روزہ کے مسائل

  • اتوار 15 / جون / 2014
  • 8002

رمضان المبارک کی آمد ہے۔ اس سلسلہ میں کئی سوال ذہن میں آتے ہیں ۔ ہم یہاں ایسے بعض سوالات کے جواب قارئین کے استفادہ اور سہولت کے لئے پیش کررہے ہیں۔

سوال:۔ رمضان المبارک میں روزہ کی نیت کا کیا طریقہ ہے۔ اگر صبح کسی کی آنکھ نہ کھلے تو وہ روزہ کیسے رکھے ؟
جواب:۔حضور اکرم ﷺ کا ارشاد عالی ہے انما الاعمال بالنیات اور روزہ کی یہی نیت ہے کہ صبح سحری کرتے وقت یہ ارادہ کر لیں کہ میں رمضان شریف کا روزہ رکھ رہا ہوں اور برکت کے لیے یہ کلمات پڑھے۔ وبصو م غد نویت من شھر رمضان تو اجر میں مزید اضافہ ہو جائیگا ۔ روزہ کھولنے کی نیت بھی دل میں ہی کر لے کافی ہے ۔ اگر چا ہے تو برکت کی خاطر زبان سے پڑھ لے ۔ اللھم انی لک صمت وبک آمنت وعلیک توکلت وعلی رزقک افطرت صبح سویرے آنکھ نہ کھلے تو بلا سحری کھائے پئیے روزہ رکھ لیا تو بھی درست ہے ۔ روزہ رکھنے کاارادہ نہ کیا مگر نہ کچھ کھایا نہ پیا تو تب بھی نصف النہار سے ایک گھنٹہ قبل روزہ کی نیت کر سکتا ہے ۔

سوال:۔ ممنوعات روزہ کونسی چیزیں ہیں ؟ کن کن صورتوں میں روزہ ٹوٹ جاتا ہے ؟
جواب:۔ روزہ کی حالت میں کھانا پینا، ہر قسم کا جنسی عمل، سگریٹ نوشی، پان چبانا، آنکھ اور کان میں دوائی ڈالنا منع ہے ۔ اگربتی وغیرہ کا دھواں ارادتا سونگھنا بالکل منع ہے ۔ اور اگر روزہ رکھ کر توڑ لیا تو اس کا کفارہ دینا پڑے گا ۔ جو کہ سا ٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا یا فی مسکین صدقۃ الفطر کے برابر غلہ یا نقدی دینا ہے ۔ یہ بھی بات یاد رکھیں کہ کفارہ صرف رمضان شریف کا روزہ توڑنے سے لازم آ تا ہے ۔ دوسرے مہینوں میں اگر نفلی روزہ یا قضا روزہ رکھ رہا ہو اور اسے توڑ ڈالا تو صرف قضاء یعنی ایک روزہ لازم ہے ۔ کفارہ نہیں ہے ۔ بھول چوک سے کوئی بھی عمل کر بیٹھا تو روزہ نہیں ٹوٹتا ۔ خو شبو ، سرمہ تیل لگانے سے ، منہ کا لعاب نگلنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ۔ خود بخود قے آ گئی تھوڑی ہو یا زائد باہر نکل گئی اندر واپس نہیں ہوئی تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اگر اپنی مرضی سے منہ بھر کر قے کی تو روزہ ٹوٹ جائے گا ۔ اس طرح بیماری کی وجہ سے مرد ہو یا عورت شرم گاہ میں کوئی دوائی رکھ لی تو روزہ ٹوٹ جائے گا ۔

مسواک کرنا بڑا ثواب ہے مگر منجن کا استعمال منع ہے ۔ احتلام آ نے سے یا لیکوریا کی بیماری سے روزہ نہیں ٹوٹتا ۔ رات کو نہانے کی حاجت ہو گئی مگر آنکھ دیر سے کھلی تو کلی کر کے سحری کھا سکتا ہے ۔ روزہ بند ہونے کے بعد جب چا ہے نہا لے روزہ میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ مگر خیال کرے کہ نماز ضائع نہ ہو کیونکہ اس کا بہت بڑا گناہ ہے ۔ دانتوں میں کوئی ریشہ وغیرہ اٹکا رہا اور روزہ بند ہونے کے بعد اسے نگل گیا اگر وہ دیسی چنے سے کم تھا اور اسے منہ سے باہر بھی نہیں نکالا تو روزہ نہیں ٹوتا اور اگر منہ سے نکال لیا پھر نگلا یا وہ چنے کی مقدار سے بڑا تھا اور اندر ہی اندر نگل لیا دونوں صورتوں میں روزہ ٹوٹ گیا مسافر کو اجازت ہے کہ وہ سفر کے دوران روزہ نہ رکھے رمضان کے بعد اس کی قضاء کر لے۔

سوال:۔ ایسے بوڑھے شخص کے لئے جسے کئی بیماریاں لاحق ہوں، اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ جواب:۔ ایسے حضرات جو بڑھاپے کی بناء پر روزہ نہ نبھا سکتے ہوں نیز ایسے حضرات جو خدانخواستہ کسی ایسی مرض میں مبتلاء ہیں کہ روزہ رکھنے سے مرض کے بڑھنے یا کسی خطرناک پوزیشن میں چلے جانے کا خطرہ ہو تو وہ اپنی جگہ دوسرے کسی مسکین شخص کو روزہ رکھوا سکتے ہیں ۔ یا صدقۃ الفطر کی رقم کے برابر فی روزہ فدیہ دے سکتے ہیں ۔

سوال:۔ نماز تراویح کی کیا اہمیت ہے ؟ اور اس کی کتنی رکعات ہیں ؟ شوال کے چھ روزے کیا پہلے ہی ہفتے میں رکھنا ضروری ہیں ؟
جواب:۔ رمضان شریف میں بیس رکعت نماز تراویح سنت موکدہ ہے جس کا ترک کرنا بہت بڑا گناہ ہے ۔ البتہ مسافر اگر نماز تراویح نہ پڑھ سکے تو گناہ نہیں۔ شوال کے مہینے میں جس عشرے میں بھی چا ہے چھ روزے رکھنا بہت بڑا ثواب ہے ۔ جو شخص رمضان شریف کے روزے رکھے اور پھر شوال کے بھی چھ روزے رکھ لے تو وہ ایسا سمجھا جاتا ہے جیسے وہ پورا سال روزہ دار رہا ہو۔

سوال:۔ فطرانہ کی ادائیگی کا کیا طریقے کار ہے ؟ اور اس کی مقدار کیا ہے ؟
جواب:۔ عید الفطر کی خوشیوں میں غربا ء اور مساکین کو شریک کرنے کے لیے فطرانہ کی ادائیگی واجب ہے ۔ یکم شوال المکرم کی صبح کو گھر میں جتنے افراد مع مہمان کے موجود ہوں گے فی کس پونے دو کلو گندم اور احتیاطا پوری دو کلو کر دیں یا اس کی قیمت۔ وہ غلے جن میں گٹھلی ہوتی ہے یا آدھا چھلکا اتر جاتا ہے ان کا وزن دو کی بجائے چار کلو ہو گا۔