگاری اور بر سر اقتدار حکومتوں کی جانب سے ’’نظر اندازی‘‘ سے خوب فائدہ اٹھایا ہے اور اب وہ اپنے اپنے ملک میں ایک زندہ و ٹھوس حقیقت ‘‘ بن چکی ہیں ۔ ان کی اس مجموعی قوت سے خود یورپی اتحاد کے لیے بھی خطرہ پیدا ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ فی الوقت دائیں بازو کی انتہاپسند قوتوں کا اصل نشانہ یورپی یونین میں غیر یورپی تارکین وطن اور مسلمان ہیں ۔ جنہیں یہ یورپ کے لیے خطرہ قرار دیتی ہیں ۔
یہی صورت حال ڈنمارک میں بھی ہے جہاں ڈینش پیپلز پارٹی ہر قیمیت پر مسلمانوں کو ملک سے دور رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔ یہی نہیں یورپ کے کئی ایک دوسرے ملکوں کی طرح یہ پارٹی بھی چاہتی ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک کے شہریوں کو ایک دوسرے کے ملک جانے، وہاں سکونت اختیار کرنے اور کام کرنے کا قانونی حق ختم کردیا جائے۔ یا اسے محدود کر دیا جائے اور یونین میں شامل مشرقی یورپی ممالک کے شہریوں کی یونین میں آزادانہ نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے کے لیے سرحدی کنٹرول سخت کیا جائے ۔
اسی طرح فرانس میں ’’ نیشنل فرنٹ ‘‘ کا سیاسی ایجنڈا، ڈینش پیپلز پارٹی سے ملتا جلتا ہے۔ وہ اب وہاں سب سے بڑی کی حیثیت اختیار کر گیا ہے ۔ یونان میں Gyldent Daggry یعنی گولڈن ڈان یا طلائی سحر نامی انتہا پسند پارٹی بھی انتخابات میں نمایاں پوزیشن حاصل کر چکی ہے۔ حالانکہ اس پارٹی کے کئی ارکان قتل سمیت کئی انتہائی سنگین الزامات میں جیلوں میں بند ہیں ۔ جرمنی جو ابھی تک اپنے دامن پر لگے نازی بر بریت کے داغ دھونے میں مصورف ہے، وہاں نئے نازیوں ‘‘ کی پارٹی این پی ڈی نے بھی یورپی پارلیمانی انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے ایک نشست حاصل کر لی ہے ۔ ہنگری میں انٹی سیمیٹک فاشسٹ پارٹی نے پندرہ فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں ۔
یورپی پارلیمنٹ کے حالیہ انتخابات میں یوں تو ننگ انسانیت کئی سیاسی چہرے کھل کر سامنے آگئے ہیں لیکن ہم ان میں سے صرف دس ایسے بدصورت و مکروہ چہروں کو سامنے لا رہے ہیں جو دوسرے چہروں کی بھی نمائندگی کرتے اور انہی کا عکس پیش کرتے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان چہروں کو یاد رکھنا آپ کے لیے ضروری ہے اور خاص کر اگر آپ غیر یورپی تارک وطن ہیں اور مسلمان ہیں تو پھر ان چہروں کی شناخت یاد رکھنا آپ کے لیے اور بھی ذیادہ ضروری ہے :
۔ Udo Voigt ( اودو وئگٹ) جرمنی میں نئی نازی پارٹی “ این پی ڈی “ کی جانب سے یورپی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے ہیں ۔ وہ متعدد بار ایسے بیانات دے چکے ہیں کہ ہٹلر کے نائب روڈولف ہس کو امن کا نوبل انعام ملنا چاہیئے تھا ۔ وہ جرمنی میں غیر یورپی تارکین وطن اور مسلمانوں کو ملکی سالمیت اور جرمن تہذیب و ثقافت اور تمدنی طور طریقوں کے خلاف سمجھتے اور ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں ۔ یہودی مخالف ان کے نظریات بھی پوشیدہ نہیں ہیں ۔ وہ نسلی تعصب کے جرم میں متعدد بار سزا یافتہ ہیں ۔ اور سنہ دو ہزار آٹھ میں دو ہزار یورو جرمانہ بھی کیا تھا ۔
