وزیراعظم دو کام کر دیں
- اتوار 08 / جون / 2014
- 4856
تیسری بار پاکستان کے وزیراعظم بننے والے نواز شریف ملک کے زیرک سیاستدان ہیں، لیکن وہ آج کل لندن میں حکومت مخالف اتحاد اور پی ٹی آئی کے پنجاب میں ہفتہ وار جلسوں کے باعث مضطرب ہیں۔اس اضطراب کی وجہ شاید وہ سمجھ گئے ہیں ۔ پی ٹی آئی ، قادری صاحب اور چوہدری برادران سمیت دیگر افراد کو متحرک کرنے کے پیچھے وہی خفیہ ہاتھ ہے، جو خود کو اقتدار کا حصہ دار سمجھتا ہے۔
یقیناً نواز شریف اس صورتحال کا خاطر خواہ حل نکالنے میں لگے ہوں گے ۔ مثلاٌ نواز شریف عوامی ہمدردی کیلئے مہم چلائیں گے کہ میرے اقتدار کو ماضی کی طرح خفیہ ہاتھ چھیننا چاہتاہے۔ سوائے چند جمہوریت پسند قوتوں کے عوام کی بڑی تعداد وزیر اعظم کی کابینہ کی ناقص کارکردگی کے باعث ان کا ساتھ نہیں دے گی۔ وہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں موجود جمہوریت پسند قوتوں کے ساتھ مل کر اداروں کو نئے قوانین کے ذریعے حدود و قیود کا پابند بنانے کی کوشش کریں گے تو یہاں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اس کوشش کے جواب میں ان کے خلاف مظاہروں اور دھرنوں کا نہ ختم ہونے والاسلسلہ شروع ہو جائیگا۔
ایسے میں کرنے کو کیا رہ جاتا ہے؟۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ نواز شریف جب تک اقتدار میں ہیں وہ دو کام کردیں ، ان کی مقبولیت انتہا پر پہنچ جائے گی اور ان کیلئے آئندہ آنے والا الیکشن جیتنا بھی آسان ہوجائیگا ۔ وہ دو کام کیا ہیں۔ اس پر بات کرنے سے قبل ایک ضروری بات اور شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ اچھی بات آپ دوست اور دشمن دونوں سے سیکھ سکتے ہیں۔ بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 7ماہ تک اپنی انتخابی مہم چلائی۔ مخالف سیاسی جماعتوں نے ان پر میڈیامہم کے ذریعے اپنی ہوا بنانے، دولت کا بے دریغ استعمال ، مذہب اور ذات پات کو بڑھاوا دینے سمیت کئی الزامات لگائے، مگر وہ حکومت میں ہونے کے باوجودمودی کا راستہ روکنے میں ناکام ہوگئے۔ کیوں؟۔
اس کی وجہ نرنیدر مودی کی پرفارمنس ہے۔ گجرات کا قصائی کہلانے والا مودی، 2001 سے اب تک گجرات میں کوئی انتخاب نہیں ہارا۔ صوبے میں سرمایہ کاری میں 22فیصد تک اضافہ کیا، انڈسٹری کو فروغ دیا، گجرات کی ٹور ازم انڈسٹری کو بڑھانے کیلئے کانگریس کے حامی امیتابھ بچن جیسے سپر اسٹار کو ساتھ ملایا ۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ الزامات کے اس طوفان میں کسی بھی مخالف جماعت نے ان کی پرفارمنس کو انتخابات کا موضوع نہیں بنایا۔ کیونکہ سب جانتے تھے کہ یہ مودی کا مضبوط پوائنٹ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتہا پسند اور مسلمانوں کیلئے خوف کی علامت سمجھے جاننے والا نریندر مودی 1ارب 25کروڑ بھارتیوں کا وزیر اعظم بننے میں کامیاب رہا ۔
