آپ بھی سوچئے
- بدھ 11 / جون / 2014
- 5566
مہذب معاشروں میں حکومتی ذمہ دار معمولی حادثوں پر ذمہ داری قبول کرتے ہوئے عہدے چھوڑ دیتے ہیں مگر پاکستان کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ آج ساری دنیا میں ہماری ناکامی اور پرلے درجے کی نااہلی کا ڈھول پورے زور و شور سے پیٹا جا رہا ہے۔ مگر پے در پے دہشت گردی کی سنگین وارداتوں کے باوجود ہمارے اہل اقتدار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی اور راوی عیش ہی عیش لکھ رہا ہے۔
کراچی ائر پورٹ پر سفاکانہ حملے نے عوام کے دلوں کو دہلا دیا ۔ اس حملے میں متعدد قیمتی جانیں گئیں مگر اس کے بعد حکومتی بے حسی کے نتیجے میں کارگو ٹرمینل سے 7 محصور افراد کی جلی ہوئی لاشیں ملیں۔ جن کا نوحہ بے حس حکمرانوں تک کبھی نہیں پہنچے گا۔ اس وقت پوری قوم اس قدر سراسیمہ ہے کہ بیان سے باہر ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس حملے میں بھی وہی تکنیک اور حربے استعمال کئے گئے جو مہران نیول بیس پر حملے میں استعمال کئے گئے تھے۔
ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک کو بار بار ایک ہی سوراخ سے ڈسا جا رہا ہے۔ طالبان ہمیشہ ایک ہی نوعیت کی حکمت عملی کے ساتھ حملہ آور ہوتے ہیں۔ وہ ہر مرتبہ آزمودہ حربوں کو استعمال میں لاتے ہیں اور ہر بار ہمارے دفاعی اداروں کو سرپرائز دے جاتے ہیں۔ کیا یہ جنگی نقطہ نظر سے حیران کن بات نہیں۔ طالبان کا طریق واردات ہر بار یہ رہا ہے کہ وہ فوجی وردیاں پہن کر آتے ہیں۔ جبکہ ہمارے پاس ان کی فوری شناخت تک کا کوئی طریقہ نہیں۔ اس ضمن میں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ کراچی کے ہوائی اڈے پر حملہ آوروں کا تعلق تاجک اور ازبک قبائل سے ہے۔ انہیں ماہر تو کیا عام آدمی بھی دور سے پہچان سکتا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ وہ ہوائی اڈوں کے ممنوعہ علاقوں تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔
مہران نیول بیس کے واقعہ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ کچھ اندر کے لوگ بھی حملہ آوروں کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ تو پھر کہیں ایسا تو نہیں کہ یہاں بھی وہی عمل دہرایا گیا ہو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی ایئرپورٹ کا سانحہ بھی اس سے مماثلت رکھتا ہے۔
دنیا جانتی ہے کہ امریکہ میں نائن الیون کی صورت میں ایک بڑا واقعہ ہؤا مگر امریکیوں نے ایسا سانحہ 13 برس کے دوران دوبارہ نہیں ہونے دیا۔ اسی طرح برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں 7 جولائی 2005ء کو ہلاکت خیز دہشت گردی ہوئی لیکن 9 سال ہوئے ایسی کوئی دوسری واردات نہیں ہوئی۔ حتیٰ تک کہ یہ لکھتے ہوئے شرمندگی محسوس ہو رہی ہے کہ 26 نومبر 2008ء کو ممبئی حملے ہوئے اور حملہ آوروں نے پورے بھارتی سماج اور حکومت کو جڑوں سے ہلا کر رکھ دیا۔ لیکن بھارت جیسے ملک میں اس کے بعد کے 6 برس میں اس طرح کی کسی اور واردات کو جنم نہیں لینے دیا گیا۔
کیا پاکستان ہی ایک ایسا بدقسمت ملک ہے کہ یہاں دہشت گردی آئے روز ہمیں تگنی کا ناچ نچاتی ہے اور لگاتار ہلاکتوں کا سلسلہ تھمنے میں نہیں آتا۔ مگر یہاں نہ ہی کوئی ذمہ داری قبول کرتا ہے اور نہ ایسے سانحات سے بچاؤ کیلئے مؤثر حکمت عملی بنانے پر کوئی توجہ دی جاتی ہے۔
یہاں پر عسکری قیادت اور حکومت سے یہ سوال پوچھنا لازم ہے کہ نائن الیون کے بعد امریکہ نے اپنی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ہوم لینڈ سکیورٹی کے مشترکہ نظام کے تحت ایک مضبوط لڑی میں پرو دیا۔ پاکستان میں بھی یہ فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردی کا مؤثر مقابلہ کرنے کی خاطر نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) قائم کی جائے جس کے تحت 26 کے قریب انٹیلی جنس ایجنسیوں کو یکساں نظام کے تحت منظم کر دینا مقصود تھا۔ مگر آج تک یہ نیکٹا عملی طور پر نظر نہیں آئی۔ کیا اسے وجود میں لایا گیا ہے یا نہیں۔ اگر نہیں تو اتنا عرصہ گزرنے کے بعد کوئی فیصلہ کیوں نہیں ہو سکا؟ اس میں کون رکاوٹ ہے۔ کیا ہمارے حکمران ایسے بلند و بانگ دعوے صرف عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قوم کو جتنی جلد ان سوالوں کا جواب مل جائے ہماری داخلی سلامتی، بیرونی وقار اور قومی ترقی کیلئے اتنا ہی مفید ثابت ہو گا۔ بصورت دیگر ایسے واقعات ہوتے رہیں گے اور دنیا ہمارا تمسخر اڑاتی رہے گی۔
کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ اور تفتان میں خودکش حملے اپنی نوعیت کا پہلا سانحہ نہیں۔ حساس فوجی تنصیبات اور قومی اثاثے دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔ جی ایچ کیو پر حملہ ہؤا۔ مہران نیول بیس کو ہدف بنایا گیا۔ کامرہ میں منہاس ائر بیس کو نشانہ بنایا گیا۔ باچا خان ائیرپورٹ پر حملہ ہؤا۔ ان کے علاوہ درجنوں المناک سانحات وقوع پذیر ہوئے لیکن اس کے باوجود حکمران طبقے کو دیوار پر لکھا نظر نہیں آتا۔ ائر کنڈیشنڈ گھروں اور دفتروں میں بیٹھی اس ایلیٹ کلاس نے اپنی چشم مصلحت جان بوجھ کر بند کر رکھی ہے۔
کوئی یہ سوچنے اور سمجھنے کو تیار نہیں کہ کہیں نہ کہیں تو سکیورٹی نظام میں رخنہ ہے۔ کسی کی تو نا اہلی ہے۔ کوئی تو ذمہ دار ہے۔ آخر کوئی آگے بڑھ کر ذمہ داری کیوں نہیں لیتا؟ کوئی اپنی غلطی کا اعتراف کیوں نہیں کر لیتا؟ دنیا بھر میں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ کسی حادثہ پر، کسی ماتم پر، کسی المیہ پر، دہشت گردی کے واقعہ پر متعلقہ وزیر مستعفی ہو جاتا ہے۔ ہماری جمہوریت میں ایسا کیوں نہیں ہوتا؟۔
کم از ازکم وزیر داخلہ ہی اپنی ناکامی کا اعتراف کر لیں۔ کیا وہ امن و امان کے ذمہ دار نہیں؟ کیا یہ وزارت داخلہ نہیں جو تمام سیکورٹی ایجنسیوں کی سربراہ ہے۔ اگر یہ وزارت سچ مچ ملک کی داخلی سلامتی کی ذمہ دار ہے تو پھر وزیر داخلہ اس سیکورٹی کی کوتاہی کے ذمہ دار کیوں نہیں۔ اگر وہ بااختیار وزیر ہیں تو پھر ان کو اتنے بڑے سانحہ کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے۔ کیا انہیں ملک سے زیادہ اپنا جاہ و جلال اور وزارت عزیز ہے۔
دہشت گردی کے اس بدترین واقعہ کے بعد بھی وہی ہو گا جو آج تک ہوتا آیا ہے۔ کچھ دن ’’ اعلیٰ سطح‘‘ کے اجلاس ہوں گے۔ لوگ اسلام آباد سے کراچی اور کراچی سے اسلام آباد کے چکر لگائیں گے۔ انکوائریوں اور کمیشنوں کا غل اٹھے گا۔ مذمتی بیانات کی ریل پیل ہو گی۔ دہشتگردوں کو آہنی ہاتھوں سے کچلنے کے کھوکھلے دعوے ہوں گے اور زندگی پھر پرانی ڈگر پر لوٹ آئے گی۔ اور ہم پھر کسی سانحہ کے منتظر ہوں گے۔
کیا مہذب معاشرے اسی طرح سانحات کا انتظار کرتے ہیں۔ میں تو سوچ ہی رہا ہوں، آپ بھی سوچئے۔