امام پر حملہ

  • بدھ 18 / جون / 2014
  • 5011

اوسلو کی جامعہ مسجد جماعت اہلسنت کے امام نعمت شاہ بخاری پیر کو رات گئے قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے ہیں۔ چاقو کے حملہ میں شدید زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے ہمت و حوصلہ سے کام لیا ہے۔ اب وہ اسپتال سے گھر آ چکے ہیں اور منگل کی شام انہوں نے مسجد کے نمازیوں اور تنظیم کے عہدیداروں سے ملاقات بھی کی ہے۔

ناروے کے ایک مسلمان رہنما پر ہونے والا یہ پہلا سنگین حملہ ہے۔ اس لئے ملک بھر میں ہر طبقہ فکر نے اس کی شدت کو محسوس کیا ہے اور اس کی مذمت کی ہے۔ پولیس اس حملہ کی تفتیش قاتلانہ حملہ کے طور پر کر رہی ہے۔ اس لئے اس حقیقت کے باوجود کہ حملہ آور نقاب پوش تھا ، یہ امید کی جا رہی ہے کہ اس حملہ میں ملوث شخص کو جلد گرفتار کیا جائے گا تا کہ سچائی سامنے آ سکے کہ اس قاتلانہ حملہ کے عوامل کیا تھے۔

نعمت علی شاہ نے اس حملہ میں شدید زخمی ہونے کے باوجود پولیس کو اپنا تفصیلی بیان دے دیا ہے۔ پولیس نے اس بیان کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا ہے لیکن سامنے آنے والی خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ نعمت علی شاہ نے جان لیوا حملہ کے باوجود اپنے ہوش و حواس قابو میں رکھے اور اس واقعہ کے بارے میں ہر طرح کی تفصیل ان کی یادداشت میں محفوظ ہے۔ اس طرح پولیس کو حملہ آور کے قد و قامت ، طریقہ واردات اور دیگر اہم پہلوؤں کے بارے میں شافی معلومات حاصل ہو گئی ہوں گی۔ متعدد گواہوں نے بھی پولیس سے رابطہ کیا ہے۔ اس طرح پولیس بتدریج حملہ آور کی پوری تصویر بنانے میں ضرور کامیاب ہو سکے گی۔

اس سے قبل پولیس نے اس حملہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی تھی۔ امید کرنی چاہئے کہ اس فوٹیج میں ایسے اشارے مل سکیں گے جن کی وجہ سے حملہ آور تک پہنچنے میں آسانی ہو۔ پولیس کے لئے بھی اس افسوسناک حملہ کے مقاصد کو جاننا اتنا ہی ضروری ہے جتنا مسلمانوں کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔ اس سانحہ میں خواہ کوئی بھی لوگ ملوث ہوں لیکن اس حملہ کو کثیر الثقافتی معاشرہ کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ ایک امام کو نشانہ بنانے والے لوگ صرف ایک شخص سے انتقام لینے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ وہ ایک پوری کمیونٹی یا ایک پوری جماعت کو پیغام دینا چاہتے ہیں۔ اس لحاظ سے اس حملہ کو سماجی اور معاشرتی اہمیت بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ اس پس منظر میں اس معاشرے میں آباد ہر شخص خواہ وہ کسی عقیدے سے تعلق رکھتا ہو اور اس کے سیاسی نظریات جو بھی ہوں ، یہ جاننے میں دلچسپی رکھتا ہے کہ ملک کے اہم امام کو کیوں نشانہ بنایا گیا اور اس صورتحال کے تدارک کے لئے کیا اقدام کئے جا سکتے ہیں۔

امام نعمت علی شاہ پر حملہ کے حوالے سے جماعت اہلسنت میں دو گروہوں کے باہمی تنازعہ کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے۔ یعنی حملہ آور ممکنہ طور پر کسی ایسے گروہ سے متعلق ہوسکتا ہے جو جماعت اہلسنت کی جامعہ مسجد کی موجودہ انتظامیہ اور امام کو پسند نہیں کرتا۔ اس حوالے سے چند برس پہلے مسجد میں بعض ناخوشگوار واقعات پیش آ چکے ہیں۔ تاہم اب جامعہ مسجد کا انتظام خوش اسلوبی سے چل رہا تھا۔ اور بظاہر کوئی اختلاف موجود نہیں تھا۔ تاہم ماضی میں ہونے والے واقعات کی وجہ سے پولیس اور جماعت اہلسنت کے لئے اس پہلو سے معاملہ کو دیکھنا بالکل فطری ہے۔

