لائل پور سے لانڈھی جیل تک (10)
- منگل 17 / جون / 2014
- 4848
سکھر جیل سندھ کی سخت ترین جیل ہے۔ یہاں جیل کے اندر جیل ہے۔ ہر دو تین بیرکوں کے ارد گرد مضبوط چار دیواری کی ہوئی ہے ۔ قانون کے مطابق چار بجے شام کے بعد نہ کوئی قیدی لیا جا تا اور نہ رہا کیا جاتا ہے۔ مگر یہاں خطرناک ترین کریمنل مجرموں کو صبح تین بجے لایا جاتا تھا ۔
ایسے مجرموں کو جیل کی زبان میں “ الارم والا مجرم “ کہا جاتا ہے۔ یعنی جس نے ہر جیل میں خطرے کے الارم بجوا دئے ہوں۔ اور پہلے دن ہی فیصلہ ہو جاتا تھا کہ کس کی حکمرانی چلے گی۔ مجرم کی یا جیل کے عملے کی۔ جب مجرم کو صبح تین بجے لایا جاتا ہے تو پہلے تو وہ چھوٹے دروازے سے جھک کر گزرنے کی بجائے بڑا دروازہ کھولنے کا کہتا ہے۔ یہ اس مجرم پہ منحصر ہوتا کبھی اس کی یہ بات مان بھی لی جاتی ، مگر جب جیل کے اندر والے دروازے سے اُس کو گزارا جاتا تو دروازے کے ساتھ ہی آٹھ دس نمبردار ( جو قیدی ہی ہوتے ہیں مگر اُن کو لال پگڑی دے کو ان کو نمبرداری کا خظاب دے دیا جاتا ہے اور یہ ہر طرح سے جیل کے عملے کی مدد کرتے ہیں۔ جس میں دوسرے قیدیوں پہ تشدد کرنا بھی شامل ہوتا ہے۔ اس سے ان کی قید میں دنوں ہفتوں یا میہنوں کی کمی کر دی جاتی ہے ) ڈانگیں لیے کھڑے ہوتے ہیں۔
جونہی مجرم دروازے کو پار کرتا ہے یہ نمبر دار اُس پر ڈانگیں برسانا شروع کر دیتے ہیں اور اُس کی بیرک تک اُسے مارتے جاتے ہیں۔ وہ اُنچی اُنچی آواز میں جیل کے انسپکڑ اور ان نمبرداروں کی خواتین سے ناقابل ِ یقین حد تک اپنے رشتے بتاتا جاتا ہے اور اپنے جسم کے اور جیل کے عملے کی خواتیں کے جسم کے محتلف اعضاء کے نام لیتا جاتا ہے۔ بس اسی دن فیصلہ ہو جاتا ہے کہ کس کا حکم چلے گا۔ ہم چونکہ ضیا دور میں سالہاسال کی جیلیں کاٹنے کے باوجود ابھی تک اتنے خطرناک مجرم نہیں بنے تھے لہذا ہم کو دوپہر ایک دو بجے ہی جیل کے اندر پہنچا دیا گیا ۔
جہاں پہلے سے جوہر میر ( کس کا نام یاد آیا ایک تیر دل پہ لگا یے) الفتح والے وہاب صیقی لائل پور سے جاوید صدیقی اور تحریک سے تعلق رکھنے والے کوئی بیس پچیس صحافی طالب علم ، کسان اور مزدور موجود تھے۔ ہم تین بیرکوں میں تقسیم تھے مگر ایک ہی احاطے میں تھے۔ یہاں بھی وہی میلے کا سماں تھا جو اس وقت پاکستان کی ہر جیل میں سیاسی قیدیوں نے لگائے ہوئے تھے۔ کبھی جیل کا عملہ ہم پر مہربان ہوتا تو ہمیں ہر قسم کی سہولت حتیٰ کہ کے کھانے کے لیے کچا راشن بھی دے دیتا۔ جس کو ہم خود ہی پکاتے تھے۔ اور کبھی اتنی سختی کرتا کہ ہم سے ٹوتھ پیسٹ، شیونگ کریم بھی چھین لی جاتی۔
ایسا ہی ایک دفعہ ایک روزکوئی رات بارہ بجے کے قریب ہؤا۔ جیل کے عملے نے نمبرداروں کی مدد سے پماری بیرک پر حملہ کر دیا اور ہم پہ تشدد کرنا شروع کر دیا۔ ہمارا سارا سامان ساتھ لے گئے۔ دو دن بعد انہوں نے یہ سامان واپس بھی کر دیا ۔مگر میں نے شیو کرنا بند ہی کر دی تاکہ جیل کے عملے کے آگے جھکنا نہ پڑے۔ جب تک جیل میں رہا شیو نہیں کی۔ جس کی وجہ سے میری داڑھی اور بُگٹی کی داڑھی میں فرق کرنا مشکل ہو گیا تھا ۔
