لائل پور سے لانڈھی جیل تک (9)

  • جمعہ 13 / جون / 2014
  • 4280

ہمراز احسن کا پچاس کا نوٹ اور سپاہی کے پراٹھے

ویسے تو اس دور میں پاکستان کی ہر جیل میں سیاسی قیدیوں کا میلہ لگا ہؤا تھا مگر سینٹرل جیل کراچی میں سیاسی قیدیوں کا بہت بڑا اجتماع  تھا۔ تحریکِ آزادئ  صحافت کے قیدیوں نے اس میلے کی رونق کو دوبالا کر دیا تھا۔ 

جیل کی بیرکیں سیاسی اور صحافی قیدیوں سے بھی پھڑی تھیں۔  شفقت تنویر مرزا ، ہمراز احسن ، پاکستان ٹائمز کے عزیز صدیقی ، حسن سنگرامی ، اعجاز رضوی  ہر طرف ان قیدیوں کی چہل پہل تھی۔  ایک پوری بیرک ڈاکڑ اعزاز نذیر کی پارٹی کے کارکنوں سے بھری پڑی تھی۔ یہ لوگ یکم مئی کا جلوس نکالنے کے جرم میں قید تھے۔ ان کو کوڑوں کی سزا دی گی تھی۔ انہوں نے اپنی بیرک کا نام  “ لیاری کمیون “  رکھا ہؤا تھا۔ جو فرانس کے انقلابیوں نے متعارف کروایا تھا۔

ہماری ساتھ والی بیرک میں ممتاز بھٹو ، حفیظ پیر زادہ اور پیپلز پارٹی کے دوسرے لوگ قید تھے۔ اب یہ بات کہاں تک غلط یا دورست ہے مگر مجھے جیل کے ایک ملازم نے بتایا کہ ایک گا ڑی رات دس گیارہ بجے آتی ہے اور پیرزادہ صاحب کو لے کر چلی جاتی ہے۔ اور صبح تین چار بجے واپس جیل لے آتی ہے۔ بائیں بازو کی ہر پارٹی نے جیل میں سٹڈی سرکل کھولے ہوئے تھے۔ بڑا سٹڈی سرکل ڈاکڑ اعزاز نذیر کی پارٹی ہی کا تھا۔

میری درخواست پہ مجھے بھی اسی “ لیاری کمیون “ والی بیرک میں رکھا گیا۔  افغا نستان میں انقلاب آچکا تھا جس پر بھٹو صاحب نے اپنے وکیل میمن کو کہا تھا: “ میمن اب کتابیں سمیٹ دو۔ اب ان کتابوں کی ضرورت نہیں اب امریکہ کی میں ضرورت بن گیا ہوں۔ افغان انقلاب کے بعد امریکہ مجھے مرنے نہیں دے گا “۔ مگر امریکہ اس غبارے سے ہوا نکالنے کا فیصلہ کر چُکا تھا اور اس کے لیے امریکہ نے تیز دھار سوئی مولوی مشتاق اور ضیا کے ہاتھ میں پکڑا دی تھی۔ افسوس بھٹو صاحب اس کا اندازہ نہ لگا سکے۔

جیل میں سیاسی تجزیے ہو رہے تھے اور سب اس پر متفق تھے کہ انقلاب پاکستان میں دستک دینے ہی والا ہے۔ مگر وہ دروازہ ہی اکھاڑ کر جلا دیا گیا جس پر انقلاب نے دستک دینا تھی۔ کوئی ایک پفتہ بعد مجھے فوجی عدالت میں پیش کیا گیا۔ جہاں میری فوجی عدالت کے سربراہ سے بہت ذیادہ تلخ کلامی ہو ئی۔ جس پر اُس نے مجے کہا: “ چُپ رہو بکواس بند کرو ، کیا تم سمجھتے ہو ہم تمھارے جیسے دو چار صحافیوں کے آگے ہتھیار ڈال دیں گے “۔ جس کے جواب میں نے کہا: “ نہیں آپ تو صرف جنرل اروڑہ کے ہی آگے ہتھیار ڈالتے ہیں“۔

اس مکالمے پر اس نے مجھ پر فوجی عدالت میں ہی تشدد کرنا شروع کر دیا۔ اور اوپر سے اجازت نہ ملنے پر کوڑوں کی سزا دینے کی بجائے ایک سال کی با مشقت سزا سُنا دی۔  میرے کپڑوں سے بد بو آنے لگی تھی میرے پاس کپڑوں کا  کو ئی دوسرا جوڑا نہیں تھا۔ ایک ساتھی نے جیل کے عملے سے میرے لئے جیل کے کپڑے مانگ لئے۔  دو گھنٹے بعد مجھے جیل کے انسپکڑ کے کمرے میں بلایا گیا اور بتایا گیا کہ مجے سکھر جیل شفٹ کیا جا رہا ہے۔

میں دوستوں سے علیک سلام کہنے آیا تو ہمراز احسن نے چُپکے سے میری جیب میں زادِ سفر کے لیے پچاس کا نوٹ ڈال دیا۔ جو میرے بہت کام آئے۔ مجھےے ہتھکڑی لگا کر جب کراچی کے ریلوے اسٹیشن لا یا گیا تو ایک سندھی سپاہی نے مجھے کہ: “ ہمیں پتہ ہے تم لوگوں نے خود گرفتاریاں دی ہیں۔ لہذا مجھے پورا یقین ہے تم بھاگو گے نہیں۔ اس لیے یں تمھاری ہتھکڑی کھول رہا ہوں “ جس کی وجہ سے میں راستے میں اسٹیشنوں پر ٹرین سے اُتر جاتا سگریٹ خریدتا، چائے پیتا اور ٹرین چلنے پر ٹرین میں داخل ہو جاتا۔

انسپکڑ نے بُرا بھی منایا مگر سپاہی نے انسپکڑ کو مطمئن کر دیا۔ گاڑی صبح کو ئی دو یا تین بجے روہڑی پہنچی۔ جیاں وہ سپاہی ہمیں اپنے گھر لے گیا۔ میں تھکا ہؤا تھا اور سونا چاہتا تھا۔ مگر سپاہی نے اپنی بیوی کو اُٹھا کر اُسے آملیٹ اور پراٹھے بنانے کو کہا۔ مجھے بھوک نہیں تھی۔ میں منع کرتا رہا مگر انسپکڑ ساتھ ہونے کی بنا پہ سپاہی بضد تھا۔ بہر حال اُس کی محترمہ نے فوری طور پر ادرک والا آملیٹ اور پراٹھے بنا دئے۔

صبح دس گیارہ بجے اُٹھ کر ہم سکھر جیل کی طرف روانہ ہو گئے۔ صرف ایک پُل پار کرنے سے سکھر شہر شروع ہو جاتا ہے۔ پہلے وہ سپاہی ہم کو ایک ہوٹل میں لے گیا۔ پتہ چلا یہ پیپلز پارٹی کے کسی راہنما کا ہے۔ جو بھی سیاسی قیدی سکھر جیل جاتا ہے۔ سپاہی پہلے اس قیدی کو یہیں لے کر آتے ہیں۔ دن کے  ایک دو بجے کے قریب مجھے سکھر جیل حکام کے حوالے کر دیا گیا

( جاری ہے )