حملہ کے حوالے سے دوسرا جواز اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یورپ بھر میں سامنے آنے والی بے چینی میں بھی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ پولیس نے ابھی تک اس امکان کو مسترد نہیں کیا ہے کہ کسی ایسے شخص نے یہ حملہ کیا ہو جو مسلمانوں اور اسلام کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے سے متاثر ہو۔ اس حوالے سے بھی مجرم کی گرفتاری اور مقاصد تک پہنچنا بے حد ضروری ہے۔ اگر یہ حملہ اسلام دشمنی کی بنا پر کسی ایک فرد نے اشتعال میں آ کر کیا ہے تو بھی یہ ایک سنگین معاملہ ہے۔ لیکن اگر اس کام میں اسلام دشمن اور تارکین وطن مخالف کسی گروہ کا ہاتھ ہے تو معاملہ انتہائی تکلیف دہ اور پیچیدہ ہو جائے گا۔

امام نعمت علی شاہ پر حملہ کی وجہ خواہ کچھ بھی ہو ، اسے کسی صورت معمولی واقعہ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جماعت اہلسنت کی انتظامیہ اور امام سے پرانی چپقلش کی وجہ سے بدلہ لینے کے لئے یہ کارروائی بھی ایک مجرمانہ ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔ اس سے مسلمانوں کے بارے میں عمومی تصویر کو بدنما کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ اس ملک میں آباد تمام مسلمانوں کو یہ سمجھنا اور طے کرنا ہو گا کہ وہ ناروے میں رہتے ہوئے تشدد اور مجرمانہ قاتلانہ حملوں کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش نہیں کر سکتے۔ یہ ایک آزاد ملک ہے جہاں منصفانہ عدالتی نظام موجود ہے۔ کسی بھی جائز شکایت کی صورت میں عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا جا سکتا ہے اور انصاف ملنے کا یقین کیا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود اگر کچھ لوگ معاملات تشدد سے حل کرنے پر آمادہ و تیار ہیں تو انہیں سامنے لانے اور ان کی ذہنی تربیت کرنے کی ضرورت ہے۔

تاہم فرقہ واریت کی صورت میں یہ حملہ زیادہ سنگین سمجھا جائے گا۔ تین برس قبل جب ناروے کے قوم پرست اور انتہا پسند آندرش برائیویک کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد ۔۔۔ جن میں 77 لوگوں کی جان گئی تھی ۔۔۔ مسلمانوں کو نہایت بے یقینی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم اس سانحہ کے تھوڑی دیر بعد ہی یہ پتہ چلا گیا تھا کہ حملہ آور مسلمان نہیں ہے۔ بعد میں اس ملک میں آباد مسلمانوں نے بھی باقی نارویجئنوں کی طرح اس افسوسناک سانحہ کا مقابلہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس طرح یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ مسلمان اس ملک کی ایک اہم اقلیت ہیں۔ رنگ ، نسل اور عقیدہ کے اختلاف کے باوجود وہ نارویجئن معاشرے کا حصہ ہیں اور اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ وہ ناروے کے شہری ہیں۔

ہر معاشرے کی طرح ناروے میں بھی مختلف الخیال لوگ موجود ہیں۔ جمہوری روایات کے مطابق ہر شخص کو خیالات رکھنے اور ان کا اظہار کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ تاہم خاص طور سے سوشل میڈیا پر جس طرح مسلمانوں اور اسلام کے خلاف یکطرفہ تصویر بناتے ہوئے نفرت پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے ، اس پر مسلمانوں کے علاوہ مقامی سماجی و سیاسی ماہرین بھی تشویش کا اظٖہار کرتے رہتے ہیں۔ معاشرہ کے دانشور ، ادیب اور سیاست دان اس رجحان کے خلاف اپنے اپنے طور پر اظہار رائے بھی کرتے رہتے ہیں۔