بات واضح ہے کہ نواز شریف اور ان کی ٹیم پرفارم کرے، کیسے ؟ وہ صرف دو کام کر دیں۔ ملک کی سیاست کا نقشہ ہی بدل جائیگا ۔ اول وہ حکومتی اعلان کے مطابق سوئس بینکوں سمیت بیرون ملک موجود پاکستان کی دولت( 2سو ارب ڈالر ) کو ملک میں لے آئیں۔ اس سے قبل سیاستدان ملک سے باہر دولت لے جانے کیلئے بدنام تھے ۔ اس کے الٹ ہونے سے سیاسی کلچر میں بڑی تبدیلی آجائیگی اور ن لیگ کا امیج بہتر ہو جائیگا۔ حکومت کو بیرونی قرضوں کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔ وہ ترقیاتی منصوبے بنائیں ، انہیں اقتدار کے دوران پایہ تکمیل تک پہنچائیں اور پھر عوام کے سامنے اپنی کارکردگی رکھ دیں۔
دوسرا نواز شریف اپنے دور اقتدار کے تمام منصوبوں کے لئے مختص رقم پر عوام کو جاننے کا حق دیدیں۔ مثلاٌ کراچی سے لاہور موٹر وے کے 30ارب روپے کے خرچے کی جانچ پڑتال کا عوام کو حق حاصل ہو۔ وہ حکومت کو ایک خط یا ای میل لکھیں اور حکومت اس کے سامنے اخراجات اور منصوبے کی تکمیل کے سارے مراحل رکھ دے ۔ اسے محسوس ہوجائے کہ حکومت نے ایک روپے کی بھی ڈنڈی نہیں ماری ۔
یہ دو کام موجود سیاسی کلچر میں بہت مشکل ہیں۔ بس ن لیگ نے تھوڑی سیاسی ہمت سے کام لینا ہے۔ گلے سڑے سیاسی کلچر کو تبدیل کرنا ہے۔ اس تبدیلی کا آغاز اگر ن لیگ کرتی ہے تو فائدہ اس کا، ورنہ جلد یا بدیر یہ کام ہو تو جانا ہے۔ ان دونوں کاموں کی انجام دہی کے دوران سیاسی مخالف کتنا ہی شور شرابہ کرلیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اور اگر کوئی خفیہ ہاتھ بھی آپ کو ہٹانے کی کوشش کریگا تو عوام آپ کیلئے اتنی بڑی تعداد میں سڑکوں پر ہوں گے کہ مخالفین کیلئے اپنا آپ بچانا مشکل ہوجائیگا۔
اس کیلئے اگر وزیر اعظم یا ان کی ٹیم تیار نہیں ہوتی تو جمہوری نظام کی بہتری کیلئے ملک کے نوجوانوں کو آگے آنا ہوگا۔انہیں جب بھی موقع ملے دل میں موجود سوالات کے سمندر میں ن لیگ سے لوٹی ہوئی قومی دولت واپس لانے اور بجٹ کے مختلف حصوں کیلئے مختص رقم کی شفافیت کے متعلق سوال ضرور کرنا ہوگا۔ اور اس وقت تک کرتے رہنا ہوگا جب تک یہ دونوں معاملات حل نہ ہوجائیں۔ کیونکہ یہ وسائل عوام کی امانت ہیں۔ ان میں ہیر پھیر بہرحال اب کسی پاکستانی کو منظور نہیں ہونا چاہیے۔
اگر نوجوان ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یقیناً ترقی یافتہ اور روشن پاکستان ہمارا مقدر ہے۔ ورنہ ’’لٹو تے پھٹو ‘‘ کا سلسلہ چلتا ہی رہیگا۔ اور ہم روتے اور سڑکوں پر ٹائر جلاتے ، ہڑتالیں کرتے زندگی گزار دینگے۔ وزیر اعظم نواز شریف صاحب خفیہ ہاتھ کو روکنے ، ملک کو ترقی یافتہ بنانے کیلئے آپ کے پاس اور ملک کے نوجوانوں کے پاس شاندار موقع ہے۔اب دونوں کی پرفارمنس جو بھی رہتی ہے وہی پاکستان کا مستقبل ہوگا ۔