چند ہفتوں بعد پی ایف یو جے اور ایپنک نے گرفتاریوں کا سلسلہ بند کرنے کا فیصلہ کر کے جیلوں کے اندر تحریک کے تمام کارکنوں کو تا مرگ بھوک ہڑتال کرنے کا فیصلہ سُنا دیا۔ رشید صدیقی گروپ اپنی تمام چالوں میں ناکام ہو چُکا تھا۔ لاہور کی نسبت اس دفعہ وہ تنظیم میں پھوٹ نہ ڈ لوا سکا۔ ہمارے ہاں بھوک ہڑتال کرنے والوں کے دو گروپ بن گئے۔ ایک گروپ کا خیال تھا کہ جس طرح فوجی اور سول انتظامیہ ہمیں دھوکہ دیتی ہے۔ ہمیں بھی ان کو دھوکہ دینا چاہیے۔ یعنی بھوک ہڑتال کے درمیان تھوڑا بہت کھا لینا چاہئیے۔ مگر جوہر میر، وہاب صدیقی، میں نے اور چند دیگر صحافیوں نے اس خیال کی پُر زور محالفت کی اور جیل کے عملے سے کھانا لینا ہی بند کر دیا۔ جو عملہ کھانا لے کر آتا اس کو بیرک کے دروازے سے ہی واپس کر دیا جاتا۔ صرف قہوا پانی اور سگریٹ پر گُزارا تھا۔
میں نے محتلف بھوک ہڑتالوں میں حصہ لیا ہے۔ میرے تجربے کی مطابق پہلے دو تین دن ہی مشکل ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے سر درد کا حملہ ہوتا ہے۔ یہ سب جسم میں پانی ختم ہونے کی بنا پہ ہوتا ہے۔ اگر آپ مسلسل پانی پیتے رہیں تو کسی حد تک آپ اس پر قابو پا سکتے ہیں۔ سگریٹ پینے والے زیاہ مشکل میں ہوتے ہیں۔ بہرحال بھوک ہڑتال کا کوئی پندھرواں دن تھا کہ دوپہر کو ایک سپاہی آیا اور اس نے کہا جوہر میر اور مسعود قمر کو جیل کے انسپکڑ نے دفتر بلایا ہے۔ میری حا لت بہت خراب تھی چلا نہیں جا رہا تھا۔ لہذا میں نےجوہر میر کو کہا کہ آپ چلے جائیں وہ سپاہی کے ساتھ چلے گئے۔ مگر تھوڑی دیر بعد سپاہی پھر آیا کہ آپ کو بھی بلایا گیا ہے۔
مجھے دو سپاہیوں نے سہارا د کر جیل انسپکڑ کے دفتر پہنچایا تو دیکھا نثار عثمانی صاحب بیٹھے ہوئے ہی۔ ہم تینوں ایک طرفٖ ہو کر بیٹھ گئے۔ نثار صاحب نے باہر کی ساری صورتِ حال بتائی کہ مولانہ مفتی محمود، ضیا پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ہماری تنظیم کے ساتھ گفتگو کر کے سمجھوتہ کرلے۔ کیوں کہ پوری دنیا میں ملک کی بدنامی ہو رہی تھی۔ نثار عثمانی نے بتایا کہ شاید عنقریب گفتگو شروع ہو جائے گی۔
اس ملاقات کے کچھ دن بعد ہی کوئی شام چار بجے کے قریب جیل آفیسر منظور الہی جیل کے عملے کے ساتھ آیا اور ہم سب کو اکھٹا کر کے بتایا کہ حکومت کا آپ کی تنظیم کے ساتھ سمجھوتہ ہو گیا ہے لہذا یہاں سے مسعود قمر کے علاہ سب کو رہا کیا جا تا ہے۔ آپ اپنا سامان پیک کر لیں۔ میرے علاہ تحریک استقلال کے ناہید افضال اور کراچی کے ایک مزدور کو بھی رہا نہیں کیا گیا تھا۔ پہلے دو دفعہ جب مجھے رہا اور صوبہ بدر کیا گیا تھا۔ اس وقت میں ساتھیوں کے بغیر رہا ہونے سے انکار کر رہا تھا۔ اس دفعہ میرے ساتھی میرے بغیر رہا ہونے سے انکار کر رہے تھے۔ مگر جیل کا عملہ ان سب کو کوئی چھ بجے کے قریب لے گیا ۔ جن تین بیرکوں میں کچھ گھنٹے پہلے بیس پچیس لوگوں کا میلہ لگا ہؤا تھا، اب وہاں تنہائی کے میلے نے ڈیرے ڈال دئے تھے (جاری ہے )