اس حوالے سے بعض اوقات ناروے کی مساجد اور اماموں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تاہم مساجد بھی اس صحت مند تنقید کا برا نہیں مناتیں اور اپنے طور پر یہ وضاحت کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ وہ بھی ایک ایسے معاشرے کی حمایت کرتی ہیں جہاں سب کے لئے مساوی عزت و وقار اور امن و سکون سے رہنے کی گنجائش موجود ہو۔ بعض عناصر کی طرف سے یہ پروپیگنڈا اور رائے بھی سامنے آتی رہتی ہے کہ مساجد اور امام آزادئ رائے کا احترام نہیں کرتے اور ان کے طرز عمل کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو مسترد کیا جاتا ہے بلکہ دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

راقم الحروف ذاتی تجربہ کی روشنی میں اس دلیل سے اتفاق نہیں کرتا۔ میں نے متعدد مواقع پر مساجد اور ان کے آئمہ کے باے میں اختلافی رائے کا اظہار کیا ہے۔ یہ اظہار تحریری مضامین کے علاوہ مختلف اماموں سے بات چیت کے دوران بھی کیا جاتا رہا ہے۔ امام نعمت علی شاہ کو بھی متعدد بار یہ بتایا گیا کہ میں ان کی کون سی بات سے متفق نہیں ہوں۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ نعمت شاہ نے ہر اختلافی رائے کو فراخدلی سے سنا اور جس حد تک ممکن ہو اس پر عمل کرنے کی کوشش بھی کی۔ میری مختلف رائے یا اس بنیاد پر کہ میں جماعت اہلسنت یا کسی دوسری مذہبی تنظیم کا کارکن نہیں ہوں ، مجھے کبھی کسی مسجد میں امتیازی سلوک کا سامنا نہیں ہؤا۔ میں خاص طور سے جماعت اہلسنت میں جاتا ہوں تو وہاں انتظامیہ اور مذہبی قائدین فراخدلی اور خندہ پیشانی سے ملتے ہیں۔

نعمت علی شاہ پر حملہ کی مذمت تمام طبقوں کی طرف سے کی گئی ہے۔ یہاں یہ ذکر کرنا بے جا نہ ہو گا کہ پاکستانی اور مسلمان کمیونٹی کے ایسے لوگ جو مساجد سے وابستہ نہیں ہیں اور ان کا میلان بھی دین کی طرف نہیں ہے ، انہوں نے بھی ایک امام پر حملہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قصور وار کی گرفتاری کی امید ظاہر کی ہے۔ یہ طرز عمل ناروے کے مسلمانوں میں بلوغت اور وسیع النظری کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔ اس رویہ کے فروغ کے لئے مسلسل کام کرنے کی ضرورت ہے۔

جماعت اہلسنت کے امام نعمت علی شاہ ایک اعلیٰ پائے کے مقرر اور خطیب ہیں۔ دینی موضوعات کے علاوہ انہیں زبان و ادب اور سیاسی امور پر بھی دسترس حاصل ہے۔ ان کی تقریروں کے علاوہ محافل میں ان کی گفتگو لوگوں کو گرویدہ کر لیتی ہے۔ یہ ممکن ہے بعض لوگوں کو ان سے اختلافات ہوں لیکن یہ کہنا بعید از قیاس ہے کہ وہ کسی کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں یا کسی شخص کو انہوں نے ذاتی حیثیت میں دکھ پہنچایا ہو۔ ان کے مقتدی ان سے عقیدت رکھتے ہیں لیکن جو ان کے عقیدت مند نہیں ہیں وہ بھی شاہ صاحب کی جاذب شخصیت اور پرمغز گفتگو سے محظوظ ہوتے ہیں۔

ایک ایسے مرنجاں مرنج اور مقبول امام پر حملہ حقیقی معنوں میں ایک قابل مذمت فعل ہے۔ اس حملہ کے بعد اسلام کے بعض ماہرین نے اپنے تبصروں میں یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی ہے کہ نعمت علی شاہ صرف پرانی نسل کے لوگوں میں مقبول ہیں۔ اس تاثر کے لئے مناسب دلیل فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔  نوجوان نسل کے لوگ بھی ان سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں، جس کا اظہار والدین کی نسل امام نعمت علی شاہ کے مرتبے ، حیثیت اور عہدے کی وجہ سے ان سے کرتی رہتی ہے۔