۔ Kristina Winberg سویڈن کی انتہائی دائیں بازو کی “ سویڈش ڈیموکریٹ “ پارٹی سے تعلق ہے۔ پارٹی نے نو عشاریہ آٹھ فیصد ووٹ حاصل کرکے یورپی پارلیمنٹ کی دو نشستیں جیت لی ہیں ۔ اس پارٹی پر سویڈن میں نسلی امتیاز پھیلانے، نسلی تعصب برتنے اور غیر ملکیوں پر حملے کرنے کے الزامات ہیں ۔ یہ پارٹی بھی سویڈن میں مسلمانوں کو ایک خطرہ قرار دیتی ہے اور سخت انٹی امیگرنٹس سمجھی جاتی ہے ۔ اس پارٹی کے بانی اور چیئرپرسن Jimmie Åkesson کا نعرہ ہے کہ اسلام سویڈش معاشرے سے قطعاً مطابقت نہیں رکھتا اور، سویڈن میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سخت خطرہ بن سکتی ہے ۔
۔ Marine Le Pen فرانس میں فرنچ نیشنل فرنٹ پارٹی کی بنیاد رکھنے والے، انتہائی نسل پرست، انتہا پسند جین ماریئی لی پن کی بیٹی ہیں اور پارٹی کی موجودہ رہنما ہیں ۔ اگرچہ وہ سنہ دو ہزار نو سے یورپی پارلیمنٹ کی رکن تھیں اور ایسے بیانات دیتی رہتی ہیں جن میں نیشنل فرنٹ کی جانب سے ان لوگوں کی تعریف کی جاتی اور ان کے کارناموں کو ( متشددانہ اقدامات) سراہا جاتا ہے جو وہ فرانس اور فرانسیسیوں کے تحفظ کے لیے فرانس اور فرانسیسی لوگوں کے خلاف اٹھاتے ہیں ۔ یہ پارٹی اعلانیہ مسلمانوں کے خلاف ہے اور فرانسیسی سر زمین کو اِن سے پاک رکھنا چاہتی ہے ۔ نیشنل فرنٹ کو یورپی پارلیمانی انتخابات میں چوبیس عشاریہ نو فیصد ووٹ ملے اور یوں یہ سب فرانس کی سب سے بڑی پارٹی شمار ہونے لگی ہے ۔ یورپی پارلیمنٹ میں اب اس کے پاس چوبیس نشستیں ہیں ۔
۔ Janusz Korwin-Mikke پولینڈ کی انتہائی دائیں بازو کی نسل پرست پارٹی کے سربراہ ہیں اور یورپی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہو چکے ہیں ۔ وہ اپنی تند و تیز آتش بیانی کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں ۔ وہ پولش بادشاہت بحال کرنے اور سابق شاہی خاندان کو عزت و مراتب دیئے جانے کے دعویدار ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ برسلز میں یورپی یونین کے مرکزی دفتر کو ایک فاحشہ خانے یعنی طوائفوں کے کوٹھے میں بدل دیا جانا چاہیئے ۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ ہٹلر کو ہولوکوسٹ کے متعلق کوئی خبر تھی یا وہ اس کے متعلق کچھ جانتا تھا ۔ پارٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ عورتوں کو ووٹ کا حق نہیں دیا جانا چاہیئے ۔
۔ Krisztina Morvai ہنگری کی نسل پرست انٹی سیمیٹک اور فاشسٹ پارٹی جابک سے ان کا تعلق ہے ۔ اس پارٹی نے چودہ عشاریہ چھ فیصد ووٹ حاصل کیے اور انتہائی بازو کی حکومتی پارٹی فیڈسز سے بھی آگے نکل گئی ۔ جابک پارٹی کے یہ رہنما پہلے بھی یورپی پارلیمنٹ کے رکن تھے ۔ اور اِن کے یہ بیانات ریکارڈ پر ہیں کہ یہودیوں کو اپنے بچوں کے خطنے نہیں کرانے چاہئیں اور انہیں ہوش کے ناخن لینے ہونگے ۔ مسلمانوں کے بارے میں ان کا رویہ اور بھی سخت ہے ۔ اور انہیں ہنگری میں اپنے قومیت پرست ہونے پر فخر ہے جس کا اظہار وہ سنہ دو ہزار سے یورپی پارلیمنٹ میں کرتے آ رہے ہیں۔ وہ اسی سال پہلی بار رکن بنے تھے ۔
۔ Nigel Farage برطانیہ میں انتہائی دائیں بازو کی قومیت پرست یونائیٹڈ انڈیپنڈینس پارٹی “ یوکپ “ کے ایک نہایت متنازعہ رہنما ہیں ۔ ڈنمارک میں ڈینش پیپلز پارٹی کی طرح یہ پارٹی برطانیہ میں غیر ملکیوں اور خاص کر مسلمان مخالف روش رکھتی ہے۔ یہ پارٹی یورپی یونین کے وجود کے بارے میں شک رکھتی ہے ۔ نیگل فراگے کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں مشرقی یورپی تارکین وطن کے لیے بالخصوص اور غیر یورپی تارکین وطن کے لیے مزید کوئی جگہ نہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ خوب سمجھتے ہیں کہ برطانوی باشندے رومانیہ کے جپسیوں کے ساتھ کیوں نہیں رہنا چاہتے ۔ ان کا کہنا ہے کہ برطانوی ایک باوقار قوم ہیں ۔
۔ Lambros Fountoulis یونان کی فاشسٹ پارٹی “ طلائی سحر “ کے رہنما ہیں ۔ اس پارٹی کو یورپی یونین کی پارلیمنٹ کے حالیہ انتخابات میں تین نشستیں ملی ہیں ۔ پارٹی کے مذکورہ رہنما کے بیٹے کو سنہ دو ہزار تیرہ میں پارٹی کے مرکزی دفتر کے سامنے گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا ۔ اپنے بیٹے کے اس قتل کو وہ یونان کے لیے ایک عظیم قربانی قرار دیتے ہیں اور اس کی ذمہ داری یونان مخالف قوتوں کے سر تھوپتے ہیں ۔ یہ پارٹی نئے نازیوں کے ساتھ نہ صرف مل کر کام کرتی ہے بلکہ خود اس کی صفوں میں بھی یہ عناصر پائے جاتے ہیں ۔ اس پارٹی کے کئی ایک بڑے بڑے ارکان پر نسلی متعصابہ حملوں میں ملوث ہونے، تارکین وطن کے املاک کو نذر آتش کرنے اور مخالفین کے مبینہ قتل میں ملوث ہونے جیسے سنگین الزامات ہیں۔ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے کئی رکن فی الحال جیلوں میں بند ہیں ۔
۔ Lambros Fountoulis فن لینڈ کی Perussuomalaiset پارٹی کے رہنما ہیں اپنے ملک کی قومی پارلیمنٹ میں سنہ دو ہزار گیارہ سے بطور رکن شامل ہیں جب کہ اب وہ یورپی پارلیمنٹ کے رکن بھی منتخب ہو گئے ہیں ۔ انہیں جمہوریت سے کوئی دلچسپی ہے کہ نہ انسانی حقوق سے۔ وہ ان پر فن لینڈ اور اس کے عوام کے حقوق کو بر تری دیتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد نازی لیڈروں کا محاسبہ کرنے کے لیے بنائی گئی نیورن برگ عدالت محض ایک ڈھونگ تھا ۔ ان کا کہنا ہے کہ سبھی مسلمان دہشتگرد نہیں لیکن سبھی دہشت گرد مسلمان ہیں ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آج کل تشدد ہی مسائل کو حل کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے ۔
۔ Mario Borghezio اٹلی کی انتہائی دائیں بازو کی “ لیگ نارتھ “ پارٹی کے رہنما ہیں اور یورپی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے ہیں ۔ وہ اپنی متنازعہ سیاسی حیثیت کی وجہ سے ہمیشہ باڈی گارڈز ساتھ رکھتے ہیں ۔ 1993 میں انہیں ایک کمسن بچے پر تشدد کرنے کے جرم میں سزا سائی گئی تھی۔ 2005 میں انہیں بے گھر غیر ملکیوں کے خیموں کو آگ لگانے کے جرم میں سزا دی گئی ۔ یہی نہیں انہیں نسلی تعصب پھیلانے کے جرم میں بھی عدالتی چارہ جوئی کا سامنا ہے ۔ اُن کے نسل پرستانہ رویے کی بنا پر پچھلے سال پورپی یونین میں انہیں اپنے گروپ سے باہر نکال دیا گیا تھا ۔ اور سنہ دو ہزار گیارہ میں انہیں ان کی پارٹی لیگ نارتھ نے تین ماہ کے لیے پارٹی سے اس لیے خارج کردیا تھا کہ انہوں نے ناروے کے قوم پرست دہشت گرد آندرس بہرنگ برائویک کے نسل پرستانہ سیاسی ایجنڈے کی کھلی حمایت کی تھی ۔
۔ Harald Vilimsky آسٹریا کی انتہا پسند ایف پی او پارٹی کے رہنما ہیں اور یورپی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے ہیں ۔ ان کی پارٹی کے پاس اب تین نشستیں ہیں ۔ اس پارٹی کے بانی آنجہانی یورگ ہائیدر تھے جو انتہائی متعصبانہ نظریات کے لیے مشہور تھے ۔ پارٹی ان کے نظریات پر کاربند ہے اور خود کو ڈنمارک کی تارکین وطن اور خاص کر مسلمانوں مخالف ڈینش پیپلز پارٹی کے بہت قریب قرار دیتی ہے ۔ یہ پارٹی ملک میں تارکین وطن کے سخت خلاف ہے اور نئے نازیوں کی شدید حامی اور انٹی سیمیٹک ہے ۔
ڈنمارک میں یورپی پارلیمنٹ کے حالیہ انتخابات میں دیگر پارٹیوں کے مقابلے میں انتہائی دائیں بازو کی قوم پرست، انٹی ایمیگرینٹس، ڈینش پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ چار نشستیں حاصل کرکے ملکی سیاست میں ایک بھونچال پیدا کردیا ہے ۔ ڈینش پیپلز پارٹی کے ایک رکن Morten Messerschmidt نے نصف ملین کے قریب ووٹ حاصل کرکے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ۔ غیر ملکیوں اور خاص کر مسلمانوں اور دین اسلام کے متعلق اس پارٹی کے نظریات اور سیاسی ایجنڈا کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ یہ ڈنمارک میں مسلمانوں کا داخلہ بند کرنا چاہتی ہے ۔
Morten Messerschmidt نے نصف ملین کے قریب ووٹ حاصل کیے ہیں۔ وہ سنہ دو ہزار سات میں کوپن ہیگن کے مشہور زمانہ تفریح گاہ تھیوالی کے ایک ریسٹورنٹ میں پارٹی کارکنوں کی ایک ضیافت کے دوران نازی نغمے گاتے رہے تھے۔ انہوں نے نازی سیلوٹ کرتے ہوئے ہٹلر کو سراہا تھا ۔ انہوں نے ایک بار وینسٹرا پارٹی کے ایک سیاستدان کو “ رشوت خور نیگرو “ قرار دیا تھا ۔ ان واقعات کے بعد انہوں نے پارٹی دباؤ کی وجہ سے پارٹی کو چھوڑ دیا تھا۔ لیکن پھر معذرت کر لی اور پارٹی نے انہیں دوبارہ گلے لگا لیا ۔ اب وہ ڈنمارک میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے یورپی پارلیمنٹ کے رکن بن گئے ہیں۔ جہاں وہ یورپ کی دیگر انتہائی دائیں بازو کی قومیت پرست پارٹیوں کو ساتھ ملا کر یورپ بھر میں غیر ملکیوں مخالف اور خاص کی دین اسلام اور مسلمانوں کے متعلق اپنے سیاسی پروگرام کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ اس میں انہیں کہاں تک کامیابی ہوگی یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔
Nasar Malak is a senior journalist and Chief Editor of www.urduhamasr.dk