خطرے کی گھنٹی
- اتوار 08 / جون / 2014
- 4626
بھارتی انتخابات میں نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی فتح کو بھارت میں ہندو سوچ کے توانا ہونے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ مودی کے مسلم مخالف رویہ اور سوچ سے کسی کو انکار نہیں۔ گجرات میں ان کی وزارت اعلیٰ کے دور میں مسلمانوں کی نسل کشی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ دنیا خصوصاً خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں مودی کے مسند اقتدار پر براجمان ہونے کو پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی قرار دیا جا رہا ہے۔
نریندر مودی کی حلف برداری کے بعد بھارت کے وزیر دفاع ارون جیٹلی نے ایک پالیسی بیان میں کہا ہے کہ بھارتی فوج جو کہ دنیا کی اسلحہ کی سب کی سب بڑی خریدار ہے، وہ ملکی سلامتی کی خاطر دفاعی ساز و سامان کی خریداری کا عمل تیز کرے گی۔ بی جے پی نے ہمیشہ قومی سلامتی کے معاملے کو ترجیح دی ہے۔ حکومت قومی سلامتی کیلئے کمیٹڈ ہے اور اسلحہ کی خریداری میں سرخ فیتہ کے کردار کو ختم کیا جائے گا۔ اسلحہ کی خریداری کے لئے تمام وسائل مہیا کئے جائیں گے۔ بھارت کو مزید اسلحہ کی بڑی تیزرفتاری کے ساتھ ضرورت ہے اور خریداری کا یہ عمل تیز تر کرنے کیلئے میکنزم اپنانے کا اعلان کیا جارہا ہے۔
اس وقت سبھی یہ جانتے ہیں کہ بھارت میں ایک ایسی انتہا پسند جنگی جنونی سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے اتحادیوں کی حکومت ہے، جو خطے میں رام راج، راشٹریا بھارت، مہا بھارت، ہند توا اور اکھنڈ بھارت کے دیرینہ خواب کو تعبیر آشنا کرنا چاہتی ہے۔ کہتے ہیں کہ جمہوریت رائے دہندگان کو روشن خیال اور خرد پسند بناتی ہے۔ لیکن دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ کا درجہ رکھنے والے ملک بھارت میں یہ تصور بڑی حد تک غلط ثابت ہوتا نظر آ رہا ہے۔ وہاں انتہا پسند ذہنیت رکھنے والے امید واروں کی اکثریت پارلیمان میں پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ پاکستان کو انتہا پسندوں کا گڑھ کہنے والے اب اس اجتماعی انتہا پسندانہ سوچ کو کیا نام دیں گے؟۔
جمہوریت کے چیمپئن کہلائے جانے والے بھارت میں سیکولرازم کے پردے میں جنگی جنونی ہندو انتہا پسندی کا غلبہ ہے۔ گزشتہ 67 برسوں میں ہر بھارتی حکومت ہر سال اپنے دفاعی بجٹ میں تسلسل کے ساتھ اضافہ کرتی رہی۔ بھارت کا شمار گزشتہ4 عشروں سے امریکہ، روس، فرانس اور اسرائیل سے اسلحہ خریدنے والے دنیا کے بڑے ملک میں ہوتا ہے۔ دنیا میں اسلحہ پر رقم خرچ کرنے والوں میں بھارت پانچویں نمبر پر ہے۔ غالباً اسی زعم میں جنوری 2010ء میں بھارتی آرمی چیف جنرل دیپک کپور نے نئی جارحانہ وار ڈاکٹرائن کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت، پاکستان اور چین کے خلاف دومکھی جنگ کر کے 96 گھنٹوں میں میدان مار سکتا ہے۔
پاکستان اور چین کے ساتھ لڑنے کیلئے فوج کو تربیت دی جا چکی ہے۔ دشمن کے علاقوں پر 6 گھنٹوں میں قبضہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ جنگ کی صورت میں بھارت کو امریکہ اور روس کی طرف سے مدد ملے گی اور آئندہ جنگ میں تباہی پھیلانے والے ہتھیار استعمال کریں گے۔
بھارت کی فوج اسلحہ کی فروانی کے سبب اپنے تئیں سمجھتی ہے کہ بھارت فوجی لحاظ سے اتنا مضبوط ملک بن چکا ہے کہ وہ بیک وقت اپنے دو ہمسایہ ملکوں سے نبرد آزما ہوسکتا ہے۔ جن دو ہمسایہ ملکوں کو وہ اپنا ہدف بنانے کا عزم رکھتے ہیں ان میں چین اور پاکستان سر فہرست ہیں۔ ایسے عزائم کا اظہار کرتے ہوئے جانے وہ کیوں یہ بھول جاتے ہیں کہ ان میں ایک دنیا کی معاشی سپر پاور ہے اور دوسرا ملک بھی نیوکلیئر اسٹیٹ ہے۔ دونوں ممالک سے چھیڑ خانی کے نتائج بھارت کے بالادستی کے زعم کو خاک میں ملا سکتے ہیں۔ اس موقع پر یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ بھارت کے آرمی چیف جنوبی ایشیاء میں ایک محدود نیو کلیائی جنگ کی بڑ بھی ہانک چکے ہیں۔
بھارت کو ایم ایف این کا درجہ دینے کے لئے بے تاب حکمرانوں کے علم میں ہونا چاہئے کہ بھارت کی نئی جارحانہ وار ڈاکٹرائن کے پانچ اہداف ہیں۔ (1) دومحاذوں پر بیک وقت جنگ کے خطرے سے نبٹنے کی تیاری (2) غیر متوازن صورت حال اور نیم روایتی خطرات کا فوجی اور غیر فوجی دونوں طریقوں سے انسداد۔ (3) خلیج فارس اور آبنائے ملاکا میں بھارتی مفادات کی حفاظت کیلئے بھارت کی اسٹریٹجک رسائی اور خطے سے باہر سے اقدام کرنے کی صلاحیتوں کو بڑھانا (4) تینوں مسلح افواج کے مابین آپریشنل ہم آہنگی کا حصول (5) دشمنوں پر تکنیکی میدانوں میں سبقت نمایاں ہیں۔
ہر باشعور پاکستانی جانتا ہے کہ بھارت روز اول سے پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے۔ بھارت سرکار ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت پاکستان مخالف جنگی جنون کی فضا ہموار کر رہی ہے۔ یہ فضا عین اس موقع پر ہموار کی جا رہی ہے جب افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا وقت قریب آ رہا ہے اور امریکی حکام اور افواج انخلا سے قبل افغانستان کا درپردہ انتظام بھارتی حکام کے سپرد کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ دسمبر 2001ء میں کابل پر امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کے قبضے کے بعد بھارتی افواج نے پاکستان کی مشرقی سرحدوں پر ہجوم کر دیا تھا۔
آج جبکہ پاکستان اپنی دفاعی ترجیحات کو بدل رہا ہے اور اندرونی خطرات کو بھارت سے بھی بڑا خطرہ قرار دے کر مغربی سرحدوں کی جانب توجہ کو مبذول کیے ہوئے ہے تو اس موقع پر بھارت کشمیر اور پاکستان کی مشرقی سرحدوں پر جھڑپوں کا سلسلہ شروع کر کے پاکستان کے ارباب حکومت کو اپنی دفاعی ترجیحات پر نظر ثانی کی باالواسطہ دعوت دینے کے روڈ میپ پر کام کر رہا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان بھی بھارت کے حوالے سے نئی دفاعی ڈاکٹرائن کا اعلان کرنے میں تاخیر نہ کرے۔ خطے کی حساس صورتحال کے دوران بی جے پی کا برسر اقتدار آنا کسی طور پاکستان اور خطے میں امن کے لئے نیک شگون نہیں ہے۔ بھارت کے نئے وزیراعظم نریندر مودی بھی اب اس سوچ کا اظہار کر چکے ہیں کہ ہم بھارت کو دنیا سے منوائیں گے۔ یہ بیان بھی خالی از علت نہیں ہے۔ ان حالات میں پاکستان کو بھی یک طرفہ طور پر امن کی آشا کو بدستور آگے بڑھانے سے گریز کرنا ہو گا۔