لائل پور سے لانڈھی جیل تک (8)
- منگل 10 / جون / 2014
- 4889
غزلیہ تشدد
میری قمیص پسینہ سے تر ہوتی جا رہی تھی میں نے خوف پہ قابو پانے کے لیے اور خود کو بہادر ثابت کرنے کے لیے، تصور میں مستقبل میں ہونے والے واقعات کے بارے سوچنا شروع کر دیا۔ کبھی خود کو بزدل بنا دیکھتا جو معافیاں مانگ رہا ہے ، بچوں کی شکلیں اس کوٹھڑی کی دیواروں پہ ابھرتی مٹتی نظر آتیں، کان باہر ہر گزرتی گاڑی کی آواز پر لگے تھے کہ جانے کب کوئی گاڑی تھانے کی حدود میں داخل ہو جائے۔
باہر برآمدے میں سپاہی کے قدموں کے چلنے کی آواز دل کی دھڑکنیں بند کئے جا رہی تھی۔ سُلگتی سگریٹ کی تپش انگلیوں کی پوروں نے محسوس کی تو جلتی سگریٹ کو انگلیوں سے مسل دیا۔ جانے کب تصور میں خود پر کسی فوجی بیرک میں تشدد ہوتا ہؤا محسوس ہؤا۔ میں بہادر بنا مارشل لا کے خلاف نعرے لگا رہا ہوں اور تشدد کے جواب میں قہقہے لگا رہا ہوں کہ ایک سپاہی نے میرے کندھے ہلاتے ہوئے مجھے جگایا اور کہا کہ “ کیا ہؤا تمہیں، زور زور سے قہقہے کیوں لگا رہے ہو “۔
میں اُسکی طرف دیکھتا جاتا وہ مجھے یہ کہتا ہؤا باہر چلا گیا کہ ابھی تمھارے قہقہے ختم ہو جائیں گے جب فوجی ٹرک آئے گا ۔ پھر نہ جانے کب اور کیسے میں دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے لگائے سو گیا۔ کسی نے مجھے بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا تو دیکھا صبح ہو چُکی تھی۔ وہ صبح نہیں جس کا ہمیں انتظار تھا۔ یہ اندھیرے سے داغدار صبح تھی۔ مجھے انسپکڑ کے کمرے میں لے جایا گیا۔ علاقہ کا ایس پی بھی بیٹھا تھا ۔ مجھے مجسٹریٹ کے گھر لے جانے کی تیاری ہو رہی تھی۔ عید کی چھٹیوں کی وجہ جیل بند تھی۔ چھٹیوں میں نہ کوئی قیدی جیل سے رہا ہوتا ہے نہ جیل میں داخل ہوتا ہے ۔ لہذا یہ ضروری تھا کہ مجھے علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے ۔
“ اس کو پیدل مجسٹریٹ کے گھر لے کر جاؤ “۔ جب ہم چلنے لگے تو مجھے لے جانے والے سپاہیوں نے کہا، جناب اس کے جرم کی سزا ہمیں کیوں دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہمیں بھی پیدل چلنا پڑے گا۔ آخر مجھے ہتھکڑی لگا کر رکشے میں مجسٹریٹ کے گھر لے جایا گیا۔ اور اُس کے سامنے پیش کیا گیا ۔ مجسٹریٹ کے مہمان خانے میں امارت نہیں نفاست جھلکتی تھی ۔ اُس نے سپردگی کے کاغذات پہ دستخط کرنے سے پہلے میری طرف دیکھا اور کارروائی پورا کرنے کے لیے مجھ سے پوچھا : “ آپ پر کوئی تشدد تو نہیں ہؤا؟“
میں کہا کہ جناب یہ کمرہ اس وقت عدالت ہے اور عدالت میں ملزم کو ہتھکڑی لگا کر پیش نہیں کیا جاتا اور آپ دیکھ رہے ہیں میرے ہاتھ ہتھکڑی میں ہیں۔ اور جہاں تک تشدد کا تعلق ہے میری قمیض کے کالر اور جیب پر لگے خون سے اُ پ رات کا افسانہ پڑھ سکتے ہیں۔ مجسٹریت نے فوری ہتھکڑی کھولنے کا حکم دیا اور مجھے صوفہ پر بیٹھنے کے لیے کہتے ہوئے، سپاہیوں کو باہر برآمدے میں انتظارکے لیے کہا۔
ملازم کو میرے لیے چائے لانے کو کہا اور مجھے نصیحتیں کرنا شروع کر دیں۔ بیٹا ابھی تم نوجوان ہو اپنے کام پہ توجہ دو۔ محنت کرو اور صحافت کے شعبہ میں اپنا نام بناؤ۔ یہ تم کن کاموں میں پڑ گئے ہو ۔ میں نے کہا کہ جناب اخبارات چھپیں گے تو میں محنت کر سکوں گا۔ کچھ سیکھ سکوں گا۔ اگر اخبار ہی نہیں ہوں گے تو کہاں سے سیکھوں گا۔
میرے اس جواب پر ہلکے سا مسکراتے اس نے پوچھا کیا تمہیں ادب سے بھی دلچسپی ہے۔ میں کہا کہ جناب صحافت ادب سے دلچسپی کے بغیر آہی نہیں سکتی۔ میرا یہ جواب سن کر موصوف اندر چلے گئے اور دو تین منٹ بعد ایک کاغذ ہاتھ میں لئے داخل ہوئے۔ کل رات ایک غزل لکھی ہے۔ تمہیں ادب سے دلچسپی ہے سوچا تم کو سُناؤں ۔۔
پہلے دو شعروں سے ہی پتہ چل گیا انتہائی پست قسم کی شاعری ہے۔ وہی گل و بلبل کے تذکرے اور وہ بھی گھٹیا انداز میں۔ ایسا لگتا تھا رات کا تھانے میں تشدد جاری ہے۔ فرق صرف یہ تھا تھانے میں ہونے والے تشدد میں، ہائے ہائے کی آوازیں نکل رہی تھیں اور اس غزلیہ تشدد پر واہ واہ کی آواز نکال رہا تھا ۔ غزل بھی کوئی بیس اشعار پہ مشتمل تھی ۔ غزل ختم ہونے پر باہر کھڑے سپاہیوں کو آواز دے کر اندر بلایا اور کہا کہ دیکھو اب ان پہ کوئی تشدد وشدد نہ کرنا۔ اور مجھے ان کے حوالے کر دیا ۔
سپاہیوں نے مجھے گھور کر دیکھا اور تھانے میں آتے ہی مجسٹریٹ سے گفتگو کے بارے میں میری شکایت کر دی ۔ جس پر کھڑے کھڑے ہی مجھ پہ تھپڑوں کی بارش شروع ہو گئی۔ مگر بات تھپڑوں اور ٹھڈوں تک ہی محدود رہی۔ اس کے بعد مجھے دوسرے لوگوں کے ساتھ تین دن کے کے لیے کوٹھڑی میں بند کر دیا اور تین بعدلانڈھی جیل کی بجائے مجھے سینٹرل جیل کراچی کے حوالے کر دیا گیا (جاری